حمیرا حیدر

36 بلاگ 0 تبصرے

انسانوں کے رنگ ڈھنگ اپناتے پرندے

کچھ دن گھر بند تھا تو باورچی خانے کی کھڑکی کے باہر کچھ گملے رکھے تھے ان میں کبوتر نے گھونسلہ بنا لیا اور...

سال بھر میں فقط ایک دن محبت کا؟

فروری شمسی سال کا دوسرا مہینہ ہے، اس مہینے میں سردی کا زور ٹوٹتا ہے اور برگ بار پر بہار کی آمد کے ابتدائی...

سنتے ہیں خوشی بھی ہے زمانے میں کوئی چیز

خوشی کا جذبہ اور دکھ کا جذبہ اللہ تعالی نے انسان میں ودیعت کیا ہے۔ خوشی اور غم کا آپس میں بہت گہرا تعلق...

آہ کہ گم گشتہ، جنت نظیر کشمیر‎

کشمیر پر ظلم و استبداد کا ایک اور سال گزر گیا۔ 5اگست 2019 کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کر...

واٹس اپ کا نیا پینترا اور ہماری پریشانی‎

واٹس اپ کی پرائیوئسی پالیسی میں تبدیلی کا بہت شور ہے۔ کچھ لوگ حقیقت میں پریشان ہیں کچھ کو علم ہی نہیں کہ  ہو...
Give Respect To December

دسمبر کو عزت دو

آپ سب بھی واقف ہی ہوں گے کہ دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہر طرف رونے دھونے والے اور دسمبر کو اپنی اداسیوں...
https://www.jasarat.com/blog/2020/12/08/humaira-haider-29/

حلوے کھانے کے دن آئے‎

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گرما گرم پکوان، خاص طور پر حلوے کا خیال آتا ہے۔ حلوے کے جملہ حقوق اگرچہ مولوی کے...

صبر و برداشت اور اسلامی تعلیمات

برداشت کو عربی میں تحمل کہا جاتا ہے، اس کے لغوی معنی بوجھ اٹھانے کے ہیں۔ یہ وہ صفت ہے جس سے انسان میں...

فی ذمتہ اللہ

بحرین کے وزیراعظم خلیفہ بن سلمان 84 سال کی عمر میں علالت کے بعد امریکہ میں مائیو کلینک میں خالق حقیقی سے جا ملے۔...

قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم۔۔۔

کچھ سالوں سے ایک رحجان (ٹرینڈ) دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یقینا آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گا۔ وہ ہے علامہ محمد...

اہم بلاگز

مثالی زندگی کیا ہوتی ہے؟

اگر کوئی شخص آپ سے کہتا ہے کہ وہ روز صبح 7 بجے سو کر اٹھتا ہے، ہاتھ منہ دھو کر جاگنگ کرنے پارک جاتا ہے، آدھے گھنٹے کی جاگنگ کے بعد ورزش بھی کرتا ہے، گھر واپس پہنچ کر وہ انار کا جوس پیتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی طبیعت مزید تازہ دم ہوجاتی ہے، اس کے بعد وہ آرام سے ناشتہ کرتا ہے، اس کے بعد تیار ہوکر دفتر چلا جاتا ہے، دفتر جاتے ہوئے وہ ہمیشہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھتا ہے، اخبار پڑھتے ہوئے دفتر جانا اس کا روز کا معمول ہے، شام کو گھر واپس آتا ہے تو بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ کو دیکھ کر اس کی دن بھر کی تھکن دور ہوجاتی ہے، رات کے کھانے کہ بعد وہ بیوی بچوں کو لے کر گھومنے نکل جاتا ہے، وہ آپ کی حیرانگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہے کے زندگی میں جو چاہا وہ ملا، جس تعلیمی ادارے کے جس شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش تھی وہیں سے آج فارغ التحصیل ہے، اس کی محبت بھی لاحاصل نہیں رہی جو کل اس کی محبوبہ تھی وہ آج اس کی بیوی ہے۔غرض اس نے زندگی میں جس چیز کی خواہش کی وہ پوری ہوئی، جو مانگا وہ حاصل کیا،زندگی میں کسی قسم کا خلا نہیں ہے،حاصل اور لاحاصل کی الجھنوں سے کبھی اس کا واسطہ نہیں رہا اگر اس بے فکر اور پر سکون زندگی کی کہانی سن کر آپ حیرانگی کے عالم میں اس کی زندگی پر رشک کر رہے ہوں اور اس کو دنیا کا سب سے کامیاب انسان سمجھ کر اپنی زندگی کے سمندر میں خواہشات کی سر اٹھاتی لہروں کو بے سود سمجھ کر حسرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہوں تو یقین کریں وہ شخص آپ سے جھوٹ بول رہا ہے اور اب اس کی چرپ زبانی سے متاثر ہوکر دھوکے کا شکار ہوچکے ہیں۔ میں گذشتہ 12 سال سے ایک اخبار فروش بزرگ کو جانتا ہوں ۔ان کی ساری زندگی آزمائشوں اور مشکلات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔حالات کے جبر نے انہیں بچپن سے ہی محنت مزدوری کرنے پرمجبور کردیا۔یہ دس سال کی عمر سے مزدوری کر رہے ہیں۔ ان کا بچپن اور جوش مارتی جوانی کا عہد بھی در در کی ٹھوکریں اور شکم کی بھوک مٹانے کی تلاش میں گزر گیا اور بڑھاپا بھی اسی میں صرف ہورہا ہے پچھلے دنوں میرا ان کی دکان کے سامنے سے گزر ہوا تو انہوں نے موقع پاتے ہی مجھے چائے کی پیالی پر دعوت دے دی،ادھر ادھر کی باتوں کے بعد نہ جانے اچانک کیوں ذہن کے دریچے پر سوچ نے دستک دی ،آپ کو زندگی سے کوئی گلا ہے؟،میں نے سوال داغ دیا ،انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے جیب سے سگریٹ نکالی اور اسے سلگاتے ہوئے گویا ہوئے "بیٹے! زندگی سے کیا گلہ کرنا جب کہ یہ ہے ہی عارضی،یہاں کے دکھ اور درد،کامیابیاں اور ناکامیاں سب فانی ہیں ۔میں نے ایک سخت زندگی گزاری ہے،میں پچپن کی شرارتوں اور جوانی کے پر آشوب دور سے محروم رہا، لوگ میری زندگی...

پکار

انسان کامیاب اسی وقت ہوتا ہے جب مکمل طور پر صحتیاب ہو۔ اک صحتمند زندگی کے لیے صحتمند دماغ اور دماغی حالت بہت ضروری ہے۔ اس کامیابی کو مکمل کرنے میں دماغٰی حالت معاون کا کردار ادا کرتی ہے۔ انسان چاہے جتنا بھی دولت مند ہوجائے لیکن اگر دماغی طور صحتمند نہیں ہے تو اسے وہ سکون کہیں بھی میسر نہ ہوگا جو اسے دماغی طور پر صحتمند ہونے پر ملتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں اور انسان کو فائدہ فراہم کر رہی ہے وہیں انسان کو کئی اعتبار سے تنہا بھی کر رہی ہے۔ اسے اپنے ہی آپ سے الگ کر رہی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج انسان دماغی طور پر صحتمند نہیں۔ پرانے ادوار میں انسانوں میں ذہنی دباؤ، اضطراب، سمیت دیگر دماغی بیماریاں غیر معمولی تھیں بلکہ ناپید تھیں، لیکن اب قدرے معمول بنتی جارہی ہیں۔ لیکن افسوس ناک صورتحال یہ بھی ہے کہ اس دماغی بیماری کو بیماری تصور ہی نہیں کیا جاتا اور انسان اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر جی رہا ہوتا ہے، اور آخر میں اپنی  ہی زندگی کا خاتمہ کرلیتا ہے یا پھر اپنی زندگی برباد کرلیتا ہے۔ اس بیماری کی پیچیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک انسان دماغی بیماری کا شکار ہے۔ جبکہ ہرپچیس میں سے ایک انسان تشویشناک حد تک اس بیماری سے دوچار ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دیگر صحت کے حوالے سےساٹھ تا ننانوے فیصد اہمیت حاصل ہے جبکہ دماغی بیماریوں اور سہولت کے لحاظ سے صرف صفر تا چار فیصد ہی اہمیت حاصل ہے۔ یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ صرف گیارہ فیصد ہسپتال ہی پاکستان میں دماغی بیماری اور اس کے علاج کے حوالے سے کام کر رہے ہیں بہ نسبت نواسی فیصد وہ ہسپتال جو کہ دیگر بیماریوں کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں دماغی بیماری کو کس حد تک سنجیدہ لیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں آگاہی کے لیے کئی مہمات  بھی چلائی جاتی رہی ہیں اور چل رہی ہیں لیکن اب بھی اس بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ ایک انسان جو کہ اپنے گھر،سماجی مسائل اورمذہبی یا معاشی لحاظ سے کسی بھی طرح سے دباؤ کا شکار ہے، اسے بات کو سمجھنا ہوگا کہ یہ صورتحال عام ہوتی ہے اور کسی بھی عام بیماری کی طرح اس دماغی بیماری کا بھی معائنہ ممکن ہے۔ اب بات یہاں یہ بھی ہے کہ مختلف قسم کی دماغی بیماریاں ہیں جو کہ عین ممکن ہے کہ آپ میں ہوں۔ جیسے کہ ذہنی دباؤ، اضطراب، پوسٹ ٹرایمیٹک اسٹریس، آبسیسو کپملسیو ڈس آرڈر، بائ پولر ڈس آرڈر، آٹینشن ڈیفیسٹ ہائپر ایکٹویٹی ڈس آرڈر اور دیگر۔ یہ سب وہ بیماریاں ہیں جو کہ آج کل زبان زد عام ہیں بس فرق یہ ہے کہ اگر آپ کو اللہ نہ کرے کینسر ہوجائے توفورا بھاگے بھاگے ہسپتال پہنچ جائیں گے مگر اگر آپ کا موڈ کسی بھی وقت تبدیل ہوجائے، زرا زرا...

بہت خاص

ہر سال کی طرح اس بار بھی مارچ کا مہینہ اور 8 تاریخ کو عالمی یومِ خواتین قریب ہے۔ یقینا اس بار بھی عورت مارچ میں بے ہودہ نعروں و پلے کارڈز کی تشہیر ہوگی۔ اس سال میں آپ کے سامنے ایک موازنہ پیش کروں گی۔ آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔۔۔۔”میرا جسم، میری مرضی“نہ جسم میرا اور نہ ہی مرضی میری اپنی ہوسکتی ہے۔ تمام تر جسمانی نظام اللہ کے حکم اور بناوٹ کے حساب سے چل رہا ہے۔ بگ بینگ تھیوری پر یقین ان کی اپنی مرضی ہے، کوئی زبردستی نہیں۔ زندگی کے لیے چاہے کسی بھی تھیوری پر یقین رکھیں مگر کیا موت پر بھی یقین نہیں رہا ؟ روز سب کی نظروں کے سامنے کتنے لوگ مرتے ہیں تو کہاں جاتے ہیں؟ ”دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو“اب آنکھوں پر باندھ کر بھی کیا کریں گے، وہ تو سب کی عقلوں پر پڑ گیا۔ ”اپنا موزہ خود ڈھونڈ لو“سب کی اماں آج تک ابا کو موزے، گھڑی، والٹ، ٹوپی، فائلز ہر چیز ڈھونڈ کر دیتی آئی ہیں۔ اگر وہ نہ دیں تو تمام تر بیچارے ابا ہر کام کے لیے لیٹ ہو جائیں۔ یہ تو سچ میں ان کا بہت بڑا احسان ہے، بھلا اس میں کیا برائی ہوگئی؟ ”میں بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں“ ہمارے آس پاس تو اب کسی کے اتنے بچے نہیں کہ یہ بات کہی جا سکے۔ پرانے زمانے میں ہوا کرتے تھے۔ اب تو دوسرے سے تیسرے آپریشن کے بعد شوہر و ڈاکٹر خود ہی کہہ دیتے ہیں کہ اپنی صحت پر توجہ دو ورنہ بچوں کو کون سنبھالے گا۔ ظاہر ہے وہ توجہ اور پیار باپ لٹا ہی نہیں سکتا جو ماں کر سکتی ہے۔ ”تم ایک ریپیسٹ ہو“کچھ بے چاری عورتوں کے شوہر راتوں کو اپنا حق استعمال کرتے ہیں، پروا کیے بغیر کہ وہ تھکی ہوئی ہیں یا بیمار ہیں۔ میوچل انڈرسٹینڈنگ ہو یا نہ ہو۔ عورت مارچ والے اسے میریٹل ریپ کہتے ہیں اور اسے نہیں مانتے کہ ہمارا جسم ہے، ہماری مرضی چلے گی، استعمال کرنے دیں یا نہیں اور چاہیں تو کسی اور کو استعمال کرنے دیں۔ جو مرد یہ کرتے ہیں، غلط تو وہ ہوئے نا۔ پانچوں انگلیاں کبھی برابر ہوئی ہیں؟ آخر کو یہ شوہر بیوی کا رشتہ، نکاح کا تعلق، خاندانی نظام، یہ سب اللہ نے ہی بنایا ہے جو کہ ایک فطری اور صحت بخش تعلق ہے ورنہ انسان اور جانور میں بھلا کیا فرق رہ جائے گا؟ آخر کو اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انہیں مردوں سے اتنا بیر ہے تو جنازہ کون پڑھائے گا؟ نکاح کون پڑھائے گا؟ مسجدوں میں امام کون بنے گا؟ کتنا بڑا فتنہ کھڑا کرنے کی تیاری ہے؟ ایجنڈا یہی ہے نا کہ پاکستان سے دین کو خارج کر کے اسے سیکولر اسٹیٹ بنا دیا جائے۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکے گا، ان شاء اللہ کیونکہ کتنی ہی عورتیں ہیں جو تعلیم یافتہ و باشعور ہیں، اونچی پوسٹس پر کام بھی کرتی ہیں اور شریف باپردہ بھی رہتی ہیں۔ ان کے نزدیک جب مرد و عورت برابر تو پھر بس میں کون کس کے لیے...

ذہنی طور پر صحت مند ماں کا بچوں کی تربیت میں کردار

ہارورڈ یونیورسٹی کے مطابق بچے کے پیدا ہوتے سے لے کر سات سال تک کا وقت بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور یہ دور اس کی زندگی اور شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔  بچے کو ماں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ ماں اور بچے کا تعلق کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ماں اپنے بچے کی اَن کہی باتوں کو بھی سمجھ جاتی ہے ۔ جب بچہ بول نہیں پاتا یا پھر تتلا تتلا کر بولتا ہے تب بھی ماں ہی ہوتی ہے جو اس کی چھوٹی چھوٹی اور بے ربط باتوں کو سمجھ جاتی ہے اور اس کی ہر شرارت پر کھل اٹھتی ہے۔  بچے ماں کے ساتھ زیادہ مانوس ہوتے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر وقت ماں کے ساتھ ہی گزرتا ہے،اس لئے ان کی تربیت میں بھی ماں کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو ایک لڑکی جس کے چھوٹے ہوتے سے ہی پڑھ لکھ کر کچھ بن جانے کے خواب ہوتے ہیں جن کو وہ بچپن سے ہی اپنی ننھی مُنی چمکیلی آنکھوں میں سجا لیتی ہے ۔ وقت پَر لگا کر اُڑنے لگتا ہے معلوم نہیں کب وہ تعلیم مکمل کر کے پرائی ہو جاتی ہے ۔ ظاہر ہے شادی ایک اہم فریضہ ہے اور والدین اپنا فرض ادا کرنے میں دیر نہیں کرنا چاہتے۔ اکژ لڑکیوں کے خواب وہیں بکھر جاتے ہیں کیونکہ سسرال میں فوری طور پر نوکری کرنے کی اجازت نہیں ملتی اگر مل بھی جائے تو فیملی بڑھنے پر اس کو نوکری یا کام چھوڑنا پڑتا ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ بچوں کی تربیت زیادہ اہم ہے جب بچے بڑے ہو جائیں تو اپنے خواب یا شوق پورے کر لینا اکژ تو ان کے خوابوں کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔ لیکن یہ بھی کیا خوب کہی! کیا نوکری ان کے بچے کے بڑے ہونے تک انتظار کرے گی ؟ کیا سات سے آٹھ سال کے بعد ان کو نوکری مل پائے گی ؟ فرض کریں اگر نوکری مل جائے تو وقت و حالات اس قدر بدل جاتے ہیں کہ نوکری کرنا ایک مشکل امر بن جاتا ہے۔ بچوں کی ہر طرح کی ذمہ داری ماں پر آتی ہے چاہے اب وہ گھریلو خاتون ہو یا ورکنگ خاتون، جو خواتین کام کرتی ہیں ان کے لئے نوکری بچے اور گھر سب ساتھ لے کر چلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے خاص طور پر آج کل جیسے کرونا وائرس کے حالات میں آن لائن تعلیم کو نوکری کے ساتھ لے کر چلنا مشکل صورتحال ہے۔ بہت کم لوگوں کو سسرال کی حمایت اور سپورٹ حاصل ہوتا ہے اور جن لوگوں کو یہ حاصل ہو جائے ان کی زندگی آسان ہو جاتی ہے، لیکن ایسا ہوتا بہت کم ہے۔ اب آتے ہیں ہم بچوں کی تربیت پر عام تصور کیا جاتا ہے کہ کام یا نوکری کرنے والی خواتین بچوں کی تربیت صحیح نہیں کر پاتیں ان کو مناسب وقت نہیں دے پاتیں کسی حد تک یہ بات صحیح بھی ہے لیکن یہاں بھی تصویر کے دو پہلو ہیں وہ یہ کہ جو خاتون...

اردو کے دیس میں اردو پریشان ہے

دنیا کی وسیع عریض کائنات میں ہزاروں قومیں آباد ہیں، ان کی الگ الگ زبانیں،ثقافتیں اور تہذیبیں ہیں اس وقت پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق چھہتر 76 زبانیں جبکہ دنیا میں چھ ہزار پانچ سو 6500 زبانیں بولی جاتی ہے زبانیں قوم وقبیلہ کی پہچان ہوا کرتی ہے خالق کائنات رب العالمین کا فرمان ہے کہ" اور اس(اللہ بزرگ و برتر) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق ہے اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی ہے بیشک اس میں اہل علم کے لئے نشانیا ںہیں" (سورۃ الروم آیت نمبر ۱۲) اس میں دو رائے نہیں کہ قومیت کی تخلیق میں زبان کا درجہ مذہب کے بعد سب سے اہم ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام غیرتمند قوموں نے بہر صورت اپنی زبان کے تحفظ کو نا صرف یقینی بنایا بلکہ اس کی تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات بھی کئے، اردو کی ہزار سالہ تاریخ جس قدر تاریخی ہے اس قدر دلچسپ بھی ہے ، اردو میں مختلف زبانوں کی چاشنی ، لطافت اور شائستگی بدرجہ اتم موجود ہے ، اردو کی ابتداء و ارتقاء کی تاریخ نہایت ہی پر لطف ہے مورخین لکھتے ہیں کہ دنیا کی مختلف خطوں سے ادیبوں کی جماعت شمالی ہندستان میں جمع ہوئے انہی کی برکت سے اردو کا آغاز ہوا پہلے پہل اردو شاہوں اور نوابوں کی زبان تھی جو رفتہ رفتہ مقبول عوامی زبان کے طور پر منظر عام پر آئی ، مرزا غالب، الہ اکبر آبادی،مولوی عبدالحق،ابن انشا، ابن صفی، مولانا ابولکلام آزاد سمیت اہل علم و فن نے بڑے پیمانے میں اس زبان کی ارتقاء و نشرواشاعت میں غیر معمولی خدمات سر اانجام دی، پاک و ہند میں عربی اور فارسی کے بعد اردو کوناصرف زبان بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن کے طور پر پہچانا گیا۔ پاک و ہند کے دانشور اہلِ علم خاص کر علمائے اکرام نے اردو زبان میں اسلامی علمی شہ پاروں، تحقیقی مقالوں کو کتابی شکل میں تصنیف کرکے اردو کو اہل علم کا زبان بنا دیا ، آج شاید ہی کوئی ایسا علمی موضوع ہو جس پر اردو میں تصنفات موجود نا ہو، اہلِ علم و فن کی اس عظیم خد مت نے اردو کو ایک زبان کے طور پر ہی نہیں بلکہ تہذیب کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، اس وقت اردو پاکستان سمیت ہندوستان کے چھ ریاستوں میں بولی جانے والی سرکاری زبان ہے ، بانی پاکستان بابائے قوم محمد علی جناح ؒ نے ۲۵ فروری۱۹۴۸؁ء کو اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا اس موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے فرمایا ’’میں واضح الفاظ میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہوگی‘‘ بعد ازاں ۷۳ کے آئین کے آرٹیکل ۲۵۱ میں واضح کیا گیا کہ بہر صورت اردو پاکستان کی سرکاری زبان ہوگی اور اس زبان کو پندرہ سال کے اندر تمام اداروں میں نافذکیا جائے گا، مگر افسوس اس بات کی ہے کہ سرکاری زبان کے طور پر نافذ ہونا تو درکنار ۷۴ سال ہونے کے باوجود پاکستان میں...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

سگھڑاپا ۔۔ کچھ خواب تھے میرے

مرغے کی پہلی بانگ پر اس کی آنکھ کھلی ساتھ ہی رکھے سائیڈ ٹیبل پہ دھرے موبائل فون کو اٹھایا تو صبح کے چار بج رہے تھے جلدی سے اٹھی وضو بنایا اور تہجد ادا کرنے کھڑی ہو گئی وہ تھی ہی ایسی رات کے اس پہر جب دنیا خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہوتی تو وہ بستر سے اٹھ کر رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاتی، تہجد کے نوافل ادا کرنے کے بعد وہ کچھ دیر تلاوت کرتی اتنے میں فجر کا وقت شروع ہو جاتا فجر کی نماز کے بعد معمول کے اذکار اور پھر باورچی خانے میں ۔ پورے خاندان میں روشانے احمد کے سگھڑاپے کے چرچے تھے ہر گھر میں اسی کی مثال دی جاتی تھی۔ سب پیار سے اسے روشنی کہتے اور وہ تھی بھی اپنے نام کی طرح روشن، چمک دار خو بصورت اور ہر کام میں طاق ۔ آج کل لڑ کیوں کی طرح بناﺅ سنگھار کا کوئی شوق نہ تھا آنکھوں میں کاجل کی معمولی سی دھار ہی اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی اور وہ اس بات پہ نازاں بھی نہ تھی۔ عاجزی کا پیکر ، خوبصورتی کا مجسمہ ، یونانی دیوی بلکہ یوں سمجھ لیں کہ وہ ناولز کی ہیروئین تھی جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ہر فن مولا ہوتی ہیں۔ دس مرلے کا گھر صاف کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا گھر کی صفائی کے ساتھ ساتھ وہ واشنگ مشین لگاتی سارے کپڑے دھو کر،استری کر کے الماری میں لٹکا دیتی اور اگر باورچی خانے میں جاتی تو ڈھیروں مزے مزے کے پکوان جھٹ پٹ بنا لیتی۔ عقلمندی، سلیقہ شعاری، نفاست (یہ سب چیزیں) اس میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آج اسے دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آ رہے تھے وہ اس چاند کی مانند تھی کہ جس خاندان میں بھی جاتی اپنی چاندنی سے سب کو منور کر دیتی بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ یہ چاند ان کے آنگن میں اترے روشنی نے سارا گھر صاف کیا اپنے ہونے والے سسرال کے لیے اچھے اچھے پکوان تیار کیے اور تیاری کرنے کے لیے چلی گئی ۔ وہ آئے ہوئے مہمانوں کو بہت پسند آئی تھی اس کی سلیقہ شعاری اور سگھڑاپے نے سب کا دل موہ لیا تھا۔ ابھی اس کی ہونے والی ساس اس کو انگوٹھی پہنانے ہی لگی تھیں کہ اماں نے اسے جھنجھوڑ کے اٹھایا اٹھ سورج سوا نیزے پہ پہنچ گیا ہے اور مہارانی صاحبہ کی نیندیں ہی پوری نہیں ہو رہیں اٹھ جا نیستی کی ماری ۔ اماں وہ انگوٹھی... وہ مہمان... اس نے بمشکل سر چادر سے باہر نکالا اور اماں سے استفسار کیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی اماں نان اسٹاپ شروع ہو گئیں۔ دیکھی ہے گھر کی حالت کتنا گندہ ہو رہا ہے۔ اڑھائی کمرے کا گھر نہیں صاف ہوتا تم سے، اپنا حلیہ ہی دیکھ لو سر جھاڑ منہ پھاڑ بنی رہتی ہو، نہ ہی پڑھائی لکھائی کی اور نہ ہی گھریلو کام کاج کی، سدا کی پھوہڑ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی بچیوں نے سارا گھر سنبھال رکھا ہوتا...

پی۔ڈی۔ایم

بی بی  شہید کی برسی کے موقع پر بلاول بھٹو اور مریم بی بی کو ایک ساتھ دیکھ کر اس بات کی صداقت پر عین الیقین ہو چلا کہ واقعی جمہوریت’’حسین‘‘ہے۔یہ جمہوریت کا ہی حسن ہے کہ ایسے حسین معجزات رونما ہو رہے ہیں وگرنہ تو یہ نہ کام کے اور نہ کاج کے۔ساتھ ہی ساتھ پی ڈی ایم کے روح رواں کم ’’روح لحیم شحیم‘‘مولانا فضل الرحمن کا برسی میں شمولیت سے انکار بی بی شہید کے اس قول کے صداقت کی دلیل ہے کہ ’’جمہوریت سب سے بہترین انتقام ہے‘‘ سچ ہے زرداری صاحب نے کسی سے انتقام لینا ہو تو اسے دانت نکال کر دکھا دیتے ہیں اور اگر دانت نہ نکالیں تو سمجھ جائیں کہ اب مخالفین کے دانت نکلنے والے ہیں۔مریم بی بی نے کسی سے سیاسی بدلہ لینا ہو تو بس میک اپ کر کے اپنے آپ کو بدل کر آجاتی ہے۔لیکن جس روز مریم بی بی نے سچ میں عوامی انتقام کا سوچ لیا تو اس دن جلسہ گاہ میں بغیر میک اپ چلی آئے گی۔اس لئے عوام کا یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جس دن مریم بی بی بنا میک اپ جلسہ گاہ کی زینت بنیں گی اس دن جلسہ میں کوئی نہیں بچے گا۔ چاہئے سو جو آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا صاحب جب کسی سے سیاسی انتقام لینا چاہتے ہوں تو وعدہ کر کے جلسہ گاہ میں یا تو پہنچتے ہی نہیں یا پھر تاخیر سے آتے ہیں۔ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا وہ ادھار ہی کیا جو ادا ہو گیا اس لئے مولانا صاحب کسی سے وعدہ سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور لوگ مولانا صاحب سے ادھار سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ویسے مولانا صاحب میں دو خوبیاں بدجہ اتم پائی جاتی ہیں ،ایک تاخیر سے جاتے ہیں اور دوسری جہاں جاتے ہیں وہاں کی خیر نہیں ہوتی۔مولانا صاحب تو کمزور سٹیج اور چارپائی پر قدم نہیں رکھتے کہ ان کے وزن سے کہیں وہ بیٹھ ہی نہ جائیں۔یہ خوبی تو مولانا میں ہے کہ جب وہ کسی کے حق اور ’’گوڈوں‘‘ میں بیٹھ جائیں تو پھر انہیں سوائے خدو کے اور کوئی نہیں اٹھا سکتا۔مولانا کا کہنا ہے کہ جیسے ڈیزل بغیر گاڑی نہیں چلتی ویسے ہی میرے بنا پارلیمنٹ کا چلنا محال ہے۔اسی لئے مولانا صاحب پارلیمنٹ سے باہر ہوں تو ڈیزل پہ چلتے ہیں اور پارلیمنٹ کا حصہ ہوں تو ’’ڈیزل‘‘ان کی مرضی سے چلتا ہے۔اسی لئے جناب کو پارلیمنٹ اور تحاریک کا ڈیزل کہا جاتا ہے۔ مریم بی بی اور بلاول باوا میں ایک قدر ،قدرے مشترک ہے کہ دونوں  کے دانت قدرتی اور مسکراہٹ مصنوعی ہے۔دونوں کا آپ کسی بھی جلسہ میں دیکھ لیں ایک مسکرا رہا ہوتا ہے اور دوسرا لگتا ہے کہ دانت نکال رہا ہے۔گویا بلاول مسکرا رہا ہو تو لگتا ہے منہ چڑا رہا ہے اور مریم مسکرا رہی ہو تو لگتا ہے کہ منہ چڑا رہی ہے۔بلاول باوا جب کھلکھلا کے ہنستا ہے تو زبان بھی دانتوں کے اندر سہم سی جاتی ہے کہ کہیں بھی منہ...

ڈنڈا پیر

ایک شریف شہری کو پہلی مرتبہ گاؤں جانے کا اتفاق ہوا تو بے چارہ بہت پریشان ہوا کہ جس گلی میں بھی وہ داخل ہوتا اسی گلی کے آوارہ کتے اسے کاٹنے کو دوڑتے۔کبھی اس گلی تو کبھی اس گلی بھاگتے بھاگتے جب وہ تھک کر ہانپنے لگا تو اسے ایک فقیر صدا لگاتے ہوئے دکھائی دیا۔سادہ لوح شہری سیدھا اس فقیر کے پاس گیا کہ چلو اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوں جب اپنے دوست کے گھر پہنچ جائے گا تو اس فقیر کا شکریہ ادا کر دے گا۔ابھی تھوڑی دور ہی دونوں گئے ہوں گے کہ فقیر نے شہری سے پوچھا کہ بیٹا کیا ماجرا ہے میں تو گھر گھر صدا لگانے اور مانگنے والا ایک حقیر سا انسان ہوں،تم میرے ساتھ ساتھ کس مقصد کے لئے چل رہے ہو۔فقیر کی یہ بات سنتے ہی شہری کے دل میں حوصلہ پیدا ہوا کہ چلو اب بابا جی میری مدد ضرور کریں گے۔اس نے سارا ماجرا فقیر کو سنادیا۔فقیر تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوا اور پھر اس نے اپنے ہاتھ والا ڈنڈا شہری کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ: جاؤ بیٹا اب تمہیں گلی کے پالتو اور آوارہ کتے کچھ نہیں کہیں گے اس کہانی لکھنے کے پیچھے کا مقصد کیا ہے امید ہے کہ اہل فکرودانش اور پاکستانی سیاست کو سمجھنے والے ضرور سمجھ چکے ہوں گے کہ پاکستانی نظام کو چلانے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے۔کیونکہ پنجابی میں کہا جاتا ہے کہ’’وگڑیاں،تگڑیاں دا ڈنڈا پیر‘‘۔اس اکھان کا اطلاق صرف انسانوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ بھیڑوں کا ریوڑ بھی جب کبھی منتشر ہو جائے تو چرواہا ایک ہی لاٹھی کے ساتھ سب کو ہانک کر ایک جگہ جمع کر لیتا ہے۔یعنی بابا بنا، ڈنگوری کس کام کا؟یہ بھی ہے کہ بابے کے بغیر بکریاں نہیں چرتیں۔حالانکہ بکریوں کوبابے سے کوئی غرض نہیں ہوتی ان کو تو بابے کے ہاتھ میں ڈنڈے کا ڈر ہوتا ہے۔جو کام ہماری سیاسی جماعتوں کا رہا ہے مجھے لگتا ہے کہ انہیں بھی بابے کے ڈنڈے کی ضرورت ہے ۔کہ ان کے بنا ان میں نظم وضبط قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں ڈنڈے کی ضرورت کیوں ہے؟کیا ہم باشعور قوم نہیں،ہم اپنا بھلا اور برا خود نہیں سوچ سکتے،ہم اچھے اور برے میں از خود تمیز نہیں کر سکتے کیا؟۔میرا خیال ہے کہ نہیں،اگر ہم عوام میں یہ استطاعت ہوتی تو پھر اور بھلا کیا چاہئے تھا۔ہم تو غلام ہیں اپنی خواہشات اور مجبوریوں کے۔ہم تو مقید ہیں روٹی ،کپڑا اور مکان کے دائرے میں،ہمارے پاؤں میں تو بیڑیاں ہیں اپنی اغراض کی۔تو پھر ہمیں کیا،کہ کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے کہ بغل میں چھری۔ہمارا کام تو کوزہ گر کے حمار کی طرح بس سر جھکائے ،گلے میں باندھی گھنٹی کی صدا کی فریکوئنسی کے ساتھ قدم اٹھاتے جانا ہے بنا سوچے اور دیکھے کہ کیا مالک بھی ساتھ ہے کہ نہیں۔ہم عوام کو ہمارے سیاستدانوں نے اس قابل ہی  نہیں چھوڑا کہ ہم کوئی سوال اٹھا سکیں بلکہ ہمارے اذہان میں تو اب سوال پیا ہی نہیں ہوتے۔سٹیفن کنگ نے ٹھیک...
Give Respect To December

دسمبر کو عزت دو

آپ سب بھی واقف ہی ہوں گے کہ دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی ہر طرف رونے دھونے والے اور دسمبر کو اپنی اداسیوں اور دکھوں کا ذمہ دار ٹھرانے والوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ چونکہ ہم واٹس اپ، فیس بک ، انسٹا گرام کے دور میں سانسیں لے رہے ہیں تو ہر صارف نے حد سے بڑھ کر دکھی دسمبر کی شاعری لگائی ہوتی ہے۔ جس سے ملاقات کرو  دسمبر کا نام لیتا اور آہیں بھرتا ہے ساتھ ہی دسمبر کی شاموں کی طوالت اور بے نام سی اداسی کا ذکر چھڑ جاتا ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہر دسمبر یہی دیکھا یہی سنا ہے "دیکھ دسمبر پھر نہ آنا " اب زمینی گردش کا معاملہ ہے ورنہ دسمبر اتنی ناقدری کے بعد نا ہی آئے ۔ دسمبر میں برفیلی ہوائیں تو چلتی ہی ہیں مگر آپ کو ٹھنڈی ٹھار آہیں واہیں بھی جمانے کے لئے موجود ہوتی ہیں۔ اس بار سوچا کہ پتا تو چلایا جائے یہ نا معلوم سی اداسی آخر کیوں گھیر لیتی ہے۔؟کیا واقعی دسمبر بہت ظالم ہے؟ کیا دسمبر کا نام لیتے ہی دل کی دھڑکن آہستہ ہو جاتی ہے؟ کیا دسمبر واقعی اداسی لئے آتا ہے؟بہت سی دوستوں سے پوچھا کہ بتائیں تو بھلا دسمبر کا واویلا حقیقت ہے یا افسانہ ؟ زیادہ تر افراد کے جواب سے مطمئن نہ ہو سکے۔ ان کو وجہ ہی معلوم نہیں کہ دسمبر کیوں افسردہ کرتا ہے۔ جب پوچھا کہ آپ کے ساتھ کچھ ذاتی سانحہ ہوا تو جواب یہی تھا کہ ارے نہیں ہمیں تو "دسمبر بہت خاص لگتا" ہمیں کوئی دکھ نہیں دیا دسمبر نے۔ اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ہم لوگ سنی سنائی باتوں پر تو کان دھرتے تھے ہی، ہم نے سنے سنائے دکھ بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ جب اردگرد دسمبر کا واویلا دیکھا تو ہم بھی شامل ہو گئے۔ اس میں ایک بڑا حصہ ہماری شاعری کا ہے۔ گانوں نے بھی خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے۔بہت کم ہی لوگوں کو اس مہینے کی کوئی شام سہانی لگتی ہے۔ دسمبر پر آپ کو بہت شدید شاعری ملے گی۔(یہ میری ذاتی تحقیق ہے اس سے آپ اختلاف کرنے کا حق رکھتے ہیں)۔جس قدر اشعار بلکہ نوہے آپ کو دسمبر پر ملیں گے کسی اور مہینے پر نہیں ملتے۔اسی حوالے سے کچھ دسمبر کے دکھ حاضر ہیں آپ ہی فیصلہ کریں کہ کیا حقیقت ہے کیا افسانہ ہے۔ بعض دفعہ ہمیں دسمبر نے کوئی دکھ نہیں دیا ہوتا بلکہ مئی جون یا ستمبر اکتوبر کا کوئی غم ہمیں پریشان کر رہا ہوتا ہے مگر ہم دسمبر کو کوسنے دیتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے بہت غم دسمبر میں دسمبر کے نہیں ہوتے اسے بھی جون کا غم تھا مگر رویا دسمبر میں دسمبر سال کا اختتام ہے تو اس پر بھی اسے مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد اچھے حسین مہینے کا سوچ کر ہی خوش ہوا جاتا ہے۔۔ سفر میں آخری پتھر کے بعد آئے گا مزا تو یار دسمبر کے بعد آئے گا حالانکہ نئے سال کی ایک نظم میں اس کو بھی خام خیالی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا...
https://www.jasarat.com/blog/2020/12/08/humaira-haider-29/

حلوے کھانے کے دن آئے‎

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گرما گرم پکوان، خاص طور پر حلوے کا خیال آتا ہے۔ حلوے کے جملہ حقوق اگرچہ مولوی کے ساتھ منسوب ہو چکے ہیں تاہم موسم سرما میں سب ہی مولوی بن جاتے ہیں۔ میرے والد صاحب ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شحض بخار میں مبتلا ہو گیا (اس زمانے میں بخار خطرناک امراض میں شمار ہوتا تھا)۔ بہت سے لوگ اس کی تیمارداری کے لئے آئے ہوئے تھے ہر کوئی نیم حکیم بنا ایک سے بڑھ کر ایک بد مزہ ٹوٹکا بتا رہا تھا۔ کچھ کونین چبانے کا تو کوئی کریلے کی افادیت کوئی کسی کڑوی کسیلی دوا کا بتا رہا تھا۔ مریض صاحب نالاں اور پشیماں دکھائی دیتے تھے۔ ایسے میں دروازے کے قریب بیٹھے شحض نے آہستہ آواز میں کہا "اسے حلوہ بنا کر کھلاو ممکن ہے تندرست ہو جائے گا"۔۔ یہ سننا تھا کہ مریض نے سب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ اصل دوائی کی طرف توجہ ہی نہیں دے رہے وہ دروازے والے بندے نے زبردست دوا بتائی ہے۔ بعینہ پار سال کی بات ہے موسم سرما یعنی کہ حلوے کا موسم تھا۔ڈاکٹر کے پاس جانے کا اتفاق ہوا، خون کا ٹیسٹ کیا تو ہیموگلوبن ریکارڈ حد تک اچھا تھا۔ نند صاحبہ کے استفسار پر ان کو راز بتایا کہ میرا ایچ بی تو حلوے سے ٹھیک رہتا ہے۔ وہ ذہنی امراض کی ڈاکٹر ہیں اس لئے تاحال ہمارے حلوے کی چاہ اور ایچ بی کی بہتری کا آپس میں کوئی سراغ نہیں پا سکیں ممکن ہے ذہنی خلل تصور کر کے خاموشی اختیار کی ہو۔ حلوے سے محبت کا یہ عالم ہے کہ بڑی دیورانی صاحبہ کا ماننا ہے کہ ہم ہر حلال چیز کا حلوہ بنانے اور کھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چھوٹی دیورانی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی تو ان کے لئے جس قدر حلوہ بنا اس میں ہمارا بھی حصہ ہوتا تھا۔ وہ تو حلوہ کھانے سے اکتا گئیں مگر یہاں سیری نہ ہوئی۔ حلوے کی ہزاروں اقسام ہیں۔ ادب کی دنیا بھی حلوے کی معترف نکلی۔دو قدیم کتب نظر سے گزریں جن کے نام حلوے سے موسوم ہیں۔ نام ملاحظہ ہوں، حلوہ دانش و سرمہ بینش حکیم بھگت(اردو) اور مثنوی نان و حلوا از شیخ بہائی(فارسی) اب چونکہ حلوے کا موسم پھر سے آ گیا ہے۔ سطوت رسول کی ایک نظم کا شعر ہے ۔ حلوے کھانے کے دن آئے صحت بنانے آئے دھوپ تو موسم سرما میں صحت بنائیں اور کچھ نادر و نایاب مگر آسان حلووں کی تراکیب ملاحظہ ہوں۔ چقندر: جی ہاں درست پڑھا آپ نے۔ چقندر کا استعمال برصغیر میں بہت عام ہے، سلاد سے لے کر اس کا جوس کافی پسند کیا جاتا ہے۔ اس ایک جز بیتھین سے بھرپور ہوتا ہے جو سوجن پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ چقندر بلڈ پریشر میں مفید ہے، خون بناتا ہے، جسمانی اور دماغی توانائی سے بھرپور ہے، قبض کا علاج ہے۔ اس کا ذائقہ اکثر لوگوں کو زیادہ مرغوب نہیں ہوتا تو ان کے لئے پیش خدمت ہے چقندر کا حلوہ۔ ترکیب:- چقندر کو چھیل کر کدو کش کر...

ہمارے بلاگرز