شیخ خالد زاہد

mm
148 بلاگ 0 تبصرے
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔

کراچی کیلئے تخریبی پیکیجز!

ملک کو چلانے والے جب اس بات سے مبرا ہوجائیں کہ جس سرزمین کی آبیاری پر انہیں تعینات کیا گیا ہے، جس نے انہیں...

رب نہیں روٹھتا!

راستے پر بیٹھے ایک بزرگ نے سامنے سے گزرنے والی عورت کی خوبصورتی کی تعریف کر دی جو اس عورت کے ساتھ چلنے والے...

سیلاب، سیاست اور مہنگائی!

بہت عرصہ اس خوف میں بیت گیا کہ قلم کو روندھے جانے کی جو رسم چل رہی ہے اس میں ہمارا قلم بھی کہیں...

آزادی کی حنوط شدہ لاش

ہم اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہوگا کہ اس نے ہمیں رہنے کیلئے دنیا جہان کی نعمتوں سے لبریز...

اور کراچی بہتا رہا !

  دنیا جہان کی طرح پاکستان میں بھی مکانات اور رہنے کیلئے بنائے گئی رہائشگاہیں موسموں کی مناسبت سے بنائی جاتی ہیں۔ وہ علاقے جہاں...

میرا گھر میرا پاکستان اسکیم!

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد دو (۲) کروڑ بتائی جاتی ہے جبکہ پاکستان کی اکثریت آبادی مشترکہ خاندانی...

من کا بھوت بنگلہ!

ہم اپنے اندر ایک بھوت بنگلا لئے گھوم رہے ہیں یا سب انسانوں کے اندر یہ بھوت بنگلہ ہوتا ہے، شائد یہ بھوت بنگلہ...

بس زرا سا صرف پاکستانی ہوکر سوچنا!

سفر کرنا آپ کے بس میں ہے، سفر آپ کی پسند کا بھی ہوسکتا ہے لیکن آپ پہنچتے وہاں نہیں جہاں کے لئے آپ...

ملکی سالمیت اور سیاسی انا !

انسان اپنے بنائے ہوئے حصار میں اپنے آپ کو قید کرنا شروع کرتا ہے جس کا سبب آس پاس کے حالات بتائے جاتے ہیں،...

عدم اعتماد کا بحران اور عمران خان!

قارئین سے دلی معذرت کیساتھ، پاکستان کا مطلب پاک سرزمین سے تبدیل کرتے ہوئے بحرانوں کی سرزمین رکھ دیا جائے تو پاکستان کی زیادہ...

اہم بلاگز

کراچی اور آلودگی

شہر کراچی ایک صنعتی اور معاشی حب ہونے کے باعث ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر ایسی صنعتی ترقی اور Industrializtion کے زیر اثر شہر میں تمام قسم کی آلودگی عروج پر ہے۔ یہ آلودگی نہ صرف بچوں اور بزرگوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ نوجوان بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ یہ آلودگی بل آخر سیکڑوں اقسام کی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتی ہے۔ حالانکہ گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس ایفیکٹ میں پاکستان کا حصہ %1 سے بھی کم ہے مگر پاکستان اس وقت گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور اس میں بھی بالخصوص شہر کراچی اس مسئلہ سے بہت متاثر ہے۔ شہر کے اطراف مختلف فیکٹریاں جو کہ بھٹی کا استعمال کرتی ہیں فضائی آلودگی کا سبب ہیں۔ ان فیکٹریوں میں سیمنٹ اوراینٹ بنانے والی فیکٹریاں سر فہرست ہیں۔ یہ فیکٹریاں مختلف اقسام کے زہریلے مادے براہ راست فضا میں خارج کرتی ہیں جن میں کاربن مونوآکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں جو کہ بعد میں مختلف بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں جن میں دمہ کا مرض اور پھیپڑوں کا سرطان بہت عام ہے اور ان دنوں ہوا کا معیار کراچی میں خرابی کے انتہائی درجے پر ہے۔ فضائی آلودگی کے بعد آبی آلودگی بھی اس شہر بے یار کا سر اٹھاتا مسئلہ ہے۔ اول تو پینے کا پانی عوام کو میسر نہیں ہے لیکن جو میسر ہے وہ بھی آلودگی کے انتہائی درجے پر ہے۔ شہر کی اکثر دوا ساز فیکٹریاں اور مختلف اقسام کی کیمیکل بنانے والی صنعتیں استعمال شدہ پانی کو ندی میں چھوڑ دیتی ہیں جو کہ آگے جا کر پینے کے پانی میں شامل ہو کر آبی آلودگی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اس آبی آلودگی کی وجہ سے خصوصاً بزرگوں اور بچوں میں پیٹ کی بیماریوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے جس میں گیسٹرو سرفہرست ہے۔ آلودگی کی تیسری قسم جوشہر کو متاثر کر رہی ہے وہ شور کی آلودگی نوائس (Noise) پلوشن ہے۔ اس وقت شہر میں لاکھوں کی تعداد میں گاڑیاں موجود ہیں جو گیس پر چلتی ہیں اور فضائی آلودگی پیدا کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ ان گاڑیوں کا ہارن نوائس پالوشن کا سبب ہے جو کہ مریضوں اور بزرگوں کہ لیے قابلِ اذیت ہے۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر مچھر اور دیگر بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کی افزائش کا باعث بن رہے ہیں جس وجہ سے ڈینگی اور ملیریا میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت اور اعلی حکام کو چاہیے کہ آلودگی کی ان تمام اقسام کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ شہری مختلف بیماریوں سے بچ کر ایک صحتمند زندگی بسر کر سکیں۔

پیاری جماعت اسلامی، خوبصورت یادیں

محبت کرنے والے خوشبو دار لوگوں کے ساتھ میرا سفر 2008 میں شروع ہوا۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے دین سیکھنے کی توفیق دے اور مجھ سے دین کا کوئی کام لے۔ سروے کے لیے ایڈمیشن سے پہلے فصل آ باد ،ملتان اور بہاولپور کے مختلف مدارس میں گئ، سب بہت اچھا تھا پر اک کمی سی تھی دل بے چین تھا۔ پھر ہم نے نیا گھر بنایا وہاں سے آتے جاتے سبز بورڈ پہ سفید رنگ سے بڑا پیارا قرآن ہاؤس لکھا ہوا دیکھا، لفظ قرآن آنکھوں کو بڑا بھلا لگتا تھا قدم خود بخود اس طرف اٹھ گئے تین ماہ کے شارٹ کورس کا نہ صرف پہلا دن تھا بلکہ اتفاق سے پہلا بیچ بھی تھا۔ تین ماہ گزر گئے پتا ہی نہیں چلا، یوں لگا جیسے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور پل میں گزر گیا، دل نے کہا یہی جگہ تھی جس کی تمھیں تلاش تھی کورس کے اختتام والے دن ہی لونگ کورس کا فارم فل کر ا کے جمع کرا دیا۔ سب نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن پر بڑا زور دیا لیکن مجھ سے ہو نہیں سکا اور میں نے پرایئویٹ پڑھنے کو ترجیح دی۔ پھر جنت کا سفر رب سے جڑنے کا سفر شروع ہوا کتنا لطف ہے اس میں، اس قدر سرور ہے یہ تو وہی جان سکتا ہے جو اپنی جان کا اللہ سے سودا کر لے۔ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے ہمارے اساتذہ بہترین تھے۔ جتنی بھی زمانے سے مجھے داد ملی ہے میرا ایماں ہے کہ باعث استاد ملی ہے یہ تین سال یوں گزرے جیسے باد نسیم کا جھونکا دل چاہتا تھا کاش کہ وقت کو روک لیں ۔ لیکن وقت کو بھی کبھی کوئی روک سکا ہے ۔ پھر زندگی کا اصل آغاز ہوا کئی نشیب و فراز آئے شروع شروع میں مشکل لگتا تھا شیطان بھی حملہ کرتا تھا مشکلیں بھی تھی پر ٹھان لیا کہ اب جس تحریک کو چن لیا اس سے پیچھے نہیں ہٹنا یہ وہ جماعت ہے جو لوگوں کو اپنی پوری زندگی میں اللہ اور رسول ﷺ کی دعوت اور اقامت دین کی تلقین کرتی ہے۔ مزید یہ جماعت سیاست میں خدا سے پھرے ہوئے لوگوں کی بجائے زمام کار مو منین و صالحین کو سونپنے کا کہتی ہے۔ اس تحریک سے تو خود بھی جڑنا ہے دوسروں کو بھی جوڑنا ہے۔ جماعت کا شعبہ آئی ٹی ہو ،الخدمت ہو ،پیما ہو ،جے آ ئ یوتھ ہو غرض ہر شعبہ بڑی محنت اور ایمانداری سے اپنی اپنی جگہ کام کر رہا ہے۔ جماعت کا پروگرام بڑا ہو یا چھوٹا بہت بہترین انداز سے ارینج کیا جاتا یوں سب فکر میں ہلکان جیسے گھر کہ ذاتی فنکشن کے لیے سب ہوتے ہیں کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے ۔بڑے بڑےذمہ داران بھی اپنی ڈیوٹی کو خوش دلی سے ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ جب سب اسٹیل کے گلاس میں آرام سے پانی پی لیتے ہیں۔ جب سب سنت نبوی ﷺ کو اپناتے ہوئے ہر چیز کو ایک کھجور کی مصداق بانٹ کر کھاتے ہیں۔ جب چیز آئے گی تو سب کے لیے ورنہ نہیں جب سب...

دھرنوں کی سیاست اور معاشی مسائل

جس ملک میں عوام غریب ہو، اس کے حکمرانوں کو چاہئے کہ غربت کو ختم کرنے کیلئے دن رات کام کریں، پالیسیز بنائیں تاکہ ملک کی معیشت تبدیل ہو۔ سن 1960ء سے لے کر 1970ء تک پاکستان نے خوب ترقی کی اور آج جس پانی کو ہم استعمال کر رہے ہیں، یہ انہی ڈیمز کی وجہ سے ہے جو اسی عرصے کے دوران بنے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان اور پاکستان کے عوام کیلئے سوچا جاتا تھا اور کام بھی کیا جارہا تھا۔ ساری دنیا میں پاکستان کا ایک نام تھااور پاکستان کی ترقی کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ اس کے باوجود کہ یہ دور سیاسی دور نہیں تھا، بلکہ ایک فوجی حکمران کا دور تھا، دنیا حیران تھی کہ فوج کے دور میں ملک کس طرح ترقی کر رہا ہے؟ کیونکہ عام طورپر جمہوریت اور سیاسی حالات ہی ملک کو بہتر کرتے ہیں۔ بعد ازاں سن 1970ء کے بعد پاکستانی عوام کو امید تھی کہ سیاستدان پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنا دیں گے ، مگر پاکستان کئی سالوں تک مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا رہا۔ عوام نے بھی امید لگالی تھی مگر عوام کو پھر مایوسی ہونے لگی۔ 2012ء میں جب پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.8فیصد تھی ، لوگ بہت غمزدہ ہوگئے تھے۔ لوگوں نے امید چھوڑ دی تھی کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہوگی۔ اسی دوران عمران خان نے اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے عوام کے جذبات کی رہنمائی کی اور لوگوں سے کہا کہ ایک سونامی آئے گا اور ملک میں ترقی ہوگی۔ سونامی جیسے الفاظ تباہی کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جب عمران خان کوپتہ چلا تو انہوں نے سونامی کے الفاظ کو آزادی مارچ کانام دے دیا۔ جب یہ سلسلہ 2014 میں عروج پر پہنچا تو یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی معیشت 3.8فیصد سے 4.68فیصد نمو حاصل کر رہی تھی، مگر عمران خان کے جلسوں اور دھرنوں میں صرف ایک ہی نعرہ تھا کہ حکومت کو تبدیل کیا جائے، اور نئے حکمران آئیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم پاکستان کو ایک بار پھر آزاد کریں گے۔ ایسی پالیسیاں بنائیں گے جن سے غربت ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے۔ ہر انسان کو سستااور جلد انصاف ملے گا۔بدعنوانی ختم ہوجائے گی۔ بچوں کو اچھی تعلیم ملے گی۔ بجلی کی فراہمی سستی کی جائے گی اور ہر انسان کے اخراجات کم کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ہم صنعتوں کے اندر بھی پیداواری لاگت کم کردیں گے۔ اس وقت کے حکمران میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دھرنوں کی وجہ سے اور آپس میں لڑنے اور سڑکوں پر آنے کی وجہ سے کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا،جبکہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔ اس لیے آزادی کے نام پر لوگوں کو بہکانا ، سڑکوں پر لانا بند کریں۔ بصورتِ دیگر مستقبل میں یہ نقصان بڑھ جائے گا۔ مگر عمران خان نے اسے ایک سیاسی ایجنڈا سمجھا اور ایک تحریک چلائی ۔ بالآخر عمران خان کی حکومت آئی اور عوام نے یہ دیکھا کہ سن 2017 سے قبل جو مہنگائی کا طوفان تھا، اس سے کئی فیصد...

زندگی کیسے گزاریں؟

زندگی کے ہنگامے میں کچھ وقت اپنی لیے نکالیں۔ اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں جب سب کا ہدف خوب سے خوب تر کی تلاش اور زیادہ مال و دولت ہو تو زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ جب انسان اس دوڑ سے تھک کر سوچتا ہے کہ وہ کہاں ہے اور کیا کررہا ہے؟ یہ مقام ہر انسان کی زندگی میں آتا ہے لیکن کچھ اس مقام پر رک کر ان سوالات کے جواب تلاش کرتے ہیں اور کچھ اپنے نصیب اور اپنی جدوجہد کو کوسنے دیکر دوسروں سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اپنی زندگی کے تجربے کی روشنی میں چند باتیں، ذاتی مشاہدہ عرض کیے دیتا ہوں۔ 1-رزق کہاں سے اور کیسے ملے گا یہ سب نصیب سے ہے۔ آپ کا کام رزق حلال کی جستجو، محنت اور اپنے رب سے دعا کرنا ہے۔ 2-اس میں یہ بات بھی شامل خیال رہے کہ رزق اتنا ہی ملے گا جتنا مقدر میں ہے لیکن انسان کا اختیار بس اس کو حلال یا حرام سے کمانے پر ہے۔ 3- جدوجہد اور سعی کے بغیر انسانی زندگی نامکمل ہے لیکن یہ جدوجہد و سعی عارضی چیزوں کے بجائے پائیدار و مستقل چیزوں کے لیے ہونی چاہئے۔ 4- زیادہ پیسہ زیادہ ضرورت کو جنم دیتا ہے لہذا کبھی یہ نہ سوچیں کہ اتنا پیسا جمع کرونگا تو یہ ہوگا اور اس کے لیے کولہو کے بیل نہ بنیں اگر آپ زیادہ پیسہ باآسانی کمارہے ہیں تو بہت اچھا ہے ورنہ اپنی صلاحیتوں کو محض اس پیسے کی دوڑ میں ضائع نہ کریں۔ آپ کی ذات، خاندان اور جسم و روح کا بھی آپ پر حق ہے اس کو کبھی فراموش نہ کریں۔ 5- زندگی کی چکاچوند اور دوسروں سے اپنا موازنہ نہ کریں۔ آپ خود اپنی ذات میں مکمل انسان ہیں جو چیزیں اللہ نے آپ کو عطا کیں ہیں وہ آپ کے لیے بہترین ہے اس پر راضی رہیں۔ شکوہ شکایات یا کسی کو دیکھ کر مال و دولت کی دھن میں اس جیسا بنے سے گریز کریں۔ 6- انسان کے لیے اس کا اصل سرمایہ جو کبھی ختم نہ ہوگا حتی کہ موت کے بعد بھی جاری و ساری رہے گا وہ نیک و صالح اولاد، علم جو کسی کو سکھایا اور صدقہ جو آپ نے دیا۔ اس میں اس کی بھی وضاحت ضروری ہے علم حکمت، اچھا مشورہ، کسی بات پر چشم پوشی کسی کی اشک شوئی بھی صدقے کی تعریف میں شامل ہیں اور احادیث میں بکثرت اس کو بیان کیا گیا ہے۔ 7- اس دنیا کو بالآخر ختم ہوجانا ہے، چاہے آپ ارب پتی ہوں یا کنگال حساب کتاب کے مراحل سب کے گزرنے ہیں لہذا نیکی کرنے کی عادت ڈالیں خواہ وہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹانا ہی کیوں نہ ہو۔ اس کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ زندگی کے چھوٹے امتحان کا رزلٹ آخرت میں سب کے سامنے ظاہر ہوگا۔ لہذا نیکی کے بدلے میں نیکی کی عادت تو دراصل حساب کتاب دنیا میں پورا کرنا ہے اصل کام برائی کے جواب میں بھی بھلائی ہے جوکہ مطلوب ہے۔ 8- اس بات کا مکمل یقین رکھیں کہ اس زندگی میں...

جلسہ عام خواتین

اب کےبرس ہم اہلِ کراچی۔۔۔۔۔ اپنا پورا حق لیں گے ! سفرکے دوران سوچ میں گم کہ اب کی بار بھی لیٹ نہ ہوجائیں اور لوگوں کی آمد آمد کا وہ خوبصورت منظر دیکھنے سے محروم ہوجائیں گے لیکن الحمد اللہ بروقت پہنچے اور کیا دیکھتے ہیں کہ خواتین جوق درجوق ہجوم در ہجوم پنڈال میں داخل ہورہی تھیں ایک خوبصورت سماں جو میری نظروں کے سامنے تھا۔ کراچی کے باسیوں میں یہ شعور آتا جا رہا ہے کہ ہمیں اپنا حق لینا چاہیے ایسے ہی بیٹھ رہنے سےحق حاصل نہیں ہونے والا ایسے میں کراچی کے لوگوں کو حافظ صاحب کی تحریک "حق دو کراچی کو" نظر آتی ہے۔ ابھی 19اکتوبر بدھ کے مناظر ذہن سے محو نہیں ہوئےتھے کہ کس طرح نوجوان لڑکے اپنے مستقبل کی فکر میں "بنو قابل" پروجیکٹ کے لیےالخدمت جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن صاحب کی قیادت میں جمع ہوئے تھے کہ یہ 21اکتوبر جمعہ کے دن خواتین ہجوم در ہجوم جلسہ عام میں شرکت کیلئے حاضر تھیں اور ان کی شرکت کا مقصد حافظ صاحب کا ساتھ دینا تھا کہ ہم بھی ان کے ساتھ مل کر کراچی کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ تلاوتِ قرآن کریم اور نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسماء سفیر صاحبہ نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئےکہا کہ خوشی ہوتی ہے جب دیکھتے ہیں کہ کراچی کی عوام میں اپنے حق کے لیے شعور بیدار ہوتا جارہا ہےانھوں نے مزید کہا کہ صرف کراچی کی مئیر شپ ہی ہمارا مقصد نہیں بلکہ ہمارا مقصد ایک کا شہری ہونے کے ناطےاسکی تقدیر کو بدلنا ہے اور اس میں آپ ہمارا ساتھ دیجیئے۔ حلقہ صوبہ سندھ ناظمہ رخشندہ منیب صاحبہ نےکہا کہ "خدا نےاس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو خیال جسے آپ اپنی حالت بدلنے کا" ان کا کہنا تھا کہ اقتدار نہ ہونے کے باوجود جماعتِ اسلامی پاکستان کے مسائل حل کر رہی ہے نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کے، جب سیلاب آیا تو کس کس طرح الخدمت جماعت اسلامی ہی اقتدار نہ ہونے کے باوجود عوام کے مسائل حل کرتی رہی اور دوسری پارٹیوں کے لیڈرز ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہوائی جائزہ لیتے نظر آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اپنے ووٹ کا سودا نہیں کرتی اور نہ ہی موروثی سیاست کرتی ہے انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ شہروں کو دیکھ لیں وہاں کی حالت اور بھی خراب ہیں جو کہ پیپلز پارٹی کے اپنے شہر ہیں۔ عطیہ نثار صاحبہ نے جلسہ عام سے خطاب کیا بے حیائی اور سود کے خاتمے کاذکرقرآنی آیات سے کیا اور ساتھ ہی ساتھ قوم لوط کے عمل جو کہ آج کل ٹرانسجنڈر کی صورت میں پاکستان میں بل پاس کیا جارہا ہے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ میں وزیراعظم ہوں تو مجھے وزیراعظم مان لیں ناں،،جب ہم یہ نہیں کر سکتے تو خدا کی بنائی ہوئی ساخت میں کیسے تبدیلی آسکتی ہے۔ عظیم الشان خواتین کے جلسہ عام سےحافظ نعیم الرحمن صاحب نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی میں شمولیت کا یہ تصور بن ہوا ہے کہ ایک خاص...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کہاں کی بات کہاں نکل گئی

قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔ دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔ گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔ 2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

ہمارے بلاگرز