کتابوں کا عالمی دن اور ہمارا مستقبل

ہر سال دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک میں 23 اپریل کواقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت منائے جانے والے دن کو "عالمی یوم کتب " کا نام دیا جاتا ہے۔ جس کا آغاز 1995 سے ہوا۔ اس دن سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سیمینار اور کانفرنسز کا اہتمام کیا...

صحافت ایک ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسی مخلوق بنایا جس میں متضاد صلاحتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں نیکی اور بھلائی کا رجحان بھی پایا جاتا ہے اور شر...

علامہ اقبال کا خواب اور حقیقت حال

بروز جمعۃ المبارک اسلامی مہینے ذی قعد کی 3 تاریخ اور انگریزی مہینے نومبر کی نو تاریخ  1877ء  کو جب سیالکوٹ کی فضا میں ابھی فجر کی آذانیں بلند...

خودکشی آخر کیوں ؟

      " خود کشی آخر کیوں ؟ " یہ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا مشکل ہے اور اس سوال کا سامنا ہم سب کو...

نظم ( حجاب )

کرتی ہیں جو حجاب بہنیں ہماری انہیں سے ہے شناخت ہماری نہ چھوڑو حجاب کھبی چاہے دے دے کوئی دولت ساری ہے بات یہ اہمیت کی حامل دنیا میں کرنی ہے آخرت کی تیاری کرنی...

دو ٹکے کا وزیر

اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کہ  اسلام کے نام پر وجود میں آیا اگر  اس  کے نام سے لفظ اسلام کو نکال دیا جائے یا اس زمانے میں جب کہ...

رمضان اور متزلزل ایمان

ماہ مبارک رمضان کورونا کی احتیاطی تدابیر کیساتھ رواں دواں ہے اور پچھلے سال کی نسبت کہیں بہتر انتظامات کیساتھ مساجد میں عبادات کا اہتمام جاری ہے۔ تاحال موسم...

نورِ علم

اللہ رب العزت نے جب انسان کو وجود بخشا اور ساتھ ہی حیوانات و نباتات کو پیدا فرمایاتو انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور علم کی بدولت اشرف...

ایشیاء کا ڈیووس ، بوآو ایشیائی فورم

دنیا میں وبائی صورتحال کے پیش نظر اگرچہ اہم عالمی اجتماعات کا آف لائن انعقاد بدستور کافی دشوار ہے لیکن اس دوران ٹیکنالوجی کی مدد سے ورچوئل سیمینارز ،کانفرنسز...

پاکستان بنانے والوں کی روحیں آج سوال کرتی ہیں ؟

عالم ارواح میں موجود آج پاکستان بنانے والوں کی روحیں بھی تماشا دیکھ رہی ہوں گی کہ انہوں نے جس مقصد کے لیے یہ ملک بنایا، کیا اس ملک...

جینے کا ہنر

ہر بچہ کامیاب ہوتاہے

کچھ ماہ کچھ  مخصوص سرگرمیوں کے لیے مختص ہوتے ہیں ۔  مارچ کا مہینہ آتے ہی اسکول سے جڑے بچوں کے پہلے سالانہ امتحانات اور پھر ان کے نتائج...

موجودہ نظام تعلیم ( حصہ دوئم)

آتے ہے اب نظام تعلیم کی طرف  جس کا وزیر تعلیم یورپی ممالک کے تعلیم سے متاثر نظر آتے ہے ۔ حال میں جگہ جگہ بحث ہورہی تھی، نیز...

قرآن کو تھام کر ہی حالات تبدیل کیے جاسکتے ہیں

  کسی دور دراز گاؤں میں  ایک بوڑھی عورت رہتی تھی اس کا بیٹا کہیں ملک سے  باہر گیا ہوا تھاوہ بوڑھی عورت روز اپنے بیٹے کے خط کا...

بونگا جرنلسٹ      ( قصائی کی دکان سے صحافت کے میدان تک)

بونگے کا وہ نام جو اس کے والدین نے رکھا تھا اب بونگے کو بھی یاد نہیں، بونگا پیدائشی صحافی نہیں تھااور نہ ہی اس کے گھراورخاندان میں کوئی...

قومیں کب ترقی کرتی ہیں؟

قوموں کےعروج وزوال کی داستانیں اگر چہ فطری قانون کے مطابق ہوتی ہیں تاہم اس میں اسباب و عوامل کو بھی کافی عمل دخل حاصل ہے۔کسی بھی قوم کے...

تربیت کرکے بچوں کو اخلاق سیکھائیں

لوگ کہتے ہیں یہ جدید دور ہے ، تعلیم کا رحجان بڑھ گیا ہے  ہر شخص باشعور اور سمجھدار ہے۔ اپنے بچوں کو مہنگے سے مہنگے اسکول میں اعلیٰ...

میڈیا واچ

گستاخیوں پر حکومتی ہٹ دھرمی کیوں؟

اللہ تعالی کی ذات بابرکت تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے، اسی رب کے دیے ہوئے رزق پر انسان اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، خُدا نے انسانوں...

گناہ اور ہمارے بہانے ( پہلا حصہ)

 *رشوت*۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"یہ تو تحفہ ہے ۔" *موسیقی*۔۔.۔۔۔۔۔۔۔"یہ تو روح کی غذا ہے۔" *بدنظری*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"ایک بار دیکھنا حلال ہے۔" *غیبت*۔۔۔۔۔۔۔۔"میں اس کے منہ پہ بھی یہ بات کہہ سکتا ہوں۔" *سود کھانا*۔۔۔۔۔۔۔۔"ساری دنیا کھاتی ہے۔" مزیرعمدہ تحریریں...

بونگا جرنلسٹ      ( قصائی کی دکان سے صحافت کے میدان تک)

بونگے کا وہ نام جو اس کے والدین نے رکھا تھا اب بونگے کو بھی یاد نہیں، بونگا پیدائشی صحافی نہیں تھااور نہ ہی اس کے گھراورخاندان میں کوئی...

پائے تخت سلطان عبدالحمید کا سحر

ترکی میں پائے تخت سلطان عبدالحمید کے نام سے بننے والی ٹی وی سیریز کا پانچواں اور آخری سیزن آج کل ترکی کے قومی میڈیا چینل پر کامیاب ریٹنگ...

ڈراموں کے خاندان پر اثرات

میڈیا ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ تفریح کا بھی ذریعہ مانا جاتا ہے, موجودہ دور میں جہاں میڈیا نے ترقی کرلی کہ ہر چیز ایک کلک کے فاصلے پر...

ہم سنجیدہ کیوں نہیں؟

آج دوپہر ایک پروگرام دیکھنے کا موقع ملا۔ نماز پڑھنے کے بعد جمعہ کے دن کوئی دو بجے ٹی وی کھولا تو کسی چینل سے ایک دینی پروگرام آرہا...

مباحث

ادارے برائے فروخت

کسی بھی ملک کے اہم ادارے ہی خسارے کا شکار ہوں، ملک قرضوں میں جکڑا ہو ۔نظریاتی سرحدیں کمزور ہو رہیں ہوں ۔عوام بھوک اور افلاس کا شکار ہو...

سر آئینہ

ہمارے ملک کے اداروں کا جو حال ہے وہ تو اپنی خرابی کی وجہ سے سب کے سامنے عیاں ہے مگر انصاف فراہم کرنے کا ادارہ جس کو عدالتی...

اصل بالا دستی کس کی ؟

16 اکتوبر 2020 کو پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اس وقت ملک کو جن  چیلنجز کا سامنا ہے  وہ   مہنگائی...

یہ وہ سحرتونہیں

ہم توسمجھ رہے تھے کہ شائدکچھ معاشی اورسیاسی مجبوریاں ایسی ہیں کہ جس کی وجہ سے نئے پاکستان میں دوسال سے بدقسمت،مجبور،لاچاراوربے زبان، عوام، نامی مخلوق کانہ صرف خون...

تہذیبوں کا تصادم اور مالز کی دنیا

Clash of civilizations and the world of Malls عام طور پر تہذیب کو ثقافت کا ہم معنی سمجھا جاتا ہے لیکن دراصل تہذیب سے مراد کلچر نہیں ہے بلکہ یہ...

لولی پاپ اور عوام‎

" کورونا سے تو بچ گئے لیکن اب مہنگائی مار دے گی، سکون تو بس قبر میں ہی ہے۔" اسلام آباد کے ایک بڑے ڈپارٹمنٹل سٹور پر کھڑے علی بھیا...

برفانی تودہ

معاملات کی نزاکت یہاں تک آگئی ہے کہ شرم و حیاء کے معیار گر کر آسمان سے زمین پر بلکہ کیچڑ میں آپڑے ہیں لیکن جب تک قلم کا...

مشترکہ مستقبل کا حامل سماج

عالمی سطح پر اس وقت ایک جانب جہاں اقوام متحدہ کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سےمختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے تو وہاں دوسری جانب...

اگر مقام شرف کی ہے جستجو تم کو

آج کل دنیا کتنی مصنوعی ہوگئی ہے مطلبی اور خود غرض ، کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ۔ نہ خلوص سے نہ ادب و لحاظ ، یہ شکوہ...

اہم بلاگز

کتابوں کا عالمی دن اور ہمارا مستقبل

ہر سال دنیا بھر کے سو سے زائد ممالک میں 23 اپریل کواقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت منائے جانے والے دن کو "عالمی یوم کتب " کا نام دیا جاتا ہے۔ جس کا آغاز 1995 سے ہوا۔ اس دن سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سیمینار اور کانفرنسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد نوجوانوں میں کتب کی اہمیت کو فروغ دینا اور کتب بینی کے شوق کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ دن کیٹولینیا کے لوگ اپنی محبوب خواتین کو گلاب کے پھول دے کر مناتے تھے اور یہ سلسلہ دو دن تک جاری رہتا۔ چونکہ یہ دن شیکسپیئر کی وفات کا بھی دن تھا تو لوگ اس دن ان کے ڈرامے اور کتب وغیرہ شوق سے پڑھتے تھے۔ یہیں سے یہ رسم پھیلی اور آہستہ آہستہ یہ دن "ورلڈ بک ڈے" کے طور پر منایا جانے لگا۔ اب اس دن فقط پھولوں کی خرید و فروخت نہیں ہوتی بلکہ کتابوں کی بھی ریکارڈ درجہ تک خرید و فروخت ہوتی ہے۔ کچھ سالوں سے اس میں ایک اور اضافہ کیا گیا ہے کہ کسی ایک شہر کو کتابوں کا عالمی دارالحکومت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ 2001 میں میڈرڈ تھا۔ پھر بالترتیب اسکندریہ، نئی دہلی، اینٹ روپ، مونٹریال، ٹورن، بگوٹہ، ایمسٹرڈم اور بیروت کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے۔ صد افسوس 22 کروڑ عوام کا ملک اس اعزاز سے تو محروم ہی رہا۔ وطن عزیز پاکستان کا پڑوسی ملک ایران دو ہفتے تک اس کتب میلے کا اہتمام کرتا ہے۔ جس میں دو ہزار سے زائد ملکی اور غیر ملکی ناشرین شرکت کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ جہاں لوگوں کو پچاس فیصد تک ڈسکاؤنٹ پر کتابیں ملتی ہیں وہاں اس قوم کا اچھا چہرہ دنیا کے سامنے جاتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ " محسن " کا کوئی دن نہیں ہوتا۔ ہر ہر گھڑی، ہر ہر لمحہ محسن کے نام ہوتا ہے۔ محسن کے نام تو زندگیاں وقف کردی جاتی ہیں۔ انہیں یاد رکھنے کے لیے کسی یادہانی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ تو زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ مگر آج کل تو گویا "ایام" کا سیلاب آ گیا ہے۔ ہر مہینے کوئی نہ کوئی دن منایا جاتا ہے۔ کوئی نیا شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کتابیں ہماری محسن و مربی ہیں، عروج و کمال کی بہترین ہم سفر ہیں، خوشی و غمی کی باوفا ساتھی ہیں۔ جو انہیں اپنا محسن و مربی مان لے، یہ اس کے لیے علم و ہنر کے دروازے کھول دیتی ہیں۔ پھر ایسے لوگ کہیں تو ستاروں پر کمندیں ڈالتے نظر آتے ہیں اور کہیں سمندر کی تہیں کھنگالنے نظر آتے ہیں۔ کہیں تو پیٹ سے زیادہ بقاء انسانیت کے لیے مجبوری بن جاتی ہیں۔ کتاب کسی قوم کی تہذیب و ثقافت اور ترقی کا آئینہ ہوتی ہے۔ کتاب تنہائی کی اک بہترین محبوبہ ہوتی ہے۔ جو اسے ماضی کے مزے دار، دل سوز اور سبق آموز قصے سناتی ہے۔ کتاب اس ماں کی سی ہوتی ہے جو اپنے طالب کو انگلی پکڑ کر شعور اور ترقی...

صحافت ایک ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسی مخلوق بنایا جس میں متضاد صلاحتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں نیکی اور بھلائی کا رجحان بھی پایا جاتا ہے اور شر اور برائی کی طرف میلان بھی۔ وہ اپنے بہتر کردار کے ذریعہ گلشنِ انسانیت کوسنواربھی سکتا ہے اور اپنی بدکرداری کے ذریعہ اسے خزاں رسیدہ بھی بنا سکتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیت و استعداد کے لحاظ سے دو دھاری تلوار ہے۔ شریعت کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ اس کی صلاحتیں خیر کے کاموں میں استعمال ہوں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صرف اس بات کی تلقین نہیں فرمائی کہ وہ اچھا عمل کرے، بلکہ اس بات کو بھی واجب قرار دیا کہ دوسروں کو حسنِ عمل کی دعوت دے اور انہیں نیکی کی طرف بلائے۔ نیز برائی سے بچنا کافی نہیں ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کو برائی سے روکے۔ نیکیوں کو پھیلانے کے لیے قرآن نے امر بالمعروف اور برائیوں سے روکنے کو نہی عن المنکر سے تعبیر کیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک ہی طریقہ نہیں ہے۔ زمانہ اور حالات کے لحاظ سے ان کے ذرائع بدل سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ کو اس سلسلے میں خصوصی اہمیت حاصل ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ خیر کی دعوت اور شر کی اشاعت دونوں کے لیے سب سے موثر ذرائع ہیںتو بیجا نہ ہو گا۔ ابلاغ کے بعض ذرائع وہ ہیںجو ناظرین تک تصویر اور آواز کو پہنچاتے ہیں اور یقینا دیکھنے والوں پر اس کا خاص اثر پڑتا ہے۔ دوسرا ذریعہ اشاعتی صحافت کا ہے جو تحریری شکل میں قارئین تک پہنچتا ہے۔ اگرچہ بصری وسائل انسان کے ذہن و فکر پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیںلیکن ان کا اثر چند لمحات سے زیادہ نہیں رہتا۔ تحریر کے ذریعہ جو پیغام انسان تک پہنچتا ہے وہ فوری طور پر انسان کے جذبات کو مہمیز نہیں کر پاتا۔ وہ دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے انقلاب آئے ان میں تقریر سے زیادہ تحریر نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لیے آسمانی کتابیں بھیجی گئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج صحافت دل و دماغ کو فتح کرنے کا سب سے موثر ہتھیار ہے ۔ اس سے قوموں کی تقدیر وابستہ ہو گئی ہے۔ صحافی بنیادی طور پر معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے۔ صحافی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا صحافی حکمرانوں اور عوام کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ صحافی معاشرے کی امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے مگر گزشتہ کچھ عرصے سے صحافت میں جو انقلاب آیا ہے، اس سے صورت حال کافی بدل گئی ہے۔ آج ہزاروں اخبارات اور چینل وجود میں آ چکے ہیںمگر جو صحافت کی اصل روح تھی وہ اب بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ افسوس کہ دورِ حاضر میں صحافت اپنے مقصد سے کوسوں دور بھٹک رہی ہے۔ اب صحافت کی حیثیت انڈسٹری جیسی ہے۔اس کا مقصد خبریں فروخت کرنا ہے۔مادہ پرستی اور مال و دولت کی حرص میں ہم صحافت کے تقدس کو روز...

علامہ اقبال کا خواب اور حقیقت حال

بروز جمعۃ المبارک اسلامی مہینے ذی قعد کی 3 تاریخ اور انگریزی مہینے نومبر کی نو تاریخ  1877ء  کو جب سیالکوٹ کی فضا میں ابھی فجر کی آذانیں بلند ہونا شروع ہوئیں تھیں۔ اس وقت شیخ نور محمد کے گھر میں ایک سرخ و سپید، پیارے، گول مٹول سے کشمیری بچے نے آنکھ کھولی۔   والدہ امام بی بی نے بڑی محبت سے اپنے بیٹے کا نام محمد اقبال رکھا۔ اس وقت کون جانتا تھا  کہ ایک چھوٹے سے گھر میں پیدا ہونے والا اقبال  آنے والے دنوں میں آفتاب بن کر افق عالم پر چمکے گا اور پوری دنیا میں اس کی شہرت کا طوطی بولے گا۔یہ گراں قدر جوہر عالم اسلام کے لئے ایک رہنما کی حیثیت اختیار کرے گا۔اس کا کلام سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانے کا سبب بنے گا۔ جس کے نتیجے میں نقشہ دنیا میں ایک بڑا اسلامی خطہ ابھرے گا۔ اس کے کلام کو مومن کا لہو گرمانے کے لیے اکسیر کا درجہ حاصل ہوگا۔ مثال کے طور پر ہم علامہ محمد اقبال کی وہ نظم ہی لے لیتے ہیں جو ہم نے شعور کی زندگی میں داخل ہونے سے پہلے ہی  اپنی سکول اسمبلیوں میں لہرا لہرا کر پڑھنی شروع کر دی تھی۔  بے شک  اس وقت  ہمیں ان اشعار کے معنی اور مہفوم کی کوئی خاص سمجھ نہ تھی لیکن حرف حرف یاد ضرور تھی۔ میرے خیال میں کوئی پاکستانی ایسا نہیں ہوگا جو علامہ محمد اقبال سے عقیدت و محبت نہ رکھتا ہو بلکہ پوری دنیا میں شاعری سے شغف رکھنے والے علامہ محمد اقبال کو جانتے اور ان سے عقیدت رکھتے ہیں۔ محبت کا پہلا تقاضا ہی اطاعت و فرمانبرداری ہوتا ہے۔ عظیم اقبال نے ہمیں ہمارے بچپن میں ہی سکھا دیا کہ ہم نے کیسا انسان بننا ہے؟ آپ نے فرمایا! لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری۔ علامہ محمد اقبال نے  ہمیں صرف تصور پاکستان ہی نہیں دیا بلکہ ہمیں یہ ماڈل بھی سمجھا دیا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کرنے والے ملک میں ہم نے کیسا انسان بن کر رہنا ہے؟ اس مقدس ارض پاک پر جاہلیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے مکینوں نے صرف ایک دوسرے کے لئے ہی معاون و رہنمائی کا کام نہیں کرنا بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے امامت کا ذمہ سنبھالنا ہے۔ انہوں نے اپنے وطن کی پہچان اور زینت بننا ہے۔ علم سے محبت کی شمع اپنے دلوں میں جلانی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی قوم علم و عمل کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ اپنے دلوں کے اندر ایثار کی دولت پیدا کرکے معاشرے کے محروم لوگوں کو بھی اپنے ساتھ چلانا ہے اور ان کا معاون و مددگار بننا ہے۔  اپنے پیدا کرنے والے سے ہر پل صراط مستقیم کا طلبگار رہنا ہے۔ علامہ محمد اقبال سے محبت کرنے والے پاکستانیو! اب ہم ذرا اپنے احوال بھی دیکھ لیں۔ جو دعا ہم اپنے ننھے ننھے ہاتھ اٹھا کر اسکول اسمبلی میں روزآنہ مانگتے تھے۔ کیا اسے کبھی اپنے روز و شب پر بھی نافذ کرنے کی کوشش کی ہے؟ سود، کسادبازاری، رشوت...

خودکشی آخر کیوں ؟

      " خود کشی آخر کیوں ؟ " یہ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا مشکل ہے اور اس سوال کا سامنا ہم سب کو اپنی زندگی میں کئی بار کرنا پڑتا ۔ ہمیں اپنے ملک میں آئے روز خودکشی کے واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ہر خودکشی کرنے والا جو سوال چھوڑ جاتا وہ سوال یہ ہے کہ آخر اس خودکشی کی وجہ کیا تھی ؟  اپنے ہوش وحواس میں اپنی جان لینے کا نام خودکشی ہے اور انگریزی میں اسے " Suicide " کہا جاتا ہے ۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور ہر ملک اس مسئلے کو  ختم کرنے میں ناکام ہوا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا ہر چالیس سیکنڈ میں ایک خود کشی کا واقعہ رپورٹ ہوتا ہے اور ہر سال آٹھ لاکھ سے سولہ لاکھ تک لوگ خودکشی کے ذریعے اپنی زندگی کے چراغ گل کر دیتے ۔       عہد حاضر میں خودکشی کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ خودکشی کا تعلق ذہنی تناؤ سے ہے انسان جب پریشان ہوتا ہے کسی چیز کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے تب اسے خودکشی کے خیالات آنے لگتے ۔ خودکشی کرنےوالے افراد احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور احساس کمتری کا شکار بنانے میں ہمارا معاشرہ منظم ہوا ہے ہمارے ہاں ایک شخص کو دوسرے شخص سے تقابل کیا جاتا دوسرے کو حقیر سمجھا جاتا اور چھوٹی سے چھوٹی بات پر تمسخر اڑایا جاتا ہے جس سے لوگ ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر اس لعنت کی آگ میں کود جاتے ۔       دنیا بھر میں خودکشی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ تناسب نوجوان طبقے کا ہے اس کے بعد متوسط یا نچلے طبقے کے لوگ خودکشی کرتے اور پھر امیر لوگ بھی اس لعنت سے آزاد نہیں ۔ خودکشی کا تعلق انسانی سوچ اور دماغی حالت پر ہے اور معاشرے کے محرکات اس پر اثرانداز ہوتے ۔ نوجوان طبقہ محبت میں ناکامی ملنے پر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے اور پھر خودکشی کو ترجیح دیتے اس کے علاوہ متوسط طبقے کے لوگ بڑھتی مہنگائی ، اخراجات اور افلاس سے تنگ آ کر موت کو گلے لگا لیتے ۔     خودکشی کی بڑی وجوہات میں بے روزگاری، غربت، تنہا پسندی، رشتوں میں عدم توازن، منشیات کا استعمال، مہلک یاناقابل علاج بیماری، ادویات کا بے دریغ استعمال ، گھریلو جھگڑے ، کردار پر تہمت ، تشدد ، غیرت کے نام پر قتل ، امتحانات میں ناکامی ، عدم تحفظ، خوف، مایوسی سمیت دیگر عوامل ہیں۔ اس دنیا میں سب سے مشکل فن ہر حال میں مسکرانا ہے اور یقینا ہر کام میں اللہ کی بہتری ہوتی ہے اس نے ہمارے لیے اچھا سوچ کر رکھا ہوتا اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ۔ ناامیدی ، مایوسی کے عالم میں خودکشی کر لینا کسی مسئلے کا حل نہیں ۔       اگر خودکشی جیسی لعنت سے اپنے معاشرے کو پاک رکھنا ہے تو اس میں اساتذہ، علماء، سیاست دان، صحافی، ڈاکٹرز، ماہرین نفیسات، وکلا، شعرا و ادبا و دیگر  شعبوں کو اپنا مثبت کردار...

دو ٹکے کا وزیر

اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کہ  اسلام کے نام پر وجود میں آیا اگر  اس  کے نام سے لفظ اسلام کو نکال دیا جائے یا اس زمانے میں جب کہ اس کی جدو جہد جاری تھی  اگر اسلام کا لفظ نکال دیا جاتا تو  قیامت تک برصغیر کے مسلمانوں کو  پاکستان کی آزادی کے لیے جمع نہ کیا جاسکتاتھا  اور پاکستان کو کبھی وجو د نہ ملتا مگر اسلام ہی وہ واحد نظریہ تھا جس کی قوت سے پاکستان کو وجود  کو وجود ملا اسلام ہی نے مسلمانان برصغیر کو وہ تحرک بخشا کہ وہ پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے پر آمادہ ہوئے اور ایسی قربانیاں پیش کی کہ اس صدی کے اندر اس کی کوئی ایک مثال بھی تاریخ دینے سے عاجز ہے ۔ اسلام کی پوری عمارت توحید و رسالتؐ پر قائم ہے بلکہ توحید کی معرفت اور پورا اسلام بھی رسالتؐ محمدیﷺ کے طفیل ملا ہے یہ جو پور ی دنیا میں آج مسلمانان عالم کی محبت حضور ﷺ کے ساتھ ہے وہ اسی احسان کی وجہ سے ہے کہ جو حضورﷺ نے  انسانیت کے اوپر کیا ہے  آپ ﷺ نے پوری انسانیت کو اللہ کی معرفت کرائی اور پھر اللہ تعالٰی نے آپ ﷺ پر نبوت کو ختم فرماکر ساری انسانیت کو بتا دیا کہ اب جو بھی کامیابی چاہے وہ آخری کتاب اور خاتم النبیین ﷺ کی سیرت پر عمل کرے اور ان سے محبت کرے تو کامیاب ہوسکتاہے ۔ یہ تمہید اس پس منظر میں باندھی گئی ہے کہ  آج کل ملک بھر میں سیاسی ماحول  کافی گرم ہے اور ہونا بھی چاہیئے یہ ایمان کا تقاضا ہے ۔ پوری دنیا میں تو اسلام پر اور ناموس رسالتؐ پر حملے ہوہی رہے ہیں جس پر مسلمان سراپا احتجاج ہیں ۔یہ حملے دو طرح سے ہورہے ہیں ایک وہ حملہ ہے جس کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے جس طرح فرانس میں ناموس رسالتﷺ پر حملہ ہوا اس کوفرانس کی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔جب فرانس کی حکومت کی سرپرستی ایسی ذلیل حرکت پر حاصل ہورہی ہے  تو  دیگر چھپے ہوئے غلیظ ذہینت رکھنے والے انسان نما حیوان بھی ایسی حرکات میں بے باک ہوتے جارہے ہیں ۔ کریلا اور اس پر نیم چڑا کے مصداق ہمارے وزیر  اعظم  صرف زبانی جمع خرچ کررہے ہیں اصولا سرکاری سطح پر کی جانے والی اس حرکت پر حکومت پاکستان کا  جواب ، اینٹ کا جواب پتھر سے آنا چاہئیے تھا مگر پھسپھسا سا مداہنت سے پر جواب آیا جس سے لاچاری، مفلسی ، بزدلی  جھلک رہی تھی  ۔ جس پر عوامی ردعمل آنا ایک فطری بات تھی ۔عوام کا ردعمل اس بات کا مظہر ہے کہ آج بھی اس احسان کا  احساس عشق کی صورت میں  امت کے قلب میں موجود اور زندہ ہے جو آنحضورﷺ نے انسانیت پر کیا مسلمان اپنی ہر چیز سے زیادہ عزیز  ناموس رسالتﷺ کو رکھتاہے ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے ناموس رسالت ﷺ پر حملے کا جواب ہیں اگرچہ جس کا جواب حکومت وقت کو دینا لازم تھا ۔ اس معاملے کا تعلق دین و ایمان سے ہے اس وجہ سے یہ مسئلہ...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار

(یوم اساتذہ پر اساتذہ کے نام ایک پیغام) استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا...

خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے " حق گو " ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے " ایماندار ترین " لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان جیسی  " پوتر " اور " مادر ملت " خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، " محافظ ختم نبوت " اور اس ملک کے "سنجیدہ ترین" انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے " لینڈ گریبر " کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔ غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ " لڑکے " پرویز خٹک جیسے یوتھ کے " نمائندے " اور دوست محمد کھوسہ جیسے " ہینڈ سم اسمارٹ بوائے " کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے " ایمان افروز ملفوظات " کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔ 5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل " سادگی کا نمونہ " خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک...

پاکستانی قائی قبیلہ …؟؟؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی قائی قبیلہ کون ہے ؟؟؟ آجکل ارتغل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے پاکستان میں اسکی مقبولیت نے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں ۔ کیا کسی نے سوچا کہ اس کی اس حد درجہ مقبولیت کی وجہ کیا ہے ؟؟ اسکی مقبولیت کی وجہ اسکا حق پر ڈٹ جانا ہے اور اس معاملے میں نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کرنا اور نہ ہی کسی طاقتور کی طاقت کا خوف کھانا , اور نہ کسی مصلحت کا شکار ہونا ہے ۔ اس ڈرامے کے ہیرو ارتغل اور دیگر کرداروں کی اس درجہ مقبولیت میں انکا بے خوف کردار اور اللہ تعالی پر غیر متزلزل یقین ہے ۔ برے سے برے حالات میں بھی اللہ تعالی سے ناامید نہ ہونا اور کوشش کو جاری رکھنا اور پھر اللہ کا انکے لیے راستہ نکال دینا حق اور باطل کی اس کشمکش کو رائیٹر نے بہترین انداز میں پیش کیا ہے ۔ ارتغل اور اسکے ساتھی کرداروں کی مقبولیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانی فطرت حق کو پسند کرتی ہے اور منافقت ,دوغلے پن ،غداری اور ظلم و بربریت کو سخت ناپسند کرتی ہے ۔ مگر!یہ تو غالباً سات آٹھ سو سال پرانے کردار ہیں جن کے ہم دیوانے ہیں ۔۔۔۔ ضرورت ہے کہ ہم آج کے معاشرے میں ان کرداروں کو تلاش کریں اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ مگر ٹہریے! اس سے پہلے کہ اس تلاش میں ،میں آپکی مدد کروں پہلے ان خطرات کو ضرور اچھی طرح سمجھ لیں جو ارتغل ،نورگل ،بابر اور روشان جیسے حق کے دیوانوں کا ساتھ دیتے وقت پیش آتے ہیں ۔ اس ڈرامے نے یہ بات بہت اچھی طرح سمجھا دی کہ حق کا راستہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہے ۔ اس راہ میں اپنے اندر کے کردوغلو بھی ملتے ہیں اور وحشی منگولوں سے بھی پالا پڑتا ہے یہاں نہ سعدالدین کوپیک جیسے منافقین کی کمی ہے اور نہ صلیبیوں جیسے عیار ومکار دشمنوں کی ۔ لہٰذا اِس راستے پر چلنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ یہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔ بقول شاعر  ؎ یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جانا وہ یہیں سے لوٹ جائیں جنہیں زندگی ہو پیاری کیونکہ اس راستے میں اپنوں سے نظریاتی راستے جدا بھی ہوجایا کرتےہیں اور یہاں نہ صرف اپنی خواھشات اور پرآسائش زندگی سے ہجرت کرنی پڑتی ہےبلکہ جان کے لالے بھی پڑ جاتےہیں تو اگر آپ اس راستے پر چلنے کو تیار ہیں تو آئیے میں آپکو بتاتی ہوں کہ پاکستان میں بھی ایک قائی قبیلہ رہتا ہے جسکا ہر لیڈر ارتغل ہی کی طرح بےخوف ،نڈر اور حق پر ڈٹ جانے والا ہے ۔۔۔ جسکا ہر کارکن نورگل ،بابر اور روشان کی طرح بہادر ,بےخوف اور اپنے مقصد سے عشق کرنے والا وفادار ہے۔ جسکی خواتین حائمہ اماں کی طرح ہر مشکل گھڑی میں ثابت قدم رہتی ہیں اور حق کے راستے میں اپنے مردوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ۔ اس قائی قبیلے نے ہر دور کے باطل کے سامنے کلمہ حق بلند کیا ہے اور اس راہ میں شہداء پیش کیے ہیں ۔ چاہے وہ ایوب خان کی فوجی آمریت ہو یا بھٹو کی...

موثر تدریسی خصوصیات 

تدریسی اصولوں کا موثراستعمال:۔تدریس ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ ایک فن ہے۔ پیشہ وارانہ تدریسی فرائض کی انجام دہی کے لئے استاد کا فن تدریس کے اصول و ضوابط سے کم حقہ واقف ہوناضروری ہے۔ ایک باکمال استاد موضوع کو معیاری انداز میں طلبہ کے ذہنی اور نفسیاتی تقاضوں کے عین مطابق پیش کرنے کے فن سے آگاہ ہوتا ہے۔ معیاری اور نفسیاتی انداز میں نفس مضمون کو پیش کر نا ہی تدریس ہے۔ موثر تدریس کے لئے ،کسی بھی موضوع کی تدریس سیقبل، استاد کا موضوع سے متعلق اپنی سابقہ معلومات کا تشفی بخش اعادہ ا ور جائزہ بے حد ضروری ہے۔ سابقہ معلومات کے اعادہ و جائزہ کے علاوہ موضوع سے متعلق جدید تحقیقات و رجحانات سے لیس ہوکر اساتذہ اپنی شخصیت کو باکمال اور تدریس کو بااثر بنا سکتے ہیں۔ موثر تدریس کی انجام دہی کے لئے اساتذہ کا تدریسی مقاصد سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پر عمل پیرائی کے ذریعے اساتذہ مقاصد تعلیم کی جانب کامیاب پیش رفت کر سکتے ہیں۔ موثر تدریس اورتعلیمی مقاصد کے حصول میں تدریسی اصول نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں۔تدریسی اصولوں سے اساتذہ کیوں، کب اور کیسے پڑھانے کا فن سیکھتے ہیں۔تدریسیاصولوں کا علم اساتذہ کو تدریسی لائحہ عمل کی ترتیب اور منظم منصوبہ بندی کا عادی بناتا ہے۔کیوں، کب ، اورکیسے پڑھا نے کااصو ل اساتذہ کی مسلسل رہنمائی کے علاوہ تدریسی باریکیوں کی جانکاری بھی فراہم کرتا ہے ۔ تدریسی اصولو ں پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ موثر اور عملی تدریس کو ممکن بناسکتے ہیں۔تدریسی اصول بامقصد تدریس،نئے تعلیمی رجحانات ، تجزیہ و تنقید، مطالعہ و مشاہدہ ،شعور اور دلچسپی کو فروغ دیتے ہیں۔ تدریسی اصولوں پر قائم تعلیمی نظام نتیجہ خیز اور ثمر آورثابت ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پرکاربند استا د معلم سے زیادہ، ایک رہنما اور رہبرکے فرائض انجام دیتاہے۔ جدید تعلیمینظریات کی روشنی میں استاد ایک مدرس اور معلم ہی نہیں بلکہ ایک رہبر اور رہنما بھی ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات سے عدم آگہی کی وجہ سے ہم اس نظریہ تعلیم کو جدیدیت سے تعبیر کر رہے ہیں جب کہ یہ ایک قدیم اسلامی تعلیمی نظریہ ہے جہا ں استاد کو معلومات کی منتقلی کے ایک وسیلے کی شکل میں نہیں بلکہ ایک مونس مشفق مربی رہنما اور رہبر کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ تدریسی اصولوں سے باخبر استاد بنیادی تدریسی و نفسیاتی اصولوں کی یکجائی سے تعلیم و اکتساب کو طلبہ مرکوز بنادیتا ہے۔ذیل میں اہمیت کے حامل چند نمایاں تدریسی اصولوں کو بیان کیا جارہاہے ۔ (1) ترغیب و محرکہ تدریسی اصولوں میں اساسی حیثیت کا حامل ہے۔طلبہ میں تحریک و ترغیب پیدا کیئے بغیر موثر تدریس کو انجام نہیں دیا جاسکتا۔ طلبہ میں اکتسابی میلان ترغیب و تحریک کے مرہون منت جاگزیں ہوتاہے۔ حصول علم، پائیدار اکتساب اور علم سے کسب فیض حاصل کرنے کے لئے طلبہمیں دلچسپی اور تحریک پیدا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔فعال و ثمر آور اکتساب ترغیب و تحریک کے زیر اثر ہی ممکن ہے۔تدریس میں ہر مقام پر طلبہ میں محرکہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ بغیر محرکہ پیدا کیئے کامیاب اکتساب ممکن ہی...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

عہد حاضر کا نوجوان

    نوجوان طبقہ کسی بھی قوم کا ایک قیمتی سرمایہ ہوتا ہے جو خیر و بھلائی کے کاموں، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کی ترقی اور خوش حال معاشرے کا قیام تعلیم یافتہ نوجوانوں سے ہی ممکن ہے۔ اگر یہی نوجوان درست سمت پر نہ چلیں تو معاشرہ اور قوم شر و فساد کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔       نوجوان نسل امت کی امید، معاشرے کا سرمایہ، مستقبل کا سہارا اور قومی کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں، تاریخ کا مطالعہ کریں تو جہاں بھی انقلاب آیا وہاں اس قوم کے نوجوانوں کا اہم کردار رہا . مگر عہد حاضر کا نوجوان اپنے وجود سے اپنی ذمہ داری سے ناآشنا ہے۔    عہد حاضر کا نوجوان تعلیم کی بجائے منشیات کی لعنت کا شکار ہے ، عورتوں کا محافظ نوجوان جنسی تسکین کے لیے ان کی عزتیں دبوچ رہا ہے ، جائیدار کے لیے ماں باپ ، بہن بھائی کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتا ، مسکراہٹیں بکھیرنے کی بجائے موت کا سامان یعنی منشیات کو فروخت کر رہا ، بیوی کی رضامندی کے لیے ماں باپ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ، غریبوں و مسکینوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے فحش زدہ پروگرامات اور سیاسی لیڈروں پر خرچ کر رہا ، محکوم  کی آواز بننے کی بجائے ان کی آواز کو دبوچ رہا ، اپنی زبان و ثقافت کو ترجیح دینے کی بجائے مغربی فحش زدہ تہذیب و ثقافت ک فروغ دے رہا ۔    عہد حاضر کا نوجوان اپنے اندر تعصب اور فرقہ پرستی لیے گھوم رہا اس کے خون میں تعصب اور فرقہ پرستی تیزی سے بہہ رہی آہ ! یہ نوجوان نسل جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں آج وہ فحش و عریانی کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔ نوجوان طبقہ تعلیم حاصل کر کے بھی اخلاقیات سے محروم ہیں . آخر یہ زوال پذیری کب تک رہے گی ؟      جب ہم اسلامی اقداروں کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب و ثقافت کو اپنائیں گے تو نتائج یہی ہوں گے۔  اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے مگر آج ہماری نوجوان نسل اس سے دور ہے وہ تعلیم کو روزگار کے لیے حاصل کر رہی ، کسی غریب کی مدد لوگوں کی نظر میں شان شوکت بنانے کے لیے کر رہا، نماز دھکاوے کے لیے پڑھ رہا ، پڑوسی کو ووٹ کے لیے استعمال کر رہا غرض یہ کہ ہر جانب اپنا مفاد دیکھ رہا ۔    نوجوان نسل سے گزارش کروں گا اپنے وجود کو سمجھیں اس دنیا میں آپ کو بےمقصد نہیں بھیجا گیا ایک خاص مقصد تھا جس سے ہم ناآشنا ہیں .امت مسلمہ کو دوبارہ عروج کی جانب نوجوان نسل ہی لے جا سکتے ہیں یہ سب تب ہی ہو گا جب ہم اپنے مفاد کو ترک کریں کسی دوسرے کے حققوق کو غضب نہ کریں سوشل میڈیا کا استعمال مثبت کریں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔  ورنہ یہ زوال ہمیں ختم کر دے گا۔  اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔

آئیں رشتوں کو محفوظ کریں

رشتوں کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے۔ اس میں صرف عورت ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ مرد بھی برابر کا شریک ہے۔  کیونکہ جب اللہ نے مرد کوکفیل بنایا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ  کفالت کے ساتھ ساتھ اپنے ان حقوق وفرائض کا بھی خیال رکھے جو اس پر اسی اللہ نے عائد کئے ہیں  جس نے اسے عورت کا محافظ بنایا ہے۔ ہر مرد کو یہ بات تو اچھی طرح یاد رہتی ہے کہ وہ عورت کا قوام ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ اسے یہ برتری کس وجہ سے دی گئی ہے۔ اگر فیملی میں کسی سے کوئی اختلاف ہوجاتا ہے تو زیادہ تر باپ ،شوہر ، بھائی یا بیٹا گھر کی عورتوں پر پابندی  عائد کردیتا ہے کہ وہ بھی اس سے کوئی تعلق نہ رکھے ۔ جس کی وجہ سے وہ رشتہ اور کمزور ہوجاتا ہے اور غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں۔   اسی طرح اگر عورت کو کسی پر غصہ آجائے تو یہ چاہتی ہے کہ اس کا شوہر بھی اس سے نہ ملے  چاہے وہ اس کی ماں ہی کیوں نہ ہو  اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو میاں بیوی کے آپس کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ یہی وہ بنیادی خرابی ہے جو  نہ صرف ایک خاندان کا توازن بگاڑنے کا سبب بنا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بدنظمی پھیلانے اور برائیوں کو پھلنے پھولنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے ۔ کیونکہ ہم برائی کرنے والے کو تو نشانہ بنالیتے ہیں مگر برائی کرنے کی وجہ جاننے یا اسے ختم کرنے کی نہ تو کوشش کرتے ہیں اور نہ اس کار خیر کو کرنے والے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی وہ سچ ہے جس کو قبول کرنے سے ہم ڈرتے ہیں اوراس   حقیقت سے آنکھیں چرانا ایسا ہی ہے جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر یہ سوچ کر اپنی آنکھیں بند کرلےکہ وہ بلی سے بچ جائے گا یا شطر مرغ کسی خطرے کو دیکھ کر ریت میں منہ چھپاکر یہ سمجھ لے کہ خطرہ ٹل جائے گا اور وہ بچ جائے گا تو یہ عقلمندی یا ہوشیاری نہیں ہے بلکہ بیوقوفی اور حماقت ہے۔ ہمارے معاشرے کے افراد بھی ایسے ہی طرز عمل کو اختیار کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں کے نہ تو ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ان کو ختم کرنا ہمارے اختیار میں ہے ۔ اگر دنیا کا نظام اسی تصور کے ساتھ چلتا تو آج نہ تو اسلام کی روشنی ہم تک پہنچتی اور نہ اللہ کی وحدانیت کا تصور ہمیں ایک اللہ کی عبادت کرنے والا بناتا۔رشتوں کو جوڑنا مرد اور عورت  دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔  رشتوں  اور محبتوں کو قائم رکھنے کےلئے ضروری ہےکہ چند باتوں لپیٹ کاخیال رکھیں۔ جب کوئی ایک شخص غصہ میں ہو تو دوسرے کو تحمل کے ساتھ معاملے کو سنبھالنا چائیے تاکہ رشتوں میں کوئی تلخی پیدا نہ ہو۔ کیونکہ بعض اوقات بہت چھوٹی سی غلط فہمی بہت بڑے فساد  کا سبب بن جاتی...

عنوان: 2021 نفاذ اردو کا سال

پاکستان کو اللہ نے جہاں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے وہیں ایک نعمت قومی زبان اردو بھی ہے. اردو میں فارسی عربی ترکی کے الفاظ موجود ہیں اور اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ دنیا پھر میں بولی جاتی ہے اور  1999ء  کی مردم شماری کے مطابق دس کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کہ نویں بڑی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے۔  اردو زبان میں فارسی کا کافی رنگ نظر آتا ہے جس کہ وجہ یہ ہے کہ محمود غزنوی کے دور سے لے کر مغل بادشاہوں کے دور تک اسے دفتری زبان کا درجہ حاصل رہا. برصغیر پر برطانوی تسلط کے بعد انگریزی کو دفتری زبان بنا دیا گیا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ابھی تک غلامی کا طوق گلے میں ڈالے انگریزی کو ہی پوجتے آ رہے ہیں جو کہ غلام زدہ قوم کی نشانی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے اور اسی زبان کو تعلیم و تعلم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ہم سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں قومی زبان کی بجائے فرنگی زبان کو تریح دیتے ہوئے اسے تعلیم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بیوی کے پاؤں تلے زمین نکل گئی. . ..  مزید پڑھیے : رانگ نمبر  اسی قومی زبان اردو کے بارے پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ " پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے اور یہ آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر ملک میں رائج ہو جانی چاہئیے". پاکستان کا آئین 1973 میں رائج ہوگیا لہذا اصولً 1988 تک اردو کو مکمل طور پر پاکستان میں ہر شعبہ میں رائج ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اتنے لمبے عرصے میں ہمارے حکمران اردو کو مکمل طور پر رائج کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں. ایک بڑی وجہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کی حکمرانی ہے جو اپنی اولادوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہیں اور وطن واپسی پر پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے. یوں یہ انگریزی زبان میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے بابو جن کو اردو ٹھیک طرح سے بولنا نہیں آتی اور الفاظ کا حلیہ بگاڑ کر بولتے ہیں وہ ان افراد پر حکمرانی کرتے ہیں جو ان سے ہزار گنا زیادہ قابلیت رکھتے ہیں۔  ہمارے ہاں انگریزی کو اعلی معیارِ زندگی کے نشان کے طور سمجھا جاتا یے. حالانکہ تمام ترقی یافتہ اقوام بشمول چائنہ کوریا وغیرہ نے اپنی زبان میں ترقی کی ہے.ہم کم انگریزی جاننے اور بولنے والے افراد کو جاہل قرار دیتے ہیں. لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ قاصد علی رحمن جو کہ صرف پانچ جماعتیں پڑھے ہیں اور ایک کتاب کہ مصنف ہیں وہ خود کو ان پڑھ کہتے ہیں. جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں انگریزی نہیں جانتا اسی لئے دوسروں کی نظر میں ان...

محکمہ پولیس میں اخلاقی فقدان

گردش ایام ،تلخی وقت،بے روزگاری ،بے لگام مہنگائی اور ناقص غذائوں نے چھوٹی عمراں وچ کی کی روگ لادتے نے آپ زیادہ نہیں آج سے دس پندرہ سال پیچھے چلے جائیں تو یقین کریں بلڈ پریشر ،شوگر، ہارٹ اٹیک جیسی مہلک اور موذی امراض اس قدر نہ تھیں جس برق رفتاری سے یہ امراض آج بڑھ رہی ہیں پہلے یہ امراض زیادہ تر بڑھتی عمر کے لوگوں میں پائی جاتی تھیں مگر اب نوجوان ان کا زیادہ شکار ہورہے ہیں۔ نبی رحمت سرکار دوعالم ؐکی حدیث کے مطابق قرب قیامت وبائوں کا پھوٹنا اور اچانک اموات کا ہونا لازم ہے ۔ویسے تو الحمدللہ ،اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے ہر بیماری سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طر ح کی روحانی جسمانی بیماریوں ،عذابوں،وبائوں، آفتوں اور آزمائشوں سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ رکھے آمین ۔ چند عرصہ سے امراض معدہ اور ذہنی تنائو کا شکار ہوچکا ہوں۔ایک بات کو مسلسل سوچتے رہنا اور پھر خود سے خوفزدہ رہنا عجیب سی الجھنیں ہیں کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں لیتی اور انکی وجہ اللہ تعالیٰ سے دوری ہے کیونکہ ایک مسلمان جس کے پاس قرآن کریم کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت اور کامیاب زندگی کے لیے نبی رحمت ؐ کے فرامین موجود ہوں وہ مسلمان کبھی بھی ان الجھنوں کا شکار نہیں ہوسکتا جب تک کہ ان سے روگردانی نہ کرلے ،منہ نہ موڑ لے۔اور یقینا ایسا ہی ہے کہ فکر معاش نے فکر الٰہی سے غافل کردیا ہے۔ چندروز قبل ہفتہ کے دن شام سات بجے کے قریب لوہاری سے BP Operatorلینے کے لیے گیا تو واپسی پر فرمان بیگم پر عملدرآمد کرتے ہوئے شاہ عالمی سے پلاسٹک کے ڈبے لینے کے لیے داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی ایک ملازم نے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا کہا فوراً سے پہلے بائیک روکی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک ملازم نے آئی ڈی کارڈ مانگا فوراً پیش کیا موبائل نمبر پوچھا فوراً بتایا ایک Profarmaپر سب کچھ لکھ لیا۔ادھر کیا لینے آئے ہو؟ عرض کی کہ پلاسٹک کے ڈبے۔تمہیں نہیں پتا کہ ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے عرض کہ اکثر شام کے وقت چند لوگ زمین پر سستی چیزوں کی سیل لگاکربیٹھے ہوتے ہیں یہی سوچ کر ادھر کارخ کرلیا ۔اتنے میں ڈرائیونگ سیٹ کی دوسری جانے بیٹھے صاحب بولے توں کی کردا اے؟عرض کی کہ قلم کا مزدور ہوں ۔سیدھی طرح دس عرض کی کالم نگار (صحافی )یہ بات سننی تھی کہ اعلیٰ حضرت ایک موٹی گالی کے ساتھ بولے یہ صحافی تو ہوتے ہی (یہاں وہ گالی لکھنا مناسب نہیں کیونکہ میری زبان اور قلم مجھے زیب نہیں دیتا)ایسے ہیں ۔انتہائی ادب سے عرض کی کہ جناب کہ میرے پیشے کوگالی نہ دیں قلم کی حرمت پامال مت کریں کیونکہ صحافت پیغمبری پیشہ ہے ۔آپ نے جو مانگا حضور کو پیش کردیا پھر گالی دینا اچھی بات نہیں بس یہ بات سننی تھی کہ جناب کسی فلمی ہیرو کی طرح ایک دم گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلے اور کہا دساں تینوں ایتھے...

پکوڑوں کا مہینہ

رمضان کی آمد آمد ہے۔ہر طرف زور و شور سے رمضان کی تیاریاں جاری و ساری ہیں۔ ایسے میں دو طرح کے مزاج ہیں ایک تو وہ جو رمضان کو حقیقتا روزے اور عبادات  کے لئے خالص کر رہے ہیں۔ اور دوسرا اکثریتی گروپ جو افطاری کے تصورات سے ابھی سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ جن کا موٹو ہے *ہمیں افطاری سے پیار ہے*۔ رمضان کے سحری و افطار کے کیا ہی کہنے۔ اسی سلسلے میں  خواتین رمضان سے پہلے ہی بہت سی چیزیں بنا کر فریز کر رہی ہیں جن میں کئی قسم  رول، سموسے، بڑے ، شامی کباب،  پراٹھے، پائے وغیرہ شامل ہیں تاکہ رمضان میں وقت اور محنت بچائی جا سکے اور دھیان روزے پر ہی رہے۔  رمضان میں ایک جوڑا ایسا ہے جس کے بغیر افطاری سونی سونی لگتی ہے۔ جی ہاں لال شربت اور پکوڑے۔ ان کے بغیر افطار کا تصور کم از کم ہمارے ہاں مفقود ہے۔ لال شربت میں اختلاف ہے کچھ افراد روح افزاء کے حق میں ہیں اور کچھ جام شیریں کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔  مگر ایک چیز جس پر تمام قوم کا اجماع ہے وہ ہیں پکوڑے ان کو رمضان کا برانڈایمبسیڈر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ پکوڑے کا وجہ تسمیہ کے بارے  میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں ۔ کچھ افراد کہتے کہ کسی مکرانی شخص نے گھی میں بیسن کی ٹکیاں ڈالیں ۔ بھوک کی شدت تھی اور پکنے میں دیر ہو رہی تھی تو اس نے جھنجلا کر کہا پکو رےے۔ جو کثرت استعمال سے پکوڑے ہو گیا مگر اندر کی بات ہے کہ اس شخص کے گھر آٹا ختم ہو گیا تھا، بیوی بہت سخت مزاج تھی اس نے محلے کی "خبرگیری" کے لئے جانے سے پہلے ، واپسی پر کھانا تیار ہونے کا حکم دیا تھا۔ بازار جانے کا وقت نہ تھا چنے کی دال نظر آئی وہی پیس کر آٹا بنایا۔ بیوی کے آنے کا وقت ہو چلا تھا گھبراہٹ میں اس نے گوندھنے کی کوشش کی تو پانی زیادہ ڈال دیا  اب وہ لئی بن چکی تھی۔ اس نے جلدی سے اس میں نمک اور دستیاب مصالحے ڈال دیئے اور گھی میں پکنے کو ڈالا ۔ باہر بیوی کی پڑوسن سے لڑنے اور بچوں کو پیٹنے کی آواز آنے لگی۔ تو اس نے کڑاہی میں پڑے مرکب کو دیکھا  اسی دوران بیوی گھر میں داخل ہوئی اور کڑک کر بولی کیا پکایا ہے میاں گھبرا کر بولا پکو ڑےےےے۔ بس اسی سے اسے پکوڑے کا نام ملا۔ آگے کی کہانی میں بیوی کو پکوڑے  بہت پسند آئے اور وہ بہت خوش بھی ہوئی۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آدمی کوئی بلوچ تھا۔مگر ہمیں یہ شبہ ہے کہ ان صاحب کا تعلق لاہور سے تھا کہ کیونکہ وہاں"ڑ" کا بکثرت استعمال پایا جاتاہے۔ کچھ مورخین  کا کہنا ہے کہ ”پکوڑا“ سنسکرت زبان کے لفظ ”پکواتا“ سے ماخوذ ہے، پکواتا معنی ”پکا ہوا“ اور واتا کا معنی ”سوجن“۔ ’پکوڑا‘ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔  ادبی حیثیت  سے  اس  1780 ء کو "کلیاتِ سودا ”میں پہلی بار استعمال ہوتے ہوئے سنا گیا۔ کسی محاورے یا...

ہمارے بلاگرز