پشاور بم دھماکہ‎

موبائل اٹھایا تو پشاور (دیر کالونی )مدرسہ میں دھماکہ کی خبر دیکھی کہ جس میں 8 افراد شہید اور بہت سوں کے زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔ویسے تو کہیں بم دھماکہ کی خبر سننے کو ملے تو ان جیتے جاگتے اانسانوں کا خیال آتا ہے جو لمحوں میں مرحومین بن جاتے ہیں اور ایسے...

۔29اکتوبر فالج سے آگاہی کا عالمی دن

ہر سال 29 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں فالج کے مرض سے آگاہی کا دن منانے کا مقصد عوام میں اس مرض سے بچاؤکے لیے شعور بیدار...

پری

وہ روئے جا رہا تھا ،اسکی حالت دیوانوں کی سی تھی۔ایسے روتے ہوئے میں نے کسی مرد کو نہیں دیکھا تھا۔اس کا نام شیر دل تھا اور دل بھی...

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر...

نظم

میں نے اس سے کل یہ کہا تم انگلش کے ٹیچر ہو انگلش خوب پڑھاتے ہو Keats کی نظم سناتے ہو Shakespeareبھی پڑھاتے ہو تم نے کبھی یہ سوچا ہے دل میں اترتے لہجے میں تم...

سلگتا کشمیر

ناچ ہے وحشت کا لٹتی ہیں عصمتیں ٹوٹتے ہیں بدن پھوٹتی ہیں آنکھیں بلند ہیں نعرے آزادی کے بھوک سے تڑپتی ننھی روحیں لٹ رہے ہیں سہاگ لٹ گئی سکھ کی فضائیں کون کہتا تھا ارض بہشت...

ہم نے کر دی ہے خبر تم کو ، خبردار رہو

2 اکتوبر جمعہ کے روز نیویارک میں گلوکارہ ریھانہ نے اپنا زیر جامہ کا ایک فیشن شو منعقد کیا۔ ہر فیشن شو کی طرح اس میں بھی وہ سب...

میرے نبیؐ (نظم)

تھا دنیا میں جب اندھیرا چھایا رب نے اک نور چمکایا انسان تو انساں چرند پرند بھی گرویدہ  میرے نبیؐ ہیں وہ محبوب خدا ہیں وہ کوئی آن نہیں کوئی شان نہیں میرے...

اسلامو فوبیا کی نئی  لہر

آخراسلام دشمنی اور اسلاموفوبیا میں یہ انتہاء پسند سیکولر ممالک کس سطح کی گراوٹ تک جائیں گے ۔۔۔۔زہنی مرض کے  شکار فرانس کے صدر میکرون نے اس دشمنی میں...

سرور کونین(محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)

اللہ عزوجل ، قادر مطلق کی جملہ مخلوقات میں جو کہ نور سے ، نار سے یا مٹی سے پیدا کی گئیں سب میں عظیم ترمخلوق حضرت انسان ہے...

جینے کا ہنر

اللہ کی محبت کا حصول

انسان میں کئی طرح کی محبتیں بھردی گئی ہیں، پہلے اپنی، پھر اولاد اور پھر مال تک وہ تمام محبتیں ہیں جو ہر کسی میں موجود ہیں۔ اس کے...

سکون کی تلاش میں۔۔۔

اس نے سر اٹھا کر نیلے اور صاف شفاف آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھا۔۔۔ پھرسورج کو جو زمین والوں کو خیرباد کہنے کی تیاری کررہا تھا۔۔۔ اور پھر...

میرے بھائی (ناصر انصاری)

میری خالا نے ایک ہفتہ قبل امی سے کہا کہ آپا ناصر کو کہیں کہ باہر کسی کی دی ہوئی چیزیں کھانے سے احتیاط کرے آج کل کسی کا...

محبت کی نفسیات (پہلی قسط)۔

محبت کیمیا ہے یا کیمیا گری ہے؟ آپ کو آخری بار کب محبت ہوئی ہے......؟  "محبت بنیادی طور پر کیمیکلز کا کھیل ہے، جو انسانی دماغ میں چھلانگیں مارتے،...

بیک فائر ایفیکٹ!!!۔

کبھی آپ نے سوچا کہ لوگ آنکھوں دیکھی مکھی کیوں نگل لیتے ہیں؟ اپنے بے پیندے اور لولے لنگڑے مؤقف ہر کیوں جم جاتے ہیں؟ اور جان بوجھ کر...

!باباجی

لمحہ لمحہ بدلتی ہوئی دنیا نے معاشرتی اقدارتہس نہس کر دئے ہیں رہی سہی کثر کورونا نے پوری کر دی ہے اوراقدار کی تبدیلی،انکی جگہ نمود و نمائش کیلئے...

میڈیا واچ

بیٹی ثنا توبہ مبارک ہو

بالی ووڈ اداکارہ اور بگ باس 6 فیم ثناء خان کا فلم انڈسٹری کو خیر باد کہنے کا اعلان ہم جیسے بہت سے لوگوں کے لیے اطمینان اور خوشی...

گلوبلائزیشن کے فوائد و نقصانات

اقوام عالم نے 1930ء میں جب گریٹ ڈپریشن کا سامنا کیا اور اس کے اثرات کو مکمل طور پر جھیل لیا تو مکس اکانومی کے نام سے ایک ٹرم...

اپنے دیس کا ہر رنگ حیا والا

کل گالا بسکٹ کا ناچتا تھرکتا اشتہار ٹی وی پر آن ائیر ہوا اور پھر یہ ٹرینڈ بن گیا ۔پہلے کچھ ٹیکنیکل بات، ہماری فیلڈ میں کہا جاتا ہے...

ٹی وی، فلم, ڈرامے کے معاشرے پر اثرات

ٹی وی کیا ہے ایک میڈیم ہے جس میں ہم آواز سن سکتے ہیں اور تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ ٹی وی میں ہمیں بہت سے پروگرام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ فلم...

برفانی تودہ

معاملات کی نزاکت یہاں تک آگئی ہے کہ شرم و حیاء کے معیار گر کر آسمان سے زمین پر بلکہ کیچڑ میں آپڑے ہیں لیکن جب تک قلم کا...

عالمگیریت (گلوبل لائزیشن) اور میڈیا کا کردار

یہ جدید دور ایک ترقی یافتہ دور ہے جہاں نوع انسانی نے ترقی کے منازل طے کرتے کرتے وقت اور فاصلہ کو اپنے گرفت میں لے رکھا ہے۔ دنیا...

مباحث

یہ وہ سحرتونہیں

ہم توسمجھ رہے تھے کہ شائدکچھ معاشی اورسیاسی مجبوریاں ایسی ہیں کہ جس کی وجہ سے نئے پاکستان میں دوسال سے بدقسمت،مجبور،لاچاراوربے زبان، عوام، نامی مخلوق کانہ صرف خون...

تہذیبوں کا تصادم اور مالز کی دنیا

Clash of civilizations and the world of Malls عام طور پر تہذیب کو ثقافت کا ہم معنی سمجھا جاتا ہے لیکن دراصل تہذیب سے مراد کلچر نہیں ہے بلکہ یہ...

لولی پاپ اور عوام‎

" کورونا سے تو بچ گئے لیکن اب مہنگائی مار دے گی، سکون تو بس قبر میں ہی ہے۔" اسلام آباد کے ایک بڑے ڈپارٹمنٹل سٹور پر کھڑے علی بھیا...

برفانی تودہ

معاملات کی نزاکت یہاں تک آگئی ہے کہ شرم و حیاء کے معیار گر کر آسمان سے زمین پر بلکہ کیچڑ میں آپڑے ہیں لیکن جب تک قلم کا...

مشترکہ مستقبل کا حامل سماج

عالمی سطح پر اس وقت ایک جانب جہاں اقوام متحدہ کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سےمختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے تو وہاں دوسری جانب...

اگر مقام شرف کی ہے جستجو تم کو

آج کل دنیا کتنی مصنوعی ہوگئی ہے مطلبی اور خود غرض ، کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ۔ نہ خلوص سے نہ ادب و لحاظ ، یہ شکوہ...

 مر کے بھی چین نا پایا تو کدھر جائیں گے؟

آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہاں ایک طرف نت نئی ٹیکنالوجی اور جدید سہولیات تو دوسری طرف انسانی مسائل میں اضافہ نظر آ رہا ہے وہیں...

کراچی کا اصل مسئلہ، انتظامی یا کچھ اور؟ (دوسری اور آخری قسط)

پہلی قسط پڑھنے کے لیے کلک کریں پچھلی قسط میں ہم نے کراچی کے حوالے سے  تین ایسے مسائل کے بارے میں بات کی تھی جنہوں نے   کراچی کو  اس...

سی سی پی او لاہور نے درست فرمایا

  یہ 2015 کا واقعہ ہے میرے اہل و عیال کو شارجہ سے پاکستان کا سفر درپیش تھا، نوکری کی مشغولیت کی بدولت میرے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ...

اہم بلاگز

۔29اکتوبر فالج سے آگاہی کا عالمی دن

ہر سال 29 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں فالج کے مرض سے آگاہی کا دن منانے کا مقصد عوام میں اس مرض سے بچاؤکے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔ فالج کی بنیادی وجہ بلڈ پریشر ہے جس کی کمی یا زیادتی کے سبب دماغ کو ملنے والی خون کی فراہمی یا تو معطل ہو جاتی ہے یا دماغی شریان پھٹنے سے خون رسنے لگتاہے، خون کی شریانوں کا بند ہو جانا یا پھٹ جانا فالج کہلاتاہے۔ جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو دماغ کے متاثرہ حصوں میں موجود سیلز آکسیجن اور خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں، اس کے نتیجے میں جسم کا پورا،آدھا یا کچھ حصہ مفلوج ہوجاتاہے، سنگین صورتحال میں فالج فوراً موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں معذوریوں میں سب سے زیادہ تعداد فالج سے متاثرہ افراد کی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ 80 لاکھ افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں، اس طرح دنیا بھر میں ہر 10 سیکنڈ میں ایک فرد اس مرض کا شکار ہوجاتا ہے، جبکہ ہر 10 میں سے ایک مریض جانبر نہیں رہ پاتا۔ فالج کا شکار ہونے والے 70 فیصد افراد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے جہاں 20 سے 40 فیصد مریض یہ روگ لگنے کے 3 ماہ کے اندر دنیا چھوڑ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اس مرض پر کنٹرول نہ کیا گیا تو سال 2030 ء تک اس مرض کا شکار افراد کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان میں اس مرض کے حوالے سے صورتحال تکلیف دہ ہے جہاں روزانہ ایک ہزار افراد فالج کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر 6 میں سے ایک مرد کو فالج کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، جبکہ خواتین کے معاملے میں یہ صورتحال مزید سنگین ہے کہ ہر5 میں سے ایک خاتون کو فالج کے حملے کا خطرہ در پیش ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں 15 سے 45 برس عمر والے 20 سے 25 فیصد افراد فالج کی زد میں آ رہے ہیں، یہ تناسب دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یورپ اور امریکا میں حفاظتی تدابیر اور اقدامات کے سبب یہ تناسب 10 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ بدقسمتی سے 45 برس سے بڑھتی عمر والے ایک تہائی افراد خون کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں جبکہ یہ بات اور تکلیف دہ ہے کہ ان میں سے نصف تعداد کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس خاموش قاتل کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد بھی فالج کا سبب بن رہی ہے، قیاس ہے کہ 2020ء تک پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ فالج ایک ایسا موذی مرض ہے جس سے صرف پاکستان میں روزانہ سینکڑوں افراد خاموشی سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جبکہ فالج ایسا مرض نہیں ہے جس سے بچنا نا ممکن ہو، اگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیارکی جائیں تو اس مرض...

پشاور بم دھماکہ‎

موبائل اٹھایا تو پشاور (دیر کالونی )مدرسہ میں دھماکہ کی خبر دیکھی کہ جس میں 8 افراد شہید اور بہت سوں کے زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔ویسے تو کہیں بم دھماکہ کی خبر سننے کو ملے تو ان جیتے جاگتے اانسانوں کا خیال آتا ہے جو لمحوں میں مرحومین بن جاتے ہیں اور ایسے بہت سارے جو زخمی کہلاتے جاتے ہیں اور منٹوں میں بستر پر آجاتے ہیں ان کی طرف دھیان چلا جاتا ہے۔اور ایسے میں دل اداس ہوجاتا ہے۔ لیکن اب آگے کی تصویر کو کھولا تو اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ زخمیوں میں  زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔اب اس سے مزیدآگے  پڑھنے کی ہمت نہ تھی۔اور اس وقت بس ایک سوال ذہن میں آرہا تھا کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں ۔ اور وہ بھی مدرسہ میں پڑھنے والے۔تو کیا بگاڑا تھا ان معصوم جانوں نے؟؟؟؟؟؟ ابھی تو آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا بھی زخم تازہ ہے ۔ابھی تو افغانستان کے مدرسہ میں ہونے والا بچوں کو نہیں بھولے کہ جس میں حفاظ بچوں کی تقریب اسناد میں دھماکہ کر کے انھیں شہید کر دیا گیا تھا۔ابھی تو ڈمہ ڈولہ کے مدرسہ میں شہید ہونے والے بچوں بھی یاد ہیں ۔اور پھر اب یہ پھر مدرسہ پر دھماکہ!!!!!!!!! اس وقت دل کر رہا ہے کہ ان دھماکہ کرنے والوں سے پوچھوں کہ تم لوگوں کے پاس کوئی نرمی،پیار نہیں ہوتا کیا؟؟؟؟؟تمھیں انسانوں سے محبت نہی ہوتی کیا؟؟؟؟؟یہ دھماکہ کرتے وقت ایک لمحہ کے لیے یہ نہیں سوچتے کہ اگر ان میں ہمارا کوئی بچہ ہوتا تو پھر !!!!!اور کیا اس وقت بھی تم حملہ کر دیتے؟؟؟؟؟ان معصوم بچوں نے تمھارا کیا بگاڑا ہوتا ہے جو تم حملے کر دیتے ہو؟؟؟؟؟ اور ساتھ ہی ان شہید ہونے والے تو زخمیوں کی ماؤں ،بہنوں کو تسلی دوں،اُن کے زخموں پر مرہم رکھوں،اُن کے غموں کا مداوا کرنے کی کوشش کروں اور کہوں کہ اس وقت تم مائیں ،بہنیں تکلیف میں ہو تو بحیثیت ایک عورت،ایک ماں اور بہن میں بھی تمھاری تکلیف کو سمجھ رہی ہوں اور صرف میں ہی نہیں  بلکہ ہر پاکستانی اور ہر امت مسلمہ کی عورت تمھارے دکھ کو سمجھ رہی ہے۔اس کا بھی کلیجہ پھٹ پڑتا ہے۔وہ بھی تمھارے غموں کا مداوا کرنا چاہ رہی ہے۔تمھیں گلے لگانا چاہتی ہے۔کہ ہاں بچوں کی تکلیف بھی نہیں دیکھی جاتی اور نہ ہی ان کے جنازے اٹھانے کی ہمت ہوتی ہے ۔ اور پھر اس وقت بس یہی دعا نکلتی ہے کہ یارب تو ان شہید ہو جانے والوں کی ماؤں اور باقی لواحقین کو صبر جمیل عطا کرنا ،زخمیوں کو جلد از جلد  شفائے کاملہ  عطا فرمانا اور ان حملہ کرنے والوں کو یا تو ہدایت دے دے یا اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہی تو دنیا و آخرت دونوں میں انھیں عبرت کا نشانہ بنانا۔کہ ہاں کہیں بھی حملے ناقابل برداشت ہیں ۔

سرور کونین(محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)

اللہ عزوجل ، قادر مطلق کی جملہ مخلوقات میں جو کہ نور سے ، نار سے یا مٹی سے پیدا کی گئیں سب میں عظیم ترمخلوق حضرت انسان ہے ۔ اور پھر انسانوں میں انسان کامل، بے مثل بشر، خاتم المرسلین، سیّدالعالمین، صاحب قاب قوسین، جناب طٰہٰ و یٰسین، حامل مقام محمود، رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔ سرکاردوعالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی عظمت و رفعت کا کیا ٹھکانہ ، جہاں باری تعالیٰ کا نام آتاہے ، وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا نام مبارک آتاہے ۔ کلمہ طیبہ آپؐ کے شرف کی دلیل ، کلمہ شہادت آپؐ کی صداقت کاثبوت ہے ۔ مساجد کے مینار آپ ؐ کی قدرو منزلت کا نشان ہیں ، اذان آپؐ کی شان وعظمت کااعلان ہے ۔ تکبیر آپؐ کے علو ِمرتبت کی علامت ہے ، نمازآپؐ کی جلالت قدرکی شہادت ہے۔ آپؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے ، قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کا حکم آپؐ کے ارتفاع منزلت کا نقش ہے ۔ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا بنایا کہ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی بنایا ہے نہ بعد میں کوئی بنائے گا۔ سب سے اعلیٰ، سب سے اجمل، سب سے افضل، سب سے اکمل، سب سے ارفع، سب سے انور، سب سے احسب، سب سے انسب، تمام کلمات مل کر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں،اگر سارے جہاں کے جن و انس ملکر بھی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس اور سیرت طیبہ کے بارے میں لکھنا شروع کریں تو زندگیاں ختم ہو جائیں مگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کا کوئی ایک باب بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ’’اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔جس ہستی کا ذکر مولائے کائنات بلند کرے،جس ہستی پر اللہ تعالیٰ کی ذات درودوسلام بھیجے، جس ہستی کا ذکر اللہ رحمن و رحیم ساری آسمانی کتابوں میں کرے، جس ہستی کا، چلنا ،پھرنا ،اٹھنا، بیٹھنا،سونا، جاگنا،کروٹ بدلنا، کھانا، پینا۔ مومنین کیلئے باعث نجات، باعث شفاء، باعث رحمت ،باعث ثواب،باعث حکمت، باعث دانائی ہو، اور اللہ ربّ العزت کی ذات نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کبریا کو مومنین کیلئے باعث شفاعت بنا دیا ہو، اس ہستی کا مقام اللہ اور اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جانتے ہیں۔ پھر اس ہستی کے مطلق سب کچھ لکھنا انسانوں اور جنوں کے بس کی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے شمار خصوصیات عطافرمائی ہیں جن کو لکھنا تو در کنارسارے جہان کے آدمی اور جن ملکر گن بھی نہیں سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس الفاظ اور ان کی تعبیرات سے بہت بلند وبالا تر ہے۔ آپ کا ئنات کا مجموعہ حسن ہیں، آپ کا قد...

کیا مسلمانوں کا دل دکھانا جرم نہیں؟

یورپ اسے آزادئیِ اظہار کا نام دیتا ہے۔ ان کے نزدیک آزادئیِ  اظہار یہ ہے کہ وہ میرے باپ کو گالی دیں اور میں اسے خندہ پیشانی سے برداشت کروں، وہ میری ماں کے لئے نازیبا الفاظ کہیں اور میں بےغیرتی کی حد پھلانگ کر مسکراتا چلا جاؤں، ایسا ممکن ہے یہ ہوسکتا ہے لیکن۔۔۔ سور کے گوشت پر پلے یہ دریدہ دہن میرے سرکار صلی اللہ و علیہ وسلم کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا آئین، دستور اور اخلاقیات اسکی اجازت دیتے ہیں میرا سوال ہے کہ آخر یہ گورے ہولو کاسٹ پر کوئی کارٹون کیوں نہیں بناتے ؟ ان کا قانون وہاں بے بسی کو پونچھا کیوں بن جاتا ہے؟ ان کی زبانیں کیوں گنگ ہو جاتی ہیں؟ آخر دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں یہودیوں کے اجتماعی قتل عام کے بارے میں کوئی سوال کیوں نہیں اٹھاتا؟ تنقید کیوں نہیں کرتا ۔۔۔ کوئی چارلی ایبڈو اس پر کارٹون کیوں نہیں چھاپتا؟ ۔۔۔ کوئی ٹیچر بلیک بورڈ پر اس حوالے سے کارٹون کیوں نہیں بناتا ۔۔۔؟  مدر پدر آزادی کو زندگی کا دستور قرار دینے والے گوروں نے یہودیوں کو دل آزاری سے بچانے کے لئے تو قانون بنا دیا یا یہودیوں نے قانون بنوادیا لیکن مسلمانوں کے آن شان جان سرکار دو عالم سمیت مقدس ہستیوں کی توقیر کی حفاظت کے لئے کوئی قانون کیوں نہیں ؟ اس وقت آسٹريا ، بیلجيم ، جمہوريہ چک ، فرانس ، جرمنی ، ليتھوانيا ، پولينڈ ، رومانيہ ، سلواکيہ اور سوئٹزرلینڈ وغیرہ ميں "ہولو کاسٹ کے انکار" یا اسے مبالغہ آرائی قرار دئیے جانے کو جرم سمجھا جاتا ہے اور سوال اٹھانے والے مجرم کو نقد جرمانہ يا قيد کی سزا بھگتنا پڑتی ہے 2006ء ميں برطانوی مؤرخ ڈيوڈ ارونگ اور فرانسيسی محقق راجر گارودی کو "ہولو کاسٹ" پر تنقید کی پاداش میں سزا بھگتنا پڑی تھی عجیب بات ہے کہ دنیا بھر کے محض ایک کروڑ چالیس لاکھ یہودیوں کی دل آزاری تو جرم ہے لیکن نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بکواس کر کے دو ارب مسلمانوں کا دل دکھانا جرم نہیں ؟

دور غلامی کی نحوست

جب کسی قوم کی تلوار میدان جنگ میں  شکست کھاجاتی ہے تو اس کی تہذیب ، تمّدن ،ثقافت  حتٰی کہ اس کا قلم بھی ہار جاتاہے ۔ہزار چاہنے کے باوجود بھی انسان اپنے  تہذیب ، تمّد ن ،ثقافت حتیٰ کہ اپنے دین پر مکمل عمل پیرا ہونے سے بھی رہ جاتا ہے ۔اس کی شریعت بھی رعایتوں پر مشتمل ہوجاتی ہے ۔بلکہ یو ں کہیئے کہ   مغلوب قوم کو غالب  قوت کے بنائے گئے قوانین  کے مطابق  فیصلے   قبول کرنے پڑتے ہیں ۔جب دور غلامی کی رات طویل ہوجاتی ہے تو  انسان  اپنی غلامی پر فخر کرنے لگتاہے اس کو اپنی  سابقہ  ہر اس رویئے پر شرمندگی ہونے لگتی ہے جس پر وہ اپنے ماضی میں فخر کیا کرتا تھا ۔جسمانی غلامی آہستہ آہستہ دل اور دماغ کو بھی اپنا اسیر بنالیتی ہے  وہ حاکم قوم کی زبان بولنے میں، ان جیسے کپڑے ،کھانے اور رہن سہن پر فخر محسوس کرنے لگتاہے ۔ اس کی بہت ساری مثالیں ہمارے سیاسی ،معاشرتی ،معاشی زندگی میں بکثرت مل جائیں گی سیاسی زندگی میں اس کی مثال کچھ یوں ہےکہ  خلافت  اور اس کے بعد  بادشاہت   کی جگہ نام نہاد جمہوری نظام نے  جب سے لی  اب  نظام سیاست و حکومت  ساری مسلم دنیا کو  بھی اچھی لگ رہی ہے   اور روشن خیال  مسلمان طبقہ بھی اس کے گن گا رہا ہے اور اس پر فخر محسوس کررہا ہے اور اس کو اپنا شاندار ماضی  معیوب نظر آنے  لگا ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جوکہ بنیاد پرست ہیں ۔اسی  طرح اگر کوئی معاشرے میں ایسا شخص ہوتا  جس کے بارے میں لوگوں کو یہ معلوم ہوتاکہ اس  کا کاروبار سودی ہے تو لوگ اس سے قطعہ تعلق کرتے، حتٰی کہ اس کے گھر کے کھانے پینے کو بھی اپنے لیے حرام سمجھتے۔ ہمارا اپنا   تعلیمی نظام تھا  جس نے دنیا کے بڑے بڑے نامور علمی شخصیات دنیا کو دیں اسی طرح فحاشی اور بے حیائی کو مسلمان کیا غیر مسلم بھی برا سمجھتے اور اس سے نفرت پائی جاتی تھی ۔اپنی زبان بولنے پر   ہم فخر محسوس کرتے تھے ۔ اور دوسروں کی زبان بولنا  ہمارے لئے باعث فخر نہیں تھا ۔ہمارا رہن سہن  ہماری اپنی  تہذیب و ثقافت کے مطابق تھا ۔ ہمیں اسی پر فخر تھا ۔ہماری تحریریں اور تقریریں بھی ہمارے شاندار ماضی کی غماز تھیں ۔غرض یہ کہ ہماری ہر چیز  ہماری اپنی تھی ۔ مگر تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہو ا  کہ غلامی میں بدل جاتاہے قوموں کا ضمیر برسہا برس کی انگریزوں کی غلامی سے آزادی تو حا صل ہوگئی اور اس بات کو ستّر سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے  مگر اس غلامی نے ہماری  ہر چیز کو بدل ڈلا ہے  ۔ آج انگریزی زبان بولنے پر ہم فخر محسوس کرتے ہیں اور جن کو یہ زبان نہیں آتی وہ اپنی زبان بولنے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں ۔کسی انگریز کی  پینٹ اگر  گھٹنوں سے پھٹ جائے اور وہ اس کو پہن لے تو ہمارے معاشرے میں نوجوان اس طرح کی پھٹی ہوئی پینٹ خرید کرپہن رہے ہوتے ہیں۔ وہ لباس جو کہ ماضی میں...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے " حق گو " ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے " ایماندار ترین " لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان جیسی  " پوتر " اور " مادر ملت " خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، " محافظ ختم نبوت " اور اس ملک کے "سنجیدہ ترین" انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے " لینڈ گریبر " کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔ غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ " لڑکے " پرویز خٹک جیسے یوتھ کے " نمائندے " اور دوست محمد کھوسہ جیسے " ہینڈ سم اسمارٹ بوائے " کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے " ایمان افروز ملفوظات " کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔ 5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل " سادگی کا نمونہ " خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک...

معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار

(یوم اساتذہ پر اساتذہ کے نام ایک پیغام) استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا...

پاکستانی قائی قبیلہ …؟؟؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی قائی قبیلہ کون ہے ؟؟؟ آجکل ارتغل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے پاکستان میں اسکی مقبولیت نے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں ۔ کیا کسی نے سوچا کہ اس کی اس حد درجہ مقبولیت کی وجہ کیا ہے ؟؟ اسکی مقبولیت کی وجہ اسکا حق پر ڈٹ جانا ہے اور اس معاملے میں نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کرنا اور نہ ہی کسی طاقتور کی طاقت کا خوف کھانا , اور نہ کسی مصلحت کا شکار ہونا ہے ۔ اس ڈرامے کے ہیرو ارتغل اور دیگر کرداروں کی اس درجہ مقبولیت میں انکا بے خوف کردار اور اللہ تعالی پر غیر متزلزل یقین ہے ۔ برے سے برے حالات میں بھی اللہ تعالی سے ناامید نہ ہونا اور کوشش کو جاری رکھنا اور پھر اللہ کا انکے لیے راستہ نکال دینا حق اور باطل کی اس کشمکش کو رائیٹر نے بہترین انداز میں پیش کیا ہے ۔ ارتغل اور اسکے ساتھی کرداروں کی مقبولیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانی فطرت حق کو پسند کرتی ہے اور منافقت ,دوغلے پن ،غداری اور ظلم و بربریت کو سخت ناپسند کرتی ہے ۔ مگر!یہ تو غالباً سات آٹھ سو سال پرانے کردار ہیں جن کے ہم دیوانے ہیں ۔۔۔۔ ضرورت ہے کہ ہم آج کے معاشرے میں ان کرداروں کو تلاش کریں اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ مگر ٹہریے! اس سے پہلے کہ اس تلاش میں ،میں آپکی مدد کروں پہلے ان خطرات کو ضرور اچھی طرح سمجھ لیں جو ارتغل ،نورگل ،بابر اور روشان جیسے حق کے دیوانوں کا ساتھ دیتے وقت پیش آتے ہیں ۔ اس ڈرامے نے یہ بات بہت اچھی طرح سمجھا دی کہ حق کا راستہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہے ۔ اس راہ میں اپنے اندر کے کردوغلو بھی ملتے ہیں اور وحشی منگولوں سے بھی پالا پڑتا ہے یہاں نہ سعدالدین کوپیک جیسے منافقین کی کمی ہے اور نہ صلیبیوں جیسے عیار ومکار دشمنوں کی ۔ لہٰذا اِس راستے پر چلنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ یہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔ بقول شاعر  ؎ یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جانا وہ یہیں سے لوٹ جائیں جنہیں زندگی ہو پیاری کیونکہ اس راستے میں اپنوں سے نظریاتی راستے جدا بھی ہوجایا کرتےہیں اور یہاں نہ صرف اپنی خواھشات اور پرآسائش زندگی سے ہجرت کرنی پڑتی ہےبلکہ جان کے لالے بھی پڑ جاتےہیں تو اگر آپ اس راستے پر چلنے کو تیار ہیں تو آئیے میں آپکو بتاتی ہوں کہ پاکستان میں بھی ایک قائی قبیلہ رہتا ہے جسکا ہر لیڈر ارتغل ہی کی طرح بےخوف ،نڈر اور حق پر ڈٹ جانے والا ہے ۔۔۔ جسکا ہر کارکن نورگل ،بابر اور روشان کی طرح بہادر ,بےخوف اور اپنے مقصد سے عشق کرنے والا وفادار ہے۔ جسکی خواتین حائمہ اماں کی طرح ہر مشکل گھڑی میں ثابت قدم رہتی ہیں اور حق کے راستے میں اپنے مردوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ۔ اس قائی قبیلے نے ہر دور کے باطل کے سامنے کلمہ حق بلند کیا ہے اور اس راہ میں شہداء پیش کیے ہیں ۔ چاہے وہ ایوب خان کی فوجی آمریت ہو یا بھٹو کی...

بچوں کے ساتھ زیادتی اور سیکس ایجوکیشن

قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک پر پورا ملک سوگوار ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے بات کی جارہی ہے۔ پاکستان میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر طبقے کے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اس واقعے کی مذمت، اس پر تبصرہ اور اس کی وجوہات پر بات کی ہے۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس واقعے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ جی ہاں آپ لوگ ٹھیک سمجھے میرا اشارہ موم بتی مافیا کی طرف ہے۔ ننھی زینب کے واقعے کی آڑ لے کر ایک میڈیا گروپ اور ایک مخصوص لابی احتیاط اور آگاہی کے نام پر اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کو فروغ دینا اور اس کو نصاب میں شامل کرنے کی مہم چلانے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے کئی باتیں غور طلب ہیں۔ان باتوں کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ جن باتوں کو بنیاد بنا کر یہ مہم چلائی جارہی ہے اول تو وہ ساری باتیں ہی بے بنیاد ہیں اور دوسری بات یہ کہ یہاں نام تو آگاہی اور احتیاط کا لیا جارہا ہے لیکن جب قانونی طور پر سیکس ایجوکیشن کا نام نصاب میں شامل ہوجائے گا تو پھر وہی سیکس کی تعلیم یہاں بھی دیجائے گی جو کہ دنیا بھر میں سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسکولوں میں دی جاتی ہے۔ یہاں ہم ان باتوں کا جائزہ لیں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ یہ مہم بے بنیاد باتوں پر چلائی جارہی ہے تو اس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ ننھی زینب، قصور میں ہونے والے پے درپے واقعات اور پورے ملک ہونے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے کیسز اغوا، زیادتی اور قتل کے ہیں، یعنی یہ سارے واقعات فوجداری ہیں، ان کی روک تھام پولیس، انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ (اس حوالے سے ہم نے ایک مضمون میں تفصیلی بات کی ہے جو کہ اسی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جس کا لنک یہاں دیا جارہا ہے۔) https://blog.jasarat.com/2018/01/13/saleem-ullah-3/ لیکن ان کو ٹھیک کرنے کے بجائے بڑی چالاکی سے ان کی ذمے داری والدین اور اسکولوں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان سارے واقعات کا سیکس ایجوکیشن وغیرہ سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز اس کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا دوسرا نکتہ جس کو یہ مخصوص لابی اپنی بنیاد بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب بچے اپنے والدین سے ایسی کوئی شکایت کرتے ہیں، اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی یا کا بتاتے ہیں تو والدین دقیانوسی رویہ اپناتے ہوئے ان کو چپ کراتے ہیں یا بدنامی کے خوف سے چپ ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ بدنامی کے خوف سے والدین صرف اس وقت خاموش ہوتے ہیں جب خدانخواستہ میرے منہ میں خاک کسی کی جوان بچی کی عزت و آبرو کو تار تار کیا جائے۔ بچوں160کے معاملے پر توہم نے میڈیاپر، معاشرے میں، گلی محلے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

موضوعِ دل

دل کے بگاڑ سے ہی بگڑتا ہے آدمی جس نے اسے سنبھال لیا وہ سنبھل گیا حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تمھارے جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا سنو وہ دل ہے۔ ایک رشتے دار کے دل کے آپریشن کا سن کر بہت دکھ ہوا دعا ہے اللّٰہ پاک تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ دل کے عارضے میں مبتلا کیوں ہو رہے ہیں۔صرف راولپندی کارڈیالوجی میں روانہ 250 افراد انتہائی تشویش کی حالت میں لاے جاتے ہیں ماہرین کے مطابق کے امراضِ قلب کی بڑی وجوہات موٹاپا شوگر نشہ ورزش کی کمی سب سے بڑ کر ڈپریشن ہے جو کہ ام الامراض ہے آپ کا دل ایک منٹ میں 20 لیڑ خون جسم میں پہنچاتا ہے اس کو اپنا کام کرنے کے لیے خون۔آکسیجن۔ اور قوت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔دل کے امراض کا عالمی دن 29 ستمبر ہے طب نبوی میں دل کے لیے اہم غذائیں جو کا دلیہ،شہد،کھجور،زیتون کا تیل ہے ماہرینِ قلب کی احتیاطیں بھی اپنی جگہ اہم ہے مگر اس کی اہم وجہ ہمارا خود کو وقت نہ دینا ,اندھی مغربی رواج کی تقلید، بلا وجہ کا دکھاوا، مہنگائی اور معاشی دباؤشامل ہے   ۔ ایک آپریشن  تھیٹر کہ باہر لکھا تھا جو کھول لیتے دل یاروں کے ساتھ تو نہ کھولنا پڑتا اوزاروں کے ساتھ۔  عام مشاہدہ میں بھی ہے کہ جو لوگ ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔بے مقصد الجھنوں میں خود کو الجھاتے نہیں ہیں  وہ کم ہی بیمار ہوتے ہیں۔نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ نے فرمایا کہ جو اب آے گا وہ جنتی ہوگا اور مسلسل تین ایسا ہی ہوا ایک ہی دیہاتی آیا  صحابی رسول  نے اس شخص کے ساتھ رہ کے مشاہدہ کیا تو ایسی کوئی خاص بات نہیں  ملی ، تو اس سے ہی استفسار کیا تو جواب ملا کہ میں روانہ سب کو معاف کر کے سوتا ہوں ۔ قارئین یہی نسخہ ہم نے بھی اپنانا ہے ۔ جو عمل دوسرا کر گیا وہ اس کا ظرف تھا ردعمل ہمارے ھاتھ میں ہوتا ہے ہمیشہ دوسروں کو معاف کیجئے ۔ امید انسانوں کے خالق سے رکھیے ان شاءاللہ  نہ ہی ڈپریشن ہو گا نہ بلڈ پریشر بڑھے گا نہ دل کی یا کوئی اور تکلیف ہوگی۔اور ایک بہت ہی آزمایا ہوا نسخہ کہ رشتے داریاں جوڑیں اور پھر اپنی جان مال اور اولاد میں برکت دیں۔ تجربہ شرط ہے

دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر…۔

کل بہت سے لوگوں نے ہماری شادی کی سالگرہ پر پوچھا کہ ہنستے بستے رشتے کا رازکیا ہوتا ہے؟ اس موضوع پر ذرا کھل کر لکھنے کا ارادہ ہے، لگتا یہ ہے کہ رشتوں کا بحران ہماری زندگیوں کا سب سے بڑا کرائسس بن چکا ہے. ہمارے خاندانی نظام کا بلبلہ پھٹنے کو ہے اور اسے بچانے کے لیے ہم سب کو کلاس روم میں داخل ہونا پڑے گا. لیکن ابھی مختصر سی گدڑ سنگھی حاضر ہے، وہی جس کی طرف بڑی بی اشارہ کر رہی ہیں. جی ہاں، بہرا پن، یا ڈورا پن بھی ایک ایسا ہی سیکرٹ ہے. ضروری نہیں ہر بات سنی جائے، یا ہر بات کا جواب دیا جائے، کچھ باتیں سنی ان سنی کردی جائیں تو رشتوں کے باؤلے پن سے بچا جا سکتا ہے. اس کا مطلب سٹون والنگ نہیں ہے. اس پر بھی بات ہوگی. آنکھوں میں بے شک ڈراپ ڈال کر رکھیں اور دیکھنا بے شک دگنا کردیں مگر کچھ کچھ، سنا، ان سنا کردیں۔

پیچھے پھر!!!!۔

یہ ایک غیر معمولی بحران تھا، جو ٹل گیا مگر کچھ عرصہ تک اس کا دھواں اٹھتا رہے گا.                                       سندھ میں آئی جی پولیس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کچھ سامنے آچکا ہے، مزید آجائے گا. یہ طے ہے کہ آئی جی کی تذلیل کی گئی اور کیپٹن صفدر کو سبق سکھانے کے لئے کچھ سرخ لکیریں عبور کی گئیں. کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر جو کچھ کیا، وہ غلط تھا، لیکن اس کی ناک رگڑنے کے لیے جو کچھ کیا گیا، وہ اس سے زیادہ غلط تھا. آئی جی سندھ مہر مشتاق مرنجاں مرنج آدمی ہیں. ویسے بھی ایسے عہدوں پر پہنچنے والے مرنجاں مرنج ہی ہوتے ہیں. انہیں رات کے چار بجے اپنی خاندانی رہائش سے اٹھا کر ڈالے کا سفر کرانا اور سایوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں تھی. جس نے بھی کیپٹن صفدر کے سمری ٹرائل اور فوری پھانسی کا حکم جاری کیا، اسے شربت بزوری معتدل پینے کی ضرورت ہے. یہ زیادہ سے زیادہ ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی لیول کی اسائنمنٹ تھی جس میں ایک آئی جی کو گھسیٹا گیا. اب، آئی جی، پولیس کا جنرل لیول کے برابر کا افسر ہے. آئی جی، نوکری پیشہ آدمی ہیں اور ہرگز چی گویرا نہیں ہیں، ان کے اندر سے چی گویرا نکال لیا گیا ہے. سایوں کی ساٹھ سالہ حکومت میں پہلے بھی یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے. بازو بھی مروڑے جاتے ہیں، لیکن بہت کم. زیادہ تر لہجے کے زور پر یا گالم گلوچ سے کام چل جاتا ہے. پرسنل فائلیں بھی کافی کام آتی ہیں. تاہم سارے افسران پنجاب پولیس جیسے نہیں ہوتے جن کی کمر سے ریڑھ کی ہڈی پہلے شہباز شریف اور بعد میں تحریک انصاف کی حکومت نے نکال لی ہے. گھوم پھر کر یہ کرائسس آف گورنینس ہے. اصل سوال وہی ہے کہ پاکستان کا مالک کون ہے؟ خاکی اور خفیہ ادارے بجا طور پر اپنے آپ کو مالک سمجھتے ہیں. عدلیہ سمجھتی ہے کہ تشریح کا اختیار اس کے پاس ہے کہ الاٹی کون ہے اور مالک کون ہے. بیورو کریسی کا سارا زور نوکری کرنے، مرضی کی پوسٹنگ لینے اور جو جیتے اس کے ساتھ بستر میں جانے پر صرف ہوتا ہے. کبھی ایک آنکھ، اور کبھی دوسری آنکھ بند کر لی جاتی ہے. اب یہ نہ پوچھئے گا کہ اس فارمولے میں عوام کیوں شامل نہیں ہیں. جو کراچی میں ہوا، وہ پہلے بھی ہوتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا. اسی طرح کے مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، وزیراعظم برطرف ہوتے اور پھانسی لگتے رہے ہیں. بس لگتا یہ ہے کہ جن کے ذمےیہ کام لگایا گیا انہوں نے چول ماری اور کچھ سرخ لکیریں پار کر لیں. اس وقت سندھ میں انتظامی بحران عروج پر ہے. لیکن یہ سیاسی بحران نہیں. بلاول بھٹو یا مراد شاہ کے کہنے ہر ایک سپاہی نوکری کو لات نہیں مارے گا. ایک ایسا ملک جس میں نوکری لینے کے لیے جان پر کھیلنے کی روایت ہو،...

مس 96.7 ڈگری ہے۔

ڈرائیور نے ابھی پوری طرح بریک بھی نہیں لگائی تھی کہ وہ تیزی سے دروازہ کھول کر تقریبا چلتی ہوئی گاڑی سے کودنے کے بعد اسکول کی طرف بھاگی،موبائل فون سے ٹائم دیکھا اسکول لگنے میں پانچ منٹ باقی تھے، تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے سکول گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہیں اس نے سکھ کا سانس لیا کہ بروقت پہنچ گئی، "دائرہ دائرہ دائرہ۔۔ "کی چیختی ہوئی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی جو سٹپٹا کر سامنے دیکھا تو ٹیچر مریم انہیں ہاتھ کے اشارے سے دائرہ کے اندر کھڑا ہونے کا کہہ رہی تھیں،،، "اوہ اچھا۔۔ وہ چھلانگ لگا کر دائرے کے اندر کھڑی ہوگئی۔۔آگے چار پانچ دائروں میں بچے کھڑے تھے اور اپنا ٹمپریچر چیک کروا رہے تھے۔دائرے میں کھڑے کھڑے اس کا اونگھنے کو دل کیا کیونکہ یہی سکون کے چند لمحے اس کو ریسٹ کرنے کو ملے تھے،اس کا جی چاہا کہ ٹمپریچر چیکنگ اور سینیٹائزیشن کا عمل طویل ہوجائے یا وہ پچھلے کسی دائرے میں جا کر کھڑی ہو جائے،مگر اس کے ایسا سوچنے کے دوران ان اس کی باری آگئی،ٹیچر مریم نے ٹمپریچر چیک کیا۔ "مس 96.7 ڈگری ہے۔ " اگلے دائرے میں ٹیچر اسماء نے مسکراتے ہوئے سینیٹائزر کی بوتل سے اس کے ہاتھوں پر سپرے کیا۔ اس نے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر ملتے ہوئے جوابی مسکراتا ہوا سلام کیا اور اسٹاف روم کی طرف دوڑ گئی,وہاں کھڑے ہو کر گفتگو کرنا خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ انار کے پودے کے پاس کھڑی میم کی نگاہیں اس کو گھور رہی تھیں۔ اسٹاف روم میں پہنچ کر گاؤن تبدیل کرکے دوپٹہ لیا ہی تھا کہ سامنے ٹیبل پر اپنی نامکمل فائل نظر آئی اور ساتھ ہی میم کی کل والی جھاڑ کا کڑوا ذائقہ گلے میں محسوس ہوا۔ "پورا ہفتہ گزر گیا ابھی تک آپ سے بچوں کے فون نمبر اور گھر کے ایڈریس کی لسٹ مکمل نہیں ہوئی،اب آپ کے پاس صرف آج کا دن ہے،کل صبح یہ لسٹ مکمل ہو کر میری ٹیبل پر پڑی ہونی چاہیے" اس نے میم کے الفاظ یاد کر کے ایک جھرجھری لی اور فائل کھول کر بیٹھ گئی،پہلے پیریڈ میں کلاس کے بچوں سے ایڈریس اور فون نمبر مانگا،جوابا بچوں نے کورے چہروں کیساتھ مس کی طرف دیکھا جیسے ان کی بات نہ سمجھے ہوں۔ "میں نے کہا اپنے اپنے ایڈریسز اور فون نمبرزلکھوادیں۔" اس نے ذرا گھور کر بچوں کی طرف دیکھا "مس آپ نے ہمیں ایڈریسز اور فون نمبرز لے کر آنے کا نہیں کہا "،ہم گروپ اے ہیں، آپ نے گروپ بی سے کہا ہوگا مانیٹر نے اٹھ کر کہا۔ "اوہ۔۔۔۔۔وہ تو واقعی میں نے گروپ بی سے کہا تھا۔" اس نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا بچوں کو اپنے اپنے ایڈریسز اور فون نمبرز لے کر آنے کی تاکید کی، سبق پڑھایا اور اگلے پیریڈ کی بیل لگ گئی۔ دوسرے پیریڈ میں کلاس نہم کے وائٹ بورڈ پر موٹے حروف میں ٹیسٹ لکھا ہی تھا کہ پیچھے سے بچوں کی آواز آئی "مس آج ٹیسٹ نہیں ہے" "ارے کیوں نہیں ہے. کل ہی تو میں نے آپ کو انگلش کی تین سمریز ٹیسٹ کے لئے دی تھیں۔" اس کے...

ہم ہیں پاکستانی

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو دیوار پر ہی لکھ دیتے ہیں کہ دیوار پر لکھنا منع ہے پاکستان بڑا ہی دلچسپ ملک ہے بلکہ اتنا تو پاکستان دلچسپ نہیں جتنا اس کی عوام اور عوام بھی وہ جنہوں نے رائی کا پہاڑ بنانے میں ایم-ایس-سی، بے جا خوف پھیلانے میں ایم-فل، اور ہوائی خبریں اڑانے میں پی-ایچ-ڈی کر رکھی ہے۔ یہ کچھ پچھلے دنوں کی ہی بات ہے کہ اپنی گلی میں سے گزر ہوا تو محلے کی ایک آنٹی عمر تقریباً پچاس کے لگ بھگ میرے پاس آئیں دوپٹہ ایک طرف سے کان کے پیچھے اڑس رکھا تھا پہلے ایک نظر دائیں جانب کی گلی میں ڈالی پھر دوسری نظر بائیں جانب کی گلی میں ڈالی اور انداز ایسا تھا کہ جیسے انڈرورلڈ ڈون کے بارے میں معلومات دینے آئی ہوں، نہایت رازداری سے میرے قریب ہوئیں ''بیٹا میں نے جو سنا ہے کہ تیل گروپ آیا ہوا ہے کیا یہ بات سچ ہے'' اب ادھر اپنا تو یہ حال تھا کہ یوں سمجھا کوئی گروپ آیا ہوا ہے جو تیل بیچتا پھرتا ہے یا پھر شاید کوئی غربیوں کا گروپ آیا ہے پاکستان میں تیل کا کارخانہ لگانے  پھر خیال آیا کہ کل خبروں میں ذکر چل رہا تھا ''حکومت گئی تیل لینے'' تو کہیں یہ وہی تیل تو نہیں جو حکومت ہمارے لیے لینے گئی تھی ایک لمحے کے لیے تو تشکر سے آنکھیں بھر گئیں اور دل حکومت کے گیت گانے لگا خیر دو دن کے بعد ہی جو تیل گروپ کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹی تو پتہ چلا کہ بھئی ان تلوں میں تیل نہیں، تیل گروپ کی کہانی کچھ یوں ہے کہ شہر میں چوروں کا کوئی گروہ آیا ہوا تھا جو چوریاں کرنے کی وجہ سے تو اتنا مشہور نہیں ہوا جتنا تیل کے استعمال سے، کمبخت لگتا تھا کہ تیل کے کنویں میں نہا کر باہر نکلے ہوں اور جب تیل لگانے کی وجہ معلوم ہوئی تو عش عش کر اٹھے بے ساختہ پاکستانی قوم کے لیے دل سے نکلا ''دنیا گول اے۔۔۔۔تے تیرا علاج چھترول اے'' تو مطلب یہ ہوا کہ عوام بے چاری رو رو کر سوکھ گئی کہ تیل نہیں ہے ملک میں اور حکومت بیچاری بھی نکل پڑی تیل کی کھوج میں تو آخر یہ تیل گیا کہاں؟، اب بھانڈا پھوٹا کہ کمبخت تیل تو جسم پر لگا کر چوریاں کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے چوروں نے بھی سوچا بھئی ہم تو نہ پکڑے جائیں گے لو تمہارے ہاتھوں سے ایسے پھسلیں گے جیسے کوئی آنٹی بارش میں، جیسے کوئی انکل کیچڑ میں، جیسے کوئی بچہ کیلے کے چھلکے پر، کون کہتا ہے کہ پاکستانیوں کے پاس عقل نہیں ہے لو دیکھ لو عقل اور عقل کا استعمال۔ پھر میں دوسری طرف دیکھتی ہوں کہ ترکیوں کا ایک ڈرامہ ''دیریلیش ارتغرل'' پاکستان میں آیا اور کیا خوب چھایا، اتنا تو بنانے والوں نے نہ دیکھا ہو گا جتنا کہ پاکستانیوں نے،  گھر میں دیکھا تو منظر کچھ یوں نظر آیا کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، یہ قطار لگی پڑی ہے سب کی...

ہمارے بلاگرز