گریجویٹ

عرفان کواس وسیع و عریض شہر کی خاک چھانتے ہوئے ہفتے بھر سے زائد ہو چکا تھا۔ کس قدرامیدوں سے یہا ں آیا تھا۔ بڑی کوٹھی والے صاحب کا خط بھی کوئی مدد نہ کر سکا, ایک ہی جواب تھا ابھی ہمارے پاس گنجائش نہیں ساری نوکریاں بھر چکی ہیں ۔آپ اپنے کاغذات کی کاپی...

یہ ایک کام کرلیں‎

26 سالہ سموئیل جانسن اور 25 سالہ ایڈم سلوپر چار سال تک دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک گھومتے رہے ۔ ان دونوں نے برٹش بیک پیکر کے نام...

سیاست کی کرکٹ

کرکٹ کی تاریخ ریکارڈوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ بھی کوئی لاپرواہی سی لاپرواہی ہے کہ اپنی جانب سے یہ سمجھ لیا جائے کہ گیند باؤنڈری لائن پارکرچکی ہے...

برادری سسٹم اور ہمارا معاشرتی نظام

اللہ تعالی نے جب انسان کو تخلیق کیا تو  نوری مخلوق سے سجدہ کروا کے بہترین مخلوق ہونے کا اعزاز بخشا۔ سیدنا آدم علیہ السلام جب اس دنیا میں...

قابل تعریف اقدامات ،مگر نامناسب منصوبہ بندی

پاکستان تحریک انصاف نے جب سے حکومت سنبھالی ہے، لگاتار مشکلات کا شکار ہے۔الیکشن سے قبل برسر اقتدار جماعت کی طرف سے بلند و بانگ دعوے کئے گئے تھے۔شاید...

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

جامعہ حفصہ دیتی ہیں بد دعائیں پرویز لگیں تجھے عافیہ کی آہیں إِنَّ بَطْش رَبّك لَشَدِيد بہت خوب ! جنرل پرویز مشرف صاحب یقیناً میرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔۔...

عافیہ صدیقی سے ذیشان اشرف تک ہمارا قومی المیہ 

کراچی سے برادرم محمد ایوب ( گلوبل کوآرڈینیٹر عافیہ موومنٹ) کا گزشتہ روز ایک ٹیکسٹ میسج ملا کہ جمعہ 19اکتوبرکو عظیم بہن عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے خصوصی دعاوں...

کیا بڑھتی ہوئی ہوس پرستی کا ذمہ دارصرف میڈیا ہے؟

عجب وقت آن پڑا ہے کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کے معاملے میں کسی سگے رشتے پر بھی اعتبار نہیں کر سکتے ـ آۓ روز ایسے ایسے واقعات...

’’آنے والا دور نوجوانوں کا ہے‘‘

سالو ں پہلے ہمارے گاؤں کے ایک لڑکے نے کباڑ کا کام شروع کیا۔چند ہزار روپے سے اس نے شیشے اور پلاسٹک کی بوتلیں خریدنا شروع کیں،وہ کئی سال...

ایک پُرتگالی کہانی

اِسمتھ ايک بہت پيارا چھ سال کا ذہين بچہ تھا۔ اس کے ماں باپ نے اسے ايک بہت بڑےا سکول ميں پہلی کلاس ميں داخل کروايا۔ اس کو ڈھيرساری...

جینے کا ہنر

جب زندگی کی ڈور الجھ جائے،تب کیاکریں

مجھے ایک واقعہ یاد ہے جب ہم کراچی ایک علاقے میں رہایش پذیر تھے۔ہمارے علاقے کے گرلز اسکول کا واقعہ ہے۔ایک روز ایک طالبہ اسکول گئی لیکن اسکول کی...

دو خدا

وہ مسکرائے اور کہنے لگے "اگر تم تحقیق کروگے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں چار ہزار سے زیادہ خدا ہیں جن کی عبادت اور پوجا کی جاتی...

“سوال کی قوت “

’’سوال ہی جواب ہیں،جو سوال کرتا ہے، وہ جواب سے گریز نہیں کر سکتا۔‘‘ تم جانتے ہو ہمارے اندر موجود یقین کی قوت کس طرح ہمارے فیصلوں،اعمال،قسمت اور ہماری زندگیوں...

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے...

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

انسانی دماغ میں ایک سو ملین سے بھی زیادہ اعصابی خلیے (نیوران) پا ئے جا تے ہیں اور ہر ایک خلیہ ایک سوپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ طاقت ور...

آپ خود کو صرف59 سیکنڈز میں بدل سکتے ہیں

آپ صرف 59 سیکنڈز میں اپنی شخصیت میں نمایاں تبدیلی لاکر ایک خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں جی ہاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں۔ یہ دعویٰ...

میڈیا واچ

تفریح یا ٹینشن۔۔۔۔

برائی کا اشتہار بنانے سے برائی پھیلتی ہے نہ کہ کم ہوتی ہے۔ہمارے ملک میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا سستی تفریح کا ذریعہ ہے۔لیکن یہ سستی تفریح ہے...

 تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔۔۔۔۔ 

انابیہ جلدی جلدی اپنے اگلے دودن کی مصروفیات کو سمیٹنے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھی۔ محمل بڑی حیرانگی سے انابیہ کی پھرتی کو دیکھ رہی تھی ۔ کہاں...

رشتوں کی ٹوٹتی ہوئی ڈور

وہ شدت سے رو رہی تھی۔اُس کی کانپتی آواز اور سسکیاں میری روح کو چھلنی کر رہی تھی۔میں باوجود اپنی پوری کوشش کہ اُسے مطمئن کرنے میں ناکام تھی۔بات...

زن مرید۔۔۔ ایک ڈرامہ یا سوشل انجینئرنگ؟

 "زن مرید"، ڈرامے کا نام سنتے ہی ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ ایک معصوم سے کاٹھ کے الو قسم کے شوہر کا تھا جو اپنی بیوی کے...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر...

ترکی ڈرامے۔۔ پاکستان میں

عشق ممنوع، میں عائشہ گل، میرا سلطان، کوسم سلطان، پیار لفظوں میں کہاں، الیف، ایک حسینہ ایک دیوانہ، فاطمہ گل، مناہل اور خلیل، آشیانہ میری محبت کا... 2012 سے پاکستان...

مباحث

دین مائینس سیاست برابر چنگیزی

جب بھی اسلام  میں سیاست کے حوالے سے بات چھڑتی ہے یا بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو عام طور پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس مصرع کا...

سرسید اور ان کی پیدا کردہ ذہنیت

ایک مسلمان کے لیے سب کچھ اس کا دین ہے، اس کا خدا ہے، قرآن مجید ہے، رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ ہے، آپؐ کی سیرت ہے، آپؐ کی...

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر...

قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ، قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ''شارح'' ...

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے بغیر آپ اسکے شہری نہیں بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ...

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے...

جدیدیت کیا ہے،کیانہیں؟

دنیا کی ٢٣ روایتی، الہامی دینی تہذیبوں میں انسان عبد تھا۔ وہ جو اس نیلی کائنات میں خدا کے آگے سر بسجود ایک ہستی تھا جو اپنی آخرت کی...

اہم بلاگز

ہنوز دلی دور است

20مارچ 1739 ؁ء دہلی میں محلہ حوض قاضی کی سنہری مسجد کا منظر ، یہ مسجد روشن الدولہ کی مسجد بھی کہلاتی ہے ۔ مسجد کی سیڑھیوں پر ایک سپہ سالار ننگی تلوار ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے۔ اس کے گرد محافظین کا دستہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ سپہ سالار ان افواج کا سربراہ ہے جو گزشتہ نو گھنٹوں سے دہلی میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ان نو گھنٹوں میں دہلی میں ایک لاکھ سے زائدبے گناہ افراد قتل کیے گئے ہیں۔ گلی کوچوں میں لاشوں کے ڈھیر جمع ہوچکے ہیں۔ شرفاء دہلی کے گھروں کے دروازے کھلے پڑے ہیں اور حملہ آور افواج کے سپاہی ان گھروں کے باسیوں پر تشدد کرکے پوشیدہ مال و دولت نکلوارہے ہیں۔ دہلی کے خوبصورت مکانات دھڑا دھڑ جل رہے ہیں۔ حملہ آور سپاہی پورے پورے محلے لوٹ مار کے بعدنذرآتش کررہے ہیں۔ مرد و عورت اور جوان بوڑھے کا فرق کیے بغیر قتل وغارت گری کی جارہی ہے۔ دہلی والوں نے بھلا ایسی قیامت کب دیکھی تھی؟ اس قتل عام نے تین سو سال پرانی امیر تیمور کی دہلی پر یلغار کو بھی شرما دیا ہے۔ اب مجبور ہو کر بادشاہ دہلی نے نظام الملک آصف جاہ کو روشن الدولہ کی مسجد بھیجا ہے اور نظام الملک حملہ آور سے دہلی والوں کے لیے جان بخشی طلب کرتے ہیں۔ آخر کار حملہ آور سپہ سالار تلوار نیام میں ڈال لیتا ہے اور یہ اشارہ ہے کہ قتل و غارت گری بند کردی جائے! یہ سپہ سالار ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار ہے جسے تاریخ میں نادر قلی بیگ بھی کہا گیا ہے اور یہ آج دہلی والوں پر قیامت بن کر ٹوٹا ہے۔ گزشتہ ماہ 24فروری 1739 ؁ء کو دہلی سے سو کلو میٹر دور کرنال کے میدان میں مغل لشکر نادر شاہ کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار ہوگیا تھااور مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلاکو نادر شاہ نے اس معرکے میں گرفتار کرلیا تھا۔ دہلی میں شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مغل فوج کا یہ حال بھی ہوسکتا ہے۔ صرف32سال پہلے مغل تاجدار اورنگزیب عالمگیر کی وفات کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے تقریباً پچاس سال قندھار اور کابل سے لے کر دہلی اور لاہور تک جاہ و جلال کے ساتھ حکومت کی تھی۔ عالمگیر نے اپنی بیشتر زندگی میدان جنگ میں گزاری تھی اور اپنے دور حکومت میں مرہٹوں اور سکھوں کی یورش پر بڑی کامیابی سے قابو پالیا تھا۔ آج اس کی وفات کے صرف 32سال بعد ایران سے نادر شاہ ایرانی لوٹ مار کرتا چلا آرہا تھا اور دہلی کے لال قلعے تک اسے روکنے والا کوئی نہ تھا! محمد شاہ رنگیلا1719 ؁ء تا 1748 ؁ء: 1707 ؁ء میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد سے 1719 ؁ء میں محمد شاہ رنگیلا کی تخت نشینی تک12سال کے وقفے کے دوران مغل تخت پر چھ حکمران مسندنشین ہوئے، اعظم شاہ، بہادر شاہ اول، جہاں دار شاہ، فرخ سیر، رفیع الدرجات، اور شاہجہاں ثانی۔ یعنی12سال میں مغل سلطنت کے چھ حکمران ! عالمگیر کی وفات کے بعد زوال حکومت کی یہ...

جب دنیا والے سوتے تھے وہ میرے غم میں روتا تھا

انسان معاشرتی حیوان ہے اور اسے قابو میں رکھنے کے لیے محبت، امن، خداترسی ،ہمدردی اوردوسروں کے درد کو محسوس کرنا جیسے جذبات اس کے دل میں ڈالے گئے۔اور  اگر یہی جذبات دین و مذہب اور اخروی زندگی کی فلاح و کامیابی سے جڑ جائیں تو انسانیت عروج کی بلندیوں پر پہنچ جائے۔دنیا میں عدل وانصاف کا ہونااور انسان کااپنے جیسے انسان کےدردکو محسوس کرنا ۔دراصل ازل سے انسان  مسائل میں گھرا رہا اور رب تعالی نے اپنے انبیاء کو انسانیت کےمسائل کے حل کے ساتھ ہی دنیا میں بھیجا۔اور بالآخر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حجت تمام ہوئی اور  قیامت تک کے انسانوں کے لئے شریعت محمدیﷺ میں ہی اپنے مسائل کاحل تلاش کرنا لازم ٹھہرا۔ اور ساتھ ہی رب کے ساتھ اس کے محبوب کی محبت لازم قرار پائی۔ محبت بھی ایسی جو انسان کے اپنے فائدے کا سبب بنی نہ صرف دنیا کی زندگی میں کامیابی کا سرٹیفکیٹ قرار پائی بلکہ ہمیشہ ہمیش کی زندگی اور جنت میں داخلے کا پروانہ بن گئی۔اور عاشق رسول بھی ایسے کہ حق ادا کر دکھایا۔ بیعت رضوان کے موقع قریش کے وفد کی زبانی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے احوال کہ محمدﷺکے اصحاب تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی تک نیچے نہیں گرنے دیتے۔ ایسی عزت و اکرام تو میں نے بڑےبڑے بادشاہوں کی نہیں دیکھی۔  پھر جن سے محبت کی جاتی ہے انہی کے نقش قدم پر چلنے کی جستجو بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہی محبت اور نقش قدم پر چلنے کی توفیق ہے کہ جس نے مسلمانوں کو اوج ثریا پر پہنچا دیا اور آدھی دنیا کا حکمران بنا دیا ۔اور یہ وہی محبت ہےکہ ایک مسلمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آن کی خاطرکٹ تو سکتا ہے لیکن انکی حرمت پر کوئی آنچ آئے ،برداشت نہیں کر سکتا۔ اور یہ رشتہ مضبوط اسلیئے ہےکہ آج کا انسان و مسلمان یہ بات جان چکا ہےکہ موجودہ حالات میں تمام مسائل کا حل شریعت محمدیﷺ کی پیروی میں ہے۔ ایک طویل حدیث کا مختصرا مفہوم جس میں آج کے مسائل کا حل موجود ہے اس حدیث میں نبی کریم نے عدی بن حاتم کو تین پیشن گوئیاں دیں اور ساتھ ہی لمبی عمر کی بشارت بھی اور انھوں نے یہ پیشن گوئیاں خلافت راشدہ میں اپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھیں۔کہ ایک عورت سونا اچھالتی ہوتی اکیلی سفر کرے گی اور اسے جنگلی جانوروں کے علاوہ کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔ لوگ زکوۃ لے کر نکلیں اور کوئی لینے والا نہ ہوگا ۔تمام سپر پاور اسلام کے زیر نگیں آجائیں گی۔(مفہوم حدیث) اگر آج کے حالات میں دیکھا جائے تو انہی تین پیشن گوئیوں میں ہمارے مسائل کا حل موجود ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہےکہ ہم نبی کریمﷺ کے ساتھ ویسا تعلق قائم کریں جیساکہ حق ہے اور صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور  انفرادی اور اجتماعی سطح پر شریعت محمدی ﷺکے نفاذ کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔اسکےلیے سلطان صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی جیسے مجاہدین کی ضرورت ہے اور اس سے پہلےایسی ماؤں کی ضرورت...

ایک رشتہ جو میری اوقات بدل دیتا ہے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا, مجھے تمنا ہے کہ میں اپنے بھائیوں سے ملتا.صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: کیا ہم آپﷺ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے.(مسند احمد) اسی نوعیت کی ایک اور حدیث پیش خدمت ہے: روایت ہے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' خوشخبری ہو اسے جس نے مجھے دیکھا اور سات بار خوشخبری ہو اسے جس نے مجھے نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا."(مسند احمد). کتنے لطیف اور خوش کن انداز میں ذکر کیا ہے میرے نبیﷺ نے مستقبل میں آنیوالے اپنے امتیوں کا ان احادیث میں کہ ساڑھے چودہ سو سال گذرنے کے بعد بھی عقیدت اور محبت کی یہ ڈور امت کے موجودہ اور تاقیامت آنیوالے ہر فرد کا روحانی و شعوری رشتہ اپنے عظیم مربی و محسن سے جوڑے رکھتی ہے.ہر کلمہ گو کا اپنے نبی پاک سرور کائنات محمدﷺ سے جڑا یہ رشتہ ہی تو اسے اللہ کے نزدیک خاص الخاص بنا دیتا ہے. اندھیری راتوں کی تنہائیوں میں اپنے رب سے سرگوشیوں اور سسکیوں میں بھی "امتی،امتی" کی گردان کرنیوالے سے محبت بھرا یہ رشتہ ہی تو ہے جو میرے دل میں دھڑکتا ہے، میرے خون میں گردش کرتا ہے،میری سانسوں میں مہکتا ہے.پھر کبھی محبوب ﷺ کی یاد میں آنکھوں سے بہتا ہے۔کبھی ملنے کی تڑپ پیدا کرتا ہے،تو کبھی آنکھوں میں پیاس بن کر ، محبوب کے دیدار کی تمنا کر بیٹھتا ہے کہ کبھی خواب میں ہی سہی مجھے پیارے نبی ﷺ کا دیدار کرادے مولا.اس دائمی رشتے کی حساسیت ہی تو ہے کہ مسجد نبویﷺ میں روضہ رسول ﷺکی سنہری جالیوں کے اس پار سے وہ شفیق ہستی زخمی دلوں پر اپنی رحمت وشفقت کے پھاہے رکھتی میدان عمل میں جمے رہنے کیلیئے حوصلہ فراہم کردیتی ہے. اللہ رب العزت کے بعد مجھ گنہ گار سے سب سے زیادہ محبت کرنیوالا یہی تو رشتہ ہے.جس کی محبت اور خلوص نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے طائف کی وادیوں میں خون آلود وجود اور رنجیدہ قلب کے ساتھ میرے لیئے ہم سب کیلیئے عذاب کے فرشتے کی سامنے موجودگی کے باوجود دعائے خیر مانگی.اہل طائف کے ناروا سلوک کے باوجود امیدواخلاص سے بھرپور وہ دعا کہ انکی آئندہ نسلوں سے باایمان ,ہدایت یافتہ افراد اٹھیں کتنے دوررس مثبت اثرات رکھتی ہے کہ اسی طائف کی وادی کا نوجوان محمد بن قاسم برصغیر میں اسلامی تہذیب کے آغاز کا باعث بن گیا.میرے محبوب نبی ﷺکی وہ دعا میرے اور اس خطہ میں تاقیامت آنیوالے ہر ذی شعور مسلم کیلیئے کیسی بارآور ثابت ہوئی. میں کیسے بیان کروں کہ میرےنبیﷺ سے میرے اس لازوال رشتے کی کیا اہمیت ہے.قلبی کیفیات کو تحریر کرنا بہت کٹھن معاملہ ہے.میں تو ایمان و اخلاص کی انتہائی پست حالت میں ہوں  مجھ بے عمل کی اوقات سے ماورا ہے کہ میں اس رشتہ ،نسبت کا کبھی حق ادا...

یہاں سب بکتا ہے

ہم ایسے ملک کے رہنے والے ہیں جہاں سب کچھ بکتا ہے۔یہاں ریٹنگ کی دوڑ ہے اس لیے سب بکتا ہے۔کہیں زندگی بکتی ہے، تو کہیں موت بکتی ہے،کہیں اچھا بکتا ہے، تو کہیں برا بکتا ہے،کہیں عزت بکتی ہے، تو کہیں غیرت بکتی ہے، اور کہیں انصاف بکتا ہے تو کہیں ظلم و ستم بکتے  ہیں۔یہ ایسی منڈی ہے جہاں سب کچھ بکے گا جو ہے وہ بھی بکے گا اور جو نہیں وہ بھی بکے گا۔ یہاں اخلاقی اقدار کی دھجیاں بکتی ہیں،یہاں ہوشیاری کے نام پر مکاری بکتی ہے،یہاں تنقید کے نام پہ جہالت بکتی ہے،یہاں انصاف کے نام پہ ناانصافی بکتی ہے،یہاں مزاح کے نام پہ تذلیل بکتی ہے،یہاں فیشن کے نام پہ پردہ بکتا ہے،یہاں سچ کے نام پہ جھوٹ بکتا ہے،یہاں قابلیت کے نام پہ جہالت بکتی ہے، یہاں جیت کے نام پہ ہار بکتی ہے، یہاں آنسو بکتے ہیں یہاں سسکیاں بکتی ہیں اور پیسے کے نام پہ یہاں سب کچھ بکتا ہے۔ مال وہی بکتا ہے جسکا خریدار ہو۔ یہاں ظلم کا خریدار ظالم ہے تو ظلم بکتا ہے۔یہاں ناانصافی کا خریدار جج ہے تو ناانصافی بکتی ہے۔یہاں غربت کا خریدار حکمران ہے تو غربت بکتی ہے۔یہاں دھوکہ اور جھوٹ کا خریدار سیاست دان ہے تو دھوکہ اور جھوٹ بکتا ہے۔یہاں سیاست بکتی ہے تو خریدار اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے۔یہاں مذھب بکتا ہے تو خریدار مولوی ہوتا ہے۔بہر کیف یہاں سب بکاو مال ہے سب کچھ بکتا ہے۔ یہاں سب بکتا ہے۔کبھی غریب روٹی کیلئے بکتا ہے تو کبھی انصاف کیلئے بکتا ہے۔کبھی عزت بکتی ہے تو کبھی ضمیر بکتا ہے۔کبھی انصاف بکتا ہے تو کبھی انصاف کرنے والے بکتے ہیں۔کبھی آئین بکتا ہے تو کبھی قانون بکتا ہے۔کبھی ثواب بکتا ہے تو کبھی گناہ بکتا ہے۔کبھی بچے بکتے ہیں تو کبھی جوان بکتے ہیں۔افسوس ہوتا ہے کہ میرے دیس کا صرف غریب بکتا ہے اور امیر شہر کے لیے سب کچھ بکتا ہے۔میرے دیس میں ہر کچھ بکتا ہے۔ یہاں علاج بھی بکتا ہے تو یہاں علاج کرنے والے بھی بکتے ہیں۔یہاں مزدور بھی بکتا ہے تو یہاں  انجنیئر بھی بکتا ہے۔ یہاں سیاست بکتی ہے تو یہاں صحافت بھی بکتی ہے۔یہاں دین بکتا ہے تو یہاں ایمان بھی بکتا ہے۔ کبھی مریض بکتا ہے تو کبھی صحت مند بکتا ہے۔کبھی زندہ بکتا ہے تو کبھی مردہ بکتا ہے۔کبھی دلہا بکتا ہے تو کبھی دلہن بکتی ہے۔کبھی اولاد بکتی ہے تو کبھی والدین بکتے ہیں۔کبھی شاگرد بکتا ہے تو کبھی استاد بکتا ہے۔کبھی مرد بکتا ہے تو کبھی عورت بکتی ہے۔کبھی قیدی بکتا ہے تو کبھی آزاد بکتا ہے۔کبھی مجرم بکتا ہے تو کبھی قاضی بکتا ہے۔کبھی عدالت بکتی ہے تو کبھی قانون ساز اسمبلی بکتی ہے۔ ملک میں جب بکنے کی بات آتی ہے تو ہر طرف بکتے ہی دکھائی دیتے ہیں،گھر کے چوکیدار سے لے کر ملک کے سربراہ تک بکتے دکھائی دیتے ہیں،تھانے کے سنتری سے لے کر عدالت کے بڑے بڑے قاضی بکتے دکھائی دیتے ہیں،غریب کی غربت اور امیر کی امارت تک بکتے دکھائی دیتے ہیں،مزدور کی اجرت اور سرمایہ دار کی عیاشی بھی بکتی دکھائی دیتی ہیں،فرق اتنا ہے کہ کوئی...

میرا سب کچھ ، نامِ محمدﷺ

کائنات میں سب سے بدقسمت ، بدنصیب و غلیظ انسان وہ ہے جو دل رکھتا ہے مگر دل میں محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں رکھتا ، دراصل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) جس دل میں ہونگے وہ دل نہایت پاکیزہ و شفاف ہوتا ہے ۔کائنات کی سب سے عظیم و پاک و مطہّر ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔، آخر کیونکر ہر دل میں ہو سکتے ہیں ؟؟ ہر دل اس قابل نہیں ہوتا ،!! بہت منفرد ، نایاب ، خال خال ہی پائے جاتے ہیں ایسے دل ،۔۔۔۔، جن میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی سمائی ہو ، آپ نے دیکھا ہوگا اور اب تو روزانہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ؛ جدید مسلمان سرمائے و عہدے و مادّے و رنگ و زبان و نسل و قوم و ملک و وطن و علاقے و ذات پات ،۔۔۔۔۔۔۔۔، اور اپنی سیاسی و غیر سیاسی شخصیات کے تقدّس و عظمت و حرمت کی خاطر مرا جا رہا ہے ۔۔۔!! اس کے چہرے کا رنگ ، اس کے ماتھے کے تیور ، اس کے رویّے ، اس کے چال چلن ،۔۔۔۔۔۔، سب بتاتے ہیں کہ یہ دل میں کسے رکھتا ہے ۔۔!! اس کی زندگی کا عمومی ڈھنگ و کریکٹر یہ واضح کرتا ہے کہ اسے سب سے زیادہ محبوب اللہ اور اس کا رسول ہے یا کوئی اور چیز ۔۔۔۔۔؟؟ یہ ہر بار کہاں کمپرومائزڈ ہو جاتا ہے اور کہاں یہ ہر دفعہ کسی شے کو خاطر میں نہیں لاتا ۔۔۔؟؟ اس کی ترجیحات اس کے دل میں کون بستا ہے ،۔۔۔۔۔۔، اس کا پتہ دیتی ہیں ، اس کیلئے زندگی میں کون معیار و اسوہ و ماڈل و نمونہ و قدوہ و آئیڈیل ہے جسے دیکھ دیکھ کر یہ ہر پل جیتا ہے ؟؟ کہاں یہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور کہاں یہ ہمیشہ ٹھنڈا رہتا ہے ؟؟ اس کے جذبے ، اس کے جوش ، اس کا غیرت کھانا ، حتی کہ اس کا مرنے مارنے پر اتر آنا ۔۔۔۔۔۔ اس کے دل میں موجود اس کے محبوب کا تعارف کرواتا ہے ۔۔۔!! اس کی دوستیاں و دشمنیاں ،۔۔۔۔،  اسکے تعلقات و معاملات ،۔۔۔، اس کی مجلسیں و بیٹھکیں ،۔۔۔، اس کی سرگرمیاں و محنتیں ،۔۔۔، سب حرکات اس کے دل میں سمائے ہوئے کا نام واضح کرتی ہیں ۔۔!! یہی بات ہے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ خطائیں درگزر فرمادے گا ، لیکن جس دل میں اللہ اور اس کا حبیب نہ ہوا ۔۔۔۔؟؟ اللہ تو دل دیکھتا ہے اور فرمایا ؛ روزِ آخرت وہ قلبِ سلیم ہی پر راضی ہوگا ، دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ، جنتوں کے اعلان اور دوزخ سے نجات  ؛  قلبِ سلیم والوں ہی کو عطا ہوگی ۔لیکن یہاں معاملہ یکسر بدل دیا گیا ہے ،جو اپنے دل میں قوم و ملک و وطن و علاقے و زبان و رنگ و نسل و ذات پات و سرمائے و مادے و عہدے و شخصیات و پارٹی کی حرمت و عظمت و تقدس کیلئے کتنی ہی شدت رکھتا ہو ،۔۔۔۔، وہ احسن ہے ،۔۔۔، خوب ہے ،۔۔۔، اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔ ، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔۔۔ اور نہ اس سے کسی کوئی پرابلم ۔۔۔!! اسے کوئی انتہا پسند...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے " حق گو " ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے " ایماندار ترین " لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان جیسی  " پوتر " اور " مادر ملت " خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، " محافظ ختم نبوت " اور اس ملک کے "سنجیدہ ترین" انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے " لینڈ گریبر " کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔ غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ " لڑکے " پرویز خٹک جیسے یوتھ کے " نمائندے " اور دوست محمد کھوسہ جیسے " ہینڈ سم اسمارٹ بوائے " کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے " ایمان افروز ملفوظات " کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔ 5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل " سادگی کا نمونہ " خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر وائی پہ نظر آئیں ، سفید لباس میں روتی بین کرتی بیوہ کے روپ میں ،شوہر کا التفات  اور اس کی محبت یکے بعد دیگرے مناظر کی صورت میں ثمرہ کے ذہن کے ساتھ ساتھ پردہِ سیمیں پر بھی ابھرتے چلے گئے، اور ہمیں اپنے صاحبزادے کے احساس دلانے پہ معلوم ہوا کہ یمنیٰ نے ثمرہ کے روپ میں بھلے ہی مصنوعی آنسو بہائے ہوں لیکن ہمارے چہرے کو حقیقی آنسو بھگو رہے تھے، یہ خبر سکھر کے دورے پہ نکلے ہوئے شوہرِ نامدار تک بھی تیزی سے پہنچا دی گئی ، اور فوراٍ ہی وہاں سے فون بھی آ گیا، حد کرتی ہو یار، یہ کوئی رونے والی بات ہے،مرد کی سرزنش میں چھپی محبت کو ڈھونڈ کو محسوس کر لینے کا گر عورت سیکھ لے تو زندگی گلزار ہو جائے ، بہر حال اس منظر نے ہمیں کچھ ایسا جکڑا کہ اس کہانی کو شروع سے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس ڈرامے کے مصنف  عدیل رزاق ہیں ،جو اس سے پہلے  ہم ٹی وی پہ چلنے والی  ایک  ڈرامہ سیریز میں انتہائی متنازعہ موضوع پہ ڈرامہ بھی لکھ چکے ہیں۔  ہدایتکار فاروق رند ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں ،محبت تم سے نفرت، بے شرم، گلِ رعنا، لا ،رشتے کچھ ادھورے سے اور جگنو شامل ہیں ۔ جن لوگوں نے ان ڈراموں کو ذرا گہری نظر سے دیکھا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ   ان میں سے اکثر کہانیاں ہمارے معاشرے  میں عورت سے سلوک اور اسکی حیثیت کو قابلِ رحم انداز میں پیش کرتی ہیں، یقیناً اس میں کسی حد تک حقیقت بھی شامل ہوتی ہے ،لیکن اس حقیقت کو اس اندز میں بیان کرنا کہ اسکے منفی پہلو ساری مثبت باتوں کو کمال مہارت سے نگل لیں یہ بہر حال انصاف  کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پہ یہ کہانی ثمرہ  کے گرد گھومتی ہے جو اپنے "روشن خیال" ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، اور اسی روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے  والدین ثمرہ کی شادی اس کی پسند سے کر دیتے ہیں، شوہر کا تعلق ایک خالص جاگیردار گھرانے سے ہوتا ہے جو اپنے گاؤں میں سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں،اور پیر بھی مانے جاتے ہیں ،لڑکے کا باپ اس خیال سے پہلی بار خاندان سے باہر کی بہو لانے پہ تیار ہوتا ہے کہ بیٹا جو  تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ،جاگیرداری نظام کے نقائص ،پیری فقیری کی مذموم روایات  اور سیاست کے غلط استعمال سے خائف ہو کر اس سب سے دور رہنا چاہتا ہے، وقت پڑنے پر وہ اس احسان کا حوالہ دیتے ہوئےاسے اپنی ڈگر پہ چلایا جا سکے۔ثمرہ کو شادی کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا سسرال حقیقتاً کس پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی عورت ،کا کن کن مراحل پہ کس کس طریقے سے استحصال ہوتا ہے،اس ڈرامے میں  بلا شبہ اس کی عکاسی کرنے...

بچوں کے بدتمیز ہونے کی وجوہات

آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سننے میں آتا ہے کہ ہماری اولاد بہت بدتمیز ہوگئی ہے بڑوں کی عزت نہیں کرتی عجیب پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں مگر انہیں یہی بات ہی نہیں سیکھاتے۔ والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ہر خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کو ذرا بھی تکلیف ہو تو خود تکلیف میں آجاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے ان کے پیچھے خود کو فراموش کردیتے ہیں مگرانہیں عزت کرنا اور عزت سے پیش آنا سیکھاتے ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ والدین اپنے بچوں کو سمجھاتے نہیں ، سمجھاتے بہت کچھ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فعل سے انجانے میں بچوں کو عزت و احترام نہ کرنا سیکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو محبت دی جائے، انہیں خلوص دیا سب کچھ دیا جائے مگر انہیں عزت نہ دی جائے تو پھر بچے بدتمیز ہی بنتے ہیں۔ بچوں کو محبت سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی۔ جبکہ انہیں اکثر بہن بھائیوں یا پھر پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرکے ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔ سب کے سامنے یا تو ڈانٹا جاتا ہے یا پھر انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب بچوں کو اپنے گھر والے، والدین ، بہن بھائی ہی عزت و احترام نہیں دیں گے تو بچے کیسے سیکھیں گے کہ یہ سب۔ پھر یوں کہا جائے کہ یہ سب بچوں کے لیے گویا ایک اجنبی سی چیز ہے۔ بعض اوقات بچوں میں چڑچڑاپن اور بدتمیزی کی ایک بڑی وجہ والدین کا آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین کی آپس میں کشیدگی کا نشانہ بچے بنتے ہیں۔ کسی اور کا غصہ کسی اور پر نکال دیا جاتا ہے۔ بیوی شوہر کا یا پھر شوہر بیوی کا غصہ بچوں پر نکالتا ہے۔ بچے کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں مگر والدین کا بچوں سے بات کرنے کا انداز غیر ضروری حدتک تلخ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر بچے کے کمزور دماغ پر پڑتا ہے۔ بچوں کے سامنے غیر ضروری اور غیر شائستہ گفتگو کرنے سے گریز نہ کرنا بھی بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچوں کے سامنے ہر طرح کی باتیں کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں پر ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والد بچے کو کہتا ہے کہ ’’بیٹا! اگر کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی دو لگا دینا‘‘۔ یہ بات بچہ سیکھتا ہے اور پھر جب اس کا چھوٹا بھائی اسے مارتا ہے تو وہ سب کے سامنے اپنے بھائی کو دو جڑ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر سب اسے ڈانٹتے ہیں اور والد صاحب اٹھ کراپنے بیٹے کو تھپڑ لگا دیتے ہیں۔ ’’یہ سب کس نے تمہیں سیکھایا، بدتمیز بن گئے ہو‘‘، وغیرہ وغیر۔۔ اب اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے۔ خود ہی سیکھایا اور پھر خود ہی کہا کہ یہ سب کس نے سیکھایا۔ یہ...

بچوں کو اپنا بنائیے

آپ سروے کرلیں آپ کو ننانوے فیصد مائیں اپنے بچوں سے ناخوش اور پریشان دکھائی دیں گی۔ ان کے بچے ان کی بات نہیں سنتے ہیں ، شرارتیں کرتے ہیں ، ہر وقت موبائل ، لیپ ٹاپ یا ٹیب پر کارٹون دیکھتے یا گیم کھیلتے رہتے ہیں ، بے انتہا بدتمیز اور نالائق بھی ہو گئے ہیں۔ بات بات پر چڑ چڑا پن اور غصہ بھی دکھاتے ہیں۔ پڑھائی میں بھی انکا دل بالکل نہیں لگتا ہے۔ آپ کسی بھی ماں سے پوچھ لیں آپ کو سوائے ان شکایتوں کے اور کوئی شکایت نہیں ملے گی۔ اور آخر میں ایک ٹھنڈی آہ کے ساتھ یہ جملہ بھی’’ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں ؟‘‘۔ آپ ماؤں سے صبح سے رات تک چوبیس گھنٹوں کے دوران ان کے کیے گئے کاموں کی فہرست بنوالیں۔ آپ یقین کریں سوائے سونے ، کھانے ،ڈرامے دیکھنے اور موبائل کے علاوہ حد سے حد کھانا پکانے اور صفائی کے کوئی اور قابل ذکر کام انھوں نے نہیں کیا ہوگا۔ ہم صبح سے شام تک اور شام سے رات تک مارننگ شوز ، ڈرامے اور سوشل میڈیا کے سوا کوئی اور کام نہ کریں اور چاہیں کہ بچے ڈاکٹر عبد القدیر خان بن جائیں تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ بچے کو موبائل میں کارٹون لگا کر دے دیں اور خود ڈراموں میں لگ جائیں۔ بچہ کچھ پوچھنا چاہے تو دھتکار دیں۔ اپنی سوانح عمری سنانے لگ جائیں اور چاہیں کہ بچہ باادب نکلے تو مان لیں کہ آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں ، میں نے خود دیکھا ہے مائیں بچوں کو چیخ کر بولتی ہیں کہ چھوٹے بھائی سے چیخ کر بات نہیں کرتے ہیں ، باپ ایک زور کا ہاتھ لگا کر کہتا ہے ’’منع کیا ہے نا کہ ہاتھ مت چلایا کرو۔‘‘ موبائل پر بچے سے کہلواتے ہیں کہ بول دو بابا سو رہے ہیں یا ممی گھر پر نہیں ہیں۔ اور بچے کو نصیحت بھی کرتے ہیں کہ’’ جھوٹ بولنا بری بات ہوتی ہے‘‘۔ بچوں کے سامنے جھوم جھوم کر اور ہنس ہنس کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کے قصے سناتے ہیں اور اولاد کے ایماندار ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔ ہم بھی بڑے معصوم لوگ ہیں۔ کانٹے بوتے ہیں اور پھول لگنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ بچے نے کبھی گھر میں کوئی کتاب نہیں دیکھی اور اگر دیکھی بھی تو اماں یا ابا کے ہاتھ میں نہیں دیکھی اور ہم چاہتے ہیں کہ بچہ پڑھنے کا شوقین نکلے۔ کبھی اس نے اپنے ماں اور باپ کو قرآن کی تلاوت کرتے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا ، کبھی کسی کتاب پر ڈسکشن کرتے نہیں دیکھا اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کا عاشق بن جائے۔ آپ یقین کریں میں نے جتنی بھی نبیؐ کی سیرت پڑھی ہے مجھے ان کی دعوت کی کامیابی میں سوائے عمل کے اور کوئی دوسری چیز نظر نہیں آئی۔ پہلے آپ نے دو پتھر اپنے پیٹ پر باندھے پھر اپنے ساتھی کو صبر کی تلقین کی۔ اللہ کے نبیؐ نے کبھی اپنی سوانح عمری...

زن مرید۔۔۔ ایک ڈرامہ یا سوشل انجینئرنگ؟

 "زن مرید"، ڈرامے کا نام سنتے ہی ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ ایک معصوم سے کاٹھ کے الو قسم کے شوہر کا تھا جو اپنی بیوی کے اشاروں پہ ناچتا ہو گا، لیکن یہاں تو کہانی ہی کچھ اور نکلی،جی ہاں ہم ٹی وی سے نشر ہونے والا ڈرامہ زن مرید، جس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو پہلا تبصرہ ہوگا ،کمزور کہانی اور دوسرا تبصرہ ہوگا کمزور ہدایتکاری، سچ تو یہ ہے کہ اس کھیل کو دیکھ کے مشہور زمانہ مصرعہ یاد آجاتا ہے ''آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا''،قصہ کچھ یوں ہے کہ تبسم ایک ورکنگ وومن ہے، جو اپنے شوہر سجاد دو عدد بچوں اور ایک عدد گونگی  اور کسی حد تک معذور ساس کے ساتھ خوش باش زندگی گزار رہی ہے، سیریل کی ابتدا ء میں میاں بیوی کے خوبصورت تعلقات دکھائے جاتے ہیں، سجاد تبسم پر جان چھڑکتا ہے، اس کے ساتھ برتن دھوتا بھی دکھایا جاتا ہے اور اس کی دفتر آنے جانے کی تکلیف کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے لیئے ایک عدد علیحدہ گاڑی بھی خریدتا ہے، کسی ایک منظر سے بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک غصے کا تیز شخص ہے جس کی فطرت میں ہی جذبات کا بے قابو ہو جانا شامل ہے۔ کہانی  بالآخر کہانی میں ڈھلتی ہے اور ایک گھریلو تقریب میں جب سجاد اپنے سالے کی بیوی کی باتوں پہ کچھ چڑا ہوا ہوتا ہے ،مذاق مذاق میں سب کے سامنے کہتا ہے '' میری بیوی اتنی اچھی ہے کہ دل چاہتا ہے اس جیسی دو ہوں'' اب یہ جملہ جس کو مشرقی بیویاں اپنی تعریف سمجھ کر خوش ہوتی ہیں ، یا کم سے کم مسکرا کر ٹال ہی دیتی ہیں ۔تبسم کو اتنا زیادہ چبھتا ہے کہ وہ جوابا اسی بھری محفل میں اپنے شوہر کو جس جملے سے نوازتی ہے وہ کچھ یوں ہے''سجاد بھی اتنے اچھے شوہر ہیں کہ جی چاہتا ہے ایسے ایک اور ہوں '' اس بے باکانہ اور بے ہودہ جواب پر سجاد سمیت ساری محفل کو سانپ سونگھ جاتا ہے، جس کو مصنف اور ہدایتکار نے تبسم کے حق میں ناظر کی ہمدردیاں اکھٹی کرنے کے لیئے استعمال کیا ہے ۔ بس جناب یہ ہے بنیاد اس سارے ڈرامے کی، مہمانوں کے جانے کے بعد اس جملے کی تلخی اپنا اثر دکھاتی ہے اور سجاد کی تلخ کلامی ایک زبردست دھکے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے تبسم کی پیشانی پہ چوٹ آجاتی ہےاور خون بہنے لگتا ہے، اس لمحے تبسم کو  خواتین کے تحفظ کے سلسلے میں بنائے جانے والے اس ''نئے قانون'' کا خیال آتا ہے جس کا چرچا ان دنوں میڈیا پہ ہوتا ہے۔ (ویسے یہ سطور رقم کرتے ہوئے راقم کو یہ خیال آ رہا ہے کہ اس ڈرامے کا نام تو ''نیا قانون'' ہی بنتا تھا  ( اب تبسم صاحبہ اپنی ازدواجی زندگی کے تمام خوبصورت ایام کو بھلاتے ہوئے تھانے فون کرتی ہیں اور ہماری مستعد پولیس فوراً ان کے گھر پہنچ کر سجاد کو گرفتار کر لیتی ہے۔یہ علیحدہ بات کہ اس وقت...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ٹیکنالوجی اور ہم

تحریر: گل اندام خٹک ہماری والدہ ماجدہ جب بھی ہمارے ہاتھ میں موبائل فون دیکھتی ہیں انہیں وہ دن یاد آجاتے ہیں جب لوگ ہاتھ میں بٹیرے لئے گھوم رہے ہوتے تھے۔ یہ بٹیرے آپ کو آج کل ہر ایک کے ہاتھ میں نظر آئیں گے۔ کسی کے لیے دوسرے سے رابطے کا ذریعہ، کسی کے لئے مشغلہ، کسی کے لیے چلتا پھرتا کاروبار، تو کسی کے لیے ٹشن دکھانے کا سامان۔ دوسروں کے لیے اس کا کوئی بھی مطلب ہو، والدین کے لیے یہی بچوں کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ یہ اور بات ہے کے آج کل کے والدین خود اس مرض کے شکار ہیں۔ ایک دہائی کے اندر اندر ٹیکنالوجی کی دنیا میں آنے والی ڈرامائی تبدیلوں نے معاشرے کی سوچ اور طرز زندگی کی صورت پلٹ کے رکھ دی ہے۔ اس کے مثبت اثرات میں گھر بیٹھے کارونار کرنا، دور دراز کے علاقوں سے رابطہ اور خبردار رہنا، کام کی رفتار میں تیزی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے عوض ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمیں ان گنت نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ ان میں سے ایک نقصان کا سامنا چند روز پہلے میرے بھائی کو ہوا۔ موصوف کو والدہ نے دن کے تقریباً 10 بجے سودا لانے کو کہا حضرت ’’ابھی جاتا ہوں‘‘ کہہ کر 2 گھنٹے تک موبائل کی اسکرین پہ نظریں جمائیں، کے پیڈ کو طبلے کی مانند پیٹتے رہے۔ جب اماں جان نے طیش میں آکے جوتے سے ڈرون حملہ کیا تب بھائی صاحب کو ہوش آیا، سودا لائے اور گھر میں کھانا بنا۔ رات کو ہاسٹل کا منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ کوئی فرش پہ بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے لائیو ڈرامہ دیکھ رہی ہے تو کوئی کونے میں بیٹھی سوشل میڈیا سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ کوئی سیڑھیوں پر بیٹھی واٹس ایپ پہ بات کررہی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ قابل رحم وہ لڑکیاں ہیں جو موبائل ہاتھ میں لیے سگنلز کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہوتی ہیں تاکہ وہ ٹھیک سے بات کر سکیں پھر بھی وہ اکثر کہتی سنائی دیتی ہیں تو ’’کیا اب بھی آواز نہیں آرہی، اب کیا تمہارے لیے ٹاور پر چڑھ جاؤں‘‘۔ کسی روایتی پھپھو کے اندازے کے مطابق یہ بے چاریاں جیسے ہی ’’کیمرے سے پیا گھر‘‘ پہنچتی ہیں ان کے ساتھ’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ایک بار ہم 3 دوست گول گپے کھانے گئیں۔ آڈر دیتے ہوئے غلطی سے منہ سے نکل گیا ’’کاکا! ہم 3 گول گپے ہیں‘‘۔ اس وقت تو بے چاری کا جو مذاق اڑا سو اڑا۔ ہاسٹل پہنچ کے واٹس ایپ دیکھا تو تیسری دوست نے اس بات کا اسٹیٹس بنا کر لگایا ہوا تھا۔ اب حالات ایسے ہیں کے لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں اسٹیٹس کے نام پر بریکنگ نیوز نہ بن جائیں۔ تیزی سے بدلتے اس دور میں اگر نہیں بدلے تو وہ والدین ہیں۔ انہیں آج بھی اپنے بچوں سے شکایات ہیں حالانکہ آج کل کے بچے انتہائی امن پسند ہوگئے ہیں۔ شرافت سے اپنے لیپ ٹاپ اور فون لیے بیٹھے رہتے ہیں جب...

“دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ”

محکمہ آثارِ قدیمہ نے پاکستان میں ایک ایسی عجیب و غریب سیاسی جماعت کا ڈھانچہ دریافت کیا ہے جسے دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس سیاسی جماعت کے معدہ میں پائے گئے خوراک کے حنوط شدہ ذرات کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جماعت اپنے وقت کے فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھایا کرتی تھی اور اسی خوراک سے پل کر جوان ہوئی تھی۔ سیاسی جماعت کے ڈی این اے میں مکاری، عیاری، لوٹ مار، تکبر، انسانوں کی خرید و فروخت اور ذاتی خاندان تک محدود اقربا پروری کے جینز کثیر مقدار میں پائے گئے ہیں۔ سیاسی جماعت کی کھوپڑی کا لیبارٹری میں تفصیلی جائزہ لینے پر انتہا درجے کی منافقت کے واضح ثبوت دکھائی دیے جن سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت ماضی میں ایک طرف تو فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے اپنا وزن بڑھاتی رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ فوجی بوٹوں کا وزن کم کرنے کے لیے خوب زور لگاتی رہی جس اسے چنداں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ جب یورپ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے اس حوالے سے رائے لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے لے اُس دور کی سیاسی جماعتیں کچھ لوگوں کو بوٹ چاٹنے پر مامور کر دیتی تھیں اور اسی جماعت کے کچھ لوگوں پر دور کھڑے ہو کے بوٹوں والوں پر بھونکنے کی زمہ داری لگا دیتی تھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بھاگا جا سکے۔ محکمہ سیاسی حیاتیات کے ماہرین نے بھی ڈھانچے کا معائنہ کیا اور اپنی مشترکہ رائے دیتے ہوئے رپورٹ میں لکھا کہ اقتدار میں آنے کے امکانات اس جماعت کی روح کا کام کرتے رہے ہیں اور جیسے ہی یہ روح غائب ہوئی، اس جماعت کا نام و نشان سیاسی روئے زمین سے مٹ گیا تھا۔ تقریباً دس سال تک یہ جماعت مینڈک کی طرح زیر زمین رہی لیکن پھر یہاں کی سیاسی وائلڈ لائف کی از سر نو حیات کاری کے لیے یورپ کے ایک مشہور ملک میں میثاق جمہوریت نامی معاہدہ طے پایا جس کے لیے بدبودار فوجی جرابیں خاص طور پر وہاں پہنچائی گئیں تاکہ میثاق جمہوریت کو توثیقِ بْوٹیت مل سکے اور سیاسی وائلڈ لائف کو پنپنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی کے ڈین نے ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے ہم دیکھتے رہتے ہیں لیکن جس درجے کی انا پرستی اور بیوقوفی ہمیں اس ڈھانچے سے ملی ہے، وہ آج تک کسی اور سیاسی ڈھانچے سے نہیں ملی۔ ہم نے دلچسپی سے پوچھا کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے :’’انا پرستی کے آثار ہمیں اس سے نظر آئے ہیں کہ یہ جن بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھاتے رہے ہیں، اسی چمڑے کے بوٹ خود پہننے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو کسی بھی بوٹوں والوں کو کبھی گوارا نہیں ہو سکتا‘‘۔ ایک طالب علم جو اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لے رہاہے، یوں گویا ہوا کہ سیاسی آرکیالوجی ایک نیا فیلڈ ہے جس میں تحقیق کی کافی گنجائش موجود ہے،اس لیے ایسے ڈھانچوں کا دریافت ہونا ہمارے لیے علمی...

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

ہمارے بلاگرز