گرد آلود لہو لہو چہرے!

کمرے میں مدھم روشنی تھی سب اپنے آرام دہ بستروں میں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے ، اچانک سے میری آنکھ کھل گئی اور سیدھی اپنے بچوں کے چہرے کی طرف گئی جہاں مجھے گرد میں اٹے ،خون اور زخموں سے چور چہرے دیکھائی دیئے اور مجھے محسوس ہوا کہ میں رات کی تاریکی میں کسی ملبے کے ڈھیر پر کھڑا ہوں ، موسم میں جیسے خنکی تھی اور میں کپکپاہٹ کا شکار تھا ، میری چیخیں حلق میں پھنس کر رہ گئی تھیں ، میری لرزتی ہوئی انگلیاں اپنے بچوں کے چہروں کو چھونا چاہتی تھیں لیکن شدید کرب میں مبتلاء تھیں مجھے اپنا آپ زخموں سے چور لگ رہا تھا محسوس ہو رہا تھا کہ میرے ہاتھ ،پیر اور نامعلوم کون کون سی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں ، میں درد کی شدت سے کراہ رہا تھا لیکن ان سب سے بڑھ کر مجھے اپنے بچوں کی فکر لاحق تھی ، میرے اپنے گرد آلود رخساروں پر آنسووں کی لکیر بہہ رہی تھی ، مجھے اپنے وجود کی ساری طاقت اپنے ہاتھوں میں منتقل کرنی تھی تاکہ میں اپنی چھوٹی بیٹی کو چھو سکوں ، لرزتی ہوئی انگلیوں نے اس کے گالوں کو چھوا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا وہ بلکل ٹھیک تھی اور خوب مزے سے سو رہی تھی ، میرے جسم میں جیسے جان واپس آچکی تھی کمرے میں موجود سب چہرے صاف اور پر سکون دیکھائی دے رہے تھے میں کسی ملبے کے ڈھیر کی بجائے اپنے صحیح سلامت کمرے میں تھا ، میری برادشت جواب دے چکی تھی میں نے چیخ چیخ کر رونا شروع کردیا ، یہ سب کیا اور کیوں تھا ، اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھا کر شکر بجا لانا شروع کردیا اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ان والدین کے کلیجوں کی کیا کیفیت ہوگی جو اپنے معصوم نوزائیدہ کٹے پھٹے بچوں کی لاشیں اٹھائے ادھر سے ادھر بھاگ رہے ہیں ، جنہیں دفنانے کا بھی دل نہیں کرتا اور ساتھ رکھ بھی نہیں سکتے ، تکلیف و مصیبت کی اگر شکل دیکھنی ہے تو فلسطین سے آنے والی تصاویرہی دیکھ لو ، تکلیف کو چلتے پھرتے دیکھنا ہے تو فلسطین کی ویڈیوز دیکھ لیں ۔

میں اپنے آپ کو یقین دلا رہا ہوں کہ ابھی ہم کسی مشکل مرحلے میں نہیں ہیں بلکہ ہم ایک مشکل دور میں مسلسل داخلے کا سفر کر رہے ہیں ابھی تو مشکل مرحلے کا سفر ہے وہ مرحلہ تو بس کسی بھی وقت آن پہنچنے والا ہے، کیا معلوم کون سی صبح ہو اور کون سا دروازہ کھلے اور سامنے مشکل مرحلہ ہ میں دبوچ لے یا ہم کسی گڑھے نما میں گر جائیں ۔ مجھے یقین ہے میری طرح آج دنیا میں ایسے بہت سارے لوگ موجود ہیں جن کی راتوں کی نیند اڑ چکی ہے اور انکی آنکھوں کا پانی بھی شائد خوف کی شدت کے احساس کی وجہ سے خشک ہوچکا ہے ، وہ بھی ہماری طرح پیروں میں بندھی نا نظر آنے والی بیڑیوں سے بندھے ہیں ان کے بچوں کے چہرے بھی انہیں خوف زدہ کر رہے ہوں گے، کہ دشمن کی بے رحمی ہماری بزدلی کی وجہ سے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور کہیں یہ کسی دن ہمارے اوپر بم پھینکنا شروع نا کردیں اور پھر وہ جو سب کچھ کسی خواب کی طرح سے آنکھوں کے سامنے سے ابھی کچھ وقت قبل گزرا ہے حقیقت ہی نا ہوجائے ۔ قدرت کا قانون ہے کہ ظلم سہتے رہو گے توظلم ہوتا رہے گا ، ظالم اس وقت تک ظالم ہے جب تک مظلوم زندہ ہے ۔ ہم سب کی نظروں کے سامنے پچھلے دو ہفتوں سے ایسے ہی مناظر گردش کر رہے ہیں کہ جن میں موت بھرپور رقص کرتی دیکھائی دے رہی ہے اور زندگی سسکتی ہوئی گزر رہی ہے ۔ محمد بن قاسم نے ایک لڑکی کی مدد کی پکار پر راجہ داہر کو شکست دی تھی اور پہلی دفعہ برصغیر میں کسی مسلمان فاتح کے طور پر آئے تھے ۔ آج سماجی ابلاغ پر کتنی ہی معصوم سی صدائیں گونج رہی ہیں لیکن ہمارے کانوں میں تو لگتا ہے کہ ابھی سے ہی سیسہ پگھلا کر ڈال دیا گیا ہے جسکی تاثیر آنکھوں سے دیکھائی دے رہی ہے باقی کا عمل آگے ملے گا ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ قیامت کا منظر شروع چکا ہے ۔

اقتدار کے لئے بے حس ہونا بہت ضروری ہے ، جدیدیت نے ہ میں سکھایا ہے کہ ملک کی طے شدہ سرحدوں کی پاسداری ملک کے سربراہان کی ذمہ داری ہوتی ہے ، یعنی امت کے تصور کو بہت خوبصورتی سے دفن کردیا گیا ہے ۔ آپ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے پابند ہو اور ہم اپنی سرحدوں کے جوابدہ ہیں ۔ ایک طرف سماجی ابلاغ پر لمحہ لمحہ کی صورتحال کو شاءع کیا جارہا ہے دوسری طرف عملی طور پر کسی قسم کی کوئی کاوش دیکھائی نہیں دے رہی یہاں الزام کسی پر نہیں ہے یہاں ندامت اپنے بزدل اور کمزور ہونے پر ہے ۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب نواسہ رسول ﷺ ، امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور اہل بیت کے دوسرے افراد کیساتھ کربلا میں ظلم اور بربریت کی تاریخ رقم کی جارہی تھی تو اس وقت باقی مسلمان کہاں تھے تو آ ج اسکا جواب واضح ہوچکا ہے کہ ہم اپنی اپنی سرحدوں تک کے مسلمان ہیں اور تو اور کبھی تو ہم اپنے گھر کی چار دیواری کے مسلمان ہی رہ جاتے ہیں ۔

یہاں کسی کیلئے کوئی ندامت اور شرمندگی کی کوئی بات نہیں ہے ، اللہ تعالی ہمارے گھروں کو آباد رکھے ہماری روزی روٹی چلائے رکھے ، ہمارے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھرتی رہیں، بھلا ہماری سرحدیں فلسطین سے تھوڑی ملتی ہیں اور امت کی ذمہ داری کوئی ہمارے ناتواں کاندھوں کیلئے نہیں ہے ۔ آج کل ہماری مصروفیات میں سے سب سے اہم مصروفیت کرکٹ کا عالمی کپ ہے جہاں پاکستان کی کرکٹ ٹیم اچھا کھیل پیش نہیں کر پا رہی ۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ایسا کچھ نا لکھوں لیکن میں نے لکھ دیا ہے ، شائد میں اپنی بے حسی سے ہار گیا ہوں ، آپ لوگوں سے معذرت کیساتھ ۔

حصہ
mm
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔