چار دیواری داغ یا تحفظ

ایریل واشنگ پاؤڈر کے اشتہار نے حد درجہ مایوس کیا۔  عورت کے گھر سے باہر نکل کر معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالنے  اور معاشرے کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچانے پر کوئی اختلاف نہیں ۔دین  بھی حدود کے دائرے میں اسکی اجازت دیتا ہے مگر چاردیواری کو داغ کہہ کر ایریل نے اپنے چہرے...

تحریری صلاحیت بڑھانے کے شوقین طلبہ کے درمیان

" جامعہ کے کچھ طلبہ آپ سے ملاقات اور گفتگو کرنا چاہتے ہیں_" جامعہ اسلامیہ ، شانتاپورم (کیرلا) میں اسٹوڈینٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) کے ذمے دار عزیزی سرور حسین...

چیئر مین صاحب فوادکو نوٹس سے کام نہیں چلے گا

     فوادچوہدری نے میڈیا پرآکراپنی حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے بغیرکسی لگی لپٹی کےاپنی حکومت اور نیب کے روئیے پر صاف  صاف بتا دیا کہ نیب جوکچھ کررہی ہےاس...

امریکا ایران کشیدگی، انجام کیا ہوگا؟

یہ اس زمانے کی بات ہے جب پرویز مشرف کے رخصت ہونے کے بعد آصف زرداری پاکستان کے صدر ہوا کرتے تھے۔ پاکستان کے متعدد علاقوں پر نہ صرف...

سوشل میڈیا کی طاقت

پاکستان شائد دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مخالفت میں تنقید بالکل برداشت نہیں کی جاتی۔ دنیا بھر میں اداروں، حکومتوں، جماعتوں اور گروہوں پر تنقید اور مخالفت ہونا...

لبادہِ منافقت

منافقت کسی قوم کی زندگی کا بہت بڑا روگ ہے -یہ ایک سرطان کی طرح ملّی وجود کی رگ رگ میں سرایت کر جاتا ہے اور اس سے ایک...

غریب عوام اور حکمران

پاکستان کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک جو بھی خاندان اس ملک کی سیاست پر راج کرتے آئے ہیں۔ ان خاندانوں کی تعداد ہزاروں میں بنتی...

 پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

ہم جس انتشار وخلفشار کا شکار ہیں،اُس کے ظاہری اسباب حکمرانوں کی سیاہ کاریاں،سیاست دانوں کی بداعمالیاں،سرمایہ کاروں کی لوٹ ماراور نوکر شاہی کی بدعنوانیاں ہیں،اِس کی اصل وجہ...

رائیونڈتبلیغی مرکز اقوام عالم میں پاکستان کاسرمایہ افتخار

پاکستان حرمین شریفین کے بعدعالم اسلام کامرکزومحورہے قدرت نے اسے روحانی ومادی ہردواعتبارسے سیرابی وفراوانی عطاکی ہے۔برصغیرمیں تبلیغ واحیائے دین کے مراکزوخانقاہوں سے مختلف اصلاحی وتبلیغی تحریکیں چلیں جن...

پارلیمنٹ،عدم برداشت اور غیراخلاقی رویوں کی آماجگاہ

ّآج سے تقریبا پندرہ سوسال قبل آقائے نامدار حضرت محمدﷺ نے فرمایا تھاکہ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں“گویا ایک انسان سے دوسراانسان...

جینے کا ہنر

جب زندگی کی ڈور الجھ جائے،تب کیاکریں

مجھے ایک واقعہ یاد ہے جب ہم کراچی ایک علاقے میں رہایش پذیر تھے۔ہمارے علاقے کے گرلز اسکول کا واقعہ ہے۔ایک روز ایک طالبہ اسکول گئی لیکن اسکول کی...

دو خدا

وہ مسکرائے اور کہنے لگے "اگر تم تحقیق کروگے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں چار ہزار سے زیادہ خدا ہیں جن کی عبادت اور پوجا کی جاتی...

“سوال کی قوت “

’’سوال ہی جواب ہیں،جو سوال کرتا ہے، وہ جواب سے گریز نہیں کر سکتا۔‘‘ تم جانتے ہو ہمارے اندر موجود یقین کی قوت کس طرح ہمارے فیصلوں،اعمال،قسمت اور ہماری زندگیوں...

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے...

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

انسانی دماغ میں ایک سو ملین سے بھی زیادہ اعصابی خلیے (نیوران) پا ئے جا تے ہیں اور ہر ایک خلیہ ایک سوپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ طاقت ور...

آپ خود کو صرف59 سیکنڈز میں بدل سکتے ہیں

آپ صرف 59 سیکنڈز میں اپنی شخصیت میں نمایاں تبدیلی لاکر ایک خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں جی ہاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں۔ یہ دعویٰ...

میڈیا واچ

کیسا ہے نصیباں

آج کل کے دیکھے جانے والوں ڈراموں میں سے ایک اور ڈارمہ کیسا ہے نصیباں, ایک بہت ہی مظلوم لڑکی مریم کی کہانی ہے۔ جو ہر لڑکی کی طرح...

باغی

باغی ڈرامہ 17 جولائی 2018 کو ایک مشہور ٹی وی چینل پر ٹیلی کاسٹ  ہوا ۔ یہ سوشل میڈیا فیم  ماڈل  قندیل بلوچ عرف فوزیہ پر بنایا ہے۔ اپنے...

شہر ذات 

شہر ذات  عمیرہ  احمد  کا شاہکار ناول  ہے، جس پر  ہم ٹی وی نے ڈرامہ  بنایا ہے  ۔ ماہرہ خان ڈرامے کی مرکزی اداکارہ ہیں ،ڈرامے کو نشر ہوئے...

دل آرا

آج کل ٹی وی پر نئے ڈراموں کی بہاریں ہیں۔ ان ہی میں سے ایک ڈرامہ جو لوگوں  میں زیادہ  مقبول ہورہا ہے۔ وہ  بول انٹرٹینمنٹ کی ایک ڈرامہ...

چیخ

چیخ اپنے سسپنس رکھتی ہوئی اسٹوری کی وجہ سے ان دونوں بہت مقبول ہے ۔  یہ کہانی   منت کی دوست نایاب کےقتل کے گرد گھومتی ہے کہ کس نے...

میڈیا کی ترجیحات

میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے ۔اور اس لحاظ سے اس کی  اہمیت دو چند ہو جاتی ہے ۔عموماً یہ تاثر ملتا ہے کہ میڈیا ہمارے معاشرے کا عکاس...

مباحث

دین مائینس سیاست برابر چنگیزی

جب بھی اسلام  میں سیاست کے حوالے سے بات چھڑتی ہے یا بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو عام طور پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس مصرع کا...

سرسید اور ان کی پیدا کردہ ذہنیت

ایک مسلمان کے لیے سب کچھ اس کا دین ہے، اس کا خدا ہے، قرآن مجید ہے، رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ ہے، آپؐ کی سیرت ہے، آپؐ کی...

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر...

قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ، قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ''شارح'' ...

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے بغیر آپ اسکے شہری نہیں بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ...

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے...

جدیدیت کیا ہے،کیانہیں؟

دنیا کی ٢٣ روایتی، الہامی دینی تہذیبوں میں انسان عبد تھا۔ وہ جو اس نیلی کائنات میں خدا کے آگے سر بسجود ایک ہستی تھا جو اپنی آخرت کی...

اہم بلاگز

نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے نام 

دنیا والوں کی طرف سے مسلسل پہنچائی جانے والی ایذارسائیوں سے دل برداشتہ ہو کر آپ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ۔ سوچا کہ آپﷺ کو بتائوں کہ ہم وہی اجنبی ہیں جو آپﷺ کے سلام کے مستحق بننے کے لیے کوشاں ہیں، جن کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا تھا کہ" سلام ہو ان اجنبیوں پر"۔ آج کفار ہم پر بالکل اسی طرح حملہ آور ہیں جیسا آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  بتا کر گئے تھے؟۔  انھوں نے تو ہمیں واقعی دسترخوان پر موجود کھانوں کی مانند سمجھ لیا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ آسمان گرتا ہے نہ کوئی شہابِ ثاقب ٹوٹتا ہے۔ ہم  بڑی تعداد میں  ہونے کے باوجود بےبس و لاچار ہیں۔ اور دوسری طرف ہمارے ساتھی مسلمان نیند کی دوا کھائے عالم مدہوشی میں ہیں۔ آپ ﷺنے ہی تو فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ آج اس جسم کے بیشتر اعضاء شدت تکلیف کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں لیکن باقی جسم کے حصے اس تکلیف کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ ﷺنے ہی تو فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب دین پر چلنا انگارے کو ہاتھ میں تھامنے کے مترادف ہوگا ۔ ہمیں دیکھیے ہم اپنے ہاتھ میں انگارے تھامے دین پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دنیا والے ہمیں زخمی کرتے ہیں۔ کبھی طنز و نشتر سے کبھی اپنی استہزائیہ مسکراہٹ سے۔ اور ہم۔۔۔ ہم آپ ﷺکی "فطوبی للغرباء" والی حدیث یاد کرکے پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔  آپﷺ کی باتیں ہمارے زخموں پر مرہم لگانے کے لئے کافی ہیں۔ یہ لوگ ہمیں مکے کی سختیاں اور طائف کے پتھروں کی یاد تازہ کرواتے ہیں۔ ہم تیز ہوا کے جھونکوں کے سامنے اپنے ایمان کے ٹمٹماتے دیوں کو بچانے کی ادنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دنیا کی رعنائیاں اپنی مقناطیسیت لیے چہار جانب سے ہمیں اپنی طرف مائل کرنے کی تگ و دو میں مسلسل مصروف ہیں۔ پیارے رسول ﷺ  یہ لوگ ایسے جی رہے ہیں جیسے کبھی مرنا ہی نہیں اور پھر ایسے مر جاتے ہیں جیسے کبھی جیے ہی نہیں۔  یہ لوگ آپﷺ کی اس حدیث کو فراموش کیے بیٹھے ہیں کہ ایک مسلمان کی جان، اس کا مال، اس کی آبرو دوسرے مسلمان کے لیے کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ باعث احترام ہیں۔ مگر یہ لوگ۔۔ ۔  یہ لوگ تو ایک دوسرے کا مال ہڑپنے کے لیے جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ بھلا کیسے بھول سکتے ہیں کہ کل ہمیں آپﷺ کا سامنا کرنا ہے؟ ۔ روز محشر یہ کیسے تسلیم کریں گے کہ کس طرح دنیا میں ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑتے رہے؟۔ آپ ﷺکا وہ فرمان عالی شان آپ کے دیگر فرامین عالیہ کی طرح  کس قدر بر حق ہے کہ دنیا مومن کے لئے اک قید خانہ ہے، میں اس جہان فانی کے مستعار شب وروز میں خود کو بندشوں میں جکڑا ہوا محسوس کرتی ہوں۔۔ ہر قدم پر رکاوٹ اور ہر اقدام پر بندشیں۔۔ آپ ﷺمجھے بہت یاد آتے ہیں۔ نا جانے کتنا عرصہ باقی ہے جب آپ سے...

خونِ شہید رنگ لائے گا ان شاء اللہ

انجینیر محمد مرسی، سابق صدر جمہوریۂ مصر کی شہادت کی خبر ملتے ہی زبان پر یہ آیت  جاری ہوگئی: مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ‌ۚ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ‌ ۖ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِيۡلًا( الاحزاب :23 ) ” ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔  انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ "          ہاں، انجینیر محمد مرسی !          ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔          اس سے جو نذر مانی تھی اسے پورا کردیا۔           آپ کے رویّے میں زندگی کی آخری سانس تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔           ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا : ” اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، اس حال میں کہ میں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا ہو اور صرف اللہ ہی سے اجر چاہا ہو، منھ آگے ہی رکھا ہو اور پیٹھ نہ دکھائی ہو، تو کیا میری خطائیں بخش دی جائیں گی؟” اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :” ہاں” (احمد :8075)       ہاں، انجینیر محمد مرسی !       آپ کو اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا ہے۔       آپ نے بے مثال صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔      آپ راہِ حق پر ڈٹے رہے ہیں۔      آپ نے پیٹھ نہیں دکھائی ہے۔     آپ بارگاہِ الٰہی میں سرخ رُو پہنچے ہیں۔        موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ ہر ایک کو مرنا ہے۔ روزانہ سیکڑوں لوگ طبعی موت مرتے ہیں، لیکن کتنی پُر سعادت موت ہے جو اللہ کی راہ میں آئے اور آدمی کو شہادت کے بلند درجے پر فائز کردے۔         بیسویں صدی میں دنیا کے مختلف ممالک میں احیائے اسلام کی تحریکیں برپا ہوئیں، لیکن قید و بند اور شہادت کی آزمائشوں کی جو تاریخ مصر کی اخوان المسلمون نے رقم کی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ اس کے بانی کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ اس کے متعدد رہ نماؤں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا، اس کے ارکان کو ہزاروں کی تعداد میں کال کوٹھریوں میں ٹھونس دیا گیا۔ آزمائشوں کا شکار ہونے والوں میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی، لیکن کسی کے پائے استقامت میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی۔             آزمائش کا ایک دور محمد مرسی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ چلا جب قانونی طور پر منتخب حکومت کو ایک سال ہی کے اندر 2013 میں معزول کردیا، احتجاج کرنے والے کئی ہزار اخوان مردوں، عورتوں، بچوں اور بچیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا، اخوان رہ نماؤں اور صدر محمد مرسی کو جھوٹے الزامات لگاکر جیل کی سلاخوں میں قید کردیا گیا۔ چھ سال کے اس عرصے میں ان پر بدترین مظالم ڈھائے گئے، بھیانک تشدد کیا گیا، یہاں تک کہ آج اس کی تاب نہ لاکر وہ کمرۂ عدالت ہی میں غش کھاکر گر پڑے اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔              یہ ظالم کیوں نہیں سوچتے کہ اس طرح وہ غلبۂ اسلام...

قصیدہ بُردہ شریف

دنیائے عشقِ حقیقی کا مدحت و ثنا خوانی پر مبنی ایک ایسا شہرہئ آفاق کلام جسے سرکارِ دوعالم خاتم النبیین والمرسلین والمعصومین حضور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں لکھا گیا۔ اس بابرکت کلام مبارک اور اس کے خالق کو بدولتِ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ وہ مقام حاصل ہوا جو بہت کم عشاقوں اور اُن کے کلاموں کو نصیب ہوا ہے۔ قصیدہ بردہ شریف پر روشنی ڈالنے سے قبل اس عظیم الشان مدحت کے خالق حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ کا مختصراً تعارف قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبد اللہ البوصیری ؒ ؒ یکم شوال 608ھ اور بعض روایات کے مطابق یکم شوال 610ھ میں بھشیم کے مقام پر پیدا ہوئے۔ حضرت شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ نے دلاس میں پروش پائی۔آپؒ نسلاً" بربر " تھے۔ حضرت شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ روحانی سلسلہئ شاذلیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ولی العصرحضرت ابو العباس احمد المرسیؒ سے بیعت تھے جوقطب اوّل حضرتِ عالی مقام قبلہ ابو الحسن شاذلی ؒ کے خلیفہ تھے۔حضرت ابو الحسن شاذلی ؒسلسلہئ شاذلیہ کے بانی اور اپنے شیخ حضرت عبدالسلام بن مشیشؒ کے خلیفہ تھے اور حضرت عبدالسلام بن مشیش ؒ، حضرت اما م ابوالمدین غوث المغربی ؒ کے خلیفہ تھے جو ماہتاب ِ ولایت، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ تھے۔ یعنی اگر یہ کہا جائے تو یقیناً غلط نہ ہوگا کہ حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیریؒ روحانی اعتبار سے پیرانِ پیر محبوبِ سبحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی چوتھی روحانی پشت میں بطورامامِ بر حق اور ولی اللہ کے آسمان ِرشد و ہدایت پرایک روشن تارے کی مانند نمودار ہوئے۔حضرت شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ ؒ ایک مصری شاعر تھے آپ نے مصر کے ایک گاؤں جس کا نام" بو صیر ی" تھاابن ِ حناء کی زیرِ سرپرستی میں متعدد شاعرانہ کلام لکھے۔آپ ؒ کی تمام تر شاعری کا محور مذہب اور تصوف ہی رہا۔آپ ؒکے تمام کلاموں میں سے سے زیادہ مشہور و مقبول کلام "قصیدہ بردہ شریف " ہے جو شافع محشر،ساقی کوثر، خاتم النبیّین والمرسلین والمعصومین حضور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی مدحت و ثنا خوانی پر مبنی ہے۔حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ کا وصال مصر کے شہر اسکندریہ میں ہو۔ آپ ؒ کے سنہئ وصال کی مختلف روایات ہیں۔ آپ ؒ کا وصال 694ھ، بعض کے مطابق 695ھ اورکچھ کے مطابق 696 ھ میں ہوا۔ حضرت اقدس قبلہ جناب شیخ شرف الدین ابو عبداللہ البوصیری ؒ " فسطاط "کے مقام پر مسلک شافعی کے بانی، فقیہ اُمت، مجدد العصر، امامِ دین و ملت، قبلہ حضرت اقدس جناب امام شافعی ؒ کے قرب میں مدفون ہیں۔ قصیدہ بردہ شریف کو "قصیدۃمحمدیہ "بھی کہا جاتا ہے۔ بردہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی چادر ہے۔ قصیدہ بردہ شریف کا مکمل نام "القصیدۃالکواکب الدریہ فی مدح خیرالبریہ " ہے۔اس قصیدے میں کُل 162 اشعارہیں۔ قصیدہ بردہ شریف کا...

عِید کی خوشیاں اور اِنسَانی تعلّقات کا بُحران

ہمارے زمانے تک آتے آتے عید بھی طبقاتی محسوس ہونے لگی ہے اور اس کا اثر بچوں کے مزاجوں تک پر پڑا ہے۔ چنانچہ لاکھوں والدین کے لیے عید ایک اندیشہ بن جاتی ہے اسلام اتنا ’’حقیقی‘‘ ہے کہ وہ مسلمانوں کو غم کیا، خوشی میں بھی ’’وقار‘‘ سے محروم نہیں ہونے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں تہواروں کی بہتات ہے نہ میلوں ٹھیلوں کا کلچر۔ اسلام کے اصل تہوار صرف دو ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ ان تہواروں کی ’’مسرت‘‘ اپنی اصل میں روحانی بھی ہے اور نفسیاتی اور جذباتی بھی۔ ان تہواروں کا ایک مرکز خدا ہے، اور دوسرا مرکز انسان اور ان کے باہمی تعلقات۔ ان تہواروں کا خدا مرکز ہونا شعورِ بندگی کی علامت ہے، اور انسان مرکز ہونا فروغِ انسانیت اور فروغِ محبت کا استعارہ ہے۔ اس لیے کہ ان تہواروں سے مسلمانوں کی وحدت اور شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ ان باتوں کو آسان پیرائے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ مسلمانوں کی مسرت کا مرکز یا تو خدا ہے، یا اس کے انسانی رشتے اور تعلقات۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانوں کا شعورِ بندگی تو عیدین پر نماز دوگانہ کے ذریعے آشکار ہوجاتا ہے اور مسلمان اپنی نفسی حالت کے مطابق ان نمازوں کی ادائیگی سے روحانی مسرت کشیدکرلیتے ہیں۔ لیکن انسانی تعلقات سے حاصل ہونے والی خوشی مدتوں سے کمیاب ہے۔ اس کمیابی کا بنیادی سبب انسانی تعلقات کا بحران ہے۔ اس بحران کی ہولناکی کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ خاندان، خاندان نہیں رہے… والدین، والدین نہیں رہے… اولاد، اولاد نہیں رہی… شوہر، شوہر نہیں رہے… بیویاں، بیویاںنہیں رہیں… عزیز، عزیز نہیں رہے… رشتے دار، رشتے دار نہیں رہے… دوست، دوست نہیں رہے… پڑوسی، پڑوسی نہیں رہے… بزرگ، بزرگ نہیں رہے… خورد، خورد نہیں رہے۔ نتیجہ یہ کہ انسان، انسان نہیں رہے… زندگی، زندگی نہیں رہی۔ چنانچہ زندگی سے حقیقی خوشی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوچکی ہے۔ شاعر نے کہا ہے ؎ اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے اسلام کے دائرے میں خاندان کا ادارہ اصولِ توحید کے سماجی مظہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاندان پورا معاشرہ بلکہ پوری تہذیب ہے۔ جب معاشرے اور تہذیب میں کوئی بڑا عدم توازن پیدا ہو تو جان لینا چاہیے کہ خاندان کے ادارے میں کوئی بڑی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ مسلم معاشرت میں خاندان کا ادارہ بڑا مضبوط تھا اور بڑا خوبصورت بھی، مگر ہمارے روحانی، اخلاقی اور علمی زوال نے اس ادارے کو بنیادوں سے ہلا دیا۔ اسلام خاندان کے کسی ایک تصور یا کسی خاص قسم پر اصرار نہیںکرتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک طویل مدت تک مشترکہ خاندانی نظام ہماری تہذیب کا مرکز تھا۔ ہمیں مشترکہ خاندانی نظام میں پروان چڑھنے اور رہنے کا تجربہ ہے۔ بلاشبہ اس نظام میں کچھ خامیاں بھی تھیں، مگر اس کی خوبیاں خامیوں سے زیادہ تھیں۔ ہمیں یاد ہے کہ اس خاندانی نظام میں رمضان اور عید بہت بڑے تجربے یا بہت بڑی روحانی مسرت سے بھری ہوئی واردات کی حیثیت سے وارد ہوتے...

بچوں کو عزت دیں‎

وہ میرے قریب، میری والی صف میں ہی نماز ادا کر رہے تھے۔ ہماری اگلی صف میں کچھ بچے موجود تھے، نماز کے دوران بھی وہ بچے وہ ساری حرکتیں کرتے رہے جو ہم میں سے ہر شخص اپنے بچپن میں کر چکا ہے، اور یہ حرکتیں ہی ہوتی ہیں جو "بچپن" کا پتا دیتی ہیں۔  سلام پھرتے ہی ان صاحب نے اگلی صف میں اپنے سامنے موجود بچے کا کالر بے دردی سے کھینچا اور حقارت کے ساتھ فرمانے لگے "چلو نکلو، مسجد سے ابھی" بچہ کچھ جھینپ گیا، اور دعا کے لئے اٹھائے ہوئے اپنے ہاتھوں میں شرمندہ ہو کر  اپنا منہ ڈال دیا۔ انہوں  ایک لمحہ تاخیر کئیے بغیر اس بچے کا کالر دوبارہ اس زور سے کھینچا کہ وہ پیچھے آدھی صف تک آ گیا۔ اس کے بعد دوسرے بچے بھی اپنی "عزت نفس" کو سنبھالتے ہوئے اللہ کے گھر سے فرار کے راستے ڈھونڈ لگے۔  انہوں نے کھڑے ہونے کے بعد دوبارہ بچوں کو زور کی ڈانٹ پلائی اور ایک بچے کی گدی پر تھپڑ بھی رسید کر دیا۔ میں نماز کے اختتام کے بعد کچھ دیر تک یہ سارے مناظر بڑی تکلیف کے ساتھ دیکھ رہا تھا، لیکن اب میرے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا تھا۔ میں نے تھوڑی تیز آواز کے ساتھ کہا "انکل! یہ بات آپ آرام سے بھی کہہ سکتے تھے" شاید ان کو اس کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے میری طرف غور سے دیکھا اور مدافعانہ لہجے میں بولے "یہ لوگوں کی نماز خراب کرتے ہیں، شیطان ہے یہ سب"۔  مسجد میں موجود تقریباً تمام ہی نمازیوں کا رخ ہماری طرف ہو چکا تھا۔ "تو ان کو تمیز سے تمیز سے سکھانا بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے"۔ میں کہتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا شاید کہیں اپنا بچپن بھی آنکھوں میں گھوم گیا۔  آپ یقین کریں میں نے بچوں کی عزت نفس کو جتنا مجروح مسجد اور اسکول میں ہوتے دیکھا ہے اور کسی تیسری جگہ نہیں دیکھا۔ جس حقارت اور تحقیر کے ساتھ مساجد میں بچوں کو ہمارے بزرگ ذلیل کرتے ہیں اور جس طرح اسکولوں میں "معزز اساتذہ اکرام" بچوں کی عزت نفس کا جنازہ نکال لیتے ہیں دل پاش پاش ہو جاتا ہے۔  یہی تو وہ جو جگہیں تھیں جہاں سے وقت کے امام اور امت کے مستقبل نکلا کرتے تھے، لیکن یقیناً ان مساجد اور مدارس میں استاد امام ابو حنیفہ جیسے اور بزرگ عطا بن رباح جیسے ہوا کرتے تھے۔ پرسوں ہماری مساجد کے امام صاحب نے سختی سے تقریبا ڈانٹتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ "جو بھی نمازی اپنے ساتھ چھوٹے بچوں کو لے کر مسجدآئے گا، اسے مسجد سے بچے سمیت باہر نکال دیا جائے گا پھر وہ ہم سے شکایت نہ کرے"۔ ایک دوسری مسجد میں آج نماز پڑھی تو بغیر حوالے کے بڑا سا بورڈ نصب تھا کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابالغ بچوں کو مسجد میں لانے سے منع فرمایا ہے"۔  مجھ جیسے ناقص العلم آدمی تک جب یہ احادیث پہنچ گئیں تو میں حیران ہوتا ہوں کہ...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے " حق گو " ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے " ایماندار ترین " لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان جیسی  " پوتر " اور " مادر ملت " خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، " محافظ ختم نبوت " اور اس ملک کے "سنجیدہ ترین" انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے " لینڈ گریبر " کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔ غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ " لڑکے " پرویز خٹک جیسے یوتھ کے " نمائندے " اور دوست محمد کھوسہ جیسے " ہینڈ سم اسمارٹ بوائے " کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے " ایمان افروز ملفوظات " کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔ 5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل " سادگی کا نمونہ " خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر وائی پہ نظر آئیں ، سفید لباس میں روتی بین کرتی بیوہ کے روپ میں ،شوہر کا التفات  اور اس کی محبت یکے بعد دیگرے مناظر کی صورت میں ثمرہ کے ذہن کے ساتھ ساتھ پردہِ سیمیں پر بھی ابھرتے چلے گئے، اور ہمیں اپنے صاحبزادے کے احساس دلانے پہ معلوم ہوا کہ یمنیٰ نے ثمرہ کے روپ میں بھلے ہی مصنوعی آنسو بہائے ہوں لیکن ہمارے چہرے کو حقیقی آنسو بھگو رہے تھے، یہ خبر سکھر کے دورے پہ نکلے ہوئے شوہرِ نامدار تک بھی تیزی سے پہنچا دی گئی ، اور فوراٍ ہی وہاں سے فون بھی آ گیا، حد کرتی ہو یار، یہ کوئی رونے والی بات ہے،مرد کی سرزنش میں چھپی محبت کو ڈھونڈ کو محسوس کر لینے کا گر عورت سیکھ لے تو زندگی گلزار ہو جائے ، بہر حال اس منظر نے ہمیں کچھ ایسا جکڑا کہ اس کہانی کو شروع سے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس ڈرامے کے مصنف  عدیل رزاق ہیں ،جو اس سے پہلے  ہم ٹی وی پہ چلنے والی  ایک  ڈرامہ سیریز میں انتہائی متنازعہ موضوع پہ ڈرامہ بھی لکھ چکے ہیں۔  ہدایتکار فاروق رند ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں ،محبت تم سے نفرت، بے شرم، گلِ رعنا، لا ،رشتے کچھ ادھورے سے اور جگنو شامل ہیں ۔ جن لوگوں نے ان ڈراموں کو ذرا گہری نظر سے دیکھا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ   ان میں سے اکثر کہانیاں ہمارے معاشرے  میں عورت سے سلوک اور اسکی حیثیت کو قابلِ رحم انداز میں پیش کرتی ہیں، یقیناً اس میں کسی حد تک حقیقت بھی شامل ہوتی ہے ،لیکن اس حقیقت کو اس اندز میں بیان کرنا کہ اسکے منفی پہلو ساری مثبت باتوں کو کمال مہارت سے نگل لیں یہ بہر حال انصاف  کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پہ یہ کہانی ثمرہ  کے گرد گھومتی ہے جو اپنے "روشن خیال" ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، اور اسی روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے  والدین ثمرہ کی شادی اس کی پسند سے کر دیتے ہیں، شوہر کا تعلق ایک خالص جاگیردار گھرانے سے ہوتا ہے جو اپنے گاؤں میں سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں،اور پیر بھی مانے جاتے ہیں ،لڑکے کا باپ اس خیال سے پہلی بار خاندان سے باہر کی بہو لانے پہ تیار ہوتا ہے کہ بیٹا جو  تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ،جاگیرداری نظام کے نقائص ،پیری فقیری کی مذموم روایات  اور سیاست کے غلط استعمال سے خائف ہو کر اس سب سے دور رہنا چاہتا ہے، وقت پڑنے پر وہ اس احسان کا حوالہ دیتے ہوئےاسے اپنی ڈگر پہ چلایا جا سکے۔ثمرہ کو شادی کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا سسرال حقیقتاً کس پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی عورت ،کا کن کن مراحل پہ کس کس طریقے سے استحصال ہوتا ہے،اس ڈرامے میں  بلا شبہ اس کی عکاسی کرنے...

بچوں کے بدتمیز ہونے کی وجوہات

آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سننے میں آتا ہے کہ ہماری اولاد بہت بدتمیز ہوگئی ہے بڑوں کی عزت نہیں کرتی عجیب پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں مگر انہیں یہی بات ہی نہیں سیکھاتے۔ والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ہر خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کو ذرا بھی تکلیف ہو تو خود تکلیف میں آجاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے ان کے پیچھے خود کو فراموش کردیتے ہیں مگرانہیں عزت کرنا اور عزت سے پیش آنا سیکھاتے ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ والدین اپنے بچوں کو سمجھاتے نہیں ، سمجھاتے بہت کچھ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فعل سے انجانے میں بچوں کو عزت و احترام نہ کرنا سیکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو محبت دی جائے، انہیں خلوص دیا سب کچھ دیا جائے مگر انہیں عزت نہ دی جائے تو پھر بچے بدتمیز ہی بنتے ہیں۔ بچوں کو محبت سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی۔ جبکہ انہیں اکثر بہن بھائیوں یا پھر پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرکے ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔ سب کے سامنے یا تو ڈانٹا جاتا ہے یا پھر انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب بچوں کو اپنے گھر والے، والدین ، بہن بھائی ہی عزت و احترام نہیں دیں گے تو بچے کیسے سیکھیں گے کہ یہ سب۔ پھر یوں کہا جائے کہ یہ سب بچوں کے لیے گویا ایک اجنبی سی چیز ہے۔ بعض اوقات بچوں میں چڑچڑاپن اور بدتمیزی کی ایک بڑی وجہ والدین کا آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین کی آپس میں کشیدگی کا نشانہ بچے بنتے ہیں۔ کسی اور کا غصہ کسی اور پر نکال دیا جاتا ہے۔ بیوی شوہر کا یا پھر شوہر بیوی کا غصہ بچوں پر نکالتا ہے۔ بچے کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں مگر والدین کا بچوں سے بات کرنے کا انداز غیر ضروری حدتک تلخ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر بچے کے کمزور دماغ پر پڑتا ہے۔ بچوں کے سامنے غیر ضروری اور غیر شائستہ گفتگو کرنے سے گریز نہ کرنا بھی بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچوں کے سامنے ہر طرح کی باتیں کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں پر ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والد بچے کو کہتا ہے کہ ’’بیٹا! اگر کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی دو لگا دینا‘‘۔ یہ بات بچہ سیکھتا ہے اور پھر جب اس کا چھوٹا بھائی اسے مارتا ہے تو وہ سب کے سامنے اپنے بھائی کو دو جڑ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر سب اسے ڈانٹتے ہیں اور والد صاحب اٹھ کراپنے بیٹے کو تھپڑ لگا دیتے ہیں۔ ’’یہ سب کس نے تمہیں سیکھایا، بدتمیز بن گئے ہو‘‘، وغیرہ وغیر۔۔ اب اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے۔ خود ہی سیکھایا اور پھر خود ہی کہا کہ یہ سب کس نے سیکھایا۔ یہ...

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

بچوں کے ساتھ زیادتی اور سیکس ایجوکیشن

قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک پر پورا ملک سوگوار ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے بات کی جارہی ہے۔ پاکستان میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر طبقے کے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اس واقعے کی مذمت، اس پر تبصرہ اور اس کی وجوہات پر بات کی ہے۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس واقعے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ جی ہاں آپ لوگ ٹھیک سمجھے میرا اشارہ موم بتی مافیا کی طرف ہے۔ ننھی زینب کے واقعے کی آڑ لے کر ایک میڈیا گروپ اور ایک مخصوص لابی احتیاط اور آگاہی کے نام پر اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کو فروغ دینا اور اس کو نصاب میں شامل کرنے کی مہم چلانے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے کئی باتیں غور طلب ہیں۔ان باتوں کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ جن باتوں کو بنیاد بنا کر یہ مہم چلائی جارہی ہے اول تو وہ ساری باتیں ہی بے بنیاد ہیں اور دوسری بات یہ کہ یہاں نام تو آگاہی اور احتیاط کا لیا جارہا ہے لیکن جب قانونی طور پر سیکس ایجوکیشن کا نام نصاب میں شامل ہوجائے گا تو پھر وہی سیکس کی تعلیم یہاں بھی دیجائے گی جو کہ دنیا بھر میں سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسکولوں میں دی جاتی ہے۔ یہاں ہم ان باتوں کا جائزہ لیں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ یہ مہم بے بنیاد باتوں پر چلائی جارہی ہے تو اس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ ننھی زینب، قصور میں ہونے والے پے درپے واقعات اور پورے ملک ہونے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے کیسز اغوا، زیادتی اور قتل کے ہیں، یعنی یہ سارے واقعات فوجداری ہیں، ان کی روک تھام پولیس، انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ (اس حوالے سے ہم نے ایک مضمون میں تفصیلی بات کی ہے جو کہ اسی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جس کا لنک یہاں دیا جارہا ہے۔) https://blog.jasarat.com/2018/01/13/saleem-ullah-3/ لیکن ان کو ٹھیک کرنے کے بجائے بڑی چالاکی سے ان کی ذمے داری والدین اور اسکولوں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان سارے واقعات کا سیکس ایجوکیشن وغیرہ سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز اس کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا دوسرا نکتہ جس کو یہ مخصوص لابی اپنی بنیاد بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب بچے اپنے والدین سے ایسی کوئی شکایت کرتے ہیں، اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی یا کا بتاتے ہیں تو والدین دقیانوسی رویہ اپناتے ہوئے ان کو چپ کراتے ہیں یا بدنامی کے خوف سے چپ ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ بدنامی کے خوف سے والدین صرف اس وقت خاموش ہوتے ہیں جب خدانخواستہ میرے منہ میں خاک کسی کی جوان بچی کی عزت و آبرو کو تار تار کیا جائے۔ بچوں160کے معاملے پر توہم نے میڈیاپر، معاشرے میں، گلی محلے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ڈنڈا پیر

میرے استادِ محترم شفیع صاحب اکثر نالائق بچوں کو کام نہ کرنے پر سزا دیتے ہوئے اپنی گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ایک موٹا ڈنڈا ہاتھ میں گھماتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ”وگڑیاں تِگڑیاں دا ڈنڈا پیر“اور پھر اسی ڈنڈے سے بچوں کے وہ کس اور ”بل“ نکالتے تھے کہ جسم کے ایک ایک انگ سے ”پیڑاں“نکلنی شروع ہو جاتی،یا پھر کہا کرتے تھے کہ ”آسمان سے چار کتابیں اور ایک ڈنڈا نازل ہوا ہے“پہلی بات تو سیدھی سادھی سی تھی اس لئے سمجھ آگئی کہ جو نالائق ہیں ان کے بستے بھاری اور ذہن خالی ہوتے ہیں اس لئے ان کا علاج ڈنڈا ہی ہو سکتا ہے جبکہ دوسری ضرب المثل کبھی کھاتے نہیں پڑی کہ جب زمین جنگلات سے بھری ہوئی ہے تو پھر ڈنڈے کو فلک سے نیچے کیوں اتارا گیا،ذرا ہوش سنبھالا تو خود ہی اندازہ لگایا کہ ہو سکتا ہے جو لوگ الہامی کتابوں پر عمل پیرا نہیں ہونگے ان پر سختی برتنے کے لئے ڈنڈے کا نزول بھی کر دیا گیا ہو۔بروزن ”ڈبہ پیر“ایک عرصہ تک”ڈنڈا پیر“کو بھی کسی آستانہ عالیہ و درگاہ شریف کا گدی نشین ہی خیال کرتا رہا کہ ہو سکتا ہے یہ کوئی ایسا پیر ہو جو مریدوں کا علاج ڈنڈے سے کرتے ہوں جس کی نسبت سے ڈنڈا پیر معروف ہو گیا ہو وہ تو اس وقت سمجھ آئی جب شریف صاحب نے ہماری تشریف پر ایک دن گھر کا کام نہ کرنے پر ڈنڈوں کی ایسی برسات کی کہ خدا پناہ۔ عصرالاقدام میں ڈنڈے سے وہی کام لیا جاتا تھا جو آج کل کلاشنکوف یا پسٹل سے لیا جاتا ہے۔یقین کے لئے اپنے پٹھان بھائیوں کی پرانی تصاویر پر غور فرمائیے گا تو ہر بزرگ کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا دکھائی دے گا جبکہ آج کے دور کی تصویر ملاحظہ فرمائیں تو ڈنڈے کا نعم البدل کلاشنکوف ہو گی۔برصغیر پاک و ہند کی روائت بھی رہی ہے کہ پرانے بزرگ دوران سفر اپنے ساتھ دو چیزوں کو ضرور ساتھ رکھتے تھے،کتا اور ڈنڈا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں کے بے شمار فائدے ہیں،مثلاً دشمن اگر ڈنڈے سے نہ مرے تو یہ کام کتے سے لیا جا سکتا ہے اور کتا اپنے فرائض آوری سے کوتاہی برتے تو ڈنڈا کام دکھا سکتا ہے۔ان دنوں ڈنڈا چلانے میں مشاقی حاصل کرنے کے لئے نوجوانوں کو باقاعدہ ”گتکا“(ایک گیم) سکھایا جاتا تھا اور پولیس میں بھرتی کرتے ہوئے مختلف سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی کیا جاتا تھا کہ کیا تمہیں گتکا کھیلنا آتا ہے۔ممکن ہے یہ ڈنڈا بردارپولیس اسی دور سے چلی آرہی ہو۔پا کستان میں تو خیراس پولیس کی اتنی اہمیت نہیں اکثر اس پولیس کو جلسے جلوسوں،میلوں،یا قبضہ لینے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے ہاں البتہ ایک بار سعادت عمرہ کے دوران جنت البقیع کے باہر موجود تھا کہ ایک دم لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا،ایسے میں کسی نے آواز لگائی کہ ڈنڈا بردار پولیس آگئی بھاگو،اگرچہ ان کے پاس جو ڈنڈے تھے وہ ہمارے پولیس والوں کے مقابلہ میں عشر عشیر بھی نہیں تھے تاہم ان کا رعب و دبدبہ ایسا تھا...

عجیب پاکستانی ہوں

پاکستانی اتنے غریب نہیں ہونگے جتنے عجیب ہیں۔ ہر مرد عورت اپنے آپ میں ایک وکھرا نمونہ ہے۔ پاکستانیوں میں ایک عادت بڑی '' عام '' ہے۔ جو ہر پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان میں بدرجہ اتم موجود ہوگی۔ اتنے چسکورے ہیں کہ ہر بات کا پتہ ہونے کے باوجود منہ کراراے کیے جاتے ہیں۔ جیسے کوئی '' چائے '' پی رہا ہو تو دوسرا باہر سے آنے والا بصارت جیسی نعمت سے مستفید ہونے کے باوجود بھی حیرت سے پوچھے گا '' چائے پی رہے ہو ''۔ اب ظاہر ہے چائے کے کپ میں خون پینے سے تو بندہ رہا۔ ہمارے رشتہ داروں میں میں کسی کے آنے پر اسے آواز نہ کرنا پرلے درجے کی گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ آواز کرنے سے مراد یہ کہنا ہوتا ہے '' آئے ہو '' اگر کوئی بزرگ ہو تو بس لفظ کو ذرا کھینچ کر لمبا کر کے '' راااااااااااااالے '' کہنا ضروری ہے اور ایسا نہ کرنے والے کی مٹی ایسی پلید کردی جاتی ہے کہ دنیا کے نکھٹو، منحوس، اور بے ادب بھگوڑا انسان کی مہر اس پر لگا دی جاتی ہے۔ جب بھی ہری پور جانا ہوا جس رشتہ دار کی طرف بھی جاؤ پہلا سوال یہی ہوگا '' آئی ہو '' جس پر میں آرام سے بس یہی کہہ دیتی ہوں۔ '' نہیں! ابھی راستے میں ہوں۔'' اب بندہ پوچھے راستے میں ہوتا تو گھر کیسے تشریف لاتا ظاہر ہے گھر تک پہنچا ہے تو آیا ہی ناں۔ اچھا __ اگر آپ بازار چلے جاؤ اور بدقسمتی سے کوئی واقف مل جائے تو چھوٹتے ہی یہی سوال پوچھے گا '' بازار آئے ہو ''۔ اس بے تکے سوال پر بندہ ہونق بنا بٹر بٹر دیکھنے لگتا ہے کہ شاید غلطی سے پہلوانوں کے اکھاڑے یا کسی فیکٹری میں تو نہیں گھس گیا۔ چلو پہلے جوتا خریدتے ہیں اس سوچ کے آتے بندہ اچھی طرح تسلی کرنے کے بعد جیسے ہی شوز ہاؤس میں داخل ہوتا ہے دکاندار کا پہلا سوال حواس باختہ کردیتا ہے۔ '' ہاں جی! میڈم جوتا لینے آئے ہیں '' '' نہیں بھائی! گرم مصالحہ، برتن دھونے والا صابن اور ہاں ساتھ ایک سرف کا پیکٹ بھی دے دو '' کوفت سے سوچتے چپ چاپ جوتا پسند کرنے میں ہی بندہ بہتری جانتا ہے۔ کچھ دن پہلے افطار کے لیے کچھ مہمان آئے۔ جیسے ہی مہمان خاتون نے واش روم کی طرف قدم بڑھائے میں نے مروتاً، جبراً، کنایتاً، اشارتاً غرض ہر طرح سے دانتوں کی نمائش کرتے حق میزبانی کے ساتھ حق پاکستانی ادا کیا۔ '' آنٹی جی! واش روم جارہی ہیں '' '' نہیں بیٹا! ایک میٹنگ ہے وہی اٹینڈ کرنے جارہی ہوں '' سادگی سے دیے گئے جواب نے بھرپور شرمندہ کروا دیا۔ خجالت سے مسکرا دی کہ چلو وطن کی بیٹی اور محب الوطن پاکستانی ہونے کا حق تو ادا کردیا۔ اب انسان کیا شرمندہ ہو! ہماری یہی ڈھٹائی تو ایک دوسرے کے لیے ہنسی کا باعث بنتی ہے ورنہ تو آج کا انسان معاشی بوجھ میں اس قدر دب چکا ہے کہ بتیسی کو ہی ٹھنڈ لگوا بیٹھا ہے۔ '' میں بھی '' عجیب پاکستانی ہوں '' سے اقتباس

افطاری

پاکستانیوں میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہو ایک خصوصیت ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ جب بھی ان سے پوچھا جائے کہ کہاں جا رہے ہو تو360 دائرے نما پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گویا ہوں گے”کھانا کھانے“اور کہیں سے آرہے ہوں تو بھی برابر جواب وہی ملے گا کہ ”کھانا کھا کے“۔گویا کھانا ہی زندگی ہے،حکما کا خیال ہے کہ انسان کو زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا چاہئے جبکہ ہم پاکستانیوں کا خیال ہے کہ کھانے کے لئے زندہ رہا جائے اور وہ بھی کسی کے کھاتے سے۔اس مرض میں ان پڑھ اور پڑھے لکھے سبھی شامل ہیں اپنے ایک پڑھے لکھے ادبی دوست سے ایک باراس کی بسیار خوری کی وجہ پوچھی تو جناب پٹ سے اردو ادب سے ایک حوالہ نکال لائے کہ جناب کیا آپ کے علم میں نہیں کہ ایک بار چچا غالب سے پوچھا کہ آپ کو کھانے میں کیا مرغوب ہے تو انہوں نے کیا کہا تھا کہ”آم ہوں اوربہت ہوں“۔ارے بھائی وہ تو موسمی پھل کاتذکرہ تھا سار ا سال کھانے کی تھوڑی بات ہو ری تھی تمہاری طرح۔ویسے ہمیں دو مواقع پر خوب کھانے کا موقع میسر آتا ہے،ایک کسی احباب کی دعوتِ ولیمہ اور دوسرا رمضان المبارک میں کسی کے ہاں افطاری۔افطاری کیا کھانے کی رفتار سے ہم اسے افتاری ہی بنا ڈالتے ہیں۔کیونکہ روزہ کشا ہوتے ہی جس رفتار سے روزہ دار کھانے پر یلغار یا دھاوا بولتے ہیں لگتا ہے یہ ان کی زندگی کا آّخری کھانا ہی ہوگا یا پھر کل عید ہوگی۔کہتے ہیں کہ کسی فقیر کو اہل محلہ نے زبردستی روزہ رکھوا دیا تو جب بوقت افطاری اس سے پوچھا گیا کہ تم سب سے پہلی دعا کون سی کرو گے تو کہنے لگا کہ ”کل عید ہوجائے“۔ایسے ہی ایک روائت ہے کہ کسی گاؤں میں نمبردار نے اعلان کر دیا کہ گاؤں میں کسی بھی شخص کو روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے جو بھی روزہ نہیں رکھے گا اسے کڑی سزا دی جائے گی۔اب گاؤں کے میراثی کوبھی بادل نخواستہ روزہ رکھنا پڑا،اب یونہی سورج سر پر آیا تو میر عالم صاحب اپنے بوریا بستر سمیٹ نمبردار کی حویلی کے سامنے سے بار بار گزر رہے ہوں،تجسس پر نمبردار نے بلا کر پوچھا کہ میر عالم کیا ہوا،یہ بستر اٹھا کر کہاں کا ارادہ ہے،تو میر عالم کہنے لگا کہ سرکار آپ تو مجھے زبردستی روزہ رکھوا رہے ہیں جبکہ ساتھ کے گاؤں کا نمبردار کہہ رہا ہے کہ تم کلمہ بھی نہ پڑھنا اور میرے گاؤں چلے آؤں۔ دوران رمضان مشاہدہ کیجئے گا کہ روزہ دار کی آنکھیں روزہ کشائی سے پہلے بمشکل کھل رہی ہوتی ہیں اور روزہ کشائی کے بعد آنکھوں اور منہ کا کھلنا ناممکن سادکھائی دیتا ہے۔افطاری کو رفتاری خیال کر بے تحاشا کھانے سے پیٹ کا اس قدر برا حشر ہوتا ہے کہ پیٹ بھی بندوں کے نادیدہ پن کو کوس رہا ہوتا ہے کہ یہ اونٹ کا نہیں انسانوں کا معدہ ہے یار۔افطاری کے بعد پیٹ کسی طور بھی پیٹ نہیں لگ رہا ہوتا پورے کا پورا ڈھول دکھائی دے رہا ہوتا...

رن مرید

رن مرید،زن مرید،جورو کا تابع یا جورو کا غلام جسے پنجابی میں ”تھلے“لگا بھی کہا جاتا ہے،ایک ایسا عنوان ہے جسے مردکے چہرے سے ہی پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ مرد اپنی یا کسی اور کی جورو کا غلام ہے،دنیامیں زیادہ تر لوگ رن مرید ہی ہیں بس کوئی مان لیتا ہے تو کسی کی رن اسے تھلے لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہے گویا کان دائیں ہاتھ سے پکڑو یا بائیں سے بات ایک ہی ہے،تو عافیت اسی میں ہے کہ اس فعل کا برملا اظہار کر دیا جائے۔جیسے کہ ایک روائت ہے کہ ایک گاؤں سے تین لوگ گزرتے ہوئے مشکوک پائے گئے تو گاؤں والوں نے انہیں پکڑ کر نمبردار کے سامنے پیش کر دیا،پہلے شخص سے پوچھا کہ تم کہاں اور کس سے ملنے جا رہے تھے اس نے ڈرتے ہوئے کہا کہ میں فلاں پیر کا مرید ہوں ان کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں،نمبردار کو غصہ آیا اور کہا کہ اسے الٹا لٹا کر جوتو ں سے خاطر تواضع کی جائے،یہی حال دوسرے آدمی کا بھی کیا گیا،جب یہ سارا ماجرا تیسرے بندے نے دیکھا جو قدرے چالاک تھا وہ چالاکی دکھاتے ہوئے کہنے لگا کہ سر میں کسی پیر کا مرید نہیں ہوں میں تو بس ”رن مرید“ ہوں اب آپ کی مرضی جو چاہیں سزا تجویز کر دیجئے،نمبردار نے یونہی یہ بات سنی اپنوں بیٹوں کو بآواز بلند پکارنے لگا کہ بچوں جلدی آؤ تمہارا ”پیر بھائی“آیا ہوں اور اس کی کھانے پینے سے خوب خاطر تواضع کرو اور دیکھو مجھے کوئی شکائت نہیں آنی چاہئے۔ اتفاق رائے سے دنیا نے اب اس بات پہ مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ اقسام خاوند میں سب سے اعلیٰ پائے کا خاوند رن مرید ہی ہوتا ہے۔رن مرید ایسا خاوند ہوتا ہے جو بیوی کے کہنے پر تو کہیں بھی بیٹھ جاتا ہے اور اگر سسرال سے کوئی کہہ دے تو مزید بیٹھ جاتا ہے۔قبول ثلاثہ کے بعد ساری زندگی جی حضوری میں ہی گزار دیتا ہے اس پہ شرمندہ نہیں ہوتا کہتا ہے بیوی کی جی حضوری نہیں کرتا بس ویسے ہی وہ مجھے بولنے نہیں دیتی۔رن مرید چپ رہنے پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ مزید چپ میں ہی عافیت خیال کرتا ہے،دوستوں میں سے ایک بار کسی نے اسکی غیرت جگانے کے لئے فقرہ چست کردیا کہ یار تمہاری کیا زندگی ہے تمھاری تو بیوی تمہیں گھاس بھی نہیں ڈالتی،کمال دلیری سے بولا”شیر گھاس نہیں کھاتا اور گوشت وہ مجھے کھانے نہیں دیتی“کہتا ہے کامیاب ازدواجی زندگی کے دو ہی فلسفے ہیں کہ بیوی کے سامنے کبھی نہ بولو اور دوسرا ہمیشہ بیوی کی ہی سنو۔رن مرید بیوی کے سامنے کبھی کوئی سوال نہیں اٹھاتا بس دست سوال دراز ہی ہوتا ہے۔رن مرید ہمیشہ اپنے خاندان والوں سے بیوی کی زبان میں بات کرتا ہے اور بیوی کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتی کیونکہ بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بات بیان کرنے کے لئے خاوند کے منہ میں زبان دے رکھی ہے اور یہ بات وہ اپنی سہیلیوں میں برملاکہتی ہے کہ میں نے اپنی ساس...

لاچا بمقابلہ ٹائٹ(چست پاجامہ) 

لباس کا پہننا جسے انگریزی میں Dress up ہونا کہا جاتا ہے،میرے نزدیک انسان کے dress کاup ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پتہ چل سکے کہ لباس بھی پہنا ہوا ہے۔لباس کے بارے میں میری رائے بالکل واضح اور شفاف(transparent )لباس جیسی ہی شفاف ہے،کہ انسان کو لباس ضرور پہننا چاہئے چا ہے اس میں’’شفافیت‘‘جھلکتی،چھلکتی ہوئی نظر ہی کیوں نہ آرہی ہو۔اچھا لگنااور دکھنا ہربنی نوع انسان کی فطرت میں شامل ہے اوریہ لباس ہی ہے جس نے انسان کو جنگل سے شہر میں آ کر آباد ہونے کی ترغیب دی وگرنہ آج بھی انسان ’’قدرتی حالت‘‘ میں جنگل میں ہی مسکن پذیر ہوتا۔شہر میں بسنے سے ہی انسان کی حسِ جمالیات پروان چڑھی جس نے انسان کو سکھایا کہ میرج پارٹی،ایوننگ پارٹی،ڈنر پارٹی،نائٹ پارٹی میں کس طرح کا سوٹ پہن کر جاناچاہیے،ہاں اگربرتھ ڈے پارٹی ہو تومیری نظر میں ایسی پارٹی میں نہیں جانا چاہیے کہ برتھ کے وقت انسان کسی سوٹ میں ملبوس نہیں ہوتا ۔ لاچا کرتہ صوبہ پنجاب کا مقبول لباس ہے،کرتہ پر پھر کبھی قلم چلایا جائے گا ۔ابھی لاچے کے ’’مصائب و محاسن‘‘کا تذکرہ ہی مناسب رہے گا،اگرچہ لاچا پہننے والا خود کو مناسب خیال کرتا ہے تاہم دیکھنے والا کسی طور خود کو ‘‘مناسب‘‘محسوس نہیں کرتا۔لاچا وہ واحد لباس ہے کہ اسے پہننے کے لئے کسی اوزار بند یا بیلٹ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بس دو کناروں کو تھاما اور آپس میں گھتم گھتا کر دیا یعنی باندھ دیا ،میرے ایک دوست کا پوچھنا ہوتاہے کہ یار یہ لاچا باندھا جاتا ہے کہ پہنا جاتا ہے تو میرا اس کو جواب ہوتا ہے کہ یہ واحد لباس ہے جسے باندھ کر بھی پہنا جا سکتا ہے اور پہن کر بھی باندھاجا سکتا ہے۔ہاں باندھ کر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کب کھل جائے اور آس پاس کے لوگ آپ پر کھلکھلا پڑیں۔لاچے کے کثیر المقاصد ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ دونوں موسموں میں پہنا،باندھا،اوڑھا اور بچھایا جا سکتا ہے یعنی اسے موسم سرما میں اوڑھ کر سویا جا سکتا ہے جبکہ موسم گرما میں اسے بچھا کر بھی آپ استراحت فرما سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ وقت رات کا ہووگرنہ دن کے اجالے میں ایسی حرکت آپ پہ برا وقت بھی لا سکتی ہے۔لاچے کو سونے سے قبل باندھا جائے تو بہتر ہے اور اٹھتے ہی سب سے پہلے لاچے کو ہی باندھنے میں آپ کی عزت ہے۔باقی یہ ہے کہ لاچے کو کوئی جوڑ نہیں ہوتا ،اسے سلوانا نہیں پڑتا،بس پہننا ہی پڑتا ہے اور اور اگر پہنا ہو تو اسے اتارنا بھی نہیں پڑتا کہ پہنا اور اتارا ہوا ایک سا ہی دکھائی دیتا ہے۔لاچے میں ایک نہیں دو دو پاکٹ ہوتی ہیں جسے پنجابی میں ’’ڈب‘‘ کہا جاتا ہے ۔ڈب ایسی محفوظ جیب(پاکٹ) ہے جس میں رکھے پیسے سمجھو ڈوب ہی جاتے ہیں۔اور اگر پیسے کم رکھے ہوں تو ڈب کی سلوٹوں میں انہیں تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوہ قاف کی کسی غار میں گم ہوگئے ہوں ۔لاچا پہننے والوں کو بس ایک بات کا از بس...

ہمارے بلاگرز