وہی دلوں کو سکون دیتاہے

رب اندھیروں کو نور دیتا ہے وہی تو ہے جو دلوں کو سکون دیتا ہے ذکر اس کا دلوں کو سرور دیتا ہے اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے اے بندے توسجدہ کرکے دیکھ د ل کو سکون دیتا ہے وہی تو ہے جو دلوں کو سکون دیتا ہے وہ خالق جن و ملائک کو بھی...

شدید گرمی اور حفاظتی اقدامات

رواں سال مئی سے ہی شدید گرمی ستم ڈھا رہی ہے ، شدید ترین گرم موسم میں نقصانات سے بچنے کے لئے حفاظتی اقدامات اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔...

ماں

دنیا کے سب رہبروں کی رہبر ہے ماں اپنائیت اور ممتا کا لازوال احساس ہے ماں دُکھ و درد کی تپش میں ٹھنڈک ہے ماں دن رات بچوں پر واری...

موسمیاتی تبدیلی کے دنیا پر تباہ کن اثرات

اس وقت ملک کے بیشتر شہر اور دیہات ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔سندھ کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ چکا ہے پنجاب کے تمام...

راز

راز کہنا، سننا، بتانا، کتنا دلچسپ معاملہ ہے اسکے پیچھے کتنا تجسس پنہاں ہے۔ ہر کوئی راز دار بننا چاہتا ہے لیکن اسکا پاس رکھنا،حفاظت کرنا ہی اصل ذمہ...

ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر سرمایہ کاری کے ثمرات

ابھی حال ہی میں چینی سائنسدانوں کی جانب سے بتایا گیا کہ ایسے نئے شواہد ملے ہیں کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا اور سرخ سیارے پر...

موسم روٹھ رہاہے!

گرمی کی تازہ لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ...

سری لنکا کا بدترین معاشی بحران،ہمیں سبق سیکھنا ہو گا

سر لنکا میں عوام کے شدید دباو اور مسلسل احتجاج کے پیش نظر وزارت عظمیٰ سے مہندرا راج پکسے کے استعفیٰ کے بعد ان کے حامیوں کے سڑک پر...

پاکستانی سیاست اور مختلف طبقات

کسی بھی آزاد ریاست میں لفظ سیاست نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے ملک میں جو سیاست کے میدان میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ اقتدار حاصل کر لیتا...

نرسوں کا عالمی دن

اللہ تعالی نے انسان کو اگر بیماری دی یے تو اس کے لئے معالج کا بھی انتظام کیا ہے. ہمارے ہاں صرف ڈاکٹرز کو ہی معالج تصور کیا جاتا...

جینے کا ہنر

موسم روٹھ رہاہے!

گرمی کی تازہ لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ...

مرکے بھی چین نہ پایاتوکدھرجائیں گے؟

میمونہ ٹی وی ریموٹ ہاتھ میں پکڑےلاؤنج میں بیٹھی ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔ گھڑی دن کےگیارہ بجنےکااعلان کررہی تھی ابھی گھرکاساراکام رہتاتھاکہ میمونہ اپنی والدہ کےبارہاکہنےپربھی اٹھنےکانام نہیں لےرہی...

سچ زہر پینے کانام

سچ زہر پینے اور جیون تیاگ دینے کا نام ہے ۔خود اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پینے کا مرحلہ قیس اور سقراط سے بھی آگے کا ہے اور...

عالمی ہنگامہ خیز صورتحال، چین کی سفارتی ترجیحات

اس وقت چین میں اہم ترین سیاسی سرگرمی ''دو اجلاس'' جاری ہیں جن میں ملک کی اقتصادی سماجی ترقی سمیت اہم عالمی و علاقائی صورتحال کے تناظر میں پالیسیاں...

” ہر پیشے سے محبت کیجیے “

جی ہاں قارئین " ہر پیشے سے محبت کیجیے " جس کا ہمیں اسلام درس دیتا ہے ۔ بدقسمتی سے عہد حاضر میں نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود...

مسائل بنا وسائل

ہم پرائیوٹ اسکول ٹیچرز ہیں ۔ چار بہنیں اور یہ حالات !شکر باپ کا گھر ہے ۔ ماں باپ دونوں اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں ۔ بھائی اپنی اپنی...

میڈیا واچ

پاک ترک مشترکہ ڈرامہ سیریل “صلاح الدین ایوبی”

ماضی میں بننے والے پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت سے کون واقف نہیں ہے، وہ ڈرامے جو پڑوسی ملک کی عوام بھی سانس روک کر دیکھا کرتی تھی اور پڑوسی...

پری زاد

دروازے کی کنڈی کھولتے ہوئے اس نے لمحے بھر کو پلٹ کر صحن کے پار نگاہ ڈالی،اس کی  غلافی آنکھوں  میں موٹے موٹے آنسو بھر آئے، لیکن اس کے...

سوشل میڈیا کا غلط استعمال میں شیطان کا کردار 

 رب تعالیٰ نے اپنی عبادت کیلئے فرشتوں کو نور سے پیدا فرمایا تا کہ وہ اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کریں ۔اللہ تعالیٰ نے ایک اور مخلوق "جنات"پیدا کی...

ٹی وی اسکرینوں پر چلتے اشتہارات *آسیب*

پتہ نہیں حوریہ کو کیا ہو گیا ہے پچھلے تین چار ماہ سے عجیب و غریب حرکتیں کرتی ہے دن بھر گھر میں لہراتی ہوئی گھومتی ہے کبھی دوپٹے...

اولڈ از گولڈ

ابھی کچھ دن پہلے میں یوٹیوب پر کچھ سرچ کر رہی تھی تب ہی پی ٹی وی کا ایک بہت ہی پرانا ڈرامہ سامنے آیا ۔ سوچا دیکھتے ہیں...

سوشل میڈیا ہماری خلوت کا امتحان

قارئین محترم!           آج کے اس دور میں بہت بڑی آزمائش، بڑا امتحان موبائل اور سوشل میڈیا ہے۔ اس وقت دنیا میں تقریباً ساڑھے سات ارب...

مباحث

راز

راز کہنا، سننا، بتانا، کتنا دلچسپ معاملہ ہے اسکے پیچھے کتنا تجسس پنہاں ہے۔ ہر کوئی راز دار بننا چاہتا ہے لیکن اسکا پاس رکھنا،حفاظت کرنا ہی اصل ذمہ...

اولاد کی خوشی

اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ قرآن میں حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت ابرہیم علیہ السلام کو اولاد کی خوشخبری سنائی گئی۔ انسان کسی بھی...

 تکمیل دورہ قرآن‎‎

جماعتِ اسلامی حلقہ خواتین کے تحت ایگزیکٹیو مارکی پولیس فاؤنڈیشن اسلام آباد میں تکمیل دورہء قرآن کی دعائیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں خواتین کی ایک کثیر تعداد...

پاکستان دیوالیہ کے قریب؟

سری لنکا سے اچھی خبریں موصول نہیں ہورہیں۔ ملک دیوالیہ ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہرین سے اب ایوان صدر بھی محفوظ...

حقیقی سازش اور حقیقی مداخلت

آج سیاست کو چھوڑیں کچھ اور باتیں کرتے ہیں۔ معاشرے کی بات کرتے ہیں اور بدلتے ہوئے اقدار کی بات کرتے ہیں۔ کسی نمرہ کاظمی کی بات کرتے ہیں...

سلیکٹڈ کے بعد امپورٹڈ حکومت

واہ ! رے سیاست دانوں کیا کیا نام تجویز کرتے ہو، کبھی سلیکٹڈ اور کبھی امپورٹڈ حکومت۔ پچھتر(75) سال سے عوام کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہو۔کیا تم...

میری چڑیا روٹھ گئی

  چڑیا سے کون واقف نہیں، سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی اپنی چہچہاہٹ سے صبح کا اعلان کرتی ہے۔ یہی شور شام ڈھلے بھی سنائی دیتا تھا۔ بھورے...

پاکستان کو اچھے قائد کی ضرورت

اللہ تعالیٰ نے انسان کو حیوانی قالب میں تو پیدا کیا ہے، مگر ساتھ ہی اسے عقل و فہم اور فکر و شعور کی وہ صلاحیتیں بھی عطا فرمائی...

تحریک عدم اعتماد اور سیاسی بصیرت کا فقدان

اطلاعات کے مطابق اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے۔، قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے حق میں اگر 172...

اہم بلاگز

شدید گرمی اور حفاظتی اقدامات

رواں سال مئی سے ہی شدید گرمی ستم ڈھا رہی ہے ، شدید ترین گرم موسم میں نقصانات سے بچنے کے لئے حفاظتی اقدامات اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بڑے افراد تو اپنا خیال خود رکھ کر موسم کی شدت سے کسی حد تک بچ سکتے ہیں، ایسے میں بچوں کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے ۔ بلاشبہ بچے قدرت کی انمول نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہیں، یہ قدرت کا وہ بیش بہا عطیہ ہیں جن کے دم سے ہماری زندگیاں مسکراتی ہیں۔ بچے پھولوں کی مانند نازک ہوتے ہیں، جس طرح پھولوں کی صحیح طریقے سے نشوونما نہ کی جائے تو وہ مرجھانے لگتے ہیں، اسی طرح بچے بھی نگہداشت اور توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔ بچے سب کو ہی اچھے لگتے ہیں، لیکن کچھ بچے اپنے والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں، جس طرح والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں، کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما آتے ہی جہاں مائیں اپنے لئے ملبوسات اور دیگر چیزوں کا موسم کے لحاظ سے انتخاب کرتی ہیں، وہیں وہ اپنے بچوں کو موسم گرما کی شدت سے بچانے کے لئے مناسب ملبوسات ، پریکلی ہیٹ پاﺅڈر اور دیگر ضروری چیزوں کا انتظام کرتی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق گرمیوں میں بچوں کو روزانہ نہلانا چاہیے اگر بچوں کو گرمی دانے نکل آئے ہیں تو پھر نہلانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ گرمیوں میں گرمی دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں، جسم پر گرمی دانے نکل آئیں تو ایسے لگتا ہے کہ جسم پر کانٹے اُگ آئے ہیں یا کانٹے چبھوئے جا رہے ہیں۔ بچے ایسی صورتحال میں بہت زیادہ گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیونکہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔ گرمی دانے عام طور پر اسی وقت زیادہ نکلتے ہیں جب موسم گرما ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے ۔ یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں گرمی لگے تو ہمارا جسم ہمیں ٹھنڈک پہنچانے کی غرض سے پسینہ خارج کرتا ہے۔ پسینے کے غدود ہماری جلد کے نیچے واقع ہوتے ہیں۔ ان غدود سے پسینہ تنگ نالیوں کے ذریعے ہماری جلد تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ نالیاں بند ہو جائیں تو پسینے کے غدود سے پسینہ بہہ کر جلد تک نہیں پہنچ پاتا اور راستے ہی میں اٹکا رہ جاتا ہے، پھر یہ پسینہ بطور احتجاج گرمی دانوں کی شکل میں جلد پر ابھر آتا ہے۔ اگر پسینہ جلد کے بالکل نیچے رکا ہوا ہو تو جلد پر ایسے چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہو جاتے ہیں گویا شبنم کے قطرے ہوں۔ اگر پسینہ جلد کے نیچے قدرے گہرائی میں رکا رہ جائے تو جلد پر لاتعداد سرخ دانے نکل آتے ہیں جن میں شدید خارش یا چبھن ہوتی ہے۔ بچوں کو ان گرمی دانوں سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو شدید گرمی سے انہیں بچائیں دھوپ میں براہ راست انہیں لے جانے سے گریز کریں اور اگر انہیں لے کر جانا ہی پڑے تو دھوپ سے بچاﺅ کا سامان...

موسمیاتی تبدیلی کے دنیا پر تباہ کن اثرات

اس وقت ملک کے بیشتر شہر اور دیہات ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔سندھ کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ چکا ہے پنجاب کے تمام شہر اور دیہات بھی گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔دراصل گلوبل وارمنگ کے باعث سطح سمندر گرم ہونے سے لو پریشر بنتا ہے جس سے سمندری ہوائیں شہر کی طرف آنا بند ہوجاتی ہیں اور لو پریشر کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ کے میدانی علاقوں کی ہوا کراچی کو چھوتے ہوئے سمندر کی جانب چلنے لگتی ہے جس کے باعث ہیٹ ویو مزید سنگین ہوجاتی ہے۔اس دوران بجلی کی کھپت میں اضافے کے باعث لوڈ شیڈنگ عام بات ہے اور جس کے بعد بلند و بالا عمارتوں میں پانی نہیں آتا، اس لیے کراچی میں ہیٹ ویو مزید سنگین ہوجاتی ہے۔ دریا خشک ہونے، آبادی میں ہوشربا اضافے، دریا کے گرد جنگل کا خاتمہ ہونے اور شہر کی شاہراہوں پر قائم درختوں کی کٹائی کی وجہ سے لاہور شہر بھی ان دنوں شدید لو اور دھوپ کی لپیٹ میں ہے۔ہیٹ ویو کو پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جارہاہے۔ ماہرین کے مطابق کہ گلوبل وارمنگ کئی گنا خطرناک ہے اور یہ پوری انسانیت کا اوّلین مسئلہ ہے۔ ہم اس گھمبیر مسئلے سے آنکھیں نہیں چر ا سکتے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ملک بھر کے دریاؤں میں پانی کی کمی اور خشک سالی کے باعث غذائی قلت اور زمینی حالات کی تبدیلی کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ یہاں ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور برآمدات کا انحصار زرعی شعبے پر ہی ہے، جس وقت تک حکومت کو ہوش آئے گا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے چند روز بیشتر قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام اور متعلقہ مقامی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مون سون کی معمول سے زیادہ بارشوں کے ممکنہ تباہ کن اثرات اور موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لیے تمام تر پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، کیونکہ خاص طور پر موسم گرما کے مون سون کے اوقات میں سیلاب اور تیز بارشوں سے لوگوں کی زندگیوں اور معاش کے ساتھ ساتھ عوامی انفرا اسٹرکچر کو بھی شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ موسمی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہنگامی حالات کی منصوبہ بندی اس خیال کے ساتھ کی جائے کہ شدید موسمی حالات کا سامنا اب کبھی کبھار نہیں بلکہ اکثر کرنا پڑے گا۔ وہ سیلاب جو کبھی 10 سال میں ایک مرتبہ آتا تھا وہ اب ہر سال آئے گا۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں میں ان جگہوں پر پودے لگائیں جہاں سورج کی روشنی پڑتی ہو، گھروں اور دفاتر میں نصب اے سی فلٹرز کو صاف رکھیں، گیزر کو کور سے ڈھانپ کر رکھیں، کپڑے دھونے کے لیے ٹھنڈے پانی کا استعمال کریں، گاڑیوں کا کم سے کم استعمال کریں اور یقینی بنائیں کہ انجن اچھی حالت میں ہو، واک، بائی سیکل یاپبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوںکوترجیح دیں۔ پیرس معاہد ہ میں امریکہ کی دوبارہ شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا کہ...

راز

راز کہنا، سننا، بتانا، کتنا دلچسپ معاملہ ہے اسکے پیچھے کتنا تجسس پنہاں ہے۔ ہر کوئی راز دار بننا چاہتا ہے لیکن اسکا پاس رکھنا،حفاظت کرنا ہی اصل ذمہ داری ہے، کچھ لوگ اسے ایک شغل کی طرح لیتے ہیں اور ہر جگہ نشر کرتے پھرتے ہیں، جس سے نہ صرف جس کے متعلق راز ہے اسکی عزت نیلام کر رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے کردار کو بھی مشکوک کر رہے ہوتے ہیں کتنا اذیت ناک لمحہ ہوتا ہے جب اپنا کوئی راز محفل کی زینت بنا ہو اور ہر ایک کی زبان سے سن رہے ہو اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ زمین پھٹے اور آپ اس میں سما جائیں، لوگوں کی زبانوں میں ہماری کمزوریوں کی تشہیر ہو رہی ہوتی ہے، ہم چپ سادھے اپنے اس لمحے کا ماتم کر رہے ہوتے ہیں جب ہم نے کسی کو رازدار بنایا تھا، لوگ تو آہستہ أہستہ بھول جاتے ہیں لیکن بس راز افشا کرنے والے کا کردار مشکوک ہو جاتا ہے، ساری زندگی کا ایک ہی سبق مل جاتا ہے کہ آئندہ کسی پر اعتبار نہیں کرنا۔ راز دار بنانا اصل میں دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا ذریعہ ہے، یہ بوجھ اللہ تعالی کی ذات کے سواء کوئی نہیں اٹھاسکتا اگر اٹھا بھی لیا تو کسی جذباتی موقع پر افشا ہونے کا خطرہ سولی کی طرح لٹکا رہے گا لحاظہ اللہ رب العزت سے بڑھ کر کوئی رازداں نہیں ، جو سن کر ملامت، طعنہ نہیں دیتا اور نہ افشاء ہونے کا ڈر رہتا ہے بلکہ بندہ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے اور یہ بہتریں رازداں ہر وقت میسر ہے، راز کو اچھالنا ایک دلچسپ مشغلہ بن چکا ہے نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر بھی یہ کام انٹرٹینمنٹ کے نام پر کیا جاتا ہے، آج کل سوشل میڈیا بھی لوگوں کی نجی زندگی کے راز اچھالنے کا کام بہت احسن طریقے سے کر رہا ہے اور سب سے ذیادہ لائک انہی چیزوں میں مل رہے ہیں، جتنی مشہور شخصیت ہوگی اسکے نجی زندگی کی کہانیاں مختلف سرخیوں، ویڈیوز کے ذریعے پھیلاکر ذیادہ سے ذیادہ کمایا جاتا ہے گویا راز پھیلانا بھی کمائی کا ذریعہ بن گیا صرف پرموشن کی خاطر ایک خبر کو مختلف کئی طریقوں سے پیش کرکے ذیادہ سے ذیادہ لائکس کما کر بزنس کیا جا رہا ہے۔ اس سارے کاموں کے نتائج بہت بھیانک سامنے آتے ہیں معاشرے، خاندان میں فساد پیدا ہوتا ہے اور یہ معاشرہ آپس کے جھگڑوں اور رنجشوں کدورتوں کی وجہ سے کسی مقام پر بھی ترقی یافتہ نہیں بن سکتا کیونکہ یہ اندرونی طور پر ہی ذہنی انتشار کا شکار ہوچکا ہوتا ہے ہمیشہ پر امن معاشرہ ہی ترقی کرتا ہے اس لئے قران میں سورہ حجرات میں ایک پرامن معاشرے کی بہترین صورت گری کی ہے کہ جو آپس میں لڑنے والوں کے درمیان صلح کرواتے ہیں،ایک دوسرے کو طعنے نہیں دیتے، تجسس یا ٹوہ نہیں لیتے، کسی کی غیبت، چغلی، بہتان نہیں لگاتے، بدگمانی نہیں کرتے، برے القابات سے نہیں پکارتے، بلاتصدیق بات آگے نہیں پہنچاتے۔ یہی اخلاقی قدریں ہیں جن کا خیال رکھتے ہوئے ہی ہم بہترین...

موسم روٹھ رہاہے!

گرمی کی تازہ لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ میں ہو رہی ہے۔ امپیریل کالج لندن اور یونیورسٹی آف ہوائی میں محققین بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ موسم کی یہ انگڑائی پاکستان کا کیا حشر کر سکتی ہے لیکن پاکستان کی کسی یونیورسٹی کے لیے یہ سرے سے کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں بیٹھا ڈاکٹر رابرٹ روڈ دہائی دے رہا ہے کہ موسموں کے اس آتش فشاں کو سنجیدگی سے لیجئے ورنہ ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے لیکن پاکستان کے اہلِ دانش سیاست کی دلدل میں غرق ہوئے پڑے ہیں۔ ندی خشک پڑی ہے اور چشمے کا پانی نڈھال ہے۔ مارگلہ کے جنگل میں آج درجہ حرارت 42 کو چھو رہا ہے۔ عید پر بارش ہوئی تو درجہ حرارت 22 تک آ گیا تھا لیکن عید سے پہلے اپریل کے آخری دنوں میں بھی یہ 40 سے تجاوز کر گیا تھا۔ مارگلہ میں چیت اوروساکھ کے دنوں میں ایسی گرمی کبھی نہیں پڑی۔ یہ جیٹھ ہاڑ کا درجہ حرارت ہے جو چیت اور وساکھ میں آ گیا ہے۔ موسموں کی یہ تبدیلی بہت خطرناک ہے لیکن یہاں کسی کو پروا نہیں۔ اس معاشرے اور اس کے اہلِ فکر و دانش کو سیاست لاحق ہو چکی اور ان کے لیے سیاست کے علاووہ کسی موضوع پر بات کرنا ممکن نہیں رہا۔ موسموں کی اس تبدیلی سے صرف مارگلہ متاثر نہیں ہو گا، پورے ملک پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ مارگلہ میں تو درجنوں چشمے ہیں اور ندیاں۔ کچھ رواں رہتی ہیں، کچھ موسموں کے ساتھ سوکھتی اور بہتی ہیں لیکن جنگل کے پرندوں اور جانوروں کے لیے یہ کافی ہیں۔ سوال تو انسان کا ہے، انسان کا کیا بنے گا؟ افسوس کہ انسان کے پاس اس سوال پر غور کرنے کا وقت نہیں۔ ابلاغ کی دنیا ان کے ہاتھ میں ہے جو سنجیدہ اور حقیقی موضوعات کا نہ ذوق رکھتے ہیں نہ اس پر گفتگو کی قدرت۔ نیم خواندگی کا آزار سماج کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سرِ شام ٹی وی اسکرینوں پر جو قومی بیانیہ ترتیب پاتا ہے اس کی سطحیت اور غیر سنجیدگی سے خوف آنے لگا ہے۔ نوبت یہ ہے کہ دنیا چیخ چیخ کر ہمیں بتا رہی ہے کہ آپ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن ہمارا دانشور صبح سے شام تک یہی گنتی کر رہا ہوتا ہے کہ کس قائدِ انقلاب کے جلسے میں کتنے لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ یہی حال سوشل میڈیا کا ہے۔ موضوعات کا افلاس آسیب بن چکا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ماحولیات کی تباہی سے یکسر بے نیاز۔ گلی کوچوں سے پارلیمان تک یہ سوال کہیں زیرِ بحث ہی نہیں کہ درجہ حرارت بڑھنے کا مطلب کیا ہے؟زیرِ زمین پانی کی سطح جس تیزی سے گر رہی ہے، خوفناک ہے۔ چند سال پہلے اسلام آباد میں 70 یا 80 فٹ پر پانی مل جاتا تھا لیکن اب تین سے چار سو فٹ گہرے بور کرائیں تو بمشکل اتنا پانی دستیاب ہے کہ...

سری لنکا کا بدترین معاشی بحران،ہمیں سبق سیکھنا ہو گا

سر لنکا میں عوام کے شدید دباو اور مسلسل احتجاج کے پیش نظر وزارت عظمیٰ سے مہندرا راج پکسے کے استعفیٰ کے بعد ان کے حامیوں کے سڑک پر اْتر آنے کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے نیز کرفیو میں توسیع کے باوجود سیکوریٹی فورسیز صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ شروع ہونے والے تشدد سے متعدد افراد ہلاک کئی زخمی ہیں۔ سری لنکن وزیراعظم کے استعفیٰ کے باوجود عوام مطمئن نہیں ہیں اور وہ صدر گوٹابایا راج پکسے کے استعفے پر مصر ہیں۔ یاد رہے کہ مہندرا راج پکسے کے خلاف عوام کی شدید برہمی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے گھر کے باہر مظاہرین پر ان کے حامیوں نے پر تشدد حملہ کیا جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد حکومت مخالف مظاہرہ کے کلیدی مرکزگّلے فیس گارڈن پر بھی حکومت حامی پہنچ گئے اور انہوں نے وہاں بھی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ نتیجے میں مظاہرین بے قابو ہوگئے جن کی تعداد حکومت حامیوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف حکومت حامیوں کو سڑکوں پر دوڑا دوڑا کر پیٹابلکہ سیکورٹی فورسیز کو بھی خاطر میں نہیں لائے۔ سری لنکا غیر معمولی معاشی بحران کی وجہ سے حکومت مسائل کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔دو کروڑ 20 لاکھ کی آبادی والے ملک کو تیزی سے کم ہو رہے زرمبادلہ کے دخائز اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے عوام کے لیے اشیائے ضروریہ درآمد کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ان وجوہات کی وجہ کئی ہفتوں تک حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے جو حال ہی میں پرتشدد ہو گئے، جس کے بعد وزیراعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔عوام کے زیادہ تر غصے کا محور صدر گوتابایا راجاپکشے اور ان کے بھائی اور سابق وزیراعظم مہندا راجاپکسے ہیں، جن پرملک کو معاشی بحران میں مبتلا کرنے کا الزام ہے۔ مظاہروں کا آغاز کیسے ہوا؟ کئی مہینوں سے سری لنکن شہری اشیائے ضروریہ خریدنے کے لیے قطاروں میں لگ رہے تھے کیونکہ زرمبادلہ کے بحران کی وجہ سے درآمدی خوراک، ادویات اور فیول کی قلت ہو گئی تھی۔ تیل کی کمی کی وجہ سے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنا تھا۔کورونا وبا اور روس یوکرین تنازع نے بھی حالات کو بدتر بنا دیا لیکن ممکنہ معاشی بحران کے حوالے سے انتباہ بہت پہلے سے کیا جا رہا تھا۔ 2019 ء میں صدر گوتابایا راجاپکشے ایسٹر پر چرچ اور ہوٹلوں میں ہونے والے خود کش دھماکوں کے بعد اقتدار میں ائے تھے۔ان دھماکوں میں 290 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور سیاحت کی صنعت کو بہت نقصان پہنچا تھا، جو کہ زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔گوتابایا راجاپکشے نے سری لنکا کو معاشی بحران سے نکالنے اور محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔حکومت کو اپنے محصولات میں اضافہ کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ بڑے انفراسٹکچر منصوبوں کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ کچھ قرضوں کے لیے چین نے مالی اعانت فراہم کی تھی، لیکن اپنی صدارت کے چند ہی دنوں میں راجاپکشے نے سری لنکا کی تاریخ میں...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار

(یوم اساتذہ پر اساتذہ کے نام ایک پیغام) استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا...

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

حضرت علی ؓکی شہادت

حضرت علی بن ابی طالب پر خارجی ابن ملجم نے 26 جنوری 661ء بمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود خنجر کے ذریعہ نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا، علی ؓبن ابی طالب زخمی ہوئے، اگلے دو دن تک آپ زندہ رہے لیکن زخم گہرا تھا، چنانچہ جانبر نہ ہو سکے اور 21 رمضان 40ھ کو وفات پائی، آپؓ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہٖ وآلہٖ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اور امت مسلمہ کے خلیفہ راشد چہارم تھے۔حضرت علی ؓ 13 رجب کو ہجرت سے 24 سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے متعلق تواریخ میں لکھا گیا ہے کہ آپ بیت اللہ کے اندر پیدا ہوئے، حضرت علی ؓ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ؐ ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول و فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں احادیث نبوی ﷺمیں موجود ہیں کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ حضرت علیؓ کا حسبِ نسب: آپ ؓکے والد حضرت ابو طالب اور والدہ جنابِ فاطمہ بنت ِ اسد دونوں قریش کے قبیلہ بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور ان دونوں بزرگوں نے بعدِ وفات حضرت عبدالمطلب پیغمبر اسلام صلی علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کی تھی۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں، بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اوروہیں پرورش پائی۔ پیغمبرکی زیرنگرانی آپ کی تربیت ہوئی، وہ ایک لمحہ کے لیئے بھی حضورؐ ان کو تنہا نہیں چھوڑتے تھے۔آپ کے بارے میں عام روایت ہے کہ آپ نے 13 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ حضرت علیؓ سے منسوب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث: عالم ِ اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث مبارکہ درجہ ذیل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ”علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں“ ”تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علیؓ ہے“ ”علیؓ کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی“ ”یہ (علیؓ) مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین فضیلتیں: وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا، حضرت علیؓ کا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔ جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیا۔آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔ 19حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ...

موثر تدریسی خصوصیات 

تدریسی اصولوں کا موثراستعمال:۔تدریس ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ ایک فن ہے۔ پیشہ وارانہ تدریسی فرائض کی انجام دہی کے لئے استاد کا فن تدریس کے اصول و ضوابط سے کم حقہ واقف ہوناضروری ہے۔ ایک باکمال استاد موضوع کو معیاری انداز میں طلبہ کے ذہنی اور نفسیاتی تقاضوں کے عین مطابق پیش کرنے کے فن سے آگاہ ہوتا ہے۔ معیاری اور نفسیاتی انداز میں نفس مضمون کو پیش کر نا ہی تدریس ہے۔ موثر تدریس کے لئے ،کسی بھی موضوع کی تدریس سیقبل، استاد کا موضوع سے متعلق اپنی سابقہ معلومات کا تشفی بخش اعادہ ا ور جائزہ بے حد ضروری ہے۔ سابقہ معلومات کے اعادہ و جائزہ کے علاوہ موضوع سے متعلق جدید تحقیقات و رجحانات سے لیس ہوکر اساتذہ اپنی شخصیت کو باکمال اور تدریس کو بااثر بنا سکتے ہیں۔ موثر تدریس کی انجام دہی کے لئے اساتذہ کا تدریسی مقاصد سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پر عمل پیرائی کے ذریعے اساتذہ مقاصد تعلیم کی جانب کامیاب پیش رفت کر سکتے ہیں۔ موثر تدریس اورتعلیمی مقاصد کے حصول میں تدریسی اصول نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں۔تدریسی اصولوں سے اساتذہ کیوں، کب اور کیسے پڑھانے کا فن سیکھتے ہیں۔تدریسیاصولوں کا علم اساتذہ کو تدریسی لائحہ عمل کی ترتیب اور منظم منصوبہ بندی کا عادی بناتا ہے۔کیوں، کب ، اورکیسے پڑھا نے کااصو ل اساتذہ کی مسلسل رہنمائی کے علاوہ تدریسی باریکیوں کی جانکاری بھی فراہم کرتا ہے ۔ تدریسی اصولو ں پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ موثر اور عملی تدریس کو ممکن بناسکتے ہیں۔تدریسی اصول بامقصد تدریس،نئے تعلیمی رجحانات ، تجزیہ و تنقید، مطالعہ و مشاہدہ ،شعور اور دلچسپی کو فروغ دیتے ہیں۔ تدریسی اصولوں پر قائم تعلیمی نظام نتیجہ خیز اور ثمر آورثابت ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پرکاربند استا د معلم سے زیادہ، ایک رہنما اور رہبرکے فرائض انجام دیتاہے۔ جدید تعلیمینظریات کی روشنی میں استاد ایک مدرس اور معلم ہی نہیں بلکہ ایک رہبر اور رہنما بھی ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات سے عدم آگہی کی وجہ سے ہم اس نظریہ تعلیم کو جدیدیت سے تعبیر کر رہے ہیں جب کہ یہ ایک قدیم اسلامی تعلیمی نظریہ ہے جہا ں استاد کو معلومات کی منتقلی کے ایک وسیلے کی شکل میں نہیں بلکہ ایک مونس مشفق مربی رہنما اور رہبر کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ تدریسی اصولوں سے باخبر استاد بنیادی تدریسی و نفسیاتی اصولوں کی یکجائی سے تعلیم و اکتساب کو طلبہ مرکوز بنادیتا ہے۔ذیل میں اہمیت کے حامل چند نمایاں تدریسی اصولوں کو بیان کیا جارہاہے ۔ (1) ترغیب و محرکہ تدریسی اصولوں میں اساسی حیثیت کا حامل ہے۔طلبہ میں تحریک و ترغیب پیدا کیئے بغیر موثر تدریس کو انجام نہیں دیا جاسکتا۔ طلبہ میں اکتسابی میلان ترغیب و تحریک کے مرہون منت جاگزیں ہوتاہے۔ حصول علم، پائیدار اکتساب اور علم سے کسب فیض حاصل کرنے کے لئے طلبہمیں دلچسپی اور تحریک پیدا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔فعال و ثمر آور اکتساب ترغیب و تحریک کے زیر اثر ہی ممکن ہے۔تدریس میں ہر مقام پر طلبہ میں محرکہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ بغیر محرکہ پیدا کیئے کامیاب اکتساب ممکن ہی...

نبی امُیﷺ بحیثیت معلم 

چودہ سو سال پہلے عرب کے قبائلی معاشرے میں عمر کے چالیس برس گذارنے والے امی ( غیر پڑھے )فرد  کے قلب پر وحی کا نزول  ہوتا ہے اور وہ رہتی دنیا کے لیے معلم اعظم بن جاتے ہیں ۔آپ ﷺ نوید مسیحا اور دعاۓ خلیل ہیں ۔ابراہیم ؑ،بیت اللہ کی دیواریں اٹھاتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ "اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیے جو انھیں تیری آیات سنائے ،ان کو کتاب اور حکمت کی  تعلیم  دےاور ان کی زندگیاں سنوارے " البقرہ  129 لفظ اقرا سے نبوت کا آغاز ہوا۔آپﷺ کی ذات تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار پائی۔آپ ﷺنے "انما بعثت معلما""مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے" کے ذریعے  اپنا مقام واضح کر دیا۔ اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا       اوراک  نسخہ کیمیا   ساتھ لایا تہذیب و تمدن سے عاری  انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ صبر آزما کام تھا۔ مگر آپ ﷺ نے تعلیم  کے جو اصول ،تکنیک استعمال کیے وہ آج بھی عین حق ہیں ۔ جن کے بنا سیکھنے سکھانے کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ آپ ﷺ  بحیثیت معلم  درج ذیل نکات  پر عمل پیرا رہے۔ مقصد کی لگن : ایک معلم  کا   بلندمقصد ہمیشہ اس کے مطمح نظر رہتا ہے ۔"اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کر نا  " اس عظیم مقصد کے لئے غار حرا سے اتر تے ہی آپ ﷺ  ہمہ تن مصروف عمل ہوگئے۔ پہلے  گھر اور خاندان  کودعوت دی پھر قبیلہ کو متوجہ کیا ۔ دور نبوت کا ہر لمحہ گواہ ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کبھی مصلحت یا مداہنت کا شکار نہیں ہوئے  قران  میں اس کیفیت کی تصویر کشی   ہے ۔ " کہ دو  کہ اے کافروں  میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن  کی عبادت تم کرتے ہو،  نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں  اور نہ  میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت  میں کرتا ہوں، تمھارے لیئے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین" سورہ الکافرون لوگوں کا مذاق سہا،گالیاں سنیں ،پتھر کھائے،شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کیے گئے ،حتی کہ اپنے محبوب شہر  مکہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ دنیا وی ترغیبات ،تخت وتاج  پیش کیے گئے جن کو آپﷺ نے ٹھکرا دیا مگر مقصد سے ایک لمحہ کو بھی غافل نہ ہوئے ۔ درد مندی : انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کررب واحد کی بندگی پر آمادہ  کرنے کے لیے آپ ﷺ پیغمبرانہ  صفت دلسوزی اور تڑپ سے مزین تھے۔اپنی قوم کو گمراہی سے نکالنے کے لیے شب و روز دل گداز  کیفیت میں گذارتے رہے۔ حدیث میں ہے " میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لیے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لیے ۔وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں مگر پروانے اسکی ایک نہیں چلنے دیتے ۔ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

زمانہ بدل رہا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔

ملکی سیاسی حالات و اقعات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ملکی معاشی حالات ،خاص کر قیمتوں کی گرانی کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ اتنا جلدی تو گرگٹ رنگ نہیں بدلتا جس قدر عصر حاضر میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔دور حاضر میں جس سرعت کے ساتھ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات میں تغیر وتبدل رونما ہو رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے تو نہرو کے اس بیان کی صداقت برحق ہونے کا یقین ہوچلا کہ ’’میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان وزیراعظم بدلتا ہے‘‘۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج تک ہم نہ وزیراعظم بدلنے سے باز آئے اور نہ ہی ہندو بنئے دھوتیاں بدلنے۔ہم تو وہ قوم ہیں جو اپنے وزیر اعظم کے غبارے سے ہوا میں ہی ہوا نکال دیتے ہیں(میاں صاحب والا واقعہ)،پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں۔ہوا میں معلق ہونے کی بنا پر تاریخ میں دو شخصیات کو شہرت نصیب ہوئی،میاں صاحب اور سومنا ت کا مجسمہ۔ایک کو محمود غزنوی اور دوسرے کو مشرف نے شرف بخشتے ہوئے ہوا سے نیچے اتارا۔یہ الگ بات کہ دونوں نے ہوا سے اتارنے کے لئے انداز ایک سا ہی اپنایا۔ سب بدل رہا ہے،اور یہ تبدیلی اس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہے کہ حضرت انسان بھی اب تو ’’حضرت‘‘ہوتا چلا جا رہا ہے،حضرت یہاں پر اردو والا نہیں بلکہ پنجابی والا ہے۔کیونکہ معاملات میں یا تو پنجابی حضرت ہوتے ہیں یا پھر مولانا حضرتِ فضل الرحمٰن۔مولانا صاحب تو اتنے حضرت ہیں کہ اپنے ’’پیٹ اور ویٹ‘‘ کو بھی اللہ کا فضل ہی سمجھتے ہیں۔ویسے ان کے پیٹ اور ویٹ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی بھی اتنا ہی خیال رکھتے ہیں جتنا کہ اپنے پیٹ اور ویٹ کا۔اسی لئے دونوں ان کے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حضرت انسان تو بدل رہا ہے یقین جانئے کہانیوں کے کردار بھی اب پہلے سے نہیں رہے۔وہ بھی حضرت انسان کی طرح چالاک و چوبند ہوتے جا رہے ہیں۔اب کوے ارو لومڑی کی کہانی کو ہی لے لیجئے جس میں کوے کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا دیکھ کر لومڑی کوے کے خوش گلو ہونے پر عرض کرتی ہے کہ اے کوے میاں کوئی گانا تو سنائو۔جس پر کوا کائیں کائیں کرتا ہے ، اس کے منہ سے گوشت کا ٹکڑا گرتا ہے،لومڑی اسے اٹھاتی ہے اور اپنی راہ لیتی ہے۔وہی کہانی اب بدل کر ایسے ہو گئی ہے کہ یونہی لومڑی کوے کی خوش الحانی کی تعریف و توصیف میں عرض کرتی ہے کہ کوے میاں اپنی پیاری سی آواز میں کوئی ملکہ ترنم نورجہاں کا پر ترنم گانا تو سنائو۔اب کہانی کے مطابق کوے کو بھی ’’میاں صاحبان‘‘کی طرح فورا گانا شروع کر دینا چاہئے مگر نہیں اب ایسا نہیں ،میں نے کہا نا کہ زمانہ بدل گیا تو کہانیوں کے کرداروں میں بھی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔اب کوے لومڑی کے منہ سے اپنی تعریف سنتے ہی ،اپنے منہ والا گوشت کا ٹکڑا کھاتا ہے،زبان سے اپنی چونچ صاف کرتے...

ہمارے بلاگرز