نوکری یا کاروبار؟

دنیامیں فی زمانہ اگر کسی کے معیارزندگی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی تعلیمی قابلیت کم،بینک بیلنس اور اس کے پاس مادی اشیا سے لگایا جاتا ہے۔یہ بھی ایک سچ ہے کہ جیہندے گھر دانے اونہدے کملے وی سیانے۔لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ پیسہ ہر کسی پر عاشق...

دھرنے کا بھونپو

دھرنے کا بگل چاروں طرف بجتا سنائی دے رہا ہے۔عمران خان کا دھرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔    ہم آج تک مہنگائی ،لوڈشیڈنگ،نت نئے ٹیکسز اورنا تھمنے والی تباہی...

نئے سال کا کیلنڈر

نئے سال کا کیلنڈر کمرے میں لگاتے وقت اُس کی نظریں کیلنڈر کے پہلے صفحے پر بنی ہوئی صبح شروع ہونے والی تصویر پر جم گئیں۔ مشرق سے نکلنے...

*نسخہ محبت یا خطرہ جاں*

جب بھی موسم بدلتا ہے ساتھ کچھ تبدیلیاں لاتا ہے۔ جیسے پت جھڑ کے موسم میں درختوں کے پتے سوکھ کر گرتے ہیں تو موسم بہار میں یہی ٹنڈ...

صحرائے سندھ تھرپار کر

پاکستان کا یہ سب سے بڑا صحرا اپنے اندر قدرت کے کئی خوب صورت رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ جہاں کہیں اڑتی ریت نظر آتی ہے تو کہیں لہلہاتے کھیت...

’’ اور ہم نے آپ کے لیے آپ ؐ کا ذکر بلند کیا‘‘

'' اور ہم نے آپ کے لیے آپؐ کا ذکر بلند کیا۔ '' ارشادِ باری تعالیٰ ہے، '' یقیناً بڑا احسان فرمایا اللہ نے مومنوں پر جب اس نے...

وضاحتیں نہیں شفافیت چاہیے

ہر چند روز یا مہینے پندرہ دن کے بعد مقتدرہ کی جانب سے وضاحتوں کا آنا معاملات کو مشکوک کر جاتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ...

سفید کپڑے

کل شام میری پڑوسن میر ے گھر آ ئی۔خوب سار ے تھیلےاٹھائے  ، ہانپتی اور پسینے سے شرابور۔داخل ہو تے ہی پنکھے کی رفتار تیز کرنے کو کہا۔میں جلدی...

آگاہی مجازات است

جب دنیا میں نعمتیں تقسیم ہو رہی تھیں تو طے ہوا کہ ہر نعمت کے ساتھ ایک عذاب دیا جائے گا۔ اور ہر محرومی کے ساتھ ایک سہولت ملے...

کرتار پور راہداری اور اختلافات

جسارت اخبار میں آج (8 نومبر 2019) شائع ہونے والی خبر کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ "سکھ یاتری ایک سال تک صرف...

جینے کا ہنر

جب زندگی کی ڈور الجھ جائے،تب کیاکریں

مجھے ایک واقعہ یاد ہے جب ہم کراچی ایک علاقے میں رہایش پذیر تھے۔ہمارے علاقے کے گرلز اسکول کا واقعہ ہے۔ایک روز ایک طالبہ اسکول گئی لیکن اسکول کی...

دو خدا

وہ مسکرائے اور کہنے لگے "اگر تم تحقیق کروگے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں چار ہزار سے زیادہ خدا ہیں جن کی عبادت اور پوجا کی جاتی...

“سوال کی قوت “

’’سوال ہی جواب ہیں،جو سوال کرتا ہے، وہ جواب سے گریز نہیں کر سکتا۔‘‘ تم جانتے ہو ہمارے اندر موجود یقین کی قوت کس طرح ہمارے فیصلوں،اعمال،قسمت اور ہماری زندگیوں...

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے...

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

انسانی دماغ میں ایک سو ملین سے بھی زیادہ اعصابی خلیے (نیوران) پا ئے جا تے ہیں اور ہر ایک خلیہ ایک سوپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ طاقت ور...

آپ خود کو صرف59 سیکنڈز میں بدل سکتے ہیں

آپ صرف 59 سیکنڈز میں اپنی شخصیت میں نمایاں تبدیلی لاکر ایک خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں جی ہاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں۔ یہ دعویٰ...

میڈیا واچ

میڈیا واچ ”ڈرامہ: میرے پاس تم ہو“

عورت کے سامنے جب لفظ محبت کا ذکر کیا جائےتو اسکے دل و دماغ  میں ایک خوبصورت مرد کی تصویر آجاتی ہےایک ایسا مرد جو بہت محبت کرنے والا...

  **  میڈیا آخر کیا چاہتا ہے؟**

ڈراموں میں پہلے دوپٹہ سر سے اترا، کندھے پر آیا ۔ پھر ایک طرف کو لٹک گیا۔ پھر سرے سے غائب ہی ہو گیا۔ پہلے ڈراموں میں، مرد اور...

 چیخ

ڈرامہ سیریل کسی بھی ملک کی پہچان ہوتے ہیں، جیسے لوگ دوسری جگہ جا کر اپنے ملک اور کلچر کی نمائندگی کرتے ہیں، ایسے ہی ڈرامہ ملک اور کلچر...

”ڈرامہ سیریل انکار“

آج کل ہم ٹی وی پہ چلنے والا ڈرامہ سیریل”انکار“ اپنی جاندار کہانی کی وجہ سے بے حد مقبول ہے۔ٖظفر معراج نے اپنے قلم سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ...

بھول یا گناہ

موجودہ معاشرے میں عورتوں اور مردوں کے آزادانہ ملاپ کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مخلوط محفلیں، مخلوط طرزتعلیم، دفاتر، گزرگاہیں، فوڈسینٹرز ،شاپنگ مالز غرض...

سوتے رہو

٨مارچ کے دن فیرئیر ہال میں عورت کے حقوق کے نام پر جو بیجا سوالات اٹھائے گئے، لکس کے اشتہار میں انہی جملوں کو دہرایا گیا ۔۔۔ ایسے نہ...

مباحث

قرآن کی نص صریح کا انکار

یہ چند ماہ پہلے کی بات ہے پنجاب کے ایک وزیر نے ایک بیان میں یہ کہہ دیا کہ جس طرح NCC کی تربیت کے تحت طلبہ کو خصوصی...

دین مائینس سیاست برابر چنگیزی

جب بھی اسلام  میں سیاست کے حوالے سے بات چھڑتی ہے یا بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو عام طور پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس مصرع کا...

سرسید اور ان کی پیدا کردہ ذہنیت

ایک مسلمان کے لیے سب کچھ اس کا دین ہے، اس کا خدا ہے، قرآن مجید ہے، رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ ہے، آپؐ کی سیرت ہے، آپؐ کی...

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر...

قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ، قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ''شارح'' ...

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے بغیر آپ اسکے شہری نہیں بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ...

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے...

اہم بلاگز

ترکی کی شام میں مداخلت ۔ پس منظر و پیش منظر

اس قضیے کو سمجھنے کی ابتدا ترکی کے شام پر حالیہ حملے سے کی جائے تو گتھی سلجھنے کے بجائے مزید الجھے گی ۔ اس لیے ہم اس معاملے کو بنیاد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کردستان  ترکی کا جنوب مشرقی علاقہ  ایران کا شمال مغربی علاقہ  عراق کا شمالی علاقہ اور شام کا  شمال مشرقی علاقہ  یہ کردوں کا مسکن ہے ۔ اسے کردستان کہا جاتا ہے ۔ یہ سارا خطہ تین لاکھ بانوے ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔ کردستان کے اس منقسم خطے میں سے  ترکی کے پاس ایک لاکھ نوے ہزار، ایران کے پاس ایک لاکھ پچیس ہزار، عراق کے پاس 65 ہزار اور شام کے پاس بارہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے ۔ کرد قوم اس خطے میں تین سو سال قبل مسیح سے آباد ہیں ۔ساتویں صدی میں یہ مسلمان ہوئے ۔ اس وقت نوے فیصد سے زائد کرد سنی مسلمان ہیں ۔ حالیہ وقتوں میں ان کی کل آبادی ساڑھے  تین کروڑ  کے لگ بھگ ہے ۔ سب سے زیادہ تعداد ترکی میں آباد ہے ۔ یہ تعداد تقریبا ًڈیڑھ سے پونے دو کروڑ کے آس پاس ہے ۔ ایران میں قریب قریب نوے لاکھ ، عراق میں اسی لاکھ اور شام میں تیس لاکھ کے عدد کو چھوتے ہیں ۔ جنگ عظیم اول سے قبل یہ سارا خطہ خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا ۔ جنگ خلافت عثمانیہ کی شکست پر منتج ہوئی ۔ شکست کا سب سے نمایاں نتیجہ یہ سامنے آیا کہ چھوٹی چھوٹی قومی سلطنتیں تشکیل پاگئیں ۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے حریفوں کے لیے بےحد حوصلہ افزا تھی ۔ یہیں سے مسلمانوں کا حقیقی زوال شروع ہوا ۔ معاہدہ سیورے  ۔10اگست 1920 کو اتحادیوں اور سلطنت عثمانیہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا، جو " معاہدہ سیورے " کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس معاہدے کے رو سے حجاز مقدس ترکی سے الگ ہوا۔ نیز یہ بھی طے پایا کہ کردوں کی الگ ریاست بنے گی ۔ معاہدہ لوزان   مصطفی کمال اتاترک نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ خلافت کی بساط لپیٹی اور ترکی کی آزادی کا اعلان کر دیا ۔ اس دوران ترکی میں یونانی فوج بڑی تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھی ۔ کمال اتاترک نے 1921 کو روس سے دوستی کا معاہدہ کرلیا ۔ اس عمل سے تقویت پاکر 1922 کو یونانی افواج کو شکست سے دوچار کیا اور انہیں ترکی سے نکال باہر کیا  ۔ کمال اتاترک کی اس شاندار فتح کی وجہ سے جنگ عظیم کے اتحادی مذاکرات کی میز پہ آنے پر مجبور ہوگئے اور 24 جولائی 1923 کو سوئیٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں " معاہدہ لوزان " عمل میں آیا ۔ اس معاہدے کی رو سے سابقہ معاہدہ " معاہدہ سیورے " کو منسوخ قرار دیا گیا ۔ جس کی رو سے ایک آزاد کرد ریاست نے جنم لینا تھا ۔ معاہدہ لوزان کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ترکی ،شام اور عراق کی سرحدیں متعین کر دی گئیں ۔ دوسرے لفظوں میں کردوں کے ارمانوں پر نہ صرف پانی پھیر دیا گیا، بلکہ انہیں عملاً ترکی ،شام...

اطاعت و استغفار کے ذریعے آفات سے نجات

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”جب مال غنیمت کو دولت قراردیاجانے لگے،اورجب زکوٰۃ کوتاوان سمجھا جانے لگے، اور جب علم کو دین کے علاوہ کسی اور غرض سے سکھایا جانے لگے، اورجب مرد بیوی کی اطاعت کرنے لگے اورجب ماں کی نافرمانی کی جانے لگے،اورجب دوستوں کو قریب اورباپ کودور کیاجانے لگے، اورجب مسجد میں شوروغل مچایا جانے لگے اور جب قوم وجماعت کی سرداری،اس قوم وجماعت کے فاسق شخص کرنے لگیں اورجب قوم وجماعت کے زعیم وسربراہ اس قوم وجماعت کے کمینہ اور رذیل شخص ہونے لگیں،اورجب آدمی کی تعظیم اس کے شراورفتنہ کے ڈرسے کی جانے لگے، اورجب لوگوں میں گانے والیوں اور سازو باجوں کادوردورہ ہوجائے، اور جب شرابیں پی جانی لگیں اورجب اس امت کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں کو براکہنے لگیں، اور ان پر لعنت بھیجنے لگیں تواس وقت تم ان چیزوں کے جلدی ظاہر ہونے کا انتظار کرو، سرخ یعنی تیزوتنداور شدید ترین طوفانی آندھی کا، زلزلے کا،زمین میں دھنس جانے کا، صورتوں کے مسخ وتبدیل ہوجانے کا،اور پتھروں کے برسنے کا،نیزان چیزوں کے علاوہ قیامت اور تمام نشانیوں اور علامتوں کا انتظارکرو،جو اس طرح پے درپے وقوع پذیر ہوں گی جیسے (موتیوں کی) لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور اس کے دانے پے درپے گرنے لگیں“۔ مذکورہ بالا حدیث میں کچھ ان برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اگرچہ دنیا میں ہمیشہ موجودرہی ہیں اور کوئی بھی زمانہ ان برائیوں سے خالی نہیں رہاہے،لیکن جب معاشرہ میں یہ برائیاں کثرت سے پھیل جائیں اور غیر معمولی طورپر ان کادوردورہ ہوجائے توسمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت ترین عذاب خواہ وہ کسی شکل وصورت میں ہوا، اس معاشرہ پر نازل ہونے والاہے اوردنیا کے خاتمے کا وقت قریب ترہوگیا ہے۔ مال غنیمت کو دولت قراردئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اگرسلطنت کے اہل طاقت وثروت اور اونچے عہدے دار مال غنیمت کو شرعی حکم کے مطابق تمام حقداروں کو تقسیم کرنے کی بجائے خود اپنے درمیان تقسیم کرکے بیٹھ جائیں اور محتاج وضرورت مند اور چھوٹے لوگوں کو اس مال سے محروم رکھ کر اس کو صرف اپنے مصرف میں خرچ کرنے لگیں تواس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اس مال غنیمت کے تمام حقداروں کا مشترکہ حق نہیں سمجھتے بلکہ اپنی ذاتی دولت سمجھتے ہیں۔ امانت کو مال غنیمت شمارکرنے سے مرادیہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس امانتیں محفوظ کرائی جائیں وہ ان امانتوں میں خیانت کرنے لگیں اور امانت کے مال غنیمت کی طرح اپنا ذاتی حق سمجھنے لگیں جو دشمنوں سے حاصل ہوتاہے۔ زکوٰۃکوتاوان سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا لوگوں پر اس طرح شاق اور بھاری گزرنے لگے کہ گویاان سے ان کا مال زبردستی چھینا جارہاہے اورجیسے کوئی شخص تاوان اورجرمانہ کرتے وقت سخت تنگی اوربوجھ محسوس کرتاہے۔ علم کو دین کے علاوہ کسی اورغرض سے سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ علم سکھانے اور علم پھیلانے کا اصل مقصد دین وشریعت کی عمل اور اخلاق وکردار کی اصلاح وتہذیب انسانیت اور سماجی کی فلاح وبہوداور خداورسول...

 ”شکریہ جماعت اسلامی “

”بھائی! فون تو اٹھا لیا کر،میں نے قرضہ تونہیں لیناتھا،کل سے ستر فون کر چکا ہوں مجال ہے جو ایک بار بھی کال اٹھا ئی ہو،چلو بندہ مصروف ہوتا ہے لیکن فرصت میں تو کال کر سکتا ہے ،یعنی اب ہم ایسے گئے گزرے ہوگئے ۔۔۔“سیلانی فون پر جمیل کی ہیلو سنتے ہی شروع ہو گیا،گذشتہ بارہ گھنٹوں میں جمیل کو گیارہ بار فون کر چکا تھا،بارہویں فون پر اس نے کال وصول کی تو سیلانی کاکھری کھری سناناتو بنتا تھا۔ جمیل احمد صغیر سے اسکا پرانا ساتھ اور بے تکلفی ہے ،کراچی یونیورسٹی کی بسوں پر دونوں نے لٹک لٹک کرخوب سفر کر رکھے ہیں ۔کیمسٹری کی کھٹی چنا چاٹ اور رول پراٹھے کھارکھے ہیں،ایک دوسرے سے چھین کر عبداللہ کی بریانی پلیٹ  پربھاگتے رہے ہیں، جمیل پڑھنے لکھنے والا بچہ اورتقریبا آدھا جماعتی تھا،فکری اور نظریاتی طور پر وہ جماعتی ہی تھا،مولانا موددودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابیں اس کے بیگ میں رکھی ہوتی تھیں لیکن وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہونے پر تیار نہ ہوتاتھا ،یاروں نے بڑی کوششیں کیں، ربط میں رکھا،گھر کے چکر لگائے، بڑے بڑے لیکچر دیئے لیکن جمیل نے جمعیت میں نہ آنا تھا نہ آیا۔ یونیورسٹی کے بعد غم روزگار نے سارے ہی دوست محبتیں اوررفاقتیں یاد بنا دیں، وہ احباب جن سے روز آرٹس لابی میں مصافحے معانقے ہوا کرتے تھے انہیں بھی گردش دوراں جانے کہاں لے اڑی جو نہیں اڑے جمے رہے ان سے بھی ملاقاتوں میں وقفہ بڑھتا چلا گیا۔جمیل سے بھی کبھی کبھار ہی ملاقات ہوپاتی کبھی اس کا فون آجاتا یا کبھی سیلانی اسے فون کر لیتا ،کل ایک کام کے سلسلے میں سیلانی کو جمیل کی ضرورت پڑ گئی سیلانی نے فون کیا لیکن اس نے اٹھایاہی نہیں پھر فون کیا جواب ندارد،تیسراچوتھا اور وقفے وقفے سے کتنے ہی فون کئے لیکن جمیل سے رابطہ نہ ہواپہلے اسکے نمبر پر گھنٹی بج رہی تھی پھر اس نے فون بھی بند کر دیا،سیلانی کا غصہ پریشانی میں بدل گیا طرح طرح کے وسوسے اسے ڈسنے لگے اس نے چاہا کہ کسی اوردوست سے جمیل کی خیر خبر لی جائے لیکن دونوں کا کوئی مشترکہ دوست بھی ایسا یاد نہ آیا اب جو صبح جمیل کے نمبر سے اپنے فون پر مس کال دیکھی تواس نے نمبر ملایا اور جمیل کی ہیلو سنتے ہی شروع ہو گیاسناتے سناتے سیلانی ذرا دم لینے کو رکاتو دوسری طرف سے آواز آئی ”بس یا کچھ اوررہتا ہے ۔۔۔“ ”ابے ! چپ میں سامنے ہوتا ناں تو طبیعت صاف کر دیتا “ ”واپس آجا کراچی میں صفائی کرنے والوں کی بڑی ضرورت ہے یہاں سیاست ہی صفائی پر ہورہی ہے“جمیل ہنس پڑا ”یار ! میں تجھے کل سے فون پر فون کئے جارہا ہوں مگر تو نے جواب دینے کے بجائے فون ہی بند کر دیا“ ”بدگمان نہیں ہوتے دوست فون بند نہیں کیا تھا ہو گیا تھا اور کال میں اس لئے نہیں لے سکا کہ لاکھوں لوگوں کے شور میں گھنٹی کیا گھڑیال کی بھی کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی“ ”لاکھوں لوگ۔۔۔کیامطلب ؟“ ”میں کل کشمیر کی ریلی میں تھا“  تو بھی کل جماعت اسلامی کی...

امت کو طعنے

امت کا تصور اتنا جاندار ہے کہ استعمار نے اس کو ختم کرنے کے لیے امت کے وجود کو بزور شمشیر کیک کے ٹکڑوں کی طرح تقسیم کیا،خاردار باڑیں لگائیں،آمد و رفت محدود کی، پاسپورٹ اور ویزے کا دھندا قائم کیا،پھر بندوق کے پہرے بٹھائے،ایک کے بجائے درجنوں پرچم دیے اور ہر قومیت کو صرف اپنے وطن کی عظمت پر لگا دیا، اپنے تئیں باقی سب بھلا دیا اور پھرسب سے اوپر ذہنی غلامی کو قائم دائم رکھنے کے لیے اپنے کالے غلام اس سارے بندوبست کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیے۔۔۔! لیکن امت نے اپنے وجود کا ثبوت دیا اور ہر محاذ پر دیا۔ اڑتالیس کی عرب اسرائیل جنگ میں مجاہدینِ امت نے بے سروسامانی میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے۔۔۔73ء کی جنگ میں اسرائیلی پوچھتے تھےاس دفعہ فدائین تو نہیں لڑ رہےنا! پھر جتنی جنگیں عرب قومیت کے نعرے پر لڑی گئیں،ہمیشہ منہ کی کھائی اور جب جب امت کی،قرآن کی صدا بلند ہوئی، دشمن خون کے گھونٹ پی کرر ہ گیا۔آج بھی غزہ کا قید خانہ اور القدس کے مینار خون سے تر ہیں ، امت تابندہ ہے! افغانستان کی تو مثال ہی دینا وقت کا زیاں ہے ،انڈونیشیا سے مراکش تک امت کے نمائندے بارگاہ الٰہی میں منتخب ہو ہو کر پہنچے اور خون ِرگِ جاں سے حق کی شہادت رقم کی۔رحمھم اللہ۔ بوسنیا کی بات کم کومعلوم ہے۔۔۔1992ء میں نسل کشی شروع ہوئی تو ہر حکومت نے ویسے ہی تاریخی'' کھڑے ہونے'' پر اکتفا فرمایا جیسے آج پاکستان کشمیر کی چتا کے سرہانے ساتھ''کھڑا" ہے۔۔۔امت کو آواز پڑی،امت نے لبیک کہا،عالم اسلام سے جانباز آئے اوردو ہی سال میں سرب افواج کا زور توڑ دیا۔دشمن کو مجبوراََبوسنیا کے قیام کو تسلیم کرنا پڑا! صدرعلی عزت بیگوویچ کا خراج تحسین آج بھی موجود ہے،اسے پڑھیں،معلوم ہو گا امت کیا ہے، کیا کر سکتی ہے! عراق میں امریکی تسلط کے خلاف ان کہی داستان کبھی لکھی جائے تو استعمار کے خلاف جدوجہد میں امت کاتاریخی کردار سامنے آئے گا اور یہ لکھا جائے گا۔انگریزی میں لکھا بھی گیا ہے،اردو تاحال محروم ہے! اعلان آزادی 1995ء کے بعد آزاد چیچنیا کے صدر جوہر داؤدییف نے آرمی کا کمانڈر ایک عرب کمانڈر امیر الخطاب کو مقرر کیا تھا،کس قاعدے کے تحت؟یہ امت ہے! وہی خطاب جس نے سعودی عرب میں والدہ کو فون پر کہا تھا کہ جب چیچنیا سے روسی استعمار کا جنازہ نکل جائے گا،خطاب اپنی ماں سے ملنے آ جائے گا! صرف کشمیر میں پچیس ہزار پاکستانی امت کے وجود کی سند خونِ رگِ جاں سے رقم کر چکے ہیں۔کسی ایک کا باپ یا بھائی بھی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ وہ' 'سب سے پہلے پاکستان'' پر قربان ہوا۔ہر شہید نے امت کے لیے قربانی دی!خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی! حماس کے ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کا بانی تیونس کا شہری محمد الزواری بنتا ہے۔۔۔کس نسبت سے؟؟اسی نسبت سے جس نسبت سے بوڑھا شیرسیدعلی گیلانی اپنا آپ پاکستان سے منسوب کرتا ہے۔۔پاکستان کو امت کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے۔۔ "اسلام کی نسبت سے ۔۔۔اسلام کے تعلق سے۔۔۔اسلام کے رشتے سے۔۔۔ہم پاکستانی ہیں۔۔پاکستان ہمارا ہے!" اقبال ابھی تک غلطی سے قومی شاعر ہی ہے،بہت...

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی؟

دس ذوالحجہ عید الاضحی کے دن مسلمان خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت کو زندہ کرتے ہیں۔ یوں توحضرت ابراہیم علیہ السلام کی ساری زندگی عظیم الشان قربانیوں سے آراستہ ہے مگر بحکم خداوندی اپنے لاڈلے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نازک و نرم خوبصورت نورانی گلے پر اپنے ہاتھ مبارک سے پوری قوت کیساتھ تیزدھار چھری چلانا ایسی لا مثال و منفرد قربانی ہے کہ تعمیل حکم و اطاعت خداوندی کی ایسی مثال نہیں ملتی۔ عجیب منظر تھا جب باپ نے اپنے نو عمر فرزند سے پوچھا، اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہاہوں، بتا تیری مرضی کیا ہے؟“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے یہ رائے اس لیے نہیں پوچھی تھی کہ اگر بیٹے کی رائے ہو گی تو ایسا کروں گاورنہ میں اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کروں گا، ایسا ہر گز نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رائے اس لیے پوچھی تھی کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے حکم کے بارے میں بیٹے کا تصور کیا ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمابرداری دیکھئے، وہ بیٹا بھی تو کوئی عام بیٹانہیں تھا، وہ بھی آخر خلیل اللہ کا فرزند ارجمند تھا۔ اگر باپ خلیل اللہ کے مرتبہ پر فائز تو بیٹے کے سر پر بھی ذبیح اللہ کا تاج سجنے والا تھا۔ کیونکہ آپ علیہ السلام ہی کی صلب اطہر سے آقائے دو جہاں،تاجدارانبیاء،شفیع روزجزا، جناب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نورمبین سے اس جہان کو دائمی روشنی سے منور کرنے والے تھے۔ اس لیے وارث نبوت نے بھی اطاعت کی حد کر دی۔آپ علیہ السلام نے اپنے باپ کے آگے سر کو جھکا دیا اور یہ بھی نہیں پوچھا کہ ابا جا ن مجھ سے کیا جرم سر زد ہوا ہے؟میری خطا کیا ہے؟ جو آپ مجھے موت کے حوالے کرنے جا رہے ہیں۔ قربان جاؤں! اس بیٹے پر جس نے نہایت عاجزی وانکساری سے اپنے باپ کے آگے گردن جھکاتے ہوئے جوکلمات اپنی زبان سے ارشاد فرمائے وہ قیامت تک نسل انسانی کے لیے مشعل راہ بن گئے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”اس (بیٹے) نے کہااے ابا جان!آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیاہے، انشاء اللہ! آپ مجھے عنقریب صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ (سورۃ الصفّٰت آیت 102)“ اے اباجان! میں روؤں گا نہیں اور نہ ہی میں چلاؤں گا اور نہ ہی آپ کو اس کام سے منع کروں گا،اب آپ چلئے اور اس حکم کی تعمیل میں دیر نہ کیجئے۔انشاء اللہ! آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ بقول حضرت علامہ محمد اقبال یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی اب آگے بڑھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے عشق میں اپنی گردن مبارک زمین پر رکھ دی، اور باپ نے چھری کو چلانا شروع کیا تو آسمان دنیا کے فرشتے پہلی دفعہ اطاعت خداوندی اور تسلیم و...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے " حق گو " ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے " ایماندار ترین " لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان جیسی  " پوتر " اور " مادر ملت " خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، " محافظ ختم نبوت " اور اس ملک کے "سنجیدہ ترین" انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے " لینڈ گریبر " کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔ غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ " لڑکے " پرویز خٹک جیسے یوتھ کے " نمائندے " اور دوست محمد کھوسہ جیسے " ہینڈ سم اسمارٹ بوائے " کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے " ایمان افروز ملفوظات " کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔ 5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل " سادگی کا نمونہ " خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک...

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر وائی پہ نظر آئیں ، سفید لباس میں روتی بین کرتی بیوہ کے روپ میں ،شوہر کا التفات  اور اس کی محبت یکے بعد دیگرے مناظر کی صورت میں ثمرہ کے ذہن کے ساتھ ساتھ پردہِ سیمیں پر بھی ابھرتے چلے گئے، اور ہمیں اپنے صاحبزادے کے احساس دلانے پہ معلوم ہوا کہ یمنیٰ نے ثمرہ کے روپ میں بھلے ہی مصنوعی آنسو بہائے ہوں لیکن ہمارے چہرے کو حقیقی آنسو بھگو رہے تھے، یہ خبر سکھر کے دورے پہ نکلے ہوئے شوہرِ نامدار تک بھی تیزی سے پہنچا دی گئی ، اور فوراٍ ہی وہاں سے فون بھی آ گیا، حد کرتی ہو یار، یہ کوئی رونے والی بات ہے،مرد کی سرزنش میں چھپی محبت کو ڈھونڈ کو محسوس کر لینے کا گر عورت سیکھ لے تو زندگی گلزار ہو جائے ، بہر حال اس منظر نے ہمیں کچھ ایسا جکڑا کہ اس کہانی کو شروع سے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس ڈرامے کے مصنف  عدیل رزاق ہیں ،جو اس سے پہلے  ہم ٹی وی پہ چلنے والی  ایک  ڈرامہ سیریز میں انتہائی متنازعہ موضوع پہ ڈرامہ بھی لکھ چکے ہیں۔  ہدایتکار فاروق رند ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں ،محبت تم سے نفرت، بے شرم، گلِ رعنا، لا ،رشتے کچھ ادھورے سے اور جگنو شامل ہیں ۔ جن لوگوں نے ان ڈراموں کو ذرا گہری نظر سے دیکھا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ   ان میں سے اکثر کہانیاں ہمارے معاشرے  میں عورت سے سلوک اور اسکی حیثیت کو قابلِ رحم انداز میں پیش کرتی ہیں، یقیناً اس میں کسی حد تک حقیقت بھی شامل ہوتی ہے ،لیکن اس حقیقت کو اس اندز میں بیان کرنا کہ اسکے منفی پہلو ساری مثبت باتوں کو کمال مہارت سے نگل لیں یہ بہر حال انصاف  کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پہ یہ کہانی ثمرہ  کے گرد گھومتی ہے جو اپنے "روشن خیال" ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، اور اسی روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے  والدین ثمرہ کی شادی اس کی پسند سے کر دیتے ہیں، شوہر کا تعلق ایک خالص جاگیردار گھرانے سے ہوتا ہے جو اپنے گاؤں میں سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں،اور پیر بھی مانے جاتے ہیں ،لڑکے کا باپ اس خیال سے پہلی بار خاندان سے باہر کی بہو لانے پہ تیار ہوتا ہے کہ بیٹا جو  تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ،جاگیرداری نظام کے نقائص ،پیری فقیری کی مذموم روایات  اور سیاست کے غلط استعمال سے خائف ہو کر اس سب سے دور رہنا چاہتا ہے، وقت پڑنے پر وہ اس احسان کا حوالہ دیتے ہوئےاسے اپنی ڈگر پہ چلایا جا سکے۔ثمرہ کو شادی کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا سسرال حقیقتاً کس پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی عورت ،کا کن کن مراحل پہ کس کس طریقے سے استحصال ہوتا ہے،اس ڈرامے میں  بلا شبہ اس کی عکاسی کرنے...

بچوں کے ساتھ زیادتی اور سیکس ایجوکیشن

قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک پر پورا ملک سوگوار ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے بات کی جارہی ہے۔ پاکستان میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر طبقے کے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اس واقعے کی مذمت، اس پر تبصرہ اور اس کی وجوہات پر بات کی ہے۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس واقعے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ جی ہاں آپ لوگ ٹھیک سمجھے میرا اشارہ موم بتی مافیا کی طرف ہے۔ ننھی زینب کے واقعے کی آڑ لے کر ایک میڈیا گروپ اور ایک مخصوص لابی احتیاط اور آگاہی کے نام پر اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کو فروغ دینا اور اس کو نصاب میں شامل کرنے کی مہم چلانے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے کئی باتیں غور طلب ہیں۔ان باتوں کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ جن باتوں کو بنیاد بنا کر یہ مہم چلائی جارہی ہے اول تو وہ ساری باتیں ہی بے بنیاد ہیں اور دوسری بات یہ کہ یہاں نام تو آگاہی اور احتیاط کا لیا جارہا ہے لیکن جب قانونی طور پر سیکس ایجوکیشن کا نام نصاب میں شامل ہوجائے گا تو پھر وہی سیکس کی تعلیم یہاں بھی دیجائے گی جو کہ دنیا بھر میں سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسکولوں میں دی جاتی ہے۔ یہاں ہم ان باتوں کا جائزہ لیں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ یہ مہم بے بنیاد باتوں پر چلائی جارہی ہے تو اس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ ننھی زینب، قصور میں ہونے والے پے درپے واقعات اور پورے ملک ہونے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے کیسز اغوا، زیادتی اور قتل کے ہیں، یعنی یہ سارے واقعات فوجداری ہیں، ان کی روک تھام پولیس، انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ (اس حوالے سے ہم نے ایک مضمون میں تفصیلی بات کی ہے جو کہ اسی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جس کا لنک یہاں دیا جارہا ہے۔) https://blog.jasarat.com/2018/01/13/saleem-ullah-3/ لیکن ان کو ٹھیک کرنے کے بجائے بڑی چالاکی سے ان کی ذمے داری والدین اور اسکولوں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان سارے واقعات کا سیکس ایجوکیشن وغیرہ سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز اس کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا دوسرا نکتہ جس کو یہ مخصوص لابی اپنی بنیاد بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب بچے اپنے والدین سے ایسی کوئی شکایت کرتے ہیں، اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی یا کا بتاتے ہیں تو والدین دقیانوسی رویہ اپناتے ہوئے ان کو چپ کراتے ہیں یا بدنامی کے خوف سے چپ ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ بدنامی کے خوف سے والدین صرف اس وقت خاموش ہوتے ہیں جب خدانخواستہ میرے منہ میں خاک کسی کی جوان بچی کی عزت و آبرو کو تار تار کیا جائے۔ بچوں160کے معاملے پر توہم نے میڈیاپر، معاشرے میں، گلی محلے...

بچوں کے بدتمیز ہونے کی وجوہات

آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سننے میں آتا ہے کہ ہماری اولاد بہت بدتمیز ہوگئی ہے بڑوں کی عزت نہیں کرتی عجیب پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں مگر انہیں یہی بات ہی نہیں سیکھاتے۔ والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ہر خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کو ذرا بھی تکلیف ہو تو خود تکلیف میں آجاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے ان کے پیچھے خود کو فراموش کردیتے ہیں مگرانہیں عزت کرنا اور عزت سے پیش آنا سیکھاتے ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ والدین اپنے بچوں کو سمجھاتے نہیں ، سمجھاتے بہت کچھ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فعل سے انجانے میں بچوں کو عزت و احترام نہ کرنا سیکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو محبت دی جائے، انہیں خلوص دیا سب کچھ دیا جائے مگر انہیں عزت نہ دی جائے تو پھر بچے بدتمیز ہی بنتے ہیں۔ بچوں کو محبت سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی۔ جبکہ انہیں اکثر بہن بھائیوں یا پھر پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرکے ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔ سب کے سامنے یا تو ڈانٹا جاتا ہے یا پھر انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب بچوں کو اپنے گھر والے، والدین ، بہن بھائی ہی عزت و احترام نہیں دیں گے تو بچے کیسے سیکھیں گے کہ یہ سب۔ پھر یوں کہا جائے کہ یہ سب بچوں کے لیے گویا ایک اجنبی سی چیز ہے۔ بعض اوقات بچوں میں چڑچڑاپن اور بدتمیزی کی ایک بڑی وجہ والدین کا آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین کی آپس میں کشیدگی کا نشانہ بچے بنتے ہیں۔ کسی اور کا غصہ کسی اور پر نکال دیا جاتا ہے۔ بیوی شوہر کا یا پھر شوہر بیوی کا غصہ بچوں پر نکالتا ہے۔ بچے کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں مگر والدین کا بچوں سے بات کرنے کا انداز غیر ضروری حدتک تلخ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر بچے کے کمزور دماغ پر پڑتا ہے۔ بچوں کے سامنے غیر ضروری اور غیر شائستہ گفتگو کرنے سے گریز نہ کرنا بھی بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچوں کے سامنے ہر طرح کی باتیں کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں پر ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والد بچے کو کہتا ہے کہ ’’بیٹا! اگر کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی دو لگا دینا‘‘۔ یہ بات بچہ سیکھتا ہے اور پھر جب اس کا چھوٹا بھائی اسے مارتا ہے تو وہ سب کے سامنے اپنے بھائی کو دو جڑ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر سب اسے ڈانٹتے ہیں اور والد صاحب اٹھ کراپنے بیٹے کو تھپڑ لگا دیتے ہیں۔ ’’یہ سب کس نے تمہیں سیکھایا، بدتمیز بن گئے ہو‘‘، وغیرہ وغیر۔۔ اب اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے۔ خود ہی سیکھایا اور پھر خود ہی کہا کہ یہ سب کس نے سیکھایا۔ یہ...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

عرق النساٗ (طنزومزاح)

  عرق النسا  کو میں اس وقت تک حکیم کی دکان سے ملنے والے عرقِ گلاب،عرقِ سونف،عرقِ انجبارکی طرح  ایک عرق ہی خیال کرتا رہا ، جب تک خود اس مرض میں مبتلا نہ ہو گیا ، نتیجہ یہ نکالا کہ عرق النسا کوئی نسائی مرض ہے اور نہ ہی اس کا کوئی تعلق نسوانیت سے ہے۔بلکہ جوانی میں عرقِ انفعال کی وجہ سے پیدا ہونے والا درد اصل میں عرق النسا ہوتا ہے جسے درد ریح اور بادی کا درد بھی کہا جاتا ہے۔درد ریح میں مبتلا شخص ریح کے نکلنے تک چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔اگر یہ درد بڑھ جائے تو گٹھیا کا درد بن جاتا ہے جو کہ بہت ہی’’ گھٹیا‘‘قسم کا درد ہوتا ہے۔یہ درد اگرحد سے بڑھنے لگے تو مریض کو انٹی بائیوٹک دی جاتی ہے،کبھی’’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘والا معاملہ درپیش ہوجائے تو دوا کی بجائے دعا کروانی چاہئے اور اگر پھر بھی افاقہ نہ ہو تو ’’آنٹی بائی او ٹک‘‘سے شادی ہی اس کا واحد حل ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ انسان کی پہلی شادی جوانی میں ،کہ شیوہ پیغمبری ہے، دوسری چالیس کے پیٹے میں ،کہ جب پیٹ نکل آئے اور تیسری شادی بڑھاپے میں ،کہ جب بیماری دل کی دوا لینے کی بجائے ہمارے بوڑھے دل ہارنا شروع کر دیں۔بڑھاپے کی شادی کو ”کم عمری“کی شادی بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس کے بعد انسان کی زندگی کم ہی رہ جاتی ہے۔اس عمر کے بارے میں ہی اکھان ہے کہ”ہنگ لگے نہ پھٹکڑی تے رنگ وی چوکھا“ رنگ(color) دیکھ کر اگر کوئی بوڑھا دنگ رہ جائے تو سمجھ لیں دل ہار بیٹھا ہے اور اگر کلر دیکھ کر ’’جوان‘‘کا رنگ اڑ جائے تو سمجھ جاؤ کہ پاکٹ  ہار بیٹھا،ایک طالب علم کمر دردکے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس گیا  ،  ڈاکٹر نے طالب علم خیال کرتے ہوئے ، نفسیاتی طور پر ریلیکس کرنے کے لیے پوچھ لیا، کیوں بیٹا’’میر درد‘‘کو جانتے ہو،طالب علم نے اسے بھی ایک’’درد‘‘کی قسم سمجھتے ہوئے فوراً  جواب دیا،  جی ڈاکٹر صاحب کمر درد سے قبل میں ’’میردرد‘‘کا ہی شکار تھا۔ڈاکٹر نے دوائی لکھ کر دیتے ہوئے کہا کہ لو بچے  یہ دوائی کمر درد ہو یا میر درد دونوں صورتوں میں افاقہ اور تسکین کا باعث بنے گی۔ایک ہفتہ دوائی کھانے کے بعد افاقہ تو ہو گیا مگر ’’تسکین‘‘کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔اسی طرح ایک فربہ جسم کی حامل خاتون نے جب ڈاکٹر سے کمر درد کے علاج کے لیے دوا ئی چاہی تو داکٹر نے ’’ڈبل ڈوز‘‘double dose لکھتے ہوئے کہا، یہ اس لیے کہ آپ کمر نہیں بلکہ کمرہ اپنے ساتھ اٹھائے پھرتی ہیں،موقع ملے تو کچھ سامان کسی مناسب جگہ اتار پھینکیں ،کمر خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ ماؤ نے کہا تھا کہ مسائل کا حل بوڑھوں کے پاس نہیں جوانوں کے پاس ہوتے ہیں ، جب کہ آج کے جوان کئی قسم کے درد، ایام جوانی میں ہی پال رکھتے ہیں۔خاص کر جوان طلبا، کیوں کہ تحقیق بتاتی ہے کہ طلبا میں’’ مخفی‘‘ درد سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔جیسے کہ سر درد، پیٹ درد، یہ ایسے...

لوٹ سیل

            موسم گرما کی تعطیلات سے کوئی ایک ماہ قبل قطر کے ہر بڑے سٹور اور شاپنگ  مال میں آپ  کو ایک ہی بورڈ آویزاں نظر آئے گا جس پر لکھا ہوگا ’’خصم%50۔عربی میں ڈسکاؤنٹ کو خصم کہا جاتا ہے۔دوحہ آمد کے ابتدائی دنوں کی بات ہے جب پہلی بار میرا واسطہ خصم سے ہوا (پنجابی والے نہیں عربی والے سے) یعنی ہر اسٹور پر خصم % 50کے بورڈ نظر آئے ، چند لمحے حیران وششدر امن بورڈز کو تکتا رہا  کہ کیا واقعی دنیا نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ’’خصم‘‘بھی برائے فروخت ہوگا وہ بھی اچھے خاصے ڈسکاؤنٹ پر۔وہ تو بھلا ہو میرے دوست کا جس نے میری پریشانی بھانپتے ہوئے ’’خصم‘‘ کا اردو ترجمہ کردیا۔قطر میں اگر کلیئرنس سیل کا بورڈ آپ کو نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ وہ مال چند دنوں میں ہی کلیئر ہو جائے گا، یعنی واقعتا ہر شے سستی ہی ملے گی، پاکستان میں اگر کسی مال پرلوٹ سیل کا بورڈ نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ آٓپ واقعی لٹنے والے ہیں۔اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب دوحہ سے دو ماہ کی تعطیلات گرما گزارنے پاکستان گیا ،چند روز بعد ہی بیگم نے فرمائش کی کہ ساہیوال چلتے ہیں، وہاں سارے برانڈز پر سیل لگی ہوئی ہے،کس وناکس سیل پوائنٹ کا رخ کیا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بہت سے شاپنگ مالز پر واقعی جلی حروف میں لکھا ہوا تھا کہ لوٹ سیل۔ ایک برانڈ میں ہم بھی گھس گئے، روشنیوں کی چکا چوند میں ہر سوٹ ہی پرکشش لگنے کی بنا پر بیگم نے بھی کوئی ستر ہزار کو چونا لگا دیا، گھر پہنچے تو سوٹ کی چمک سے زیادہ بیگم کا چہرہ دمک اور چمک رہا تھا۔ مارے خوشی کے اپنی بھانجیوں کو نمائشی نظر کے لیے یونہی پہلا سوٹ کھول کر دکھایا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ مراد میاں واقعی لوٹ سیل میں ہم لٹ چکے ہیں۔وہ جو جلی حروف میں’’لوٹ سیل‘‘لکھا ہوا تھا اب جعلی سا لگنے لگا۔اس روز میرا ایمان اس بات پر اور بھی پختہ ہو گیا کہ لوٹ سیل محض لوٹنے کے لیے ہی لگائی جاتی ہے۔لوٹ سیل میں لٹنے کے بعد دوتجربات میرے علم میں اضافے کا باعث بنے،ایک یہ کہ لوٹ سیل کا سامان چائنہ کے مال کی طرح ہوتا ہے’’چلے تو چاند تک وگرنہ رات تک‘‘دوسرا یہ کہ لوٹ سیل میں خواتین کے لٹنے کا چانس سو فیصد ہوتا ہے۔ عورت کے لٹنے کی خبریں اکثر اوقات آٓپ اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں مگر مرد کے لٹنے کی کبھی کوئی خبر کسی اخبارمیں شائع نہیں کی جاتی حالانکہ مرد بے چارہ ہر لوٹ سیل پر اپنی بیوی اور دوکاندار کے ہاتھوں لٹتا ہے، عورت لٹتے سے شور مچا دے تو پوری قوم یک آواز سراپا احتجاج بن جاتی ہے اور تو اور منہنی جسم کے متحم چاچا ،ماجھا بھی حسب استطاعت ’’چھیڑو‘‘کے منہ پر طمانچہ دے مارنے کو تیار ہوتے ہیں، بلکہ ایک آدھ کو تو  ان کی ہمت کی داد بھی دینا پڑتی ہے ، لیکن لوٹ سیل مرد کے ’’لٹنے‘‘کا ایسا ذریعہ ہے جس پر...

مارچ میں مارچ، اکتوبر میں مارچ

ہم حب بھی حالات حاضرہ سے واقفیت کے لیے ٹی وی آن کرتے ہیں تو ہر طرف  مارچ مارچ کی آواذیں سنائی دیتی ہیں ۔ اوہ یہ مارچ ، اس سے تو ہمیں ہمیشہ ہی خوف آتا رہا ہے، جب بھی مارچ قریب آتا تھا ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے۔ بھوک اڑ جاتی تھی۔اسکول کی کتابیں پہاڑ نظر آتی تھیں،جن کو مارچ سے پہلے سر کرنے کا اساتذہ کی جانب سےحکم ملتا تھا اور ۳۱ مارچ تو یوم جزاء کی طرح محسوس ہوتا تھا،دعائیں  وظائف اور مننتیں مانی جاتیں کہ اس مارچ کا اختتام عافیت سے ہو جائے اور ہماری عزت رہ جائے، مارچ کی اہمیت تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے، کیونکہ ہمارے امتحانات ہمیشہ مارچ میں ہوتے تھے اور ۳۱ مارچ کو رزلٹ آؤٹ ہوتا تھا۔ پھر اللہ کے کرم سے ہم نے میٹرک کر لیا تو مارچ سے نجات کا جشن منایا ،کہ اب یہ ایسا مارچ ہمیں ڈرانے کبھی نہیں آئے گا۔ پھر اچانک مارچ کی اہمیت بڑھ گئی۔ اب اس کا  جب دل چاہے آجاتا ہے۔ جولائی میں مارچ ،دسمبر میں مارچ ،مارچ میں مارچ اور اب تو اکتوبر میں مارچ ۔  ہائے ،  اللہ رحم کرے! اب اتنی جلدی مارچ لانے والوں سے میں پوچھتی ہوں، کاش آپ کشمیر کے لے مارچ کرتےاور حکومت کو مجبور کرتے کہ جن لوگوں کوگھروں میں بھوکہ مارا جا رہا ہےانکو آزاد کیا جائے ،   لیکن یہ مارچ تو مزید انکو ختم کرنے کے لے آرہا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کے آباء جوکہ ہند سے تعلق رکھتے ہیں ،انہوں نے مودی کےخوف سے اسی کےدامن میں پناہ لے لی ہے اور اپنےمسلمان بھائیوں کےلہو کا سودا کرلیا ہے  اورمزید یہ کہ پاکستان کو  اپنا دشمن ملک کہہ کر اس کا دل خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں  ۔ لیکن آپ تو اسی ملک میں رہتے ہیں۔ اسی ملک کی *کشمیر کمیٹی* کے ۱۳ سال چیئرمین رہے ہیں۔  6کروڑ کا سالانہ بجٹ استعمال کرتے رہے ذرا  بتائیں اس کا کیا ہوا؟ آپ نے پاکستان کامقدمہ پاکستان کی طرف سے لڑا یا بھارت کی گود میں ڈال دیا ؟ اب آپ انہیں اپنے پیاروں کے ایجنڈے  کو مدد دینے کےلیے اچانک ملک میں *مارچ* لاکر انتشار پھیلانا چاہتے ہیں؟ اور اگر اب پھر بےنظیر کے دور کی طرح آپ کو کچھ مال غنیمت سےفیض یاب ہونے کی راہ مل گئی، تو پھر کیا آپ کو آرام مل جائے گا؟ *میں کیوں کہیں اور اپنا لہو تلاش کروں* *مرے اپنوں  ہی کہ  ہاتھ ہیں  رنگے ہوئے*

”دنیائے مزاح“

”ہاں بھئی کھانے میں کیا ہے؟“ ”بلی کا گوشت ہے، کتے کا گوشت ہے،چوہے کے کباب ہیں۔۔۔“ ”ارے ارے بھائی!! کیا ہوگیا ہے؟ کیا جنگل میں کھول رکھا ہے ریسٹورنٹ آپ نے۔۔۔“ ویٹر اور گاہک کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو میرے ذہن کی اختراع نہیں بلکہ ایک معروف ریسٹورنٹ میں prank (مذاق) کرتا Prankster ہے۔ میں اس قسم کی ناقابلِ فہم گفتگو کبھی تحریر نہیں کرتی لیکن میرا موضوع انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں حال ہی میں آنے والا ”پرینک کلچر“ ہے۔ یوں تو تفریح اور مزاح تھکے ہوئے، اعصاب کے لئے ٹانک کا کام دیتے ہیں اور انسان ان سے لطف اندوز ہو کے تازہ دم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کی بھی کچھ حدود ہیں جن کو پار کر لیا جائے تو سوائے بد تہذیبی کے کچھ نہیں بچتا۔ یہ پرینکس عوامی مقامات مثلاََ معروف شاہراہیں، پارکس، شاپنگ مالز یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں بھی کئے جاتے ہیں۔ اکثر یہ لچر گفتگو، گھٹیا الفاظ، تحقیر آمیز رویے اور مخاطب کی تضحیک پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اس کے سبب پرینکسٹر کو جان کے لالے بھی پڑ جاتے ہیں۔ پھر یو ٹیوبر یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کرا دیتا ہے کہ ”بھائی!! کیمرے کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا دیں۔“ اور وہ متاثرہ بھائی اپنی تمام تر ذلت بھول کر بتیسی نکال کر اس کی بات پر من و عن عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ یوں تو کئی پرینکس قابلِ اعتراض ہیں جو تعلیمی اداروں کے احترام کو مجروح کرتے ہیں۔ انکے کمنٹس پڑھ کے اندازہ ہوجاتا ہے کہ عوام ان کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ ایک پرینک کی مثال دیتی ہوں جس کا عنوان ہے Cute Girl Asking Strangers, Guess Who??? دو دوست ایک معروف شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں ایک محترمہ نازل ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے کہتی ہیں: ”پہچانو کون؟؟ یاد کرو ہم اسکول میں ہوتے تھے۔۔۔!“ جب پورا پرینک مکمل ہوگیا اور ان حضرات کو حقیقت کا علم ہوا تو ان افراد میں اتنی بھی غیرت نہ تھی کہ کسی بھی قسم کے غصے کا اظہار کرتے بلکہ ان خاتون کے کہنے پر ایک روبوٹ کی مانند کیمرے کو دیکھ کرہاتھ ہلا دیا۔ جب اس پرینک کے کمنٹس پڑھے تو عوام کی اکثریت اس پرینک کے خلاف تھی اور پاکستان میں بڑھتی بے راہ روی کی طرف توجہ دلا رہی تھی۔ وہیں کچھ روشن خیال افراد اپنی رائے کا اظہار اس طرح کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک بھائی لکھتے ہیں: ”یہاں پر کچھ افراد مفتی بن کر فتویٰ لگا رہے ہیں۔ بھائی!! کیا اب پاکستانیو ں کو سانس بھی نہیں لینے دو گے؟؟ پاکستان اسی extremism کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہے۔“ تو بھئی، بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان اگر بدنام ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رہنے والے کچھ افراد کو ضرورت سے ذیادہ سانس لینے دی جا رہی ہے اور وہ معاشرتی اقدار و روایات کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک میں بھی ان لوگوں میں شامل تھی جو...

ماس-ٹر

محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ“مار نہیں پیار“نوٹیفیکیشن سے قبل ماسٹر(استاد)کو ایسے خطرناک کردار کے طور پرمعاشر ہ میں پیش کیا جاتاتھا کہ جس کو دیکھتے ہی طالب علم کے جسم کا ماس(skin)ٹر،ٹر کرنا شروع کردیتا تھا۔میرا ایک دوست فرخ الحسن بھٹی بچپن سے ہی پختہ عزم کئے ہوئے تھا کہ اسے بڑے ہو کر اس وجہ سے ماسٹر بننا ہے کہ جتنا ماسٹروں نے اسے مارا ہے خود ماسٹربن کربچوں کو مار پیٹ کر اپنا بدلہ لینا ہے،ماسٹر تو نہ بن سکا البتہ محکمہ جنگلات میں آجکل ٹمبر کوخوردبرد کرنے میں کافی ”ماسٹر“ہو گیا ہے۔اپنے ماسٹرپن کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ کیا ہوا درخت کٹوا کے پیچ دیا ایک کی بجائے دس درخت لگواتا بھی تو ہوں،کیا فلسفہ ہے کالے دھن کو سفید کرنے کا،اس کے اسی فعل کو دیکھتے ہوئے میں نے اسے کتنی بار سیاست میں آنے کا مشورہ دیا ہے۔اس کے ماسٹر پن کی ایک مثال ملاحظہ ہوکہ ایک بار جوکالیہ بیلا فاریسٹ میں نئے پودے لگانے کا حکم صادر ہوا،موصوف نے کہیں نئی گاڑی خریدنی تھی تو ظاہر ہے پودے نہ لگوا سکا۔اتفاق سے سیکرٹری فاریسٹ کا دورہ تھا،جناب انہیں گھنٹہ بھر لانچ میں بیلا کے ارد گرد گھماتا رہا،سیکرٹری کے پوچھنے پر کہ کیا تم نے پودے لگوائے بھی ہیں کہ ایسے ہی ہمیں گھماتے جا رہے ہو۔فرخ نے نہائت معصومیت سے جواب دیا کہ سر دریائی علاقہ ہے پانی کا کیا بھروسہ،ہو سکتا ہے کہ دریا کا پانی بہا کے لے گیا ہو۔موصوف برطرف ہوئے اور ماموں کی سفارش سے نوکری پر بحال ہوئے اور انہیں پیسوں سے خرید کردہ گاڑی پر دفتر حاضری دینے پہنچ گئے۔اب آپ ہی بتائیں کہ اس سے بڑا ماسٹر کوئی ہو سکتا ہے۔مگر جس ماسٹر کی بچپن میں فرخ بھٹی بات کیا کرتا تھا اس سے مراد سکول اساتذہ تھے۔وہ تو ماسٹر نہ بن سکا البتہ میں فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ چھوڑ کر دوحہ قطر میں ضرور ایک پاکستانی اسکو ل میں ماسٹربن گیا۔اب میرے پاس سب کچھ ہے ماسوا پیسے کہ کیونکہ فرخ کا کہنا تھا کہ استاد کا کام پیسہ کمانا نہیں یہ کام دیگر”پیشہ ور“لوگوں کا ہے۔جب پیسے کی اہمیت کی سوچ اجتماعیت کی سوچ بن جائے گی تو ماسٹر بھی تو ایسا ہی سوچنے والے ہونگے جیسے کہ ایک گاؤں میں اسکول میں معائنہ ہورہا تھا اور ماسٹر صاحب بچوں کو cupسپ(سانپ) پڑھا رہے تھے انسپکٹر نے اعتراض کرتے ہوئے ماسٹر نے کہا کہ سر یہ سپ نہیں بلکہ کپ ہوتا ہے تو استاد محترم استادی دکھاتے ہوئے بڑے معصومانہ انداز میں گویا ہوئے کہ سر جب تک میری تنخواہ نہیں بڑھائی جائے گی اس وقت تک cup سپ ہی رہے گا۔ ایک بار مجھے ایک طالب علم نے پوچھا کہ سر یہ استاد اور ماسٹر میں کیا فرق ہے تو میں نے جواب دیا کہ ماسٹر و ہ ہوتا ہے کہ وہ جب بچے کو مارے تو ماس ٹر،ٹر ہو جبکہ استاد مارتے ہوئے بھی ایسی استادی دکھا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔میرے ایک استاد محترم تھے جن کے پاس ایک سہراب کی سائیکل تھی وہ...

ہمارے بلاگرز