ایک کلو آٹا

"نواز شریف کا دور اچھا تھا لیکن سب سے اچھا دور پرویز مشرف کا تھا بھٹی صاحب، آٹا 12-15 روپے کلو تھا اس وقت" "کل بیگم نے 100 روپے دئیے اور کہا ایک کلو آٹا لے آؤ. آج کل تو پچاس ساٹھ روپے کلو ہے" کتنا آٹا لائے؟ میں نے حیرانگی سے پوچھا۔ کہنے لگے "ایک کلو...

مسلمان دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ

11 جولائی کو عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق دنیا کی آبادی اس وقت 7.8 ارب ہے۔ دنیا کی آبادی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی...

کووڈ۔19اور صحت عامہ کے مضبوط نظام کی اہمیت

کووڈ۔19  ایک ایسا خطرناک پوشیدہ دشمن ثابت ہو رہا ہے جس نے پوری دنیا کو بلا تفریق اپنے عفریت کا نشانہ بنایا ہے۔ ساڑھے بارہ ملین سے زائد لوگ...

دین کا فہم

بچپن میں سکول ٹیچر نے ایک حدیث سنائی۔ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ " اللّٰہ کے ننانوے نام ہیں، سو سے ایک کم۔ جو ان کو...

کالی لڑکی 

تو ہمارے معاشرے میں بھانت بھانت (طرح طرح ) کی لڑکیاں ہیں ،لیکن آج میں سب لڑکیوں کو زیر بحث نہیں لاؤنگا پر میں بات کرونگا ان چند لڑکیوں...

ایتھوپیا نے بھی پاکستانی پایلٹؤں کو پرواز سے روک دیا 

اسے کہتے ہیں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا.....اب تقریبا ًسب کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ اس معاملہ کو طشت از بام کرنے سے پہلے متعلقہ قوانین...

مسجد اقصیٰ کی آزادی کا مژدہ

اقوام متحدہ کی مخالفت کے باوجود ترک صدر رجب طیب اردگان کا آیا صوفیہ میوزیم کو پھر سے مسجد کا درجہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی...

مسجد آیا صوفیہ، نئے دور کا آغاز

86 سال بعد استنبول کی تاریخی مسجد" آیا صوفیہ "کی بازیابی ہوئی .....مسجد میں آزان کی دلکش صدائیں بلند ہوئیں ...عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئ .....ترکی...

مون سون کے وبائی امراض 

گرم موسم کے بعد تیز ہواؤں، گہرے بادلوں اور مسلسل بارشوں کا سلسلہ مون سون کہلاتا ہے ۔ افریکہ کے مشرقی ساحلوں کے قریب خط استوا کے آس پاس...

وصیت بمع نصیحت

میرے خالو جان مرحوم اللہ جنت الفردوس نصیب فرمائے بڑی معزز شخصیت تھے ۔ ماشاء اللہ ان کے چھ بیٹے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمریں دراز فرمائے...

جینے کا ہنر

خوش گوار زندگی کے چند اصول

خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا ایک فن ہے جوسیکھنا پڑتا ہے اور یہ نعمت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا...

جب زندگی کی ڈور الجھ جائے،تب کیاکریں

مجھے ایک واقعہ یاد ہے جب ہم کراچی ایک علاقے میں رہایش پذیر تھے۔ہمارے علاقے کے گرلز اسکول کا واقعہ ہے۔ایک روز ایک طالبہ اسکول گئی لیکن اسکول کی...

دو خدا

وہ مسکرائے اور کہنے لگے "اگر تم تحقیق کروگے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں چار ہزار سے زیادہ خدا ہیں جن کی عبادت اور پوجا کی جاتی...

“سوال کی قوت “

’’سوال ہی جواب ہیں،جو سوال کرتا ہے، وہ جواب سے گریز نہیں کر سکتا۔‘‘ تم جانتے ہو ہمارے اندر موجود یقین کی قوت کس طرح ہمارے فیصلوں،اعمال،قسمت اور ہماری زندگیوں...

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے...

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

انسانی دماغ میں ایک سو ملین سے بھی زیادہ اعصابی خلیے (نیوران) پا ئے جا تے ہیں اور ہر ایک خلیہ ایک سوپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ طاقت ور...

میڈیا واچ

ہم ہیں محبتوں کے امین

چند دن قبل ایک ڈرامہ اختتام پذیر ہوا۔'' میرے پاس تم ہو'' میں نے اس ڈرامے کو دیکھنے کی زحمت تو نہیں کی۔ ہاں البتہ اک عشقیہ ڈرامے پر...

ٹی وی ڈرامے معاشرے کا بگاڑ

میڈیا ایسا پلیٹ فارم ہے، جس کی طاقت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔سوسائٹی میں سنوار یا بگاڑ پیدا کرنے میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔میڈیا اگر درست جہت کام...

ابلیس کے چیلے

شیطان کا تخت سمندر پر لگا تھا ابلیس کے چیلے آآکراپنے کارنامے سنا رہے تھے۔ اسے قتل ڈاکہ زنا کچھ پسند نہیں آرہا تھا کہ اچانک ایک اور چیلا...

کھلا خط

 پاکستانیوں کے نام کھلا خط چند توجہ طلب گزارشات                     اے آر وائی ڈیجیٹل سے پیش ہونے والا ڈرامہ میرے پاس تم...

ڈرامہ نہیں معاشرے کا بگاڑ

یہ ہمارے روز کا معمول تھا۔ رمشہ اور میں مغرب کے بعد ٹی وی کھول کر بیٹھ جاتے۔میں رات کے لیے سبزی بناتی اور رمشہ ٹی وی پر کچھ...

اخلاقی اقدار کا جنازہ

باجی اے جے میوش اے اینوں مافی تے مل جانڑی اے ناں؟" میں جو کھانا بنانے میں مشغول تھی جمیلہ کے اس سوال پہ چونک کر مڑی کون میوش جمیلہ؟ ایہو ای...

مباحث

قرآن کی نص صریح کا انکار

یہ چند ماہ پہلے کی بات ہے پنجاب کے ایک وزیر نے ایک بیان میں یہ کہہ دیا کہ جس طرح NCC کی تربیت کے تحت طلبہ کو خصوصی...

دین مائینس سیاست برابر چنگیزی

جب بھی اسلام  میں سیاست کے حوالے سے بات چھڑتی ہے یا بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو عام طور پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس مصرع کا...

سرسید اور ان کی پیدا کردہ ذہنیت

ایک مسلمان کے لیے سب کچھ اس کا دین ہے، اس کا خدا ہے، قرآن مجید ہے، رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ ہے، آپؐ کی سیرت ہے، آپؐ کی...

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر...

قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ، قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ''شارح'' ...

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے بغیر آپ اسکے شہری نہیں بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ...

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے...

اہم بلاگز

زندگی کی حقیقتیں

اپارٹمنٹ کے لائونج میں اس نے قدم رکھا، طائرانہ نگاہیں چاروں طرف دوڑائیں… فرنیچر، ڈیکوریشن پیس، دیواروں پر آویزاں قرآنی تغرے سب ویسے ہی تھے، صرف نہ تھی ان کے درمیان وہ ہستی جو اس کی ’’ماں‘‘ تھی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی جس کی آواز کانوں میں گونجتی تھی ’’آگئیں میری بیٹی؟‘‘ ماں کی آنکھوں میں اپنی اکلوتی اولاد کے لیے محبتوں کے دیپ جل اٹھتے تھے، حالانکہ وہ صرف چار پانچ گھنٹوں کے لیے یونیورسٹی جاتی… ماں کی یاد سے اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اس سے پہلے کہ وہ بے قابو ہوجاتی، پیچھے سے بابا کی آواز کانوں میں پڑی ’’لو بیٹا اپنا سامان چیک کرلو‘‘… اس نے فوراً اپنے آنسو پونچھ لیے، مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے باپ کی طرف پلٹی…’’بابا… یہ دونوں بیگ… آپ کیوں لے کر آئے، چوکیدار کو کہتے، وہ لے آتا۔‘‘ ’’تم تو یوں کہہ رہی ہو جیسے میں انہیں اٹھاکر لے کر آیا ہوں۔ لفٹ میں تو لانے تھے، میں نے سوچا چوکیدار کو کیوں تکلیف دوں! اس نے بابا سے سامان لے کر ایک طرف رکھ دیا اور دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے لگے۔ حالانکہ وہ ہر روز دن میں دو مرتبہ لندن سے بابا سے بات ضرور کرتی، لیکن دونوں ایک دوسرے کو آمنے سامنے دیکھ کر نہال تھے اور دونوں کی کوشش تھی کہ وہ مرحومہ کا ذکر نہ کریں۔ یوں لگ رہا تھا وہ جان بوجھ کر مرحومہ کے ذکر سے گریز کررہے تھے کہ سامنے والا دکھی نہ ہوجائے۔’’بیٹا تم لمبے سفر سے آرہی ہو، میرے خیال میں باقی باتیں صبح ہوں گی، اب تم آرام کرو۔‘‘ بابا کے چہرے پر بھی تھکن کے آثار تھے… نہ جانے وہ کتنی دیر ائرپورٹ پر انتظار کرتے رہے تھے۔ لہٰذا وہ بابا کو خدا حافظ کہہ کر اپنے کمرے میں آگئی… وہی سامان، وہی کمرہ… سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ دو سال پہلے چھوڑکر گئی تھی، لیکن ایک ویرانی اور اداسی تھی جو گھر کے کونوں کھدروں میں بھی بکھری ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں پھر سے چھلک پڑیں، وہ سسک پڑی ’’مما… آپ مجھے کیوں اتنی جلدی چھوڑ گئیں‘‘… اسے بابا کا خیال آگیا۔ وہ کمرے سے باہر آئی۔ بابا سوگئے تھے، اُن کے خراٹوں کی آوازیں کمرے کے باہر سے سنائی دے رہی تھیں۔ وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں آئی، آہستہ سے دروازہ بند کیا، پلنگ کے سائیڈ ٹیبل پر مما اور اس کی تصویر، دونوں کی مسکراہٹ دل آویز… اس نے اماں کی تصویر کو آنکھوں سے لگایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اسے لگا جیسے اس کے پیچھے مما کھڑی ہیں۔ ’’اوہو رکھ دو… گرا دو گی۔ بہت پھوہڑ ہو، میرے بعد کیا کرو گی! سارا دن صرف پڑھائی میں لگی رہتی ہو، نہ اپنا خیال نہ…‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا… ’’مما، آتے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔ سب ٹھیک ہوجائے گا، سدھر جائوں گی وقت آنے پر‘‘… وہ پیچھے پلٹی، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ اس کے لیے اپنی سسکیوں پر قابو پانا بہت مشکل تھا۔ مما… جنہوں نے اپنی بیماری کو چھپا کر درد...

ہالووین اورویلنٹائن ڈے مسلمانوں کا کلچر نہیں

اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی سال کے اکثر ایام کو مختلف واقعات سے جوڑ کر عالمی سطح پر منایا جاتا ہے ۔جن میں زیادہ تر تہوار ایسے ہیں جو معاشرے کو بڑی تیزی سے تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔تباہی کی طرف دھکیلتے ہوئے ان تہواروں میں یہ دو تہوار ہالووین اور ویلنٹائن ڈے بھی شامل ہیں ۔ہر گزرتے سال کے بعد ان تہواروں کو منانے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے ۔مغرب کی دیکھا دیکھی مشرقی اور اسلامی ممالک میں بھی ان تہواروں کی حقیقت جانے بغیر ان کوزور و شور سے منایا جا رہا ہے۔ہالووین اور ویلنٹائن ڈے یہ دو تہوار ہر سال اکتوبر اور فروری میں منائے جاتے ہیں۔ ہالووین کی حقیقت:                ہالووین (Halloween)امریکہ میں منایا جانے والا ایک تہوار ہے ۔اس تہوار کے بارے میں تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ہالووین کا سراغ قبل از مسیح دور میں برطانیہ کے علاقے آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ملتا ہے، جہاں سیلٹک قبائل ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ ان کے رواج کے مطابق نئے سال کا آغاز یکم نومبر سے ہوتا تھا۔ موسمی حالات کے باعث ان علاقوں میں فصلوں کی کٹائی اکتوبر کے آخر میں ختم ہوجاتی تھی اور نومبر سے سرد اور تاریک دنوں کا آغاز ہو جاتا تھا۔ سیلٹک قبائل کا عقیدہ تھا کہ نئے سال کے شروع ہونے سے پہلے کی رات یعنی 31 اکتوبر کی رات کو دنیا میں انسانوں اور بری ارواح کے درمیان ایک پردہ موجود ہوتا ہے، جو انسانوں کو ان بری ارواح سے محفوظ رکھتا ہے، ان کے خیال میں موسم ِ گرما کے اختتام پر یہ پردہ بہت باریک ہو جاتا ہے، اس پردے کے نازک ہونے کے سبب اس بات کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے کہ یہ بری اروح دنیا میں آکر انسانوں، مال، مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان بد روحوں کو خوش کرنے کے لیے سیلٹک قبائل 31 اکتوبر کی رات آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کرتے تھے، اناج بانٹتے تھے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔ اس موقع پر وہ جانوروں کی کھالیں پہنتے اور اپنے سروں کو جانوروں کے سینگوں سے سجاتے تھے۔تاکہ ان کو ایسے دیکھ کر بدروحیں خوش ہو جائیں اور وہ ان پر حملہ آور نہ ہو سکیں۔31 اکتوبر کو جب تاریکی پھیلنے لگتی ہے اور سائے گہرے ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو ڈراؤنے کاسٹیوم میں ملبوس بچوں اور بڑوں کی ٹولیاں گھر گھر جاکر دستک دیتی ہیں اور trick or treat کی صدائیں بلند کرتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو ہمیں مٹھائی دو، ورنہ ہماری طرف سے کسی چالاکی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ گھر کے مکین انہیں ٹافیاں اورچاکلیٹیس دے کر رخصت کر دیتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کی حقیقت:                اس دن کے ساتھ بہت ساری کہانیاں اور روایات منسوب کی جاتی ہیں ۔لیکن جو زیادہ معروف اور مستند مانی جاتی ہے وہ یہ ہے: تیسری صدی عیسوی میں ’’ویلنٹائن ‘‘ نام کا ایک پادری تھا ۔جو ایک راہبہ(نن) کی محبت میں...

نوکری یا کاروبار؟

دنیامیں فی زمانہ اگر کسی کے معیارزندگی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی تعلیمی قابلیت کم،بینک بیلنس اور اس کے پاس مادی اشیا سے لگایا جاتا ہے۔یہ بھی ایک سچ ہے کہ جیہندے گھر دانے اونہدے کملے وی سیانے۔لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ پیسہ ہر کسی پر عاشق نہیں ہوتا اور جس پر عاشق ہو جائے پھر وہ مٹی کو بھی ہاتھ میں پکڑے تو وہ بھی سونا بن جاتی ہے وگرنی سونا بھی مٹی۔سوال یہ ہے کہ پیسہ کیسے کمایا جائے؟اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کام کیا جائے جس میں منافع ہو نا کہ اجرت،یعنی بزنس کیا جائے نوکری نہیں۔اگر کاروبار میں اتنا منافع نہ ہوتا تو کبھی بھی آپ ﷺ یہ نہ فرماتے کہ کاروبار میں منافع کے نو حصے ہیں۔جب آپ کاروبار کر لیتے ہیں تو پیسے کو کیسے دوگنا کرنا ہے اس کا فارمولہ بھی ہمارے پیارے آقا ﷺ نے بیان فرما دیا کہ کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اللہ سے کاروبار کرلو۔یہی وجہ ہے اللہ دنیا میں دس گنا اور آخرت میں ستر گنا لوٹا کر دیتا ہے۔اس سے بھی زیادہ اگر آپ کو چاہئے تو اس کا بھی حل پیارے رسول ﷺ نے ہم پر واضح فرما دیا کہ صدقہ کرو مسلمان کا صدقہ اس کی عمر میں اضافہ کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے اور اللہ کے ذریعے تکبر اور فخر(کی بیماریوں)کو زائل کرتا ہے۔ لیکن ہم کاروبار کرنے سے قبل ہی اس کے نقصانات سے ڈرنا شروع کر دیتے ہیں اسی لئے پاکستان میں کاروبار کی بجائے نوکری کو ترجیح دی جاتی ہے کہ کچھ بھی نہ ہو کم سے کم اس سے ہر ماہ تنخواہ تو مل جایا کرے گی۔اس کا سب سے بڑا نقصان جو ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہم ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ وصول کرنے کے بعد دوسرے ماہ کی تنخواہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔جس کا سب سے بڑا نقصان ہمیں اور کمپنی کو یہ ہوتا ہے کہ ہم اس جوش وجذبہ سے کام نہیں کرتے جس ولولہ سے ذاتی کاروبار میں کر سکتے ہیں۔اسی لئے دنیا کے کامیاب بزنس مین خیال کرتے ہیں کہ منافع،اجرت سے بہتر ہوتا ہے۔کیونکہ اجرت آپ کا پیٹ پالتا ہے لیکن منافع آپ کی قسمت بدل دیتا ہے۔لہذا ہمیں یہ سوچے بغیر کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے کام کو ترجیح دیتے ہوئے چھوٹے سے کام سے ہی بھلے ہو اپنا کام کرنا چاہئے،ایک بار ایک صحابی پیارے رسول ﷺ کے پاس آئے اور مدد چاہی۔آپ ﷺ نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ ہے تو صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میرے پاس اس کلہاڑی کے اور کچھ بھی نہیں،آپ ﷺ نے وہ کلہاڑی لی اور اپنے دست ِ مبارک سے لکڑی کا دستہ اس میں ڈال کر کہا کہ جاؤ اور جنگل سے لکڑیا ں کاٹ کر لاؤ اور اسے بازار میں فروخت کر کے اپنی گزر بسر کرو۔وہ آدمی چلا گیا اور پھر چند ماہ بعد دربار رسالتﷺ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ اپنا کاروبار...

ترکی کی شام میں مداخلت ۔ پس منظر و پیش منظر

اس قضیے کو سمجھنے کی ابتدا ترکی کے شام پر حالیہ حملے سے کی جائے تو گتھی سلجھنے کے بجائے مزید الجھے گی ۔ اس لیے ہم اس معاملے کو بنیاد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کردستان  ترکی کا جنوب مشرقی علاقہ  ایران کا شمال مغربی علاقہ  عراق کا شمالی علاقہ اور شام کا  شمال مشرقی علاقہ  یہ کردوں کا مسکن ہے ۔ اسے کردستان کہا جاتا ہے ۔ یہ سارا خطہ تین لاکھ بانوے ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔ کردستان کے اس منقسم خطے میں سے  ترکی کے پاس ایک لاکھ نوے ہزار، ایران کے پاس ایک لاکھ پچیس ہزار، عراق کے پاس 65 ہزار اور شام کے پاس بارہ ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے ۔ کرد قوم اس خطے میں تین سو سال قبل مسیح سے آباد ہیں ۔ساتویں صدی میں یہ مسلمان ہوئے ۔ اس وقت نوے فیصد سے زائد کرد سنی مسلمان ہیں ۔ حالیہ وقتوں میں ان کی کل آبادی ساڑھے  تین کروڑ  کے لگ بھگ ہے ۔ سب سے زیادہ تعداد ترکی میں آباد ہے ۔ یہ تعداد تقریبا ًڈیڑھ سے پونے دو کروڑ کے آس پاس ہے ۔ ایران میں قریب قریب نوے لاکھ ، عراق میں اسی لاکھ اور شام میں تیس لاکھ کے عدد کو چھوتے ہیں ۔ جنگ عظیم اول سے قبل یہ سارا خطہ خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں تھا ۔ جنگ خلافت عثمانیہ کی شکست پر منتج ہوئی ۔ شکست کا سب سے نمایاں نتیجہ یہ سامنے آیا کہ چھوٹی چھوٹی قومی سلطنتیں تشکیل پاگئیں ۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے حریفوں کے لیے بےحد حوصلہ افزا تھی ۔ یہیں سے مسلمانوں کا حقیقی زوال شروع ہوا ۔ معاہدہ سیورے  ۔10اگست 1920 کو اتحادیوں اور سلطنت عثمانیہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا، جو " معاہدہ سیورے " کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس معاہدے کے رو سے حجاز مقدس ترکی سے الگ ہوا۔ نیز یہ بھی طے پایا کہ کردوں کی الگ ریاست بنے گی ۔ معاہدہ لوزان   مصطفی کمال اتاترک نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ خلافت کی بساط لپیٹی اور ترکی کی آزادی کا اعلان کر دیا ۔ اس دوران ترکی میں یونانی فوج بڑی تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھی ۔ کمال اتاترک نے 1921 کو روس سے دوستی کا معاہدہ کرلیا ۔ اس عمل سے تقویت پاکر 1922 کو یونانی افواج کو شکست سے دوچار کیا اور انہیں ترکی سے نکال باہر کیا  ۔ کمال اتاترک کی اس شاندار فتح کی وجہ سے جنگ عظیم کے اتحادی مذاکرات کی میز پہ آنے پر مجبور ہوگئے اور 24 جولائی 1923 کو سوئیٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں " معاہدہ لوزان " عمل میں آیا ۔ اس معاہدے کی رو سے سابقہ معاہدہ " معاہدہ سیورے " کو منسوخ قرار دیا گیا ۔ جس کی رو سے ایک آزاد کرد ریاست نے جنم لینا تھا ۔ معاہدہ لوزان کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ترکی ،شام اور عراق کی سرحدیں متعین کر دی گئیں ۔ دوسرے لفظوں میں کردوں کے ارمانوں پر نہ صرف پانی پھیر دیا گیا، بلکہ انہیں عملاً ترکی ،شام...

اطاعت و استغفار کے ذریعے آفات سے نجات

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”جب مال غنیمت کو دولت قراردیاجانے لگے،اورجب زکوٰۃ کوتاوان سمجھا جانے لگے، اور جب علم کو دین کے علاوہ کسی اور غرض سے سکھایا جانے لگے، اورجب مرد بیوی کی اطاعت کرنے لگے اورجب ماں کی نافرمانی کی جانے لگے،اورجب دوستوں کو قریب اورباپ کودور کیاجانے لگے، اورجب مسجد میں شوروغل مچایا جانے لگے اور جب قوم وجماعت کی سرداری،اس قوم وجماعت کے فاسق شخص کرنے لگیں اورجب قوم وجماعت کے زعیم وسربراہ اس قوم وجماعت کے کمینہ اور رذیل شخص ہونے لگیں،اورجب آدمی کی تعظیم اس کے شراورفتنہ کے ڈرسے کی جانے لگے، اورجب لوگوں میں گانے والیوں اور سازو باجوں کادوردورہ ہوجائے، اور جب شرابیں پی جانی لگیں اورجب اس امت کے پچھلے لوگ اگلے لوگوں کو براکہنے لگیں، اور ان پر لعنت بھیجنے لگیں تواس وقت تم ان چیزوں کے جلدی ظاہر ہونے کا انتظار کرو، سرخ یعنی تیزوتنداور شدید ترین طوفانی آندھی کا، زلزلے کا،زمین میں دھنس جانے کا، صورتوں کے مسخ وتبدیل ہوجانے کا،اور پتھروں کے برسنے کا،نیزان چیزوں کے علاوہ قیامت اور تمام نشانیوں اور علامتوں کا انتظارکرو،جو اس طرح پے درپے وقوع پذیر ہوں گی جیسے (موتیوں کی) لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور اس کے دانے پے درپے گرنے لگیں“۔ مذکورہ بالا حدیث میں کچھ ان برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اگرچہ دنیا میں ہمیشہ موجودرہی ہیں اور کوئی بھی زمانہ ان برائیوں سے خالی نہیں رہاہے،لیکن جب معاشرہ میں یہ برائیاں کثرت سے پھیل جائیں اور غیر معمولی طورپر ان کادوردورہ ہوجائے توسمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا سخت ترین عذاب خواہ وہ کسی شکل وصورت میں ہوا، اس معاشرہ پر نازل ہونے والاہے اوردنیا کے خاتمے کا وقت قریب ترہوگیا ہے۔ مال غنیمت کو دولت قراردئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اگرسلطنت کے اہل طاقت وثروت اور اونچے عہدے دار مال غنیمت کو شرعی حکم کے مطابق تمام حقداروں کو تقسیم کرنے کی بجائے خود اپنے درمیان تقسیم کرکے بیٹھ جائیں اور محتاج وضرورت مند اور چھوٹے لوگوں کو اس مال سے محروم رکھ کر اس کو صرف اپنے مصرف میں خرچ کرنے لگیں تواس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اس مال غنیمت کے تمام حقداروں کا مشترکہ حق نہیں سمجھتے بلکہ اپنی ذاتی دولت سمجھتے ہیں۔ امانت کو مال غنیمت شمارکرنے سے مرادیہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس امانتیں محفوظ کرائی جائیں وہ ان امانتوں میں خیانت کرنے لگیں اور امانت کے مال غنیمت کی طرح اپنا ذاتی حق سمجھنے لگیں جو دشمنوں سے حاصل ہوتاہے۔ زکوٰۃکوتاوان سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کا ادا کرنا لوگوں پر اس طرح شاق اور بھاری گزرنے لگے کہ گویاان سے ان کا مال زبردستی چھینا جارہاہے اورجیسے کوئی شخص تاوان اورجرمانہ کرتے وقت سخت تنگی اوربوجھ محسوس کرتاہے۔ علم کو دین کے علاوہ کسی اورغرض سے سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ علم سکھانے اور علم پھیلانے کا اصل مقصد دین وشریعت کی عمل اور اخلاق وکردار کی اصلاح وتہذیب انسانیت اور سماجی کی فلاح وبہوداور خداورسول...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے " حق گو " ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے " ایماندار ترین " لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان جیسی  " پوتر " اور " مادر ملت " خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، " محافظ ختم نبوت " اور اس ملک کے "سنجیدہ ترین" انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے " لینڈ گریبر " کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔ غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ " لڑکے " پرویز خٹک جیسے یوتھ کے " نمائندے " اور دوست محمد کھوسہ جیسے " ہینڈ سم اسمارٹ بوائے " کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے " ایمان افروز ملفوظات " کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔ 5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل " سادگی کا نمونہ " خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک...

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار

(یوم اساتذہ پر اساتذہ کے نام ایک پیغام) استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا...

بچوں کے ساتھ زیادتی اور سیکس ایجوکیشن

قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک پر پورا ملک سوگوار ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے بات کی جارہی ہے۔ پاکستان میں مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر طبقے کے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اس واقعے کی مذمت، اس پر تبصرہ اور اس کی وجوہات پر بات کی ہے۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس واقعے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ جی ہاں آپ لوگ ٹھیک سمجھے میرا اشارہ موم بتی مافیا کی طرف ہے۔ ننھی زینب کے واقعے کی آڑ لے کر ایک میڈیا گروپ اور ایک مخصوص لابی احتیاط اور آگاہی کے نام پر اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کو فروغ دینا اور اس کو نصاب میں شامل کرنے کی مہم چلانے نکل کھڑی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے کئی باتیں غور طلب ہیں۔ان باتوں کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کیوں کہ جن باتوں کو بنیاد بنا کر یہ مہم چلائی جارہی ہے اول تو وہ ساری باتیں ہی بے بنیاد ہیں اور دوسری بات یہ کہ یہاں نام تو آگاہی اور احتیاط کا لیا جارہا ہے لیکن جب قانونی طور پر سیکس ایجوکیشن کا نام نصاب میں شامل ہوجائے گا تو پھر وہی سیکس کی تعلیم یہاں بھی دیجائے گی جو کہ دنیا بھر میں سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسکولوں میں دی جاتی ہے۔ یہاں ہم ان باتوں کا جائزہ لیں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ یہ مہم بے بنیاد باتوں پر چلائی جارہی ہے تو اس کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ ننھی زینب، قصور میں ہونے والے پے درپے واقعات اور پورے ملک ہونے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے کیسز اغوا، زیادتی اور قتل کے ہیں، یعنی یہ سارے واقعات فوجداری ہیں، ان کی روک تھام پولیس، انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ (اس حوالے سے ہم نے ایک مضمون میں تفصیلی بات کی ہے جو کہ اسی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ جس کا لنک یہاں دیا جارہا ہے۔) https://blog.jasarat.com/2018/01/13/saleem-ullah-3/ لیکن ان کو ٹھیک کرنے کے بجائے بڑی چالاکی سے ان کی ذمے داری والدین اور اسکولوں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ان سارے واقعات کا سیکس ایجوکیشن وغیرہ سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز اس کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا دوسرا نکتہ جس کو یہ مخصوص لابی اپنی بنیاد بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب بچے اپنے والدین سے ایسی کوئی شکایت کرتے ہیں، اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی یا کا بتاتے ہیں تو والدین دقیانوسی رویہ اپناتے ہوئے ان کو چپ کراتے ہیں یا بدنامی کے خوف سے چپ ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بے بنیاد ہے۔ کیوں کہ بدنامی کے خوف سے والدین صرف اس وقت خاموش ہوتے ہیں جب خدانخواستہ میرے منہ میں خاک کسی کی جوان بچی کی عزت و آبرو کو تار تار کیا جائے۔ بچوں160کے معاملے پر توہم نے میڈیاپر، معاشرے میں، گلی محلے...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر وائی پہ نظر آئیں ، سفید لباس میں روتی بین کرتی بیوہ کے روپ میں ،شوہر کا التفات  اور اس کی محبت یکے بعد دیگرے مناظر کی صورت میں ثمرہ کے ذہن کے ساتھ ساتھ پردہِ سیمیں پر بھی ابھرتے چلے گئے، اور ہمیں اپنے صاحبزادے کے احساس دلانے پہ معلوم ہوا کہ یمنیٰ نے ثمرہ کے روپ میں بھلے ہی مصنوعی آنسو بہائے ہوں لیکن ہمارے چہرے کو حقیقی آنسو بھگو رہے تھے، یہ خبر سکھر کے دورے پہ نکلے ہوئے شوہرِ نامدار تک بھی تیزی سے پہنچا دی گئی ، اور فوراٍ ہی وہاں سے فون بھی آ گیا، حد کرتی ہو یار، یہ کوئی رونے والی بات ہے،مرد کی سرزنش میں چھپی محبت کو ڈھونڈ کو محسوس کر لینے کا گر عورت سیکھ لے تو زندگی گلزار ہو جائے ، بہر حال اس منظر نے ہمیں کچھ ایسا جکڑا کہ اس کہانی کو شروع سے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس ڈرامے کے مصنف  عدیل رزاق ہیں ،جو اس سے پہلے  ہم ٹی وی پہ چلنے والی  ایک  ڈرامہ سیریز میں انتہائی متنازعہ موضوع پہ ڈرامہ بھی لکھ چکے ہیں۔  ہدایتکار فاروق رند ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں ،محبت تم سے نفرت، بے شرم، گلِ رعنا، لا ،رشتے کچھ ادھورے سے اور جگنو شامل ہیں ۔ جن لوگوں نے ان ڈراموں کو ذرا گہری نظر سے دیکھا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ   ان میں سے اکثر کہانیاں ہمارے معاشرے  میں عورت سے سلوک اور اسکی حیثیت کو قابلِ رحم انداز میں پیش کرتی ہیں، یقیناً اس میں کسی حد تک حقیقت بھی شامل ہوتی ہے ،لیکن اس حقیقت کو اس اندز میں بیان کرنا کہ اسکے منفی پہلو ساری مثبت باتوں کو کمال مہارت سے نگل لیں یہ بہر حال انصاف  کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پہ یہ کہانی ثمرہ  کے گرد گھومتی ہے جو اپنے "روشن خیال" ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، اور اسی روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے  والدین ثمرہ کی شادی اس کی پسند سے کر دیتے ہیں، شوہر کا تعلق ایک خالص جاگیردار گھرانے سے ہوتا ہے جو اپنے گاؤں میں سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں،اور پیر بھی مانے جاتے ہیں ،لڑکے کا باپ اس خیال سے پہلی بار خاندان سے باہر کی بہو لانے پہ تیار ہوتا ہے کہ بیٹا جو  تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ،جاگیرداری نظام کے نقائص ،پیری فقیری کی مذموم روایات  اور سیاست کے غلط استعمال سے خائف ہو کر اس سب سے دور رہنا چاہتا ہے، وقت پڑنے پر وہ اس احسان کا حوالہ دیتے ہوئےاسے اپنی ڈگر پہ چلایا جا سکے۔ثمرہ کو شادی کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا سسرال حقیقتاً کس پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی عورت ،کا کن کن مراحل پہ کس کس طریقے سے استحصال ہوتا ہے،اس ڈرامے میں  بلا شبہ اس کی عکاسی کرنے...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

پیزا، کتا اور مہمان

خاتون خانہ پریشان تھیں۔ رات کو گھر میں دعوت تھی۔ پیزا بنانا چاہ رہی تھیں۔ سارا سامان لے آئی تھیں لیکن مشرومز لانا بھول گئیں تھیں۔ رہتی بھی شہر سے دور تھیں۔ قریب کی مارکیٹ میں مشرومز دستیاب بھی نہ تھے۔ صاحب کو مسئلہ بیان کیا تو ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر بولے۔ " میں شہر نہیں جارہا۔ اگر مشرومز نہیں ڈالے تو پیزا بن جائے گا۔ اور اگر ضروری ہیں تو پچھلی طرف جھاڑیوں میں اُگے ہوئے ہیں جنگلی مشرومز۔ توڑ لو"۔ خاتون خانہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے جنگلی مشرومز زہریلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو فوڈ پوائزننگ ہو گئی تو؟؟؟" صاحب بولے؛ دعوت میں سارے شادی شدہ آرہے ہیں۔ زہریلی باتیں سننے کے عادی ہیں۔ زہریلے مشرومز بھی ان پہ اثر نہیں کریں گے۔ خاتون گئیں اور جنگلی مشرومز توڑ لائیں۔ مگر چونکہ خاتون تھیں اس لئے دماغ استعمال کیا اور کچھ مشرومز پہلے اپنے کتے موتی کو ڈال دیئے۔ موتی نے مشرومز کھائے اور مزے سے مست کھیلتا رہا۔ چار پانچ گھنٹے بعد خاتون نے پیزا بنانا شروع کیا اور اچھی طرح سے دھو کر مشرومز پیزا اور سلاد میں ڈال دئیے۔ دعوت شاندار رہی۔ مہمانوں کو کھانا بے حد پسند آیا۔ خاتون خانہ کچن میں برتن سمیٹنے کے بعد مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی تھیں تو اچانک ان کی بیٹی کچن میں داخل ہوئی اور کہا امی ہمارا موتی مر گیا"۔ خاتون کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ مگر چونکہ خاتون سمجھدار تھیں اس لئے پریشان نہیں ہوئیں۔ جلدی سےاسپتال فون کیا اور ڈاکٹر سے بات کی۔ ڈاکٹر نے کہا چونکہ کھانا ابھی ہی کھایا گیا ہے اس لئے بچت ہوجائے گی۔ تمام لوگ جنہوں نے مشرومز کھائے ہیں ان کو انیمیا دینا پڑے گا اور معدہ صاف کرنا پڑے گا۔ تھوڑی ہی دیر میں میڈیکل اسٹاف پہنچ گیا۔ سب لوگوں کا معدہ صاف کیا گیا۔ رات تین بجے جب میڈیکل اسٹاف رخصت ہوا تو سارے مہمان لیونگ روم میں آڑے ترچھے بیدم پڑے ہوئے تھے۔ اتنے میں خاتون کی بیٹی جس نے مشرومز نہیں کھائے تھے اور اس ساری اذیت سے بچی ہوئی تھی سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ ماں کے کاندھے پہ سر رکھ کر بولی امی لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں؟ جس ڈرائیور نے اپنی گاڑی کے نیچے موتی کو کچل کر مار ڈالا وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں رُکا۔ اف کتنا پتھر دل آدمی تھا۔ ہائے میرا موتی"۔ تو میری بہنوں آپ خود کو کتنا بھی ذہین، سمجھدار، معاملہ فہم اور ہوشیار سمجھیں، پوری بات سن لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔

بادشاہ دربار ہی سجائے گا یا عوام کو سہولیات بھی دے گا؟

دورحاضرسے ملتے جلتے وقتوں کی بات ہے کہ کسی ریاست کابادشاہ بہت ظالم تھا۔عوام سے بہت زیادہ ٹیکس وصول کرتا۔بادشاہ کے دوست احباب عوام کے گھر، کھیت کاروبارچھین لیتے۔اشیاء خوردونوش ذخیرہ کرکے مہنگے داموں فروخت کرتے۔جب مظلوم لوگ بادشاہ کے دربارمیں مقدمہ پیش کرتے توانصاف فراہم کرنے کی بجائے مزید ظلم کرتا۔مظلوموں کوتشددکانشانہ بنواتا۔بادشاہ کی موت کاوقت قریب آیاتواسے محسوس ہواکہ اس کے مرنے کے بعدلوگ اسے برے الفاظ میں یادکریں گے، لہٰذااس نے سوچاکہ کچھ ایساکیاجائے کہ مرنے کے بعد لوگ اچھے لفظوں سے پکاریں۔اس نے اپنے بیٹے کوبلاکرکہامیرے مرنے کے بعد تم بادشاہ بنوگے۔میری نصیحت یادرکھنا۔ایسی حکومت کرناکہ کوئی مجھے برانہ کہے۔بیٹابھی باپ کے مرنے کامنتظرتھا، اس نے فوری کہابادشاہ سلامت فکرنہ کریں ایساہی ہوگا۔چندروزبعدبادشاہ فوت ہوگیا۔ تدفین کے بعد بیٹے جوبادشاہ بن چکاتھانے ریاست کے ملازمین کواکٹھاکرکے فرمان جاری کیاکہ آئندہ کسی مقدمہ کافیصلہ اس کی غیرموجودگی میں ہوگانہ کسی کوسزادی جائے گی۔جب کوئی مقدمہ پیش ہوتاتوبادشاہ اپنے باپ کے دورکے وزاء سے پوچھتاکہ اسے کیاسزادی جائے ؟ وہ بتاتے کہ بادشاہ کے والدکے دور حکومت میںایسے مجرموںکے کان پکڑوائے جاتے تھے۔بادشاہ فیصلہ کرتاکہ اس مجرم کودھوپ میں کان پکڑوائے جائیں اور دس اینٹیں بھی اس کے اوپررکھی جائیں۔وزراء کہتے کہ اس قسم کے کیس میں مجرم کواس قدرگھسیٹاجاتاتھاکہ اس کا جسم چھل جاتا۔بادشاہ حکم دیتاکہ اس مجرم کوگھسیٹاجائے اورپھرجسم پرنمک چھڑک دیاجائے اورمزید اسی قسم کی سزائیں دینے لگاچنددن کے اندرہی یہ بات دور دورتک پھیل گئی کہ نیابادشاہ اپنے باپ سے بھی ظالم ہے، اس سے تواس کا باپ ہی بہتر تھا۔ بادشاہ جب ایسی باتیں سنتاتوخوش ہوکرباپ کی قبرپرجاتااورفاتحانہ اندازمیں کہتادیکھااباجان لوگ آپ کواچھے لفظوں میں یاد کررہے ہیں۔ بادشاہ سلامت میرے پاکستانی کہہ رہے ہیں کہ لگان لینے اورجوتے مارنے کیلئے بندے بڑھانے والی بات پرانی ہوگئی آپ یوں کریں کہ عوام کی چیخیں پہلے سے اس قدر زیادہ نکلوائیں کہ گزشتہ حکمرانوں کی کرپشن بھلی لگنے لگے۔مہنگائی اس قدرکردوکہ عوام گزشتہ حکومتوں کی بدعنوانیاں دوبارہ قبول کرنے کی جستجوکریں۔بادشاہ سلامت کے منظورنظردرباری بادشاہ سلامت کوبتاتے ہیں کہ مہنگائی کاکوئی مسئلہ نہیں ملک میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آج بھی دیگرترقی یافتہ ممالک کے مقابلے بہت کم ہیں۔ گندم چینی،چاول،گھی،تیل وغیرہ فلاں فلاں ملک میں دوگناسے بھی زیادہ مہنگے ہیں، لہٰذابادشاہ سلامت کی خیرہوعوام تویونہی چیخوپکارکرتے رہیں گے۔ بادشاہ سلامت بے فکررہیں ابھی تومہنگائی مزید بڑے گی۔بادشاہ سلامت غریبوں کے خیرخواہ ہیں لہٰذاانہوں نے غریبوں کی غریبی مرجانے کے بعدنوٹس لیاکہ مہنگائی کے ستائے عوام کواشیاء خوردونوش سستے داموں ملنی چاہئے اورپھرفرمان جاری ہواکہ یوٹیلٹی اسٹورز پر سستی اشیاء فراہم کرنے کیلئے 15 ارب کا پیکج دیاجائے گا۔ چینی کی درآمد پر پابندی ختم۔2ہزار یوتھ اسٹور قائم ہونگے۔رمضان المبارک سے قبل غریبوں کو راشن کارڈدیاجائے گا۔ شاہی فرمان کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورزپرآٹے کا تھیلا 800، چینی 70،گھی 175روپے کلو،چاول،دالوں کی قیمتوں میں 15سے 20روپے تک کمی،50ہزار تندوروں ،ڈھابوں کو رعایتی نرخوں پر اشیا فراہم کی جائینگی۔بادشاہ سلامت کے نوٹس اورریلیف پیکج کے اعلان سے قبل یوٹیلٹی اسٹورز پرچینی کی قیمت فی کلو68روپے تھی، جسے بعد میں 70روپے فی کلوکردیاگیااسی طرح گھی کی قیمت میں بھی 5روپے فی کلوتک اضافہ کردیاگیا۔بادشاہ سلامت کوایک نیک...

خضاب ایک عذاب

خضاب لگانا ذاتی کاموں میں سے ایک مشکل ترین فن ہے۔کہتے ہیں خضاب اور بیوی ایک بار شروع ہو جائے تو پھر تازیست جان نہیں چھوڑتے۔مرد ہمیشہ مونچھیں اپنی ذات اور خضاب دوسروں کی بیوی کے لئے لگاتا ہے۔خضاب لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا چونا لگانا،کبھی کبھار تو چونا لگاناآسان دکھائی دیتا ہے خضاب لگانا مشکل۔خضاب لگا کر ننگِ جسم ،عذابِ جان مرد حضرات دھوپ میں ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے شیر خوار circumcisionکروا کے بیٹھا ہو، بس فرق صرف اتنا سا ہوتا ہے کہ بچہ رو رہا ہوتاہے۔ خضاب لگانا اس لئے بھی فن ہے کہ اسے لگاتے ہوئے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اگر خضاب لگاتے لگاتے تھوڑا سا بھی چہرہ کو لگ جائے تو بندہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ، ایسی صورت حال میں احباب سے منہ ایسے چھپا رہا ہوتا ہے جیسے واقعی منہ دکھانے کے قابل نہ رہا ہو۔ سفید بالوں پر خضاب لگانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن عہدِ حاضر کی نسل نو خیز کا بالوں کو رنگ لگانا چہ معنی،دلیل ہے نہ کوئی حوالہ ہے بس لڑکیوں کی اقتدا میں مرے جاتے ہیں۔ خواتین و حضرات کو خضاب لگانے کا کوئی اور فائدہ ہو نا ہو ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ بال جوئووں کی نرسری بننے سے قاصر رہتے ہیں، یعنی خضاب سے قبل کنگھی کرنے اور خضاب لگاتے ہوئے خضاب کی بُو سے ہی جوئوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ مرد حضرات کے لئے میرا مشورہ ہے کہ کنگھی کبھی بھی بیوی کے سامنے نہ کیجئے ،اس لئے کہ ایک شادی شدہ شخص کے سر میں جوئیں پڑ گئیں تو اس نے خضاب لگانے سے قبل بیگم سے اس بات کا تذکرہ کردیا ،بیوی نے شوہر کے سر میں کنگھی ’’ماری‘‘ تو درجن بھر کے قریب جوئیں ’’برآمد‘‘ہوئیں، لیکن اصل کھیل اس کے بعد شروع ہوا جب بیگم نے اپنے سر میں کنگھی کی تو ایک بھی جوں ندارد،اب بیگم کنگھی کو بطور ’’خر خرہ‘‘استعمال کرتے ہوئے تفتیش کر رہی ہے کہ میرے سر میں تو جوئیں ہیں نہیں تو تم کس ’’ماں‘‘سے جوئیں ’’درآمد‘‘ کر کے لائے ہو؟ خضاب لگانے کو کچھ نیم بزرگ قسم کے لوگ’’جوانی‘‘لگانا بھی کہتے ہیں،میرا کہنا یہ ہے کہ انسان جوانی میں ایسے کام ہی کیوں کرتا ہے کہ جس سے نیم بزرگی میں سر کالا کرنا پڑے۔ جو لوگ بال سفید نہیں کرتے وہ یا تو غیر شادی شدہ ہیں یا دوسری کی ہوس نہیں۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کاہل اور آلکس بھی سفید بالوں کو رنگ نہیں لگاتے کہ کہیں کسی کے رنگ میں رنگے ہی نہ جائیں۔ کچھ کا خیال یہ بھی ہے کہ سفید کو کالا کرنے سے کون سا گھر کے ’’سیاہ وسفید‘‘ کا مالک بن جانا ہے سیاہ وسفیدکی مالک تو بیوی ہی نے رہنا ہے تو کیوں اپنی جان کو عذاب میں ڈالا جائے؟ بیوی کم عمر کی ہو تو مرد خود کو insecure سمجھتے ہوئے خضاب لگاتا ہے اور اگربیوی عمر رسیدہ ہو تو بیوی کو secure کرنے کے لئے یہ حرکت کرتا ہے۔بال رنگنا اور بچے پالنا دونوں...

گھبرانانہیں

اچھوماتھے میں گولی لگنے سے جان بحق ہوگیا،تعزیت کیلئے آنے والوں میں سے ایک نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ افسوس ناک لہجے میں اچھوکی میت کوغورسے دیکھتے ہوئے تعزیتی الفاظ میں کہاشکرہے آنکھ توبچ گئی ورنہ گولی آنکھ میں بھی لگ سکتی تھی، ظالموں نے آنکھ کے بالکل قریب کوئی آدھے انچ کے فاصلے پرگولی ماری ہے،تعزیت کرنے والے نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سچ بولاتھا، لہٰذااہل خانہ شدیدتکلیف کے باوجودنمک پاشی کرنے والے الفاظ کوبرداشت کرنے پرمجبوررہے۔ ٹھیک اسی طرح کل خبرملی کہ پشاورانتظامیہ نے نان بائی اتحادکے مطالبے پرروٹی کی قیمت بڑھائے بغیر ہڑتال ختم کروادی بس اب عوام کوروٹی 170گرام کی بجائے115گرام کی ملے گی، پرانی قیمت 10روپے میںیعنی عوام شکرکریں کہ روٹی کی قیمت میں اضافہ تونہیں ہوا،پہلے جب دوست احباب ایک دوسرے سے حال پوچھتے تواکثر جواب ملتاکہ اللہ کاشکرہے، نظام چل رہا ہے، اب کسی سے حال پوچھنے سے قبل سوچناپڑتاہے کہ سخت الفاظ تومعمول ہیں، کہیں جواب غلیظ گالیوں پرمبنی نہ ہو،دورحاضرمیں حال بتانے کے مناسب ترین الفاظ کاانتخاب کریں توکچھ اس طرح ہوسکتے ہیں آٹا،گھی،دالیں،سبزیاں،پھل،بہت مہنگے ہیں،کاروباربندہیں،کہیں سے وسائل میںاضافہ نہیں ہورہا، والدین کاکیا حال ہے؟ادویات بہت مہنگی ہوگئی ہیں، والدین کی صحت اکثرخراب رہتی ہے،بیوی بچوں کا کیا حال ہے؟بچوں کی تعلیم سارابجٹ کھانے کے بعدمزیداخراجات کی طلب گاررہتی ہے،اسکول،کالج،اکیڈمی کی انتظامیہ ہماری حالت دیکھے بغیرٹیکے لگائے جاتی ہے،تین سال سے بیوی کوشاپنگ نہیں کروائی،باقی شادی شدہ افراد سمجھ سکتے ہیں،اکثرلوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ حکومت کی کارکردگی سے خوش ہیں؟ مطمئن ہیں؟آپکی نظرمیں حکومت کی کارکردگی کیسی ہے؟اکثرلوگوں کاایک ہی جواب ہوتاہے کہ حکومت عوام کی ہے نہ عوام کیلئے ہے،حکومت کی کوئی پالیسی عوام کی خیرخواہی کیلئے ہے نہ کوئی اقدام عوام کیلئے ہے۔ حکومت کی کارکردگی کاپیمانہ تب ناپتے جب حکومت ہوتی، عوام کیلئے کبھی کسی حکومت کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت پیش نہیں آئی،حکومت سرمایہ داروں کی ہے ،عام عوام توہرحکومت کی بہترین کارکردگی سے شدیدمتاثرہوتے ہوتے مشکلات کی گہری دلدل میں دھنس چکے ہیں، ایک جاننے والے نے بتایاکہ ہمارے محلے کے حاجی صاحب بہت اچھے ہیں، ہمیشہ غریبوں کاخیال رکھتے ہیں،دو چارہزار تک مددکردیتے ہیں،آٹے کے تھیلے،گھی، چینی وغیرہ بھی تقسیم کرتے رہتے ہیں،ان حاجی صاحب کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ ماشاء اللہ ان کی اپنی فیکٹریاں ہیں جہاں وہ بجلی گیس اورٹیکس چوری کرتے ہیں،یہ کیسی اندھیرنگری چوپٹ راج ہے؟ کہ ملک کے صادق وامین حاکم انتہائی کم تنخواہ لیتے اورٹیکس بروقت اداکرکے قومی فریضہ اداکرتے ہیں اورحاجی صاحب بجلی،گیس کے ساتھ ٹیکس بھی چوری کرتے ہیں؟یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدرچورعوام کے حاکم صادق وامین ہوں؟یہ کیسے ممکن ہے کہ صادق وامین کی حکمرانی میں بجلی،گیس اورٹیکس چوری ہوجائیں؟ ایک خبرکے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء سے بھی کم تنخواہ لے رہے ہیں، وزیر اعظم کی سیلری سلپ کے مطابق ان کی بنیادی تنخواہ 107280 روپے ہے،مہمانداری الائونس 50 ہزار روپے،ایڈہاک ریلیف الائونس21456 روپے،ایڈ ہاک الائونس12110روپے ،جبکہ ایک اور ایڈہاک ریلیف الائونس 10728 روپے ملتا ہے،4595 روپے ٹیکس کٹوتی کے بعد وزیراعظم ایک لاکھ 96ہزار 979روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں،راقم اپنے گزشتہ کالم میں یہ لکھ چکاہے کہ...

مرادشاہ اور خان صاحب کی ملاقات، فائدہ کس کو ہوگا؟

پاکستان کی موجودہ سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر قرار نہیں دی جاسکتی۔ دوست دشمن اور دشمن دوست بنتے دیر نہیں لگا کرتی۔ امریکا برے سے اچھا اور چین اچھے سے برا ہو سکتا ہے۔ دہشت گرد نفیس قرار دیئے جاسکتے ہیں اور لانے والے سازشی۔ این آر او نہیں دیتے دیتے سب کچھ این آر او کے حوالے کیا جاسکتا ہے اور اپنے ہی وزراء کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال باہر بھی کیا جاسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے کیونکہ جب بھی کسی کو اقتدار مل جاتا ہے، تو اس کے نزدیک سب کچھ اس کی کرسی بن جایا کرتی ہے اور وہ اس کو بچانے کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مشہور ہے کہ حبیب بینک پلازہ پر کوئی شخص چڑھ گیا اور اس نے شور مچایا کہ اگر اس کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ اس کی چھت سے کود کر خود کو ہلاک کر لے گا۔ پوری دنیا جمع ہو گئی اور اسے یقین دلایا کہ وہ نیچے اتر آئے، اس کے مطالبے پر غور کیا جائے گا لیکن اس کا اسرار یہی تھا کہ جب تک بات نہیں مانی جائے گی ، وہ نہ صرف یہ کہ نیچے نہیں اترے گا بلکہ تاخیر ہوئی تو وہ اپنے آپ کو لازماً ہلاک کر لےگا۔ مجمع میں ایک عقل مند شخص کو نہ جانے کیا خیال آیا وہ ایک ایسے شخص کو لیکر آگیا جو پورے شہر میں پاگل مشہور تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک معمولی سا بلیڈ تھا۔ اس نے نیچے سے میگا فون پر کہا کہ نیچے اترتا ہے یا میں اس بلیڈ سے بلڈنگ کو کاٹ کر پوری عمارت ہی گرادوں۔ اوپر چڑھا ہوا شخص بڑی بد حواسی میں نیچے اترا تو اسے میڈیا والوں نے پکڑ لیا اور کہا کہ سیکڑوں لوگ تجھ سے نیچے اتر نے کیلئے کہہ رہے تھے اور تو ایک پاگل کی دھمکی پر نیچے اتر گیا۔ کیا ایک معمولی بلیڈ سے اتنی بلند اور مضبوط عمارت کاٹی جا سکتی ہے؟۔ اس نے کہا کہ بھائی پاگل کا کوئی بھروسہ نہیں وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اقتدار انسان کو پاگل بنا کر رکھ دیا کرتا ہے اور پھر جو کچھ بھی اسے سمجھ میں آرہا ہوتا ہے اسے ایسا کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ پاگل پن کی وجہ سے اسے بد صورت، خوبصورت، دوست، دشمن اور دہشتگرد، نفیس دکھائی دے سکتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا خان صاحب کو در پیش ہے، اس لئے وہ ہر ایسی بات کر گزرتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کے متعلق ان کے حامی و مخالف گمان بھی نہیں کر سکتے تھے۔ تازہ ترین خبر کے مطابق "وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مابین طویل ملاقات کے بعد وفاق اورسندھ حکومت کے مابین اختلافی امور کے حل میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، گورنرہاؤس میں ہونے والی وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کی ملاقات میں صوبے میں نیا آئی جی سندھ لگانے سمیت دیگر کئی اہم امور پر اتفاق کرلیا گیا ہے، امکان ہے کہ وفاقی حکومت...

ہمارے بلاگرز