حور ایک استعارہ یا حقیقت؟

حوروں کا ذکر ، اللہ تعالیٰ نے نہایت حکمت کے ساتھ کیا ہے۔ یہ وہ انعامات کی طویل فہرست میں سے ایک انعام ہوگاجو اہل جنت کو بکثرت ملے گا۔کہیں 70تو کہیں114 کی بھی تعداد کا ذکر آتا ہے۔ مومنین کے لیے تو اللہ کی رضا ہی کافی ہے لیکن اللہ نے اپنے بہترین بندوںکو...

حسد قاتل ہے انسان کے لیے

یارو یہ ہی دوستی ہے قسمت سے جو ملی ہے۔ ہمارا گروپ اس گانے کو پورے زور و شور کے ساتھ یونیورسٹی میں گاتا رہتا تھا اور میں بس...

”گھر اپنا جنھوں نے کبھی جلتے نہیں دیکھا“

چند دنوں کی بات ہے ایک گھر میں جانا ہوا۔رات کا وقت تھا۔ مکمل تاریکی چھا چکی تھی۔ ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی۔ گھر کے کچن میں چند...

خودی کی جلوتوں میں مصطفائی

جب کوئی شخص رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے کو اختیار کرتا ہے، جسے قرآن میں اللہ نے سورۃ آل عمران میں یوں بیان کیا کہ اے...

خبر گرد

عاشر عباس کچھ عرصے سے وہیل چیئر پہ اجنبی چہروں کے رحم وکرم پہ پڑا، پچھتاوے کا زہر پی رہا تھا، پچھتاوے کبھی بستر پہ کانٹوں کی شکل دھار...

برزخ میں سکون

ایک تقریب کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے فرمایاکہ سکون کی زندگی قبر میں ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ دنیاوی زندگی آزمائش اورچیلنجزپرمبنی ہے،...

جھوٹ، ذلّت و رسوائی بنے مقدّر

انسان کا اخلاق اور کردار اس کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ جس میں اس کی تربیت اور خاندانی پس منظر کا عکس دکھتا ہے۔ ہمارا ہر عمل اس...

ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا

ایک زمانے میں کلائی گھڑی کا بہت رواج ہوا کرتا تھا۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے اعتبار کے مطابق اپنی کلائی پر کلائی گھڑی ضرور سجایا کرتا تھا۔ گھڑی...

گاؤں بھی اب گاؤں نہ رہا

برسوں بعدگائوں جاناہوا۔گاؤں کی ہرچیزبدلی بدلی دکھائی دی۔گائوں پہنچ کر، گائوں ہمیں اورہم گائوں کودیکھتے رہ گئے ۔ ایک لمحے کے لئے یوں لگاکہ یہ وہ ہمارانہیں کہیں نئے...

ڈرامہ نہیں معاشرے کا بگاڑ

یہ ہمارے روز کا معمول تھا۔ رمشہ اور میں مغرب کے بعد ٹی وی کھول کر بیٹھ جاتے۔میں رات کے لیے سبزی بناتی اور رمشہ ٹی وی پر کچھ...

جینے کا ہنر

جب زندگی کی ڈور الجھ جائے،تب کیاکریں

مجھے ایک واقعہ یاد ہے جب ہم کراچی ایک علاقے میں رہایش پذیر تھے۔ہمارے علاقے کے گرلز اسکول کا واقعہ ہے۔ایک روز ایک طالبہ اسکول گئی لیکن اسکول کی...

دو خدا

وہ مسکرائے اور کہنے لگے "اگر تم تحقیق کروگے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں چار ہزار سے زیادہ خدا ہیں جن کی عبادت اور پوجا کی جاتی...

“سوال کی قوت “

’’سوال ہی جواب ہیں،جو سوال کرتا ہے، وہ جواب سے گریز نہیں کر سکتا۔‘‘ تم جانتے ہو ہمارے اندر موجود یقین کی قوت کس طرح ہمارے فیصلوں،اعمال،قسمت اور ہماری زندگیوں...

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے...

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

انسانی دماغ میں ایک سو ملین سے بھی زیادہ اعصابی خلیے (نیوران) پا ئے جا تے ہیں اور ہر ایک خلیہ ایک سوپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ طاقت ور...

آپ خود کو صرف59 سیکنڈز میں بدل سکتے ہیں

آپ صرف 59 سیکنڈز میں اپنی شخصیت میں نمایاں تبدیلی لاکر ایک خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں جی ہاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں۔ یہ دعویٰ...

میڈیا واچ

ڈرامہ سیریل ”ارطغرل“ اور پاکستانی ڈرامہ

دسمبر 2014کو ترکی کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والا ڈرامہ سیریل ”ارطغرل غازی“ اس وقت عالمی شہرت حاصل کر چکا ہے۔ ڈیریلش ارطغرل 5سیزنز پر مشتمل ترکی...

میڈیا واچ ”ڈرامہ: میرے پاس تم ہو“

عورت کے سامنے جب لفظ محبت کا ذکر کیا جائےتو اسکے دل و دماغ  میں ایک خوبصورت مرد کی تصویر آجاتی ہےایک ایسا مرد جو بہت محبت کرنے والا...

  **  میڈیا آخر کیا چاہتا ہے؟**

ڈراموں میں پہلے دوپٹہ سر سے اترا، کندھے پر آیا ۔ پھر ایک طرف کو لٹک گیا۔ پھر سرے سے غائب ہی ہو گیا۔ پہلے ڈراموں میں، مرد اور...

 چیخ

ڈرامہ سیریل کسی بھی ملک کی پہچان ہوتے ہیں، جیسے لوگ دوسری جگہ جا کر اپنے ملک اور کلچر کی نمائندگی کرتے ہیں، ایسے ہی ڈرامہ ملک اور کلچر...

”ڈرامہ سیریل انکار“

آج کل ہم ٹی وی پہ چلنے والا ڈرامہ سیریل”انکار“ اپنی جاندار کہانی کی وجہ سے بے حد مقبول ہے۔ٖظفر معراج نے اپنے قلم سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ...

بھول یا گناہ

موجودہ معاشرے میں عورتوں اور مردوں کے آزادانہ ملاپ کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مخلوط محفلیں، مخلوط طرزتعلیم، دفاتر، گزرگاہیں، فوڈسینٹرز ،شاپنگ مالز غرض...

مباحث

قرآن کی نص صریح کا انکار

یہ چند ماہ پہلے کی بات ہے پنجاب کے ایک وزیر نے ایک بیان میں یہ کہہ دیا کہ جس طرح NCC کی تربیت کے تحت طلبہ کو خصوصی...

دین مائینس سیاست برابر چنگیزی

جب بھی اسلام  میں سیاست کے حوالے سے بات چھڑتی ہے یا بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو عام طور پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس مصرع کا...

سرسید اور ان کی پیدا کردہ ذہنیت

ایک مسلمان کے لیے سب کچھ اس کا دین ہے، اس کا خدا ہے، قرآن مجید ہے، رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ ہے، آپؐ کی سیرت ہے، آپؐ کی...

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر...

قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ، قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ''شارح'' ...

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے بغیر آپ اسکے شہری نہیں بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ...

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے...

اہم بلاگز

نوکری یا کاروبار؟

دنیامیں فی زمانہ اگر کسی کے معیارزندگی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی تعلیمی قابلیت کم،بینک بیلنس اور اس کے پاس مادی اشیا سے لگایا جاتا ہے۔یہ بھی ایک سچ ہے کہ جیہندے گھر دانے اونہدے کملے وی سیانے۔لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ پیسہ ہر کسی پر عاشق نہیں ہوتا اور جس پر عاشق ہو جائے پھر وہ مٹی کو بھی ہاتھ میں پکڑے تو وہ بھی سونا بن جاتی ہے وگرنی سونا بھی مٹی۔سوال یہ ہے کہ پیسہ کیسے کمایا جائے؟اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کام کیا جائے جس میں منافع ہو نا کہ اجرت،یعنی بزنس کیا جائے نوکری نہیں۔اگر کاروبار میں اتنا منافع نہ ہوتا تو کبھی بھی آپ ﷺ یہ نہ فرماتے کہ کاروبار میں منافع کے نو حصے ہیں۔جب آپ کاروبار کر لیتے ہیں تو پیسے کو کیسے دوگنا کرنا ہے اس کا فارمولہ بھی ہمارے پیارے آقا ﷺ نے بیان فرما دیا کہ کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اللہ سے کاروبار کرلو۔یہی وجہ ہے اللہ دنیا میں دس گنا اور آخرت میں ستر گنا لوٹا کر دیتا ہے۔اس سے بھی زیادہ اگر آپ کو چاہئے تو اس کا بھی حل پیارے رسول ﷺ نے ہم پر واضح فرما دیا کہ صدقہ کرو مسلمان کا صدقہ اس کی عمر میں اضافہ کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے اور اللہ کے ذریعے تکبر اور فخر(کی بیماریوں)کو زائل کرتا ہے۔ لیکن ہم کاروبار کرنے سے قبل ہی اس کے نقصانات سے ڈرنا شروع کر دیتے ہیں اسی لئے پاکستان میں کاروبار کی بجائے نوکری کو ترجیح دی جاتی ہے کہ کچھ بھی نہ ہو کم سے کم اس سے ہر ماہ تنخواہ تو مل جایا کرے گی۔اس کا سب سے بڑا نقصان جو ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہم ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ وصول کرنے کے بعد دوسرے ماہ کی تنخواہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔جس کا سب سے بڑا نقصان ہمیں اور کمپنی کو یہ ہوتا ہے کہ ہم اس جوش وجذبہ سے کام نہیں کرتے جس ولولہ سے ذاتی کاروبار میں کر سکتے ہیں۔اسی لئے دنیا کے کامیاب بزنس مین خیال کرتے ہیں کہ منافع،اجرت سے بہتر ہوتا ہے۔کیونکہ اجرت آپ کا پیٹ پالتا ہے لیکن منافع آپ کی قسمت بدل دیتا ہے۔لہذا ہمیں یہ سوچے بغیر کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے کام کو ترجیح دیتے ہوئے چھوٹے سے کام سے ہی بھلے ہو اپنا کام کرنا چاہئے،ایک بار ایک صحابی پیارے رسول ﷺ کے پاس آئے اور مدد چاہی۔آپ ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ ہے تو صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے پاس اس کلہاڑی کے اور کچھ بھی نہیں،آپ ﷺ نے وہ کلہاڑی لی اور اپنے دست ِ مبارک سے لکڑی کا دستہ اس میں ڈال کر کہا کہ جاؤ اور جنگل سے لکڑیا ں کاٹ کر لاؤ اور اسے بازار میں فروخت کر کے اپنی گزر بسر کرو۔وہ آدمی چلا گیا اور پھر چند ماہ بعد دربار رسالتﷺ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ اپنا کاروبار...

ترکی کی شام میں مداخلت ۔ پس منظر و پیش منظر

اس قضیے کو سمجھنے کی ابتدا ترکی کے شام پر حالیہ حملے سے کی جائے تو گتھی سلجھنے کے بجائے مزید الجھے گی ۔ اس لیے ہم اس معاملے کو بنیاد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کردستان  ترکی کا جنوب مشرقی علاقہ  ایران کا شمال مغربی علاقہ  عراق کا شمالی علاقہ اور شام کا  شمال مشرقی علاقہ  یہ کردوں کا مسکن ہے ۔ اسے کردستان کہا جاتا ہے ۔ یہ سارا خطہ تین لاکھ بانوے ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔ کردستان کے اس منقسم خطے میں سے  ترکی کے پاس ایک لاکھ نوے ہزار، ایران کے پاس ایک لاکھ پچیس ہزار، عراق کے پاس 65 ہزار اور شام کے پاس بارہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے ۔ کرد قوم اس خطے میں تین سو سال قبل مسیح سے آباد ہیں ۔ساتویں صدی میں یہ مسلمان ہوئے ۔ اس وقت نوے فیصد سے زائد کرد سنی مسلمان ہیں ۔ حالیہ وقتوں میں ان کی کل آبادی ساڑھے  تین کروڑ  کے لگ بھگ ہے ۔ سب سے زیادہ تعداد ترکی میں آباد ہے ۔ یہ تعداد تقریبا ًڈیڑھ سے پونے دو کروڑ کے آس پاس ہے ۔ ایران میں قریب قریب نوے لاکھ ، عراق میں اسی لاکھ اور شام میں تیس لاکھ کے عدد کو چھوتے ہیں ۔ جنگ عظیم اول سے قبل یہ سارا خطہ خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا ۔ جنگ خلافت عثمانیہ کی شکست پر منتج ہوئی ۔ شکست کا سب سے نمایاں نتیجہ یہ سامنے آیا کہ چھوٹی چھوٹی قومی سلطنتیں تشکیل پاگئیں ۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے حریفوں کے لیے بےحد حوصلہ افزا تھی ۔ یہیں سے مسلمانوں کا حقیقی زوال شروع ہوا ۔ معاہدہ سیورے  ۔10اگست 1920 کو اتحادیوں اور سلطنت عثمانیہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا، جو " معاہدہ سیورے " کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس معاہدے کے رو سے حجاز مقدس ترکی سے الگ ہوا۔ نیز یہ بھی طے پایا کہ کردوں کی الگ ریاست بنے گی ۔ معاہدہ لوزان   مصطفی کمال اتاترک نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ خلافت کی بساط لپیٹی اور ترکی کی آزادی کا اعلان کر دیا ۔ اس دوران ترکی میں یونانی فوج بڑی تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھی ۔ کمال اتاترک نے 1921 کو روس سے دوستی کا معاہدہ کرلیا ۔ اس عمل سے تقویت پاکر 1922 کو یونانی افواج کو شکست سے دوچار کیا اور انہیں ترکی سے نکال باہر کیا  ۔ کمال اتاترک کی اس شاندار فتح کی وجہ سے جنگ عظیم کے اتحادی مذاکرات کی میز پہ آنے پر مجبور ہوگئے اور 24 جولائی 1923 کو سوئیٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں " معاہدہ لوزان " عمل میں آیا ۔ اس معاہدے کی رو سے سابقہ معاہدہ " معاہدہ سیورے " کو منسوخ قرار دیا گیا ۔ جس کی رو سے ایک آزاد کرد ریاست نے جنم لینا تھا ۔ معاہدہ لوزان کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ترکی ،شام اور عراق کی سرحدیں متعین کر دی گئیں ۔ دوسرے لفظوں میں کردوں کے ارمانوں پر نہ صرف پانی پھیر دیا گیا، بلکہ انہیں عملاً ترکی ،شام...

اطاعت و استغفار کے ذریعے آفات سے نجات

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”جب مال غنیمت کو دولت قراردیاجانے لگے،اورجب زکوٰۃ کوتاوان سمجھا جانے لگے، اور جب علم کو دین کے علاوہ کسی اور غرض سے سکھایا جانے لگے، اورجب مرد بیوی کی اطاعت کرنے لگے اورجب ماں کی نافرمانی کی جانے لگے،اورجب دوستوں کو قریب اورباپ کودور کیاجانے لگے، اورجب مسجد میں شوروغل مچایا جانے لگے اور جب قوم وجماعت کی سرداری،اس قوم وجماعت کے فاسق شخص کرنے لگیں اورجب قوم وجماعت کے زعیم وسربراہ اس قوم وجماعت کے کمینہ اور رذیل شخص ہونے لگیں،اورجب آدمی کی تعظیم اس کے شراورفتنہ کے ڈرسے کی جانے لگے، اورجب لوگوں میں گانے والیوں اور سازو باجوں کادوردورہ ہوجائے، اور جب شرابیں پی جانی لگیں اورجب اس امت کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں کو براکہنے لگیں، اور ان پر لعنت بھیجنے لگیں تواس وقت تم ان چیزوں کے جلدی ظاہر ہونے کا انتظار کرو، سرخ یعنی تیزوتنداور شدید ترین طوفانی آندھی کا، زلزلے کا،زمین میں دھنس جانے کا، صورتوں کے مسخ وتبدیل ہوجانے کا،اور پتھروں کے برسنے کا،نیزان چیزوں کے علاوہ قیامت اور تمام نشانیوں اور علامتوں کا انتظارکرو،جو اس طرح پے درپے وقوع پذیر ہوں گی جیسے (موتیوں کی) لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور اس کے دانے پے درپے گرنے لگیں“۔ مذکورہ بالا حدیث میں کچھ ان برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اگرچہ دنیا میں ہمیشہ موجودرہی ہیں اور کوئی بھی زمانہ ان برائیوں سے خالی نہیں رہاہے،لیکن جب معاشرہ میں یہ برائیاں کثرت سے پھیل جائیں اور غیر معمولی طورپر ان کادوردورہ ہوجائے توسمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت ترین عذاب خواہ وہ کسی شکل وصورت میں ہوا، اس معاشرہ پر نازل ہونے والاہے اوردنیا کے خاتمے کا وقت قریب ترہوگیا ہے۔ مال غنیمت کو دولت قراردئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اگرسلطنت کے اہل طاقت وثروت اور اونچے عہدے دار مال غنیمت کو شرعی حکم کے مطابق تمام حقداروں کو تقسیم کرنے کی بجائے خود اپنے درمیان تقسیم کرکے بیٹھ جائیں اور محتاج وضرورت مند اور چھوٹے لوگوں کو اس مال سے محروم رکھ کر اس کو صرف اپنے مصرف میں خرچ کرنے لگیں تواس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اس مال غنیمت کے تمام حقداروں کا مشترکہ حق نہیں سمجھتے بلکہ اپنی ذاتی دولت سمجھتے ہیں۔ امانت کو مال غنیمت شمارکرنے سے مرادیہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس امانتیں محفوظ کرائی جائیں وہ ان امانتوں میں خیانت کرنے لگیں اور امانت کے مال غنیمت کی طرح اپنا ذاتی حق سمجھنے لگیں جو دشمنوں سے حاصل ہوتاہے۔ زکوٰۃکوتاوان سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا لوگوں پر اس طرح شاق اور بھاری گزرنے لگے کہ گویاان سے ان کا مال زبردستی چھینا جارہاہے اورجیسے کوئی شخص تاوان اورجرمانہ کرتے وقت سخت تنگی اوربوجھ محسوس کرتاہے۔ علم کو دین کے علاوہ کسی اورغرض سے سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ علم سکھانے اور علم پھیلانے کا اصل مقصد دین وشریعت کی عمل اور اخلاق وکردار کی اصلاح وتہذیب انسانیت اور سماجی کی فلاح وبہوداور خداورسول...

 ”شکریہ جماعت اسلامی “

”بھائی! فون تو اٹھا لیا کر،میں نے قرضہ تونہیں لیناتھا،کل سے ستر فون کر چکا ہوں مجال ہے جو ایک بار بھی کال اٹھا ئی ہو،چلو بندہ مصروف ہوتا ہے لیکن فرصت میں تو کال کر سکتا ہے ،یعنی اب ہم ایسے گئے گزرے ہوگئے ۔۔۔“سیلانی فون پر جمیل کی ہیلو سنتے ہی شروع ہو گیا،گذشتہ بارہ گھنٹوں میں جمیل کو گیارہ بار فون کر چکا تھا،بارہویں فون پر اس نے کال وصول کی تو سیلانی کاکھری کھری سناناتو بنتا تھا۔ جمیل احمد صغیر سے اسکا پرانا ساتھ اور بے تکلفی ہے ،کراچی یونیورسٹی کی بسوں پر دونوں نے لٹک لٹک کرخوب سفر کر رکھے ہیں ۔کیمسٹری کی کھٹی چنا چاٹ اور رول پراٹھے کھارکھے ہیں،ایک دوسرے سے چھین کر عبداللہ کی بریانی پلیٹ  پربھاگتے رہے ہیں، جمیل پڑھنے لکھنے والا بچہ اورتقریبا آدھا جماعتی تھا،فکری اور نظریاتی طور پر وہ جماعتی ہی تھا،مولانا موددودی رحمتہ اللہ علیہ کی کتابیں اس کے بیگ میں رکھی ہوتی تھیں لیکن وہ اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہونے پر تیار نہ ہوتاتھا ،یاروں نے بڑی کوششیں کیں، ربط میں رکھا،گھر کے چکر لگائے، بڑے بڑے لیکچر دیئے لیکن جمیل نے جمعیت میں نہ آنا تھا نہ آیا۔ یونیورسٹی کے بعد غم روزگار نے سارے ہی دوست محبتیں اوررفاقتیں یاد بنا دیں، وہ احباب جن سے روز آرٹس لابی میں مصافحے معانقے ہوا کرتے تھے انہیں بھی گردش دوراں جانے کہاں لے اڑی جو نہیں اڑے جمے رہے ان سے بھی ملاقاتوں میں وقفہ بڑھتا چلا گیا۔جمیل سے بھی کبھی کبھار ہی ملاقات ہوپاتی کبھی اس کا فون آجاتا یا کبھی سیلانی اسے فون کر لیتا ،کل ایک کام کے سلسلے میں سیلانی کو جمیل کی ضرورت پڑ گئی سیلانی نے فون کیا لیکن اس نے اٹھایاہی نہیں پھر فون کیا جواب ندارد،تیسراچوتھا اور وقفے وقفے سے کتنے ہی فون کئے لیکن جمیل سے رابطہ نہ ہواپہلے اسکے نمبر پر گھنٹی بج رہی تھی پھر اس نے فون بھی بند کر دیا،سیلانی کا غصہ پریشانی میں بدل گیا طرح طرح کے وسوسے اسے ڈسنے لگے اس نے چاہا کہ کسی اوردوست سے جمیل کی خیر خبر لی جائے لیکن دونوں کا کوئی مشترکہ دوست بھی ایسا یاد نہ آیا اب جو صبح جمیل کے نمبر سے اپنے فون پر مس کال دیکھی تواس نے نمبر ملایا اور جمیل کی ہیلو سنتے ہی شروع ہو گیاسناتے سناتے سیلانی ذرا دم لینے کو رکاتو دوسری طرف سے آواز آئی ”بس یا کچھ اوررہتا ہے ۔۔۔“ ”ابے ! چپ میں سامنے ہوتا ناں تو طبیعت صاف کر دیتا “ ”واپس آجا کراچی میں صفائی کرنے والوں کی بڑی ضرورت ہے یہاں سیاست ہی صفائی پر ہورہی ہے“جمیل ہنس پڑا ”یار ! میں تجھے کل سے فون پر فون کئے جارہا ہوں مگر تو نے جواب دینے کے بجائے فون ہی بند کر دیا“ ”بدگمان نہیں ہوتے دوست فون بند نہیں کیا تھا ہو گیا تھا اور کال میں اس لئے نہیں لے سکا کہ لاکھوں لوگوں کے شور میں گھنٹی کیا گھڑیال کی بھی کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی“ ”لاکھوں لوگ۔۔۔کیامطلب ؟“ ”میں کل کشمیر کی ریلی میں تھا“  تو بھی کل جماعت اسلامی کی...

امت کو طعنے

امت کا تصور اتنا جاندار ہے کہ استعمار نے اس کو ختم کرنے کے لیے امت کے وجود کو بزور شمشیر کیک کے ٹکڑوں کی طرح تقسیم کیا،خاردار باڑیں لگائیں،آمد و رفت محدود کی، پاسپورٹ اور ویزے کا دھندا قائم کیا،پھر بندوق کے پہرے بٹھائے،ایک کے بجائے درجنوں پرچم دیے اور ہر قومیت کو صرف اپنے وطن کی عظمت پر لگا دیا، اپنے تئیں باقی سب بھلا دیا اور پھرسب سے اوپر ذہنی غلامی کو قائم دائم رکھنے کے لیے اپنے کالے غلام اس سارے بندوبست کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیے۔۔۔! لیکن امت نے اپنے وجود کا ثبوت دیا اور ہر محاذ پر دیا۔ اڑتالیس کی عرب اسرائیل جنگ میں مجاہدینِ امت نے بے سروسامانی میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے۔۔۔73ء کی جنگ میں اسرائیلی پوچھتے تھےاس دفعہ فدائین تو نہیں لڑ رہےنا! پھر جتنی جنگیں عرب قومیت کے نعرے پر لڑی گئیں،ہمیشہ منہ کی کھائی اور جب جب امت کی،قرآن کی صدا بلند ہوئی، دشمن خون کے گھونٹ پی کرر ہ گیا۔آج بھی غزہ کا قید خانہ اور القدس کے مینار خون سے تر ہیں ، امت تابندہ ہے! افغانستان کی تو مثال ہی دینا وقت کا زیاں ہے ،انڈونیشیا سے مراکش تک امت کے نمائندے بارگاہ الٰہی میں منتخب ہو ہو کر پہنچے اور خون ِرگِ جاں سے حق کی شہادت رقم کی۔رحمھم اللہ۔ بوسنیا کی بات کم کومعلوم ہے۔۔۔1992ء میں نسل کشی شروع ہوئی تو ہر حکومت نے ویسے ہی تاریخی'' کھڑے ہونے'' پر اکتفا فرمایا جیسے آج پاکستان کشمیر کی چتا کے سرہانے ساتھ''کھڑا" ہے۔۔۔امت کو آواز پڑی،امت نے لبیک کہا،عالم اسلام سے جانباز آئے اوردو ہی سال میں سرب افواج کا زور توڑ دیا۔دشمن کو مجبوراََبوسنیا کے قیام کو تسلیم کرنا پڑا! صدرعلی عزت بیگوویچ کا خراج تحسین آج بھی موجود ہے،اسے پڑھیں،معلوم ہو گا امت کیا ہے، کیا کر سکتی ہے! عراق میں امریکی تسلط کے خلاف ان کہی داستان کبھی لکھی جائے تو استعمار کے خلاف جدوجہد میں امت کاتاریخی کردار سامنے آئے گا اور یہ لکھا جائے گا۔انگریزی میں لکھا بھی گیا ہے،اردو تاحال محروم ہے! اعلان آزادی 1995ء کے بعد آزاد چیچنیا کے صدر جوہر داؤدییف نے آرمی کا کمانڈر ایک عرب کمانڈر امیر الخطاب کو مقرر کیا تھا،کس قاعدے کے تحت؟یہ امت ہے! وہی خطاب جس نے سعودی عرب میں والدہ کو فون پر کہا تھا کہ جب چیچنیا سے روسی استعمار کا جنازہ نکل جائے گا،خطاب اپنی ماں سے ملنے آ جائے گا! صرف کشمیر میں پچیس ہزار پاکستانی امت کے وجود کی سند خونِ رگِ جاں سے رقم کر چکے ہیں۔کسی ایک کا باپ یا بھائی بھی یہ گواہی نہیں دے سکتا کہ وہ' 'سب سے پہلے پاکستان'' پر قربان ہوا۔ہر شہید نے امت کے لیے قربانی دی!خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی! حماس کے ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کا بانی تیونس کا شہری محمد الزواری بنتا ہے۔۔۔کس نسبت سے؟؟اسی نسبت سے جس نسبت سے بوڑھا شیرسیدعلی گیلانی اپنا آپ پاکستان سے منسوب کرتا ہے۔۔پاکستان کو امت کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے۔۔ "اسلام کی نسبت سے ۔۔۔اسلام کے تعلق سے۔۔۔اسلام کے رشتے سے۔۔۔ہم پاکستانی ہیں۔۔پاکستان ہمارا ہے!" اقبال ابھی تک غلطی سے قومی شاعر ہی ہے،بہت...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے " حق گو " ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے " ایماندار ترین " لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان جیسی  " پوتر " اور " مادر ملت " خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، " محافظ ختم نبوت " اور اس ملک کے "سنجیدہ ترین" انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے " لینڈ گریبر " کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔ غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ " لڑکے " پرویز خٹک جیسے یوتھ کے " نمائندے " اور دوست محمد کھوسہ جیسے " ہینڈ سم اسمارٹ بوائے " کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے " ایمان افروز ملفوظات " کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔ 5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل " سادگی کا نمونہ " خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک...

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر وائی پہ نظر آئیں ، سفید لباس میں روتی بین کرتی بیوہ کے روپ میں ،شوہر کا التفات  اور اس کی محبت یکے بعد دیگرے مناظر کی صورت میں ثمرہ کے ذہن کے ساتھ ساتھ پردہِ سیمیں پر بھی ابھرتے چلے گئے، اور ہمیں اپنے صاحبزادے کے احساس دلانے پہ معلوم ہوا کہ یمنیٰ نے ثمرہ کے روپ میں بھلے ہی مصنوعی آنسو بہائے ہوں لیکن ہمارے چہرے کو حقیقی آنسو بھگو رہے تھے، یہ خبر سکھر کے دورے پہ نکلے ہوئے شوہرِ نامدار تک بھی تیزی سے پہنچا دی گئی ، اور فوراٍ ہی وہاں سے فون بھی آ گیا، حد کرتی ہو یار، یہ کوئی رونے والی بات ہے،مرد کی سرزنش میں چھپی محبت کو ڈھونڈ کو محسوس کر لینے کا گر عورت سیکھ لے تو زندگی گلزار ہو جائے ، بہر حال اس منظر نے ہمیں کچھ ایسا جکڑا کہ اس کہانی کو شروع سے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس ڈرامے کے مصنف  عدیل رزاق ہیں ،جو اس سے پہلے  ہم ٹی وی پہ چلنے والی  ایک  ڈرامہ سیریز میں انتہائی متنازعہ موضوع پہ ڈرامہ بھی لکھ چکے ہیں۔  ہدایتکار فاروق رند ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں ،محبت تم سے نفرت، بے شرم، گلِ رعنا، لا ،رشتے کچھ ادھورے سے اور جگنو شامل ہیں ۔ جن لوگوں نے ان ڈراموں کو ذرا گہری نظر سے دیکھا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ   ان میں سے اکثر کہانیاں ہمارے معاشرے  میں عورت سے سلوک اور اسکی حیثیت کو قابلِ رحم انداز میں پیش کرتی ہیں، یقیناً اس میں کسی حد تک حقیقت بھی شامل ہوتی ہے ،لیکن اس حقیقت کو اس اندز میں بیان کرنا کہ اسکے منفی پہلو ساری مثبت باتوں کو کمال مہارت سے نگل لیں یہ بہر حال انصاف  کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پہ یہ کہانی ثمرہ  کے گرد گھومتی ہے جو اپنے "روشن خیال" ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، اور اسی روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے  والدین ثمرہ کی شادی اس کی پسند سے کر دیتے ہیں، شوہر کا تعلق ایک خالص جاگیردار گھرانے سے ہوتا ہے جو اپنے گاؤں میں سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں،اور پیر بھی مانے جاتے ہیں ،لڑکے کا باپ اس خیال سے پہلی بار خاندان سے باہر کی بہو لانے پہ تیار ہوتا ہے کہ بیٹا جو  تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ،جاگیرداری نظام کے نقائص ،پیری فقیری کی مذموم روایات  اور سیاست کے غلط استعمال سے خائف ہو کر اس سب سے دور رہنا چاہتا ہے، وقت پڑنے پر وہ اس احسان کا حوالہ دیتے ہوئےاسے اپنی ڈگر پہ چلایا جا سکے۔ثمرہ کو شادی کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا سسرال حقیقتاً کس پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی عورت ،کا کن کن مراحل پہ کس کس طریقے سے استحصال ہوتا ہے،اس ڈرامے میں  بلا شبہ اس کی عکاسی کرنے...

بچوں کے ساتھ زیادتی اور سیکس ایجوکیشن

قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک پر پورا ملک سوگوار ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے بات کی جارہی ہے۔ پاکستان میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر طبقے کے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اس واقعے کی مذمت، اس پر تبصرہ اور اس کی وجوہات پر بات کی ہے۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس واقعے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ جی ہاں آپ لوگ ٹھیک سمجھے میرا اشارہ موم بتی مافیا کی طرف ہے۔ ننھی زینب کے واقعے کی آڑ لے کر ایک میڈیا گروپ اور ایک مخصوص لابی احتیاط اور آگاہی کے نام پر اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کو فروغ دینا اور اس کو نصاب میں شامل کرنے کی مہم چلانے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے کئی باتیں غور طلب ہیں۔ان باتوں کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ جن باتوں کو بنیاد بنا کر یہ مہم چلائی جارہی ہے اول تو وہ ساری باتیں ہی بے بنیاد ہیں اور دوسری بات یہ کہ یہاں نام تو آگاہی اور احتیاط کا لیا جارہا ہے لیکن جب قانونی طور پر سیکس ایجوکیشن کا نام نصاب میں شامل ہوجائے گا تو پھر وہی سیکس کی تعلیم یہاں بھی دیجائے گی جو کہ دنیا بھر میں سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسکولوں میں دی جاتی ہے۔ یہاں ہم ان باتوں کا جائزہ لیں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ یہ مہم بے بنیاد باتوں پر چلائی جارہی ہے تو اس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ ننھی زینب، قصور میں ہونے والے پے درپے واقعات اور پورے ملک ہونے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے کیسز اغوا، زیادتی اور قتل کے ہیں، یعنی یہ سارے واقعات فوجداری ہیں، ان کی روک تھام پولیس، انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ (اس حوالے سے ہم نے ایک مضمون میں تفصیلی بات کی ہے جو کہ اسی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جس کا لنک یہاں دیا جارہا ہے۔) https://blog.jasarat.com/2018/01/13/saleem-ullah-3/ لیکن ان کو ٹھیک کرنے کے بجائے بڑی چالاکی سے ان کی ذمے داری والدین اور اسکولوں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان سارے واقعات کا سیکس ایجوکیشن وغیرہ سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز اس کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا دوسرا نکتہ جس کو یہ مخصوص لابی اپنی بنیاد بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب بچے اپنے والدین سے ایسی کوئی شکایت کرتے ہیں، اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی یا کا بتاتے ہیں تو والدین دقیانوسی رویہ اپناتے ہوئے ان کو چپ کراتے ہیں یا بدنامی کے خوف سے چپ ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ بدنامی کے خوف سے والدین صرف اس وقت خاموش ہوتے ہیں جب خدانخواستہ میرے منہ میں خاک کسی کی جوان بچی کی عزت و آبرو کو تار تار کیا جائے۔ بچوں160کے معاملے پر توہم نے میڈیاپر، معاشرے میں، گلی محلے...

بچوں کے بدتمیز ہونے کی وجوہات

آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سننے میں آتا ہے کہ ہماری اولاد بہت بدتمیز ہوگئی ہے بڑوں کی عزت نہیں کرتی عجیب پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں مگر انہیں یہی بات ہی نہیں سیکھاتے۔ والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ہر خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کو ذرا بھی تکلیف ہو تو خود تکلیف میں آجاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے ان کے پیچھے خود کو فراموش کردیتے ہیں مگرانہیں عزت کرنا اور عزت سے پیش آنا سیکھاتے ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ والدین اپنے بچوں کو سمجھاتے نہیں ، سمجھاتے بہت کچھ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فعل سے انجانے میں بچوں کو عزت و احترام نہ کرنا سیکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو محبت دی جائے، انہیں خلوص دیا سب کچھ دیا جائے مگر انہیں عزت نہ دی جائے تو پھر بچے بدتمیز ہی بنتے ہیں۔ بچوں کو محبت سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی۔ جبکہ انہیں اکثر بہن بھائیوں یا پھر پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرکے ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔ سب کے سامنے یا تو ڈانٹا جاتا ہے یا پھر انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب بچوں کو اپنے گھر والے، والدین ، بہن بھائی ہی عزت و احترام نہیں دیں گے تو بچے کیسے سیکھیں گے کہ یہ سب۔ پھر یوں کہا جائے کہ یہ سب بچوں کے لیے گویا ایک اجنبی سی چیز ہے۔ بعض اوقات بچوں میں چڑچڑاپن اور بدتمیزی کی ایک بڑی وجہ والدین کا آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین کی آپس میں کشیدگی کا نشانہ بچے بنتے ہیں۔ کسی اور کا غصہ کسی اور پر نکال دیا جاتا ہے۔ بیوی شوہر کا یا پھر شوہر بیوی کا غصہ بچوں پر نکالتا ہے۔ بچے کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں مگر والدین کا بچوں سے بات کرنے کا انداز غیر ضروری حدتک تلخ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر بچے کے کمزور دماغ پر پڑتا ہے۔ بچوں کے سامنے غیر ضروری اور غیر شائستہ گفتگو کرنے سے گریز نہ کرنا بھی بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچوں کے سامنے ہر طرح کی باتیں کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں پر ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والد بچے کو کہتا ہے کہ ’’بیٹا! اگر کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی دو لگا دینا‘‘۔ یہ بات بچہ سیکھتا ہے اور پھر جب اس کا چھوٹا بھائی اسے مارتا ہے تو وہ سب کے سامنے اپنے بھائی کو دو جڑ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر سب اسے ڈانٹتے ہیں اور والد صاحب اٹھ کراپنے بیٹے کو تھپڑ لگا دیتے ہیں۔ ’’یہ سب کس نے تمہیں سیکھایا، بدتمیز بن گئے ہو‘‘، وغیرہ وغیر۔۔ اب اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے۔ خود ہی سیکھایا اور پھر خود ہی کہا کہ یہ سب کس نے سیکھایا۔ یہ...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

حور ایک استعارہ یا حقیقت؟

حوروں کا ذکر ، اللہ تعالیٰ نے نہایت حکمت کے ساتھ کیا ہے۔ یہ وہ انعامات کی طویل فہرست میں سے ایک انعام ہوگاجو اہل جنت کو بکثرت ملے گا۔کہیں 70تو کہیں114 کی بھی تعداد کا ذکر آتا ہے۔ مومنین کے لیے تو اللہ کی رضا ہی کافی ہے لیکن اللہ نے اپنے بہترین بندوںکو جو کہ شیطان کے دیئے گئے چیلنج کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہونگے ان کی ہر قسم کی تسکین کا سامان جنت ہی میں کیا ہے ۔ جنت ہی کو وہ جگہ قرار دیا گیا ہے جہاں سکون ملے گا، واضح رہے کہ حدیث پاک ﷺ کے مطابق جنت وہ جگہ ہے جہاں سکون وآرا م کو رکھ دیا گیا جسے انسان دنیا میں تلاش کرتا ہے۔بہر حال جنت کے لیے جستجو اور تڑپ اور عمل کرنا ہی ہر انسان کا ہدف ہونا چاہیے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا جسے میں تو شیطان ہی کا آلہ کار قرار دیتا ہوںاُس کی بدولت افرا تفری یا یوں کہیے کہ پروپیگنڈہ بلکہ آسان کرلیں افواہیں، غلط اطلاعات، تشکیک و تنقیص وہ بھی بنا کسی معلومات کے اب باآسانی ہو جاتی ہے۔ فتنوں کے اس تیزی سے ابلنے کا اس سے شدید دور شاید ہی کوئی ہو۔ ہوا یہ کہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ گردش کرنا شروع ہوئی جس میں جاوید احمد غامدی کے توسط سے یہ موقف دیا گیا کہ جنت میں حور ملنے کا صرف ایک استعارہ ہے ، اصل میں تو آپ کو اپنی دنیاوی بیوی ہی ملے گی۔ اب لوگ اس پر مذاق بنا کر کمنٹس کا اضافہ کرنے لگے کہ ’یہ کیسی سزا ہے، اب تو میں غامدی کا دشمن ہوگیا ہو اس نے ایسی بات کیوں کی، پھر فائدہ کیا ہوا؟ وغیرہ وغیرہ جیسا عموماً ہوتا ہے شوہر بیوی والے مذاق میں۔اب بات ایسی تھی کہ ڈسکشن میں آگئی۔ ہمارے ایک معتبر و محترم دوست نے بھی ایک پوسٹ ڈال دی اور یوں خوش خبری سنائی کہ : متاثرین غامدی صاحب کے لیئے. . . .. . ان حضرات کے لیئے جو غامدی صاحب کی حوروں سے متعلق بیان پر دلبرداشتہ ہیں اور اپنی بیگمات کو دیکھ دیکھ کر آہیں بھر رہے ہیں، ان کے لیئے یہ ناچیز جو کہ قطعی طور پر مذہبی معاملات میں عالم و فاضل نہیں ہے لیکن حوروں جیسے نازک قلبی معاملے پر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اسوقت کہ جب اس کی شادی نہ ہوئی تھی کچھ تحقیق کرچکا ہے یہ ناچیز یہ اعلان کرتے ہوئے قطعی عار محسوس نہیں کرتا کہ غامدی صاحب کا بیان سورہ رحمن میں بتائی گئی نشانیوں سے متصادم ہے اس لیئے غامدی صاحب کا بیان غلط ہے۔ اس سورۃ میں جنت کی نعمتوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ “ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے“لہذا اب یہ آپ کی بیگم کا ذکر نہیں ہے۔ چونکہ اب آپ خوش ہو گئے ہیں، تو ایک نکتہ تحقیق بھی آپ کے لیئے چھوڑے جاتا ہوں۔ آپ کی بیگمات کو آپ کو...

ناصح تجھے آتے نہیں آدابِ نصیحت

نمازِ عصر کی تیسری رکعت تھی جب بدبودار جھونکا ناک کے نتھنوں سے ٹکرایا؛ قریب تھا کہ میں لقمہ بدبو بن کر اجل کے منہ میں جا گرتا پر اذن نہ ملا تھا۔ اک چھوٹ تھی جو خدا تعالیٰ نے دے رکھی تھی۔ خیر میں تو اس بدبو کی بات کر رہا تھا جو ناک کے نتھنوں سے ٹکراتی ہوئی دماغ کے دریچوں کو متعفن کرنے کے بعد دل کے آنگن میں اتر کرتعفن پھیلا رہی تھی۔ عین وقت پر امام صاحب کی بھاری آواز نے خیالات سے کھینچا اور رکوع میں لے گئی۔ زور آور بدبو کے تعفن اب کچھ زیادہ ہی اٹھ رہے تھے اور اب کی بار تو اس زور کی ابکائی آئی تھی کہ کیا بتاؤں۔ منہ سختی سے بھینچ لیا تھا ، مبادا قے ہو اور مسجد کی صف دھونی پڑ جائے۔ اس وقت نماز میں کھڑا رہنا محال تھا۔ جیسے تیسے کھڑا رہا۔ خدا تعالیٰ کو یا خود کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ نماز تو رہی جگہ پر اب نظریں چاہتی تھیں کہ بھٹکیں اور اس درگند پھیلاتی شے کو مسجد سے باہر کا راستہ دکھائیں ۔ توجہ تو پہلے ہی بھٹ گئی تھی کہ یہ بدبوداربھبکے کہاں سے آرہے ہیں؟ خاصی کوشش پر بھی سمجھ دانی نے کام نہ کیا کہ ابھی جو پڑوس میں حرکت ہوئی تھی، اسی کی برکت ہے۔ اب سوچتا ہوں تو مسکراتا ہوں کہ سلیمانی چادر اوڑھے، اڑتےتعفن کیا نظر آتے؟ اس وقت تو فرشتے بھی تنگ آکر باہر چلے گئے ہوں گے۔ اب ہم سجدے سے واپس اٹھے تھے۔ چوتھی رکعت میں کھڑا اب بھی میں داروغے کی طرح سوچ رہا تھا کون ہے؟ جو اس بدبوکو خوشبودار جگہ لے آیا اور پھیلا دی۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ بائیں جانب سے ایک بھیانک سا آوازہ اڑا۔ ساتھ ہی ساری فضا میں مولی کی بو حلول کرگئی۔ بآسانی دماغ نے جانچ پڑتال پر خبر دی کہ ہو نہ ہو مولیاں سستی ہوگئی ہیں۔ صاحب سلامت مولی کھا کر آئے ہیں۔ اور اب ڈکار رہے ہیں۔ امام صاحب کی تکبیر نے سوچوں کے سمندر میں ڈبکی لینے سے قبل ہی کھینچ لیا اور رکوع میں لے گئی۔ اب کی بار جو باس ناک میں گھسی یقین کیجیے اس قدر سخت اور بھڑکیلی تھی کہ بے ہوشی کو بھی مات دے گئی ہاں مگر نماز محفوظ رہی۔ برداشت ہاتھ جوڑے سامنے کھڑی تھی۔ میں صف سے پیچھے کو نکلا تو خبر ہوئی کہ صف میں کھڑے انہی صاحب کی جرابیں یہ بدبو پھیلا رہی ہیں۔ جب امام صاحب نے سلام پھیرا تو خیال پر مہر ثبت ہو گئی ،کیوں کہ بدبو کا ریلا تیسری رکعت میں دماغ تک سرائیت کر گیا تھا اور وہ صاحب آخری رکعتیں مکمل کرنے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ سلام کے بعد دو احباب مزید اٹھ کر باہرکی جانب دوڑے تھے اور پھر وہ بو، قے کی صورت اندر سے نکل کر نالی کا رخ کر رہی تھی۔ میں وضو کے بعد نماز کے اعادہ کے لیے اٹھ کھڑا ہوا، جب کہ لوگ ان صاحب پر کئی حروف بھیج رہے تھے۔ اب باتوں...

لغت بدل گئی، ہے نہیں اور نہیں ہے ہوگیا

کبھی اسکول کالج کے زمانے میں کہیں ایک شعر پڑھا تھا لیکن اس وقت وہ فقط ایک شعر ہی تھا اور اس میں کہی گئی بات تفنن کیلئے ایک مسکراہٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھی۔ تقریباً 45 سال بعد لگتا ہے کہ وہ شعر کہا تو اس وقت گیا تھا لیکن وہ آج کے زمانے کیلئے تھا گویا شاعر 45 سال کی دوری پر بھی آج کے زمانے کو دیکھ رہا تھا۔ شعر کچھ یوں تھا کہ مجھ کو تو ہر اک منظر الٹا نظر آتا ہے مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آ تا ہے کسی زمانے میں ہوتا یہ تھا کہ ہمارا محکمہ موسمیات تقریباً ساری پیش گوئیاں محض اندازے پر ہی داغ دیا کرتا تھا۔ اگر سردی نے ٹھٹرا دیا تو پیشن گوئی کر دی گئی کہ اگلے دن درجہ حرارت مزید گر جائے گا لیکن ہوتا یوں تھا کہ پہن کر تو دو دو سویٹر جاتے لیکن واپسی نہ صرف بنا سویٹر ہوتی بلکہ کھجلی کی وجہ سے سارے جسم کو بھنبوڑتے ہوئے چلے آ تے۔ اعلان ہوتا کہ موسم خشک رہنے کا امکان ہے، ٹھیک دوپہر میں وہ جل تھل مچتی کہ بارش کا پانی گھروں اور دکانوں کے اندر تک داخل ہو جاتا۔ درجہ حرارت 48 سے بھی تجاوز کرسکتا ہے کے اعلان کے ساتھ ہی خوشگوار ہوائیں چلنا شروع ہو جایا کرتی تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان نہ صرف بہت غریب ہوا کرتا تھا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بھی دنیا سے بہت پیچھے تھا۔ اب زمانہ بہت ایڈوانس ہو گیا ہے اور قدرت اگر خود کسی مذاق کے موڈ میں نہ ہو تو محکمہ موسمیات کی کئی کئی دن پہلے کی اعلان کردہ پیشن گوئیاں بھی درست ثابت ہو نے لگی ہیں اور لوگ محکمے کی جاری کردہ پیشن گوئیوں کے مطابق اپنی اپنی کمر کس کر گھر سے باہر نکلنے لگے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی کارکردگی توبیشک بہت بہتر ہو گئی ہے، لیکن حکمرانوں کی دل و دماغ کے سارے جدید آلات یا تو پرانے اور ناکارہ ہو کر رہ گئے ہیں یا اللہ تعالیٰ نے ان سے سچ بولنے اور حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی ساری توفیق ہی جیسے سلب کر کے رکھ دی ہے۔ گزشتہ کئی دھائیوں سے حکمران جو بھی دعوے اور وعدے کرتے ہیں، جس جس منصوبہ بندی کا اعلان کرتے ہیں اور قوم کے مستقبل کے متعلق جو باتیں بھی بیان کرتے ہیں، آنے والا ہر دن ان کے وعدوں، منصوبہ بندی اور مستقبل کے متعلق کہی گئی باتوں کے خلاف جارہا ہوتا ہے۔ پرانے زمانے میں محکمہ موسمیات کی پیشن گوئیاں بے شک زیادہ غلط ہی ثابت ہوا کرتی تھیں لیکن پھر بھی بہت سارے تکے ایسے ہوتے تھے جو تیر بن جایا کرتے تھے۔ اسی طرح ماضی کے کئی حکمران اور ان کے ادوار ایسے ضرور گزرے ہیں کہ حالات ان کے دعوؤں، وعدوں اور عوام کے سامنے بیان کی گئی باتوں کے برعکس ثابت ہوتے رہے تھے لیکن پھر بھی بیشمار باتیں اور دعوے حقیقت کا روپ بھی دھارتے دکھائی دیئے لیکن اب تو یہ عالم ہو گیا ہے کہ اردو کی ساری...

آپشن بی پناہ گاہیں

سوشل میڈیاخاص طورپرٹک ٹاک کی ایک ویڈیوبہت مقبول ہورہی ہے،ویڈیومیںبیوی بیڈپرنیم دراز،سکون کے عالم میں اپنے سمارٹ فون پرتوجہ مرکوزکیے خوش جبکہ خاوندنیچے فرش پرجھاڑودے رہاہوتاکہ ایک آوازخاوندکومخاطب کرکے کہتی ہے آپ کے پاس دوآپشن ہیں،آپشن،اے،آپ ساری زندگی اپنی بیوی کےساتھ گزارناچاہتے ہیں؟ آپشن،بی،خاوندآپش،بی،سنے بغیرفوراًبڑے جذباتی اندازمیں چیخ چیخ کرکہنے لگتاہے آپشن،بی،آپشن،بی،بی،یعنی شوہرآپشن،بی،کاانتخاب کرکے اپنی بیوی سے فرارکی کوشش کرتاہے جبکہ آپشن،بی،ابھی سامنے نہیں آیا،حقیقت میں ایسانہیں ہے جیساخاوندحضرات نے سمجھا،آپش،بی،آپشن،اے،سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جس کو سنے بغیرانتخاب کرلیاگیا،آپ جانناچاہتے ہیں کہ آپشن،بی،کیاہے؟آپشن،بی،یہ ہے کہ کیاآخرت میں بھی آپ اپنی بیوی کے ساتھ کی طلب رکھتے ہیں؟ چند ہفتے قبل بیوی انمول رشتہ کے عنوان سے کالم لکھاجس کے بعد سے آج تک ہرمنٹ بعدکسی مظلوم،مسکین مجبور،مزدورخاوندکی فون کال،ایس ایم ایس،واٹس ایپ میسج،مسنجرکال یامیسج یاپھرای میل پیغام موصول ہورہے ہیں،ایسی ایسی تنقیدکاسامناکرناپڑرہاہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں،بیویوں کے ہاتھوں پریشان خاوند حضرات کے ایسے ایسے دل رلادینے والے بیانات سننے کومل رہے ہیں کہ جیسے بھارت کاکشمیری عوام پرظلم توبیوی کے مظالم کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتاہے۔ خاوندحضرات اس قدربیوی کے ہاتھوں تنگ ہیں جیسے عمران خان اور نیب کے ہاتھوں نوازشریف اورزرداری تنگ ہیں،خاوندحضرات بھی سیاسی ملزمان کی طرح مجبورنظرآتے ہیں کہتے ہیںبچے نہ ہوتے توہم کنارہ کرلیتے اب بتائوکیاکریں بچوں کی خاطربیوی کے مظالم برداشت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،بیوی کوانمول کہناتوزہریلی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے جیسامحسوس ہورہاہے،نتیجہ کچھ بھی نکلے بیوی کے متعلق اپنے موقف پرقائم رہوں گایہ الگ بات ہے کہ خاوندحضرات کی اکثریت بھی مظلوم لگنے لگی ہے، اکثربیگمات کاکہناہے کہ وہ اپنے خاوندکے ساتھ ہرمشکل وقت میںمقابلہ کرسکتیں ہیں، بس اُن کاخاونداُن کے ساتھ مخلص رہے، یعنی کسی دوسری عورت کوبیوی یابیوی نمارشتے کی نظرسے نہ دیکھے،آج کل چارسوکرپشن کرپشن،احتساب احتساب کی باتیں ہورہی ہیں،افیئرزکے حوالے سے شکی مزاج بیگمات اب مظلوم خاوندحضرات کواحتساب کی نظرسے بھی دیکھنے لگی ہیں۔ جی ہاں آپ درست سمجھے بیگمات کوافیئرزکے بعداب اپنے خاوندوں پرکرپشن میں ملوث ہونے کابھی شک ہونے لگاہے،آج کل بیگمات خاوندحضرات سے گھرکاسوداسلف منگوانے سے بھی گریزکرنے لگی ہیں اوراکثرتوحساب اس طرح مانگنے لگیں ہیں جیسے نیب والے احتساب کرتے ہیں،بیگم صا حبہ کہتی ہیں،پچھلے ہفتے توکوکنگ آئل 195کالیٹرتھاآج 225کاکیسے ہوگیا؟ابھی کل توبناسپتی 160روپے کلومنگوایاتھاآج 205روپے کیسے ہوگیا؟کچھ اسی طرح دیگراشیاء خوردونوش کی قیمتوں خاص طورپرادویات کی قیمتوں پربھی خاوندحضرات احتساب کی زدمیں آچکے ہیں۔ یہ توبھلاہووزیراعظم عمران خان کاجنہیں بے گھرافرادکی بہت فکرہے ورنہ بیچارے خاوندمستقبل قریب میں سڑکوں یاپارکوں میں راتیں بسرکرتے،وزیراعظم عمران خان جس قدرپناہ گاہوں کوتوجہ دے رہے اسے دیکھتے ہوئے مظلوم خاوندحضرات کواتناحوصلہ توہوچلاہے کہ بیگمات کے پاس جیل نہیں گھرسے نکالنے کاآپشن موجودہے، لہٰذا ایسی صورت میں پناہ گاہیں کسی نعمت سے کم نہیں۔ ابھی کل ہی خبرپڑھی جس میں لکھاتھاکہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات پروزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے بے سہارا افراد کے لیے پنجاب کے 36 اضلاع میں 92 عارضی پناہ گاہیں قائم کردی جن میں 17 سو سے زائد بے گھر افراد کو منتقل بھی کردیا گیاہے،اللہ بھلاکرے صرف پناہ نہیں بلکہ ان پناہ گاہوں میں کھانے پینے کی سہولت بھی دی جا رہی ہے، قابل غورپہلوہے کہ...

کیا کتے غراتے رہیں گے؟

آوارہ کتے کب نہیں ہوا کرتے تھے۔ گلیوں میں، سڑکوں پر، کھیتوں میں، کھلیانوں میں، گاؤں دیہاتوں اور چھوٹے بڑے شہروں میں۔ نہ صرف یہ کتے ہر جگہ بے شرمی کا مظاہرہ کرتے پھرتے تھے بلکہ اگر ان کی عیاشیوں میں کوئی رکاوٹ ڈالے تو پھر یہ بھنبھوڑ بھی لیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ وہ کونسا علاقہ، چوک، چوراہا اور گلی کوچہ ایسا ہے جہاں یہ نہ پائے جاتے ہوں اور عیاشی میں رکاوٹ آجائے تو یہ نہایت دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاٹنے اور بھنبھوڑ نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پاگلوں کی اور بات ہے کہ ان کو اپنا ہی کچھ ہوش نہیں ہوتا تو وہ دوسرے کا کیا خیال کریں لیکن ہوشمند کتے کتنے ہی دلیر دکھائی دیتے ہوں وہ اندر سے نہایت بزدل ہوتے ہیں اور اگر کوئی ڈر جانے کی بجائے ڈٹ جائے تو پہلے وہ اپنی آنکھیں جما کر اور کان کھڑے کرکے ڈٹ جانے والے کو بہت غور سے دیکھتے ہیں کہ ڈٹ جانے والا واقعی ڈٹ ہی گیا ہے یا نہیں اور جب کتوں کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ وہ بھی ”کتےپن “ پر اتر آئے گا تو ان کے پاس بھی ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس کو دبا کر وہ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ ہوتی ہے ان کی دم۔ زندگی میں ایک بار نہیں باربار ڈھیٹ بن جانے کا مظاہرہ کرکے بظاہر نظر آنے والے کتوں کا گیڈر بن جانا دیکھا ہے اور انھیں اپنی اپنی دمیں دبا کر بھاگتے پایا ہے۔ کتوں کے سامنے ڈٹ جانا کوئی آسان بات نہیں اس لئے کہ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں پاگل کون سا ہے لیکن یقین مانیں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل بھی نہیں۔ اگر ان کی دل دہلا دینے والی بھونک سے آپ پلٹ کے بھاگنے لگے تو کسی بھی صورت آپ ان ” کتوں “ سے نہ تو تیز بھاگ سکتے ہیں اور نہ ہی ان سے اپنے ہاتھ پاؤں بچا سکتے ہیں۔ آپ کے ڈرتے ہی کمزور سے کمزور کتا بھی شیر بن جاتا ہے اور پھر نہ صرف انسان لرزنے کے بھی قابل نہیں رہتے بلکہ آپ خود بھی ہلنے جلنے کے قابل نہیں رہتے بلکہ اگراسپتالوں میں ویکسین میسر نہ ہو تو دوسروں کو بھنبھوڑنے اور کاٹنے والی کیفیت کا شکار ہو کر دارِ فانی ہی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ کچھ تو ہوتے ہی ”کتے“ ہیں اس لئے آپ اپنی اذیت کی شکایت بھی ان کے کسی بڑے سے نہیں کر سکتے لیکن کچھ کتے ایسے بھی ہیں جو کتوں جیسے نظر تو نہیں آتے بلکہ شکل و صورت کے اعتبار سے اپنے جیسے ہی لگتے ہیں لیکن ان کی خصلت حقیقی کتوں سے بھی زیادہ خونخوار ہوتی ہے۔ ایسے کتے سارے کے سارے پاگل ہی ہوتے ہیں لیکن دنیا نہ تو ان کو پاگل سمجھتی ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی ڈاکٹر اس بات کی جرات کر سکتا ہے کہ ان کو پاگل قرار دے کیونکہ ڈاکٹرز ہوں یا عام عوام، اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ان کی جانب کوئی شک...

ہمارے بلاگرز