?راچ?:صولت مرزا ?? تدف?ن ?ر د? گئ?

89

   ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کی تدفین کر دی گئی ۔ ایم ڈی کے ای ایس سی شاہد حامد ، ڈرائیور اور گارڈ کے قتل میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت پانے ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کی محمد شاہ قبرستان میں کر دی گئی ۔ صولت مرزا کو آج صبح مچھ سینٹرل جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا ۔ انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت نے 1998 میں صولت مرزا کو پھانسی کی سزا سنائی تھی ۔

صولت مرزا نے 5 جولائی 1997 کو شاہد حامد ، ان کے ڈرائیوراور گارڈ کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ قتل کے بعد صولت مرزا بنکاک فرار ہو گیا ۔

رپورٹس کے مطابق 11 دسمبر 1998 کو اپنی والدہ کی موت پر وطن واپس آنے پر اسلم چوہدری نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ کے باہر ٹیکسی اسٹینڈ سے گرفتار کیا تھا ۔

عدالت نے 1999 کو جرم ثابت ہونے پر صولت مرزا کو سزائے موت سنا دی مگر اس وقت ملک میں پھانسی کے قانون پر پابندی تھی جس کی وجہ سے صولت مرزا کی پھانسی موخر ہوتی رہی ۔

21 جنوری 2000 میں سندھ ہائی کورٹ نے صولت مرزا کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی ۔

16 ستمبر 2001 کو سپریم کورٹ نے صولت مرزا کی رحم کی پہلی مسترد کی اور 9 مارچ 2004 کو پھر سپریم کورٹ نے رحم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پھانسی کی سزا برقرار رکھی ۔

پشاور واقعے کے بعد حکومت پاکستان نے 17 دسمبر 2014 کو پھانسی کے اوپر لگی ہوئی پابندی کو ختم کردیا۔

پہلے بلیک وارنٹ کے تحت صولت مرزا کو 19 مارچ 2015 کو پھانسی دی جانی تھی ، مگر 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب کو صولت مرزا کے اعترافی بیان کی ویڈیو ریلیز ہونے حکومت پاکستان نے صولت مرزا کی پھانسی کو ایک ماہ کے لئے روک دیا ۔

28 اپریل 2015 کو صولت مرزا کا دوسرا ڈیٹھ وارنٹ جاری کیا جس کے تحت 12 مئی 2015 کو صولت مرزا کو پھانسی دی جانی تھی ۔ چنانچہ آج 12 مئی 2015 کو صبح ساڑھے چار بجے صولت مرزا کو مچھ سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ