آزادی کے خواب کی تعبیر کا دن

آزادی کے خواب کی تعبیر کا دن ہرسال 23 مارچ کا دن آتا ہے، اور ہم اس دن کو یوم تجدید عہد کے طور پر مناتے ہیں ۔ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہم اس دن کس عہد کی تجدید کرتے ہیں، یا ہماری نوجوان نسل جانتی ہے کہ پاکستان بطور ایک آزاد و خود...

آنکھیں روشن دنیاروشن

دنیا کے حسین نظارے، رنگوں  کی بہاریں اورچہروں کے تاثرات۔۔اگر آنکھیں روشن نہ ہوتو بے معنی ہوجاتے ہیں۔ یوں تو ربّ کائنات نے ہمیں بیشمار نعمتیں عطا کی ہیں...

میرا کردار میری تاریخ کا تقاضا

تئیس مارچ ۱۹۴۰ تاریخ ساز دن ہے یہ دن ہے عہد باندھنے کا خود سے قوم سے اپنی ملت سے ۔ وہ عہد جو ہمارے بزرگوں اور اجداد نےباندھے تھے...

اور لڑائی ختم ہو گئی

عمران اور نعمان دونوں بھائی تھے۔ وہ اچھے بچے تھے مگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر اکثر لڑ پڑتے۔ سب ہی انہیں سمجھاتے مگر ان پر کچھ خاص اثر نہ...

فتنہ عظیم

انسان میں جنسی جذبے کی موجودگی ایک فطری بات ہے۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جس سے ہر انسان کو آزمایا جاتا ہے۔ اس جذبے کا آغاز حضرت آدم...

رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ

ہم خوش نصیب ہیں کہ ایک بار پھر ہم پر رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے جو کہ نیکیوں کا موسم بہار ہے ۔ اس ماہ مبارک...

یومِ پاکستان

یومِ پاکستان ملکی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن یعنی 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور پیش کی گئی جس کو بعد ازاں قرارداد پاکستان کہا...

جسے اندیشہ زوال نہ ہو

کسی بھی ادارہ کی نیک نامی اورساکھ کا ادارومداراُسکی فعالیت پرہے۔فعالیت جس قدر بہتر سے بہترین اندازمیں جاری رہے گی۔اُس قدرادارہ کے اہداف پرکام میں تیزی آئیگی۔چنانچہ اس تناظر...

دیہات سے شہر کا سفر

ابھی حال ہی میں چین کی جانب سے ایک دستاویز جاری کی گئی جس میں غربت سے نجات پانے والے افراد کی دیگر علاقوں میں منتقلی کے بعد، اب...

خوشگوار زندگی کے راز

خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے بہت سے نکات ہیں، اور جو چیز ایک شخص کے لیے کام کرتی ہے وہ دوسرے کے لیے کام نہیں کر سکتی۔ تاہم، یہاں...

جینے کا ہنر

آزادی کے خواب کی تعبیر کا دن

آزادی کے خواب کی تعبیر کا دن ہرسال 23 مارچ کا دن آتا ہے، اور ہم اس دن کو یوم تجدید عہد کے طور پر مناتے ہیں ۔ کیا ہم...

آزادی کے خواب کی تعبیر کا دن

ہرسال 23 مارچ کا دن آتا ہے، اور ہم اس دن کو یوم تجدید عہد کے طور پر مناتے ہیں ۔ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہم اس دن...

خوشگوار زندگی کے راز

خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے بہت سے نکات ہیں، اور جو چیز ایک شخص کے لیے کام کرتی ہے وہ دوسرے کے لیے کام نہیں کر سکتی۔ تاہم، یہاں...

ماہ صیام اور تزکیہ نفس

ماہ صیام کی بابرکت اور رحمت بھری فضاء ہی ہے کہ ہم نیکی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں،برا سوچنے، برا چاہنے اور برا کرنے سے صرف اس لئے...

مثلِ فاطمہ

کوئی جو مجھ سے پوچھے اگر، کہ ! ایک خاتون کی زندگی کیسی ہونی چاہیے؟ تو میں کہوں کہ مثلِ فاطمہ رضی اللہ عنہا۔ کوئی مجھ سے پوچھے اگر، کہ...

مُڑ کر دیکھنا منع ہے

غلطی کون کرتا ہے؟ وہی جو میدان میں نکلتا ہے، عمل کو شعار بناتا ہے اور دنیا کو کچھ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ جو لوگ کچھ نہیں کرتے...

میڈیا واچ

ایوارڈ کہانی ! بات تلخ مگر ہے سوچنے کی

ہمارے عمومی رویے ایسے ہو چکے ہیں کہ ہم تنقید برائے اصلاح کے فن اور ہنر سے بھی دور ہوتے جا رہے اور جہالت کا شکار زیادہ نظر آتے...

میڈیا سیل تربیتی ورکشاپ

٭٭٭روداد٭٭٭ علامہ اقبال نے امت مسلمہ کو مخاطب کرکے، ستاروں سے آگے ان کی منزل اور مشن کی سربلندی، کارواں کی صورت میں تنظیم اور گرد_راہ کی علامت میں برق...

عوام ٹی وی پر کيا ديکھے

گھر کے سب افراد مل بیٹھ کر ڈرامے دیکھا کرتے تھے ان سے لطف اٹھاتے تھے وہ ڈرامے اصلاح کا کام کرتے تھے ذہنوں کی بھی اور معاشرے کی...

پى ٹى وی کا سنہرا دور

بہت ہى خوشگوار ياديں وابستہ ہيں ان دنوں سے جب اہل خانہ مل بيٹھ کر پی ٹی وى پہ ڈرامے ديکھا کرتے تھے، بہت بھلا معلوم ہوتا تھا یوں...

پاک ترک مشترکہ ڈرامہ سیریل “صلاح الدین ایوبی”

ماضی میں بننے والے پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت سے کون واقف نہیں ہے، وہ ڈرامے جو پڑوسی ملک کی عوام بھی سانس روک کر دیکھا کرتی تھی اور پڑوسی...

پری زاد

دروازے کی کنڈی کھولتے ہوئے اس نے لمحے بھر کو پلٹ کر صحن کے پار نگاہ ڈالی،اس کی  غلافی آنکھوں  میں موٹے موٹے آنسو بھر آئے، لیکن اس کے...

مباحث

میڈیا سیل تربیتی ورکشاپ

٭٭٭روداد٭٭٭ علامہ اقبال نے امت مسلمہ کو مخاطب کرکے، ستاروں سے آگے ان کی منزل اور مشن کی سربلندی، کارواں کی صورت میں تنظیم اور گرد_راہ کی علامت میں برق...

ہم نئے کنارے جائیں گے‎‎

فراعین وقت کا گٹھ جوڑ ہو چکا ہے۔ اس گٹھ جوڑ نے کوئی نئے چہرے بے نقاب نہیں کیے بلکہ یہ وہی پرانے چہرے ہیں جو اپنے کالے کرتوتوں...

اپنوں کو بچائیے‎‎

دنیا انواع و اقسام کے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔کوئی جیو اور جینے دو پر یقین رکھتا ہے تو کوئی دوسروں کی زندگی اجیرن کرنے میں خوشی محسوس کرتا...

چین کی مستحکم پالیسیوں کے نمایاں ثمرات

چین کے لئے، گزشتہ دہائی ترقی اور کامیابیوں کا ایک زبردست سفر رہا ہے، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں چینی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے...

آج کا نوجوان اور بدلتے سماجی رویئے

  سماج میں اقدار و روایات کے حوالے سے آنے والی تبدیلی اور بدلتے سماجی رویے اثر انداز ہوئے ہیں۔ انسان ایک سماجی وجود ہے سماج میں پیدا ہوا ہے...

خواہشوں کی اسیر دنیا

مشکلات سے نبردآزما ہونے والے ہی زندگی کے تلخ تجربات کے ذریعے آنیوالے مصائب کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انسان کو روئے زمین پر اس لئے ساری...

بابا جی عمران خان کا ایک اور یوٹرن

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے حسب معمول ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے امریکی سازش کے بیانیہ سے اچانک پلٹا کھا لیا...

پاکستانی تو مرتے ہی رہتے ہیں

ٹی وی چینلز پر پروگرام میں سیاسی لیڈروں کی بیان بازیاں جاری ہیں، دھینگا مشتی میں بھی کمی نہیں آئی۔ دو مشہور شخصیات کی آپس کی ٹیلی فونک گفتگو...

نفاذِ اُردو کیوں؟

اردو کیوں ! کیونکہ، جب اردو کو قومی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا، یہ مان لیا گیا کہ اردو ہی حق...

اہم بلاگز

کامیابی کی راہیں

کامیابی نئی ہونی چاہیے ! کامیابی کس کا خواب نہیں؟ جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی طور کامیاب نہیں ہوسکتے وہ بھی کامیابی کا خواب دیکھنے، بلکہ دیکھتے رہنے سے باز نہیں آتے۔ کامیابی کا معاملہ ہے ہی ایسا۔ ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ لوگ کامیابی کا مفہوم طے کیے بغیر بھرپور کامیاب ہونے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ کامیابی کے خواب دیکھنا حیرت انگیز بات نہیں۔ حیرت میں مبتلا کرنے والی بات یہ ہے کہ لوگوں کو خود بھی اندازہ نہیں کہ وہ کس شعبے میں اور کتنی یا کیسی کامیابی چاہتے ہیں۔ محض کامیابی چاہنا تو کوئی بات نہ ہوئی۔ انسان کو اندازہ و احساس ہونا چاہیے کہ کامیابی کس حوالے سے اور کس شعبے میں ہونی چاہیے۔ کامیابی کے بارے میں سوچنا بھی لازم ہے۔ انسان کو معلوم ہونا چاہیے کہ کامیابی ہوتی کیا ہے اور اس سے حقیقی اطمینان کب حاصل ہوتا ہے۔ بہت سوں کا یہ حال ہے کہ دن رات کامیابی کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور خواب بھی کامیابی ہی کے دیکھتے ہیں مگر انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کامیابی ہے کس چڑیا کا نام۔ ایسے میں اگر کچھ کامیابی مل جائے، تھوڑا بہت نام بھی ہو جائے، کچھ مال بھی ہاتھ آجائے تو دل کو سکون نہیں آتا، ذہن متوازن و مستحکم نہیں ہو پاتا۔ سوچی سمجھی کامیابی ہی انسان کو حقیقی اطمینان بخشتی ہے۔ کامیابی کا مفہوم ہر انسان کے نزدیک مختلف ہوسکتا ہے اور ہوتا ہی ہے۔ کسی کو دولت کا حصول کامیابی لگتا ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شہرت مل جائے تو سمجھ لیجیے کامیابی نصیب ہوگئی۔ کسی کے لیے بہت بڑا گھر کامیابی کی ضمانت اور علامت ہوتا ہے جبکہ کسی کے خیال میں دنیا گھومنے کا موقع ملے تو سمجھ لیجیے کامیابی نے گلے لگالیا۔ کسی کے نزدیک دنیا کی کچھ وقعت نہیں، وہ صرف دینی حوالے سے زندگی بسر کرنے ہی کو کامیابی سمجھتا ہے۔ کسی کی نظر میں آخرت محض ایک تصور ہے، دنیا کو اپنائیے اور باقی سب کچھ بھول جائیے۔ کامیابی کے مفہوم کا حتمی تعین تو ممکن نہیں مگر ہاں، خوب سوچ بچار کرکے ایک ایسی رائے ضرور قائم کی جاسکتی ہے جس پر بیشتر لوگ متفق ہوں۔ انسان جب اپنی پسند کے شعبے میں اپنی بھرپور صلاحیت و سکت کو بہ رُوئے کار لائے اور کچھ حاصل کرے تو دل کو اچھا خاصا سکون ملتا ہے۔ لاٹری کے ذریعے بھی اچھی خاصی رقم مل سکتی ہے بلکہ اتنی رقم مل سکتی ہے کہ باقی زندگی کچھ کیے بغیر گزرے مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کو زیادہ تسکین اس دولت سے ملتی ہے جو اس نے اپنی صلاحیت اور مہارت کو بہ رُوئے کار لاتے ہوئے اپنی محنت سے حاصل کی ہو۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان بھرپور محنت کرکے اپنا ہدف حاصل کرلیتا ہے، ضرورت اور خواہش کے مطابق دولت بھی پالیتا ہے اور شہرت بھی مل ہی جاتی ہے مگر پھر بھی دل کو زیادہ سکون نہیں ملتا۔ ایسا بالعموم اس وقت ہوت اہے جب کامیابی مکھی پر مکھی مارنے والا معاملہ ہو۔ کسی بھی...

رسمِ جہیز نے بیٹیوں کے خواب چھین لئے

جہیز ایک ناسور ہے جو ہمارے معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل چکا ہے ، اس لعنت نے لاکھوں بہنوں اور بیٹیوں کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے ۔ ان کی معصوم آنکھوں میں بسنے والے رنگین خواب چھین لئے ہیں، ان کی آرزؤں، تمناؤں اور حسین زندگی کے سپنوں کا گلا گھونٹ دیا ہے ۔ انہیں ناامیدی، مایوسی اور اندھیروں کی ان گہری وادیوں میں دھکیل دیا ہے جہاں سے اُجالے کا سفر ناممکن ہو چکا ہے ۔ یہ ایک ایسی رسم ہے جس سے صرف غریب والدین زندہ درگور ہو رہے ہیں اور اس آس پر زندہ ہیں کہ کوئی فرشتہ صفت انسان اس لعنت سے پاک دو جوڑے کپڑوں میں ان کے لخت جگر کو قبول کر لے لیکن ہمارے معاشرے میں جو رسمیں رواج پا چکی ہیں اور وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے قدم مضبوطی سے جما لیتی ہیںاور پھر ان سے چھٹکارا پانا ناممکن ہوجاتاہے ۔ درحقیقت جہیز خالص ہندوستانی رسم ہے اور ہندو معاشرے میں تلک کے نام سے مشہور ہے جسے آج ہمارے مسلم معاشرے نے اپنا لیا ہے ۔ اس لعنت نے موجودہ دور میں ایسے پھن پھیلا لئے ہیں کہ غریب گھروں میں پیدا ہونیوالی لڑکیاں شادی سے محروم اپنی چار دیواری میں بیٹھی رہنے پر مجبور ہیں۔ جہیز ایک غلط اور فطرت کے خلاف رسم ہے ۔ آج اس ر سم نے جو قبیح صورت اختیار کر لی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ درست ہے کہ کچھ سال قبل جن اشیاء کو قیمتی شمار کیا جاتا تھا وہ آج معمولی ضروریات زندگی بن چکی ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جہیز کے نام پر لڑکی کے والدین کو قرض کے سمندر میں ڈبو دیا جائے ۔ اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو آج کل انسان ایک سائنسی دور سے گزر رہا ہے بالخصوص ہمارے معاشرے میں غریبوں کی کوئی اہمیت نہیں وہ محض رینگتے کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں ہر کوئی مسلتا ہوا آگے نکل جاتا ہے ۔ غریب کے گھر اگر بیٹی پیدا ہو جائے تو ایک طرف خدا کی رحمت اور جب شادی کی عمر کو جائے تو زحمت بن جاتی ہے کیونکہ لڑکے والے جہیز جیسی لعنت کا تقاضا کرتے ہیں۔ جہیز کی اصل حقیقت اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ لڑکی کے والدین جنہوں نے اسے پال پوس کر بڑا کیا اور گھر کی دہلیز سے رخصت ہوتے وقت اگر کچھ تحفے دیتے ہیں تو اسے جہیز نہیں بلکہ اپنی اولاد سے محبت و تعلق کی بناء پر فطری عمل ہے لیکن موجودہ دور میں ان تحائف کی جو حالت بنا دی گئی ہے وہ پہلے کبھی نہ تھی۔ ماں باپ کے ان تحفوں کو لڑکے والوں نے فرمائشی پروگرام بنا دیا ہے اور پورا نہ ہونے پر ظلم و زیادتی کی جاتی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے یہ سماجی رسم ہوا کرتی تھی آج جہیز بن گیا ہے ۔ اس لعنت کی وجہ سے جو ظلم و ستم بہو بیٹیوں پر کئے جاتے ہیں وہ بیان نہیں کئے جا سکتے ۔ حکومت...

ہمارا کل اور آج

  آج کے بچوں کو جب ہم اپنے کل کی باتیں سناتے ہیں تو وہ یوں تعجب و حیرانی سے سنتے ہیں اور ہمیں دیکھتے ہیں جیسے بچپن میں ہم پریوں اور دیو کی کہانی سنتے ہوئےہو جاتے تھے گرچہ یہ صدیوں کا نہیں بلکہ چند دہائیوں کا پیچھے سفر ہے؛ جی ہاں چند دہائیاں پیچھے اور آج کے اس جدید ترقی یافتہ دور میں زمین آسمان کا فرق ہے، مثلاً چند دہائیاں پیچھے بچوں کا اسکول چاہیے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر کیوں نہ ہو تا بچے اکیلے پیدل بلا خوف وخطر جآتے اور آتے تھے کبھی کوئی المناک واقعہ سنائی نہیں دیتا تھا، کیا آج ایسا ممکن ہے؛ والدین سوچ بھی نہیں سکتے آج پانچ دس منٹ کے فاصلے کے لیے بھی والدین بچوں کے لیے وین لگواتے ہیں پھر بھی ہر لمحے خوف زدہ رہتے ہیں جب تک بچے گھر واپس نہ آجائیں۔ چند دہائیاں پہلے تعليمی اداروں کی چار دیواری بچوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی تھیں کوئی غیر اخلاقی واقعہ شاذونادر سنائی دیتا تھا، جبکہ آج کے اس جدید دور میں آئے دن تعلیمی اداروں کے اندر غیر اخلاقی واقعات، لڑائی جھگڑےاور منشیات وغیرہ کے واقعات سن کر والدین کو تشویش درپیش رہتی ہے پچھلے دنوں ایک معروف مفتی صاحب کا بیان نظروں سے گزرا کہ اگر کچھ یونیورسٹیوں کے اندرونی معاملات سے والدین واقف ہوجائیں تو وہ خصوصاً اپنی بیٹیوں کو ان اداروں میں تعلیم کے حصول کے لیے نہ بھیجیں۔ آج عموماً ہم چاردیواریوں کے اندر سوسائیٹیوں میں رہتے ہیں جہاں آہنی گیٹوں پر اسلحہ بردار چوکیدار چوبیس گھنٹے پہرہ دیتے ہیں لیکن اسکے باوجود آئے دن وارداتوں کی خبریں سنائی دیتی ہیں جبکہ چند دہائیاں پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھیں تو نہ آہنی گیٹ تھے نہ اسلحہ سے لیس چوکیدار ہوتے تھے ہم نے اپنا بچپن ایک گنجان آبادی والے رہائشی علاقے میں گزارا جہان ایک گلی میں پچیس تیس دو یا تین منزلہ عمارتیں تھیں عمارتوں میں داخلے کے لیے سیڑھیوں کے پاس کوئی گیٹ نہ تھا آج شاید اندرون شہر ایسی عمارتیں ہیں لیکن وقت کے تقاضے کے مطابق ان عمارتوں میں بڑے بڑے گیٹ یا دروازے لگادیے گیے ہیں تاکہ کوئی اجنبی عمارت میں داخل نہ ہوسکے۔ اسکے باوجود ہر اپارٹمنٹ کے داخلے کے لیے ایک معمولی لکڑی کا دروازہ ہوتا تھا جو ایک زور دارٹھوکر سے ٹوٹ سکتا تھا لیکن الحمد اللہ ہر اپارٹمنٹ والے محفوظ زندگی گزارتے تھے۔ بچپن کے اس دور میں ہم نے اپنے آس پاس کوئی چوری وغیرہ کی واردات کے بارے میں نہیں سنا، جبکہ یہاں اکثریت کاروباری لوگ بستے تھے اور خوشحالی کی زندگی گزارتے تھے۔ آج ہمیں اپنے بچپن کے دن کسی خواب کی طرح محسوس ہوتے ہیں دو یا تین کمروں کے اپارٹمنٹ میں دو یا تین فیملیاں بڑی محبت اور اتفاق سے رہتی تھیں یعنی ماں باپ کے ساتھ دو یا تین شادی شدہ بیٹے اپنے ایک دو نونہالوں کے ساتھ ایک چھت تلے سکون سے رہتے تھے معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا جاتا تھا کشادہ دلی سے ایک دوسرے کو برداشت کیا جاتا تھا جبکہ آج بڑے...

جیل بھرو یا مساجد؟

ملک دیوالیہ ہوا یا نہیں لیکن عوام الناس کے دماغوں کو چلانے والوں کا ذہنی و فکری دیوالیہ پن واضح ہو گیا ہے اسے بھی نہ سمجھا تو بہت دیر ہو جائے گی اور ان سب عیارانہ چالوں کو سمجھنے کے لیے آپ کا صاحب علم و فہم ہونا بہت ضروری ہے علم و فہم کوئی فٹ پاتھ پر بکنے والا برگر نہیں کہ جھٹ پٹ اور وافر مقدار میں فوری تیار ہو جائے عمریں گزر جاتی ہیں تب جاکرچمن میں دیدہ ور پیدا ہوا کرتے ہیں ہم آج کل ہر اک شے کے شاٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں بابا فوڈ یو ٹیوبر کک سے بھی افراد شاٹ ریسپیز کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ پانچ سے دس منٹ میں اپنی زندگی بھر کی ریاضتوں کے حاصل طریقے بیان کر دیا کرتے ہیں اسی طرح کے مختصر ،مستند مگر انتہائی جامع علم و فہم کے بیانات جاننا چاہتے ہیں تو جمعوں کے خطبوں سے پہلے کے دروس نہ چھوڑا کریں ملکی سیاست پر ہفتے کے ساتوں دنوں کے چوبیس گھنٹوں میں الیکٹرانک میڈیا میں معاوضہ لیکر لڑوانے والا گھمسان کا رن پڑا دیکھتے ہی ہیں بلکہ بغیر اکتائے دیکھتے چلے جاتے ہیں تو ہفتے میں ایک بار ان بے لوث علم و فہم کے حامل افراد کے خطبات بھی سن لیں تو شاید ان مایوسیوں کے اندھیروں سے نکل آئیں ابھی کل ہی جامعہ کراچی میں نماز جمعہ سے پہلے امام صاحب کے خطبے سے پہلے کے درس میں ایک جملے نے چونکا دیا تم جیل بھرو تحریک کے بجائے مساجد بھرو تحریک کیوں نہیں چلاتے؟ واقعی یہ تو ہم نے بھی نہیں سوچا تھا کہ رحمٰن کے خالص بندے تو آزمائش میں مزید اسی سے جڑ جاتے ہیں چمٹ جاتے ہیں اس بچے کی طرح کہ جسے ماں مارتی ہے تو اسی کے آنچل میں چھپ کر اپنے آنسوؤں کو بہاتے ہیں اور اس محبت بھری ڈانٹ اور بعض اوقات مارکٹائی کے بعد معافی تلافی کا دور ہوتا ہے اور بس زندگی میں طربیہ کہانیوں جیسا جملہ نمو پاتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔ اس ہنسی خوشی سے پہلے آزمائش و ابتلاء کا وہ امتحان وہ ٹریننگ کورس کہ جس کے بعد خالق اور خلق کے درمیان طالب و مطلوب کے درمیان محب اور محبوب کے درمیان روابط بڑھتے ہیں ،محبتیں بڑھتی ہیں ،تعلقات پروان چڑھتے ہیں اور پھر خوشیاں اور مسرتیں ضرب پا کر تقسیم ہوجاتی ہیں۔ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے نوحے ،یہ ملک نہیں کھپے گا، بس دس سال کی مزید کہانی ہے ،بن گیا تو زیادہ نہیں چلے گا یہ جملے اس ملک کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کو بطور گھٹی دئیے گئے تھے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ 48 کا محاذ ،65 اور 71 کا محاذ کارگل و ضربِ عضب لال مسجد و وزیرستان ،لہورنگ کراچی اور گلگت بلتستان سے بلوچستان تک جی ایم سید سے باچا خان،بھٹو سے شیخ مجیب الرحمٰن اور الطاف حسین سے منظور پشین تک کی داستانیں گزر گئیں اس وطن کو قائم رہنا تھا سو قائم رہا دور ایوبی کی" مہنگائی" پر تختہ حکومت پلٹی تو...

شمشیر حیا

تحصیل علم کے بعد درس و تدریس کے لیے ایک ایسے ادارے سے وابستہ ہوئی کہ جہاں نہم، دہم، گیارہویں اور بارہویں جماعت کی طالبات کوٹ اسکارف لیا کرتیں تھیں۔اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ شہر بھر میں پردے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔چونکہ یہ بڑا اور معروف ادارہ تھا۔اس لیے دوسرے اسکولوںنے بھی اس کی تقلید کی۔والدین خوش تھےکہ بچیاں عصری علوم سے بھی آشنا ہو رہیں تھیں،پردے اور دینی ماحول سے بھی بہرہ مند ہورہیں تھیں،لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ سیرو تفریح فئیرویل پارٹی پر مرد وخواتین اساتذہ اور طلبہ طالبات اکھٹے ہوکر ایک مخلوط ماحول کی صورت اختیار کر لیتے اور پردے کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ گروپ اسٹڈی کے سلسلے میں جب طالبات کا واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا گیا تو ننھی معصوم کونپلوں کی افسوسناک ڈی پیز دیکھنے کو ملیں بچیاں پردے سے بے نیاز سیلفیاں بنا رہی تھیں۔ ساتھ منہ کے پاؤچ بنائے اپنی سیلفیوں کے فحش ہونے سے قطعاً ناواقف تھیں۔میرا تعلیمی دور کوئی زیادہ پرانا تو نہیں تھا۔لیکن سوشل میڈیا کے تیز برے استعمال نے بہت آفت پھیلائی تھی۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ نقالی بن گیا ہے۔ماڈرنیسٹ (جدیدیت پسند) کہلانے کے شوق سے نکلنے کو تیار ہی نہیں اور اس خام خیالی میں رہتے ہیں کہ منفرد لگیں۔یہ سوچنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں۔آپ مقابلہ کرتے ہوئے کہاں تک جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ دیا ہے۔ اس کا اظہار مغربی طرز اپنائے بغیر کیا جاسکتا ہے۔کھائیں، پئیں اچھے گھر میں رہیں اچھی سواری کریں اور اچھا لباس پہنے لیکن اس سب میں انگریز یا دوسری اقوام کے انداز اپنانا دم کٹے بندر بننا کے مترادف ہے۔انسان اپنی اقدار و روایات کے ساتھ زندہ رہتا ہے تو باوقار رہتا ہے۔مغرب کا سروے کیجئے ان کے اخلاق و کردار سب گراوٹ کا شکار ہیں۔ سیرتﷺکے پروگرام میں اک طالبہ کو جینز شرٹ پر ٹوکا کہ بیٹا کم ازکم آج کے دن ساتر لباس پہنتیں۔کولیگ جو بچی کی خالہ تھیں ناراض ہوگئیں۔اور کہنے لگیں کہ یہ "آپ کا ایشو نہیں"لفظوں کا پتھر پڑا بقول شاعر: ہم نے سیکھا ہے اذان سحر سے یہ اصول لوگ خوابیدہ ہی سہی ہم نے صدا دینی ہے تبلیغی حکمتوں پر غوروخوض ضرور کرتی ہوں لیکن لیکن امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے حکم سے دستبرداری کو تیار نہیں۔ایسے میں مجھےایک انڈین کالج کی طالبہ مسکان کا واقعہ ذہن میں آیا۔پچھلے سال یہی فروری کا مہینہ تھا جب اسکوٹر پر سوار پر اعتماد چال اور اسکارف میں مسکان نے بدمعاشوں کے جتھے میں "نعرہء تکبیر اللہ اکبر" بلند کیا۔بظاہر کمزور دکھائی دیتی لڑکی نے دلیری اورجرات سے ایسے للکارا جیسے فرعون کے دربار میں موسیٰ اور نجاشی کے دربار میں جعفر بن طیار نے للکارا تھا۔لمحہ فکریہ ہے کہ مسکان دارالکفر میں اپنے پردے کا دفاع کرتی ہے۔اور ہم دار الایمان میں اپنے اسکارف کی ناقدری کرتے ہیں۔دار الکفر کی مسکان صحابیات رضی اللہ عنہا کو آئیڈیل بناتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ ہماری کالج کی طالبات لتا منگیشکر کو بلبل ہند کہتی ہیں۔غیر کی روایات پروموٹ کرتیں ہیں۔ان کے تہوار مناتیں ہیں۔ اُمت مسلمہ کی بچیوں!آپ علم کی...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار

(یوم اساتذہ پر اساتذہ کے نام ایک پیغام) استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا...

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

حضرت علی ؓکی شہادت

حضرت علی بن ابی طالب پر خارجی ابن ملجم نے 26 جنوری 661ء بمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود خنجر کے ذریعہ نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا، علی ؓبن ابی طالب زخمی ہوئے، اگلے دو دن تک آپ زندہ رہے لیکن زخم گہرا تھا، چنانچہ جانبر نہ ہو سکے اور 21 رمضان 40ھ کو وفات پائی، آپؓ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہٖ وآلہٖ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اور امت مسلمہ کے خلیفہ راشد چہارم تھے۔حضرت علی ؓ 13 رجب کو ہجرت سے 24 سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے متعلق تواریخ میں لکھا گیا ہے کہ آپ بیت اللہ کے اندر پیدا ہوئے، حضرت علی ؓ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ؐ ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول و فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں احادیث نبوی ﷺمیں موجود ہیں کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ حضرت علیؓ کا حسبِ نسب: آپ ؓکے والد حضرت ابو طالب اور والدہ جنابِ فاطمہ بنت ِ اسد دونوں قریش کے قبیلہ بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور ان دونوں بزرگوں نے بعدِ وفات حضرت عبدالمطلب پیغمبر اسلام صلی علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کی تھی۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں، بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اوروہیں پرورش پائی۔ پیغمبرکی زیرنگرانی آپ کی تربیت ہوئی، وہ ایک لمحہ کے لیئے بھی حضورؐ ان کو تنہا نہیں چھوڑتے تھے۔آپ کے بارے میں عام روایت ہے کہ آپ نے 13 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ حضرت علیؓ سے منسوب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث: عالم ِ اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث مبارکہ درجہ ذیل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ”علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں“ ”تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علیؓ ہے“ ”علیؓ کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی“ ”یہ (علیؓ) مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین فضیلتیں: وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا، حضرت علیؓ کا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔ جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیا۔آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔ 19حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ...

موثر تدریسی خصوصیات 

تدریسی اصولوں کا موثراستعمال:۔تدریس ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ ایک فن ہے۔ پیشہ وارانہ تدریسی فرائض کی انجام دہی کے لئے استاد کا فن تدریس کے اصول و ضوابط سے کم حقہ واقف ہوناضروری ہے۔ ایک باکمال استاد موضوع کو معیاری انداز میں طلبہ کے ذہنی اور نفسیاتی تقاضوں کے عین مطابق پیش کرنے کے فن سے آگاہ ہوتا ہے۔ معیاری اور نفسیاتی انداز میں نفس مضمون کو پیش کر نا ہی تدریس ہے۔ موثر تدریس کے لئے ،کسی بھی موضوع کی تدریس سیقبل، استاد کا موضوع سے متعلق اپنی سابقہ معلومات کا تشفی بخش اعادہ ا ور جائزہ بے حد ضروری ہے۔ سابقہ معلومات کے اعادہ و جائزہ کے علاوہ موضوع سے متعلق جدید تحقیقات و رجحانات سے لیس ہوکر اساتذہ اپنی شخصیت کو باکمال اور تدریس کو بااثر بنا سکتے ہیں۔ موثر تدریس کی انجام دہی کے لئے اساتذہ کا تدریسی مقاصد سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پر عمل پیرائی کے ذریعے اساتذہ مقاصد تعلیم کی جانب کامیاب پیش رفت کر سکتے ہیں۔ موثر تدریس اورتعلیمی مقاصد کے حصول میں تدریسی اصول نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں۔تدریسی اصولوں سے اساتذہ کیوں، کب اور کیسے پڑھانے کا فن سیکھتے ہیں۔تدریسیاصولوں کا علم اساتذہ کو تدریسی لائحہ عمل کی ترتیب اور منظم منصوبہ بندی کا عادی بناتا ہے۔کیوں، کب ، اورکیسے پڑھا نے کااصو ل اساتذہ کی مسلسل رہنمائی کے علاوہ تدریسی باریکیوں کی جانکاری بھی فراہم کرتا ہے ۔ تدریسی اصولو ں پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ موثر اور عملی تدریس کو ممکن بناسکتے ہیں۔تدریسی اصول بامقصد تدریس،نئے تعلیمی رجحانات ، تجزیہ و تنقید، مطالعہ و مشاہدہ ،شعور اور دلچسپی کو فروغ دیتے ہیں۔ تدریسی اصولوں پر قائم تعلیمی نظام نتیجہ خیز اور ثمر آورثابت ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پرکاربند استا د معلم سے زیادہ، ایک رہنما اور رہبرکے فرائض انجام دیتاہے۔ جدید تعلیمینظریات کی روشنی میں استاد ایک مدرس اور معلم ہی نہیں بلکہ ایک رہبر اور رہنما بھی ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات سے عدم آگہی کی وجہ سے ہم اس نظریہ تعلیم کو جدیدیت سے تعبیر کر رہے ہیں جب کہ یہ ایک قدیم اسلامی تعلیمی نظریہ ہے جہا ں استاد کو معلومات کی منتقلی کے ایک وسیلے کی شکل میں نہیں بلکہ ایک مونس مشفق مربی رہنما اور رہبر کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ تدریسی اصولوں سے باخبر استاد بنیادی تدریسی و نفسیاتی اصولوں کی یکجائی سے تعلیم و اکتساب کو طلبہ مرکوز بنادیتا ہے۔ذیل میں اہمیت کے حامل چند نمایاں تدریسی اصولوں کو بیان کیا جارہاہے ۔ (1) ترغیب و محرکہ تدریسی اصولوں میں اساسی حیثیت کا حامل ہے۔طلبہ میں تحریک و ترغیب پیدا کیئے بغیر موثر تدریس کو انجام نہیں دیا جاسکتا۔ طلبہ میں اکتسابی میلان ترغیب و تحریک کے مرہون منت جاگزیں ہوتاہے۔ حصول علم، پائیدار اکتساب اور علم سے کسب فیض حاصل کرنے کے لئے طلبہمیں دلچسپی اور تحریک پیدا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔فعال و ثمر آور اکتساب ترغیب و تحریک کے زیر اثر ہی ممکن ہے۔تدریس میں ہر مقام پر طلبہ میں محرکہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ بغیر محرکہ پیدا کیئے کامیاب اکتساب ممکن ہی...

نبی امُیﷺ بحیثیت معلم 

چودہ سو سال پہلے عرب کے قبائلی معاشرے میں عمر کے چالیس برس گذارنے والے امی ( غیر پڑھے )فرد  کے قلب پر وحی کا نزول  ہوتا ہے اور وہ رہتی دنیا کے لیے معلم اعظم بن جاتے ہیں ۔آپ ﷺ نوید مسیحا اور دعاۓ خلیل ہیں ۔ابراہیم ؑ،بیت اللہ کی دیواریں اٹھاتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ "اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیے جو انھیں تیری آیات سنائے ،ان کو کتاب اور حکمت کی  تعلیم  دےاور ان کی زندگیاں سنوارے " البقرہ  129 لفظ اقرا سے نبوت کا آغاز ہوا۔آپﷺ کی ذات تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار پائی۔آپ ﷺنے "انما بعثت معلما""مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے" کے ذریعے  اپنا مقام واضح کر دیا۔ اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا       اوراک  نسخہ کیمیا   ساتھ لایا تہذیب و تمدن سے عاری  انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ صبر آزما کام تھا۔ مگر آپ ﷺ نے تعلیم  کے جو اصول ،تکنیک استعمال کیے وہ آج بھی عین حق ہیں ۔ جن کے بنا سیکھنے سکھانے کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ آپ ﷺ  بحیثیت معلم  درج ذیل نکات  پر عمل پیرا رہے۔ مقصد کی لگن : ایک معلم  کا   بلندمقصد ہمیشہ اس کے مطمح نظر رہتا ہے ۔"اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کر نا  " اس عظیم مقصد کے لئے غار حرا سے اتر تے ہی آپ ﷺ  ہمہ تن مصروف عمل ہوگئے۔ پہلے  گھر اور خاندان  کودعوت دی پھر قبیلہ کو متوجہ کیا ۔ دور نبوت کا ہر لمحہ گواہ ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کبھی مصلحت یا مداہنت کا شکار نہیں ہوئے  قران  میں اس کیفیت کی تصویر کشی   ہے ۔ " کہ دو  کہ اے کافروں  میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن  کی عبادت تم کرتے ہو،  نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں  اور نہ  میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت  میں کرتا ہوں، تمھارے لیئے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین" سورہ الکافرون لوگوں کا مذاق سہا،گالیاں سنیں ،پتھر کھائے،شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کیے گئے ،حتی کہ اپنے محبوب شہر  مکہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ دنیا وی ترغیبات ،تخت وتاج  پیش کیے گئے جن کو آپﷺ نے ٹھکرا دیا مگر مقصد سے ایک لمحہ کو بھی غافل نہ ہوئے ۔ درد مندی : انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کررب واحد کی بندگی پر آمادہ  کرنے کے لیے آپ ﷺ پیغمبرانہ  صفت دلسوزی اور تڑپ سے مزین تھے۔اپنی قوم کو گمراہی سے نکالنے کے لیے شب و روز دل گداز  کیفیت میں گذارتے رہے۔ حدیث میں ہے " میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لیے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لیے ۔وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں مگر پروانے اسکی ایک نہیں چلنے دیتے ۔ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کہاں کی بات کہاں نکل گئی

قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔ دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔ گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔ 2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

ہمارے بلاگرز