آئ? ا?م ا?ف ?? طرف س? 55?رو??الرز ?? قسط منظور،اسحاق ?ار

96

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے آئی ایم ایف پاکستان کو 55 کروڑ ڈالرز کی آٹھویں قسط دینے پر رضامند ہو گیا ۔ کئی چیلنجز کے باوجود ملکی ملکی معاشی صورتحال میں بہتری خوش آیند ہے ۔ کہتے ہیں آئندہ مالی سال کے دوران مزید ایک لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آئیں گے ۔

آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے میڈیا کو پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی صورتحال کی بہتری کا اعتراف کیا ہے ۔ 20 ماہ نے پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا اگلے تین معاشی ترقی کا سفر جاری رہے گا ۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا وفاقی حکومت توانائی بحران کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے ۔ آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں سبسڈی کم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیرخزانہ کا کہنا تھا پاکستان تاریخ میں پہلی بار ساتویں اصلاحاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔ پچھلے سال مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد رہا اور اپریل افراط زر کی شرح 2.1 فیصد رہی ۔ آئندہ سال مالی خسارہ 2 سے کم ہو کر 1 فیصد رہ جائے گا ۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا سب سے زیادہ خرچہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہو رہا ہے ۔ آئی ڈی پیز کی نقل مکانی اور آپریشن ضرب اب تک 130 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔ انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اب تک 49 لاکھ خاندانوں می کفالت کی گئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھے کی کوشش کی ۔ آئی ایم ایف 55 کروڑ ڈآلرز کی آٹھویں قسط جاری کرنے پر رضا مند ہو گیا ہے ۔ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا کہا ہے ۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا ایف بی آر کے مالی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنےکا آرڈیننس جاری کر دیا گیا،آرڈیننس آیندہ مالی سال کی بجٹ دستاویز کا حصہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا آیندہ مالی سال سے شناختی کارڈ نمبر ہی این ٹی این نمبر ہوگا ۔

پریس بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان میں آئی ایم ایف کے کنٹری ہیڈ کا کہنا تھا پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائربہترہوگئے ہیں ، معیشت میں بہتری کے لئے پاکستان میں ٹیکس دائرہ کارکو بڑھانےکی ضرورت ہے اور معاشی ترقی کے لئے توانائی بحران کے خاتمے کی ضرورت ہے ، ان کا کہنا تھا کاروباری ماحول میں بہتری کی ضرورت ہے، حکومت پاکستان ان مسائل پرتوجہ دے رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ