گونگا پاکستان

  یونیورسٹی بس آنے والی تھی۔ میں جلدی سے نکلی توراستے میں کسی سےایک زوردار ٹکر نےآنکھوں کے آگے ترمرے نچا دیے۔۔زمین آسمان گھوم کر رہ گئے۔ ہم دونوں اپنا اپنا سر پکڑےزور سے چلائیں"اندھی ہو کیا"۔۔بس کے ہارن نے ہوش کی دنیا میں لا پھینکا۔اووف۔ہم دونوں نے جلدی سے اپنا اپنا سامان سمیٹا اور...

لکھا اپنی موت کا سہرا

لکھا میں نے اپنی موت کا سہرا ہے میری سوچ کے دروازے پر پہرہ ہے لاشیں تو دیتی ہیں مجھ کو آوازیں بندہ میرے اندر گونگا ، بہرہ ہے مجھ سے میرے دیس...

ناں کہنے کا ہنر !۔

انسانی رشتوں میں پیار ، محبت اور خلوص ہمیشہ حدود و قیود میں ہی مناسب لگتا ہے، رشتہ کوئی بھی اچھا یا برا نہیں ہوتا یہ لوگوں کے ساتھ...

نئی جماعت آگئی

ملکی سیاست میں نئی جماعتوں کے اضافے ہوتے رہتے ہیں، کوئی بالکل نئی اور کوئی پہلے سے موجود جماعت سے نکل کر سامنے آگئی۔ کوئی بھی جماعت ایسی نہیں...

میوزک بینڈ کیوں؟۔

اللہ نے ہمیں اقوام عالم کی تاریخ کا علم دیا تا کہ ہم اس راہ عمل کو اختیار کرنے سے باز آجائیں جس نے عالیشان قوموں کو صفحہ ہستی...

دوسروں کی تکلیف کا احساس

رخشندہ ! حضرت عمر فاروق رضی تعالٰی عنہ تو خلیفہ وقت تھے پھر بھی وہ تمام رات غریب دیہاتی اور اسکی بیوی کی مدد کے لیے ان کے ساتھ رہے،...

فتنوں سےبچاؤ

فی زمانہ نوجوان نسل کی دین بےزاری نے ہر صاحب فہم وبصیرت کوحیرت وپشیمانی میں مبتلاکررکھا ہے۔غیروں کی کارستانیوں اوراپنوں کی حماقتوں نے، ہمیں اس افسوناک صورتحال سےدوچارکیاہے۔میرا موضوع...

ماں کے لیے صرف ایک دن؟

جی ہاں ماؤں کے لیے ایک دن مختص کرنے سے ماں اور ممتا کے احساس اور ماں بننے سے بچے کی پرورش تک کے سلسلے میں ماں کے کردار...

وزیر اعلیٰ کا شوق

جب جب کرے گا ایک منصف مزاج مورخ اورنگ زیب عالمگیر کے روشن کردار اور سادگی و حسن عمل سے مزین اس کی شخصیت کا تذکرہ ، تو بھلے...

گرمیوں کی چھٹیاں

یہ ایک حقیقت ہے کہ ماہ جون شروع ہونے سے قبل ہی ماؤں کو پریشانی لاحق ہونے لگتی ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں، جنکا دورانیہ ساٹھ دنوں پر...

جینے کا ہنر

ناں کہنے کا ہنر !۔

انسانی رشتوں میں پیار ، محبت اور خلوص ہمیشہ حدود و قیود میں ہی مناسب لگتا ہے، رشتہ کوئی بھی اچھا یا برا نہیں ہوتا یہ لوگوں کے ساتھ...

محنت کشوں کا عالمی دن

یکم میں زیادہ تر ممالک میں مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد امریکہ کے شہر شکاگو کے محنت کشوں...

نئی منزل کا سراغ

انسان اپنی زندگی میں کئ بار جیتا ہے اور کئ بار مرتا ہے۔لیکن اس کو ادراک نہیں ہوتا،وہ ہر گزرتے لمحے کو اور ہر بیت جانے والے لمحے کو...

غزہ ! دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل

ہم پاکستانیوں اور دنیائے اسلام کے صدور ، شیوخ ، شاہوں اور بادشاہوں نے عیدالفطر ایسے وقت میں منائی جب فلسطین اور غزہ میں بچے خون میں نہلائے جارہے...

۔23 مارچ کا یادگار دن

قوموں کی زندگی میں بعض لمحات بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاصے دور رس اور تاریخ کا دھارا موڑنے کی اہلیت...

نوائے سُرود تجھے خدا کو سونپا 

اے ارض فلسطین کے معصوم بچو ! تم نے اپنی زندگی کا مقصد کتنی جلدی حاصل کر لیا القدس سے وفا کی پاداش میں تم اپنے والدین کے سائے...

میڈیا واچ

مائی ری

أج اس فتنے کے دور میں ہم جن جن مشکلات کا شکار ہیں ان میں سر فہرست اولاد کی اچھی تربیت کرنا ہے۔ الحمدللہ ہمارے گھروں کا ماحول اچھا...

کوئی روکنے ٹو کنے والا نہیں؟

ٹیلی ویژن پر صبح کی ابتدائی نشریات بہت ہی اچھی ہوتی ہیں، تلاوت، حمد و نعت اور مختلف چینلز سے قرآن مجید ترجمے، خلاصے تفسیر اور دیگردینی پرگرامز پیش...

آپ کا مثبت انداز

گرچہ اس موضوع پر میں کافی مرتبہ لکھا جاچکاہے، لیکن جب کوئی اس نوعیت کی بات دیکھتی ہوں تو دل چاہتا ہے کہ چند جملے ہی سہی ضرور لکھوں،...

زندگی کا مقصد کیا یہی ہے؟

جب بھی کبھی ٹی وی کے کسی ڈرامے کے کچھ سین دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو بے اختیار کچھ لکھنے کو دل چاہتا ہے؛ یعنی کچھ ایسا دیکھنے...

بے بی باجی

بے بی باجی کی کہانی شرو ع میں تو بہت اچھی تھی جیسے ثریا بجیہ کی کہانی ہوا کرتی تھی اجتماعی زندگی دکھائی سب ساتھ رہ رہے ہیں محبت...

پاکستان کی پانچ امیر ترین اداکارائیں

پاکستان کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے جریدہ، سب سے بڑے نیوزگروپ کے مورخہ 7 جولائی کے انٹرٹینمنٹ پیج   نے ایک مضمون شایع کیا ہے جس کا عنوان...

مباحث

میوزک بینڈ کیوں؟۔

اللہ نے ہمیں اقوام عالم کی تاریخ کا علم دیا تا کہ ہم اس راہ عمل کو اختیار کرنے سے باز آجائیں جس نے عالیشان قوموں کو صفحہ ہستی...

وزیر اعلیٰ کا شوق

جب جب کرے گا ایک منصف مزاج مورخ اورنگ زیب عالمگیر کے روشن کردار اور سادگی و حسن عمل سے مزین اس کی شخصیت کا تذکرہ ، تو بھلے...

گرمیوں کی چھٹیاں

یہ ایک حقیقت ہے کہ ماہ جون شروع ہونے سے قبل ہی ماؤں کو پریشانی لاحق ہونے لگتی ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں، جنکا دورانیہ ساٹھ دنوں پر...

رحمانیت

الحمد میں تمام تعریفیں شامل ہو جاتی ہیں خواہ صفات اور حمد براہ راست رب سے منسلک ہوں یا پھر کوئی خوبی رب نے اپنے کسی بندے کو عطا...

جس نے سب کا گھر بنایا

یکم مئی کو ہر سال دنیا بھر میں یوم مزدور منایا جاتا ہے اس دن پاکستان میں بھی عام تعطیل ہوتی ہے ، بہت سے جلسے ، تقریریں کی...

رمضان، عید اور محمد شاہ رنگیلے

کائنات میں رب کریم کا محبوب ترین ماہِ رمضان المبارک دنیا بھر میں امت ِ مصطفیٰ ﷺ نے عقیدت و احترام سے منایا، مساجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد...

نئی منزل کا سراغ

انسان اپنی زندگی میں کئ بار جیتا ہے اور کئ بار مرتا ہے۔لیکن اس کو ادراک نہیں ہوتا،وہ ہر گزرتے لمحے کو اور ہر بیت جانے والے لمحے کو...

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

سب نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا کہ "کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا"۔ کچھ یہی حال پاکستان کے عوام کا ہے۔ 76 برس...

مہنگائی کی وجہ پکڑی گئی

سیاست دان اور عوام صرف سیاست کی باتیں کرتے ہیں اور عوام بھی اب مختلف سیاست دانوں کے نظریات سے متاثر ہو کر ایک دوسرے کو اپنے الفاظ کے...

اہم بلاگز

نئی جماعت آگئی

ملکی سیاست میں نئی جماعتوں کے اضافے ہوتے رہتے ہیں، کوئی بالکل نئی اور کوئی پہلے سے موجود جماعت سے نکل کر سامنے آگئی۔ کوئی بھی جماعت ایسی نہیں جس میں ٹوٹ پھوٹ نہ ہوئی ہو، ایسے ہی ن لیگ قیادت سے اختلافات کے بعد خارج ہونے والوں نے مل کر نئی جماعت بنا لی۔ یقینا یہ جماعت بھی موجودہ حکومت کے ساتھ اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی تاہم اس سے تھوڑا پیچھے جائیں تو عام انتخابات سے قبل کئی جماعتیں وجود میں آئیں۔ جماعتوں کے وجود میں آنے کے پیچھے کئی طرح کے عوامل رہے ہیں۔ جیسے پارٹی سے اچانک نظریاتی اختلافات ہوگئے یا پھر پسندیدہ قیادت ناپسند آنے لگی، بڑوں پر چھوٹوں کو ترجیح دی تو سینارٹی کا مسئلہ آڑے آگیا، کچھ پیسے والے دوستوں نے کہا کچھ نیا کرتے ہیں اور مل کر الگ شناخت بنانے نکل پڑے، نظام میں تبدیلی بھی ہمیشہ اہم وجہ رہی ۔ نئی جماعت بننے، بنانے یا بن جانے کی ایک دو اور بھی بڑی وجوہات ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ جو بھی نئی جماعت آئی ہے اس کا منشور کتنا متاثر کن ہے اور وہ خود اپنے منشور پر عمل کرنے والی ہے۔ عوام پاکستان پارٹی کے گزرے دنوں کو مدنظر رکھیں تو بننے کا مقصد بالکل واضح ہے۔ لیکن کیا یہ جماعت اپنے مدمقابل کے لیے مشکلات پیدا کرسکے گی یا نہیں، موجودہ حالات و واقعات میں مدمقابل کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے گی یا پھر گزشتہ دنوں نئی بننے والی کچھ جماعتوں کی طرح سمندر کی جھاگ ثابت ہوگی یہ تو وقت طے کرے گا البتہ اب تک جوش و جذبہ روایتی ہے۔ ایک اور پیش رفت بھی ان دنوں ہوئی ہے وہ بھی ایک سابق نئی جماعت کے حوالے سے ہے۔ اس جماعت نے اپنا تعارف کچھ انوکھے انداز سے پیش کیا تھا۔ لوگوں میں کافی چہ مگوائیاں بھی ہوئیں یہاں تک کہ میڈیا پر ان کے اس طرز تعارف پر حیرت کا اظہار کیا گیا، بس لوگ اندازے لگا رہے تھے۔ کسی نے ن لیگ کا دھڑا بنادیا اور کسی نے نظر انداز کرتے ہوئے صرف ان کے تعارفی انداز پر بات کی۔ تعارف واقعی انوکھا تھا۔ اس جماعت کی تنظیم نو کی گئی اور مختلف اضلاع، صوبوں، شعبوں اور حلقوں کی سطح پر اپنے ذمے داران کے تقرر و تبادلے کیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر باقاعدہ اعلانات بھی کیا گیا مگر اب تک کسی نے تعیناتی پر سوال اٹھایا نہ اپنا حق جتایا۔ اس جماعت کی اب تک کی کارکرگی سے وابستہ لوگ مطمئن ہیں اور کچھ غیر وابستہ بھی ان میں شامل ہیں۔ یہ جماعت مرکزی مسلم لیگ کے نام اس وقت زیر بحث آئی ہے جب ملکی سطح پر اس جماعت کے لوگ اچانک نکلے اور شدید مہنگائی کے وقت جب کسی بھی جماعت کو دوسری جماعت پر بھروسہ نہیں ہورہا تھا اور وہ حکومت کیخلاف نکلنے کے لیے تیار نہیں تھی اکیلے مہنگائی کیخلاف اپنا شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا۔ عوامی حلقوں سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر پلیٹ فورم پر متاثر کن آواز بلند کی اور یوں لوگوں کو ایک تسلی ملی...

فتنوں سےبچاؤ

فی زمانہ نوجوان نسل کی دین بےزاری نے ہر صاحب فہم وبصیرت کوحیرت وپشیمانی میں مبتلاکررکھا ہے۔غیروں کی کارستانیوں اوراپنوں کی حماقتوں نے، ہمیں اس افسوناک صورتحال سےدوچارکیاہے۔میرا موضوع دوسراسبب ہے۔ دیندارطبقےکی ناکامی کی تین اہم وجوہات ہیں۔ اول: قرآن وسنت سےبراہ راست فیض یاب نہ ہونا۔ دوم: کردارکی پسپائی۔ سوم: ظاہری اعمال کوترجیح دینا۔ قرآن وسنت سےدوری؛مختلف تبلیغی گروہوں نے قرآن وسنت سےبھی بڑھ کراپنےاساتذہ کی تعلیمات کواہمیت دےرکھی ہے۔بدلتےہوےحالات کاساتھ دینا، کسی کتاب کےبس کی بات نہیں۔ مستقبل کےپردے میں جھانک کراسکےمطابق رہنمائی کردیناکسی غیرنبی کےلیےقطعاناممکن ہے۔قرآن مجیدکےاندر قیامت تک برپاہونےوالےہرفتنےسےکامل بچاؤکاواضح راستہ موجودہے۔ آج کانوجوان ہرمعاملےمیں دلیل کاطلبگار ہےاورقرآن میں دلائل کثرت سےموجودہیں۔البتہ اگر کوئی شخص پہلےسےبعض تخیلات کوذہن میں راسخ کرچکاہواورانکےمطابق قرآن کوڈھالناچاہےتواس نےتوخوداپنےلیےہدایت کادروازہ بندکرلیا۔ اللہ تعالیٰ نےانسانوں کی رہنمائی کےلیےکتاب نازل کی اوراسکےساتھ معلم بھی مبعوث فرمایا(النحل:۴۴)۔ حجة الوداع کےموقع پرامت کونصیحت کی گئی تھی کہ دوچیزوں کوتھامےرکھناکبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ایک قرآن اوردوسرےسنت۔امت نےدونوں کوخیرباد کہاتوگمراہی اسکامقدربن گئی۔جس چیزکےلیےلوگ محنت کرتےہیں اسےپالیتےہیں۔لوگ دین کےلیےمحنت کرنےپرآمادہ ہی نہیں۔ تقدیرکےقاضی کایہ فتویٰ ہےازل سے کہ ہےجرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات کردارکی پسپائی؛جب مکےمیں کوئی بھی اسلام کا نام لیوانہیں تھا،ہرطرف بت پوجےجارہےتھے۔ایسےشدید اجنبی ماحول میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس تین عظیم ہتھیارتھےجن کاتوڑکافروں کےبس بات نہیں تھی۔١۔ قرآن مجیدکےدلوں کوچھو لینےوالےٹھوس دلاءںل۔٢۔ کردارکی قوت۔٣۔ گفتگوکابے مثل سلیقہ۔ سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ اپنےنبیﷺ کومخاطب کرکےفرماتےہیں کہ اگرآپ تندخواورسخت مزاج ہوتےتولوگ آپکوچھوڑکرچلےجاتے(آیت١۵٩)۔ قرون اولیٰ میں مسلمانوں کےاخلاق وکردار سےمتاثرہوکرلوگ دین سےوابستہ ہوئے تھے۔ ہمارےہاں بہت سےداعی حضرات نصیحت کی مشین بن چکےہیں۔وہ سمجھتےہیں کہ انہیں لوگوں کوٹھیک کرناہے۔ خالانکہ ٹھیک تومجھےاپنےآپ کو کرناہے۔ دوسروں تک توحکمت و دانائی اورنرمی ومہربانی سےبات پہنچانی ہےاورانکی ایذارسانیوں پرصبرکرناہے۔ دینی مدارس میں بجوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پرانکی خوب خبرلی جاتی ہےاوراکثربےدردی سےانہیں کنٹرول کیاجاتاہے۔اس رویےکےباعث کاری حضرات کےساتھ ساتھ وہ قرآن سےبھی دورہو جاتےہیں۔بہت سےباعمل اورمخلص مبلغین بھی اپنے جھگڑالوپن اورعدم دانائی کی بدولت دوسروں کی دین بےزاری کاباعث بن جاتےہیں۔بھلااس شخص کی بدنصیبی کاکیاکہناجسکی حماقتوں کےباعث لوگ دین ہی سےدورچلےجائیں۔ ظاہری اعمال کوترجیح دینا؛ایمان کی کمی دراصل ہربرائی کی جڑہے۔ایمان کےبغیرعمل صالح دراصل نقش برآب ہے۔ہمارےہاں ظاہری اعمال پربہت زوردیاجاتاہے۔ مثلاٙٙ ڈوپٹہ لو،نمازپڑھووغیرہ۔جڑکےاندرچھپی خرابی کی اصلاح کی کم ہی فکرکی جاتی ہے۔برائی کوبہت آرائش اورخوبصورت دلائل کےساتھ پیش کیاگیاہے۔ تیرہ سالہ مکی قرآن میں عقائد کی مضبوطی پرزوردیاگیااوردس سالہ مدنی قرآن میں بھی احکام کےساتھ ساتھ کثرت سےتوحیداورآخرت کی یاددلائی گئی۔دراصل کردارکی تشکیل فہم وشعورپرہوتی ہےاورفہم وشعورکی تعمیرمیں عقیدےہی کوسب سےبڑھ کراہمیت حاصل ہے۔ یہاں عقیدہ ہی مختلف شکوک وشبہات کاشکارہوکرغیراہم ہوگیاہےیہاں تک کہ اسکومان لینایاانکارکردیناتقریباًیکساں ہوچکاہے،ایسےماحول میں منافقانہ ذہنیت ہی پروان چڑھ سکتی ہےاورعملاً بھی یہی مناظرہرطرف بکھرے ہوےہیں۔ ہمارےہاں برائی کوبہت آرائش اورخوبصورت دلائل کےساتھ پیش کیاگیاہے۔جنت کی سچی تڑپ اور دوزخ کابےپناہ خوف ہی ان فتنوں سےبچاؤکا سبب بن سکتاہے۔

ماں کے لیے صرف ایک دن؟

جی ہاں ماؤں کے لیے ایک دن مختص کرنے سے ماں اور ممتا کے احساس اور ماں بننے سے بچے کی پرورش تک کے سلسلے میں ماں کے کردار اور خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مغرب کی ماں اور مشرق کی ماں میں بہت فرق ہے۔ مغرب میں عورت ماں تو بن جاتی ہے لیکن ممتا کے احساس اور تقاضوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتی یا انہیں پوری طرح سمجھ نہیں پاتی کیونکہ اسکا ماحول اور معاشرے اسے یہ سب سیکھنے اور سمجھنے ہی نہیں دیتا ۔ اسکے برعکس مشرق میں عورت ماں کے روپ میں ایک عظیم ہستی ہے جو بیک وقت مربیہ بھی ہے معلمہ بھی ہے ہمدرد و غمگساربھی ہے معاون و مددگار بھی ہے۔ ماں در حقیقت ممتا کے جذبات و احساسات سے لبریز محبت کا پیکر ہے۔ مشرقی ماں خصوصا مسلم ماں ماں کے لیے امی ماما مما ممی ام مدر اماں مائے بے بے ماؤ رے مورے اور ایسے بہت سے الفاظ مستعمل ہیں۔ دنیا میں ماں کا یہ رشتہ یہ منصب صرف عورت کو ہی نصیب ہوا ہے یہ رشتہ اتنا اہم اور قریبی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی اپنے بندوں سے محبت کو ستر ماؤں کی محبت سے بڑھ کر قرار دیا۔ ماں نو ماہ بچے کو اپنے بطن میں رکھتی ہے تکلیف اٹھاتی ہے اسکے بعد دو سے ڈھائی سال دودھ سے اس بچے کی آبیاری کرتی ہے۔ بچے کے آنے کے بعد ماں کی زندگی کا محور بچہ ہو جاتا ہے اسے سنبھالنا نہلانا دکھانا کھلانا پلانا اسکا گند صاف کرنا اسکی ضرورتوں کو پورا کرنا اسکے ساتھ سونا اسکے لیے راتوں کو جاگنا دعائیں کرنا ۔بچہ اگربیمار ہو جائے تو ماں تیمار داری میں دن رات ایک کر دیتی ہے جب بچہ صحتیاب ہو جاتا ہے تو ماں کھل اٹھتی ہے۔ بچے کی خوشیاں منانا ۔ سالگرہ ( گو یہ اسلامی شعار نہیں لیکن معاشرے میں مروج ضرور ہے) پہلی عید ۔بسم اللہ ۔ آمین روزہ کشائی وغیرہ ۔ بچے کے اچھے مستقبل کی فکر کرنا تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا اس کام میں باپ اور دیگر گھر والے بھی اسکی معاونت کرتے ہیں۔ دین کی چیدہ باتوں سے آگاہ کرنا کلمے اور دعائیں یاد کروانا نماز سکھانا وغیرہ بھی اسی کا کام ہے۔ لیکن ماں اس سب کے صلے میں کچھ نہیں چاہتی سوائے اسکے کہ اسکی اولاد ایمان اور صحت کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماں کے قدموں تلے جنت ہے ۔ یعنی ماں کی خدمت اور اطاعت سے جنت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو ہمارا تو ہر دن اپنی ماں کے لیے محبت کے اظہار ۔ دعاؤں اور ماں کے لیے مسکراہٹ انکی دل جوئی خبر گیری ضرورتوں کا خیال رکھنے اور خدمت و اطاعت کرنے کا دن ہونا چاہیے۔ ماں ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن اس میں پورا جہان آباد ہے۔ اگر ہم سمجھیں اور محسوس کریں۔ کیوں نہ ہم عزم کریں کہ اس...

وزیر اعلیٰ کا شوق

جب جب کرے گا ایک منصف مزاج مورخ اورنگ زیب عالمگیر کے روشن کردار اور سادگی و حسن عمل سے مزین اس کی شخصیت کا تذکرہ ، تو بھلے لفظوں ہی میں کرے گا۔ مغلیہ سلطنت کے اس چھٹے بادشاہ نے تقدیر امم کا راز پالیا تھا جبھی تو دیگر کئ اصلاحات کے ساتھ یہ بھی حکم جاری کیا کہ ، موسیقار اور گوییے اور رقاص اپنی راہ لیں۔ اب یہ فنکار بھی تو بڑے چالاک ہوتے ہیں انھوں نے کیاکیا موسیقی کاجنازہ تیار کیا جنازے کو لیے آہ و بکا کرتے شاہی محل کے سامنے سے گزرنے لگے۔ اورنگزیب عالمگیر نے جب دیکھا تو پوچھا،، کس کا جنازہ ہے، بتایا گیا موسیقی کا،، اورنگزیب نے کہا ،، قبر ذرا گہری کھودنا،،،، تاریخ گواہ ہے یہ قبر گہری کھدنے کے بعد سلطنت نے خوب ترقی کی۔ اچھی معاشرت کے ساتھ مضبوط معاشی نظام نے لوگوں کی زندگی آسان کردی ۔۔۔ مگر۔۔ افسوس اسی سلطنت کے ساتویں بادشاہ محمد شاہ رنگیلا نے اس قبر کو پاٹ ڈالا ۔ ۔۔۔۔ بس پھر کیاتھا طوائفیں ،گلوکار، رقاص فن اور تفریح کے نام پہ پوری معاشرت کو اپنی گرفت میں لینے لگے ۔ پچھلے بادشاہ نے جو مقام شمشیروسناں کو دیاتھا رنگیلے شاہ نے وہ مقام طاوس و رباب کو دے ڈالا۔ دشمن کو ایسے ہی موقعے کی تلاش ہوتی ہے۔ نادرشاہ کیسے یہ موقع گنواتا اس نے گائیکی و رقص کی دلداہ سلطنت پہ کر دیا زور دارحملہ۔ اور ۔۔۔۔قارئین۔۔۔ اسی سلطنت کی ایک ،مایہ ناز فنکارہ ،، نے اپنے ،فن، ہی کے کسی مظاہرے کے دوران نادرشاہ کے گوش گزار کیا کوہ نور کاراز۔ یوں سلطنت کی دیگر قیمتی اثاثہ جات کے ہمراہ کوہ نور جیسا قیمتی ترین ہیرا پہنچا نادر شاہ کے قبضے میں۔ داستان یہاں ختم نہیں ہوتی مگر یہاں موقع نہیں کہ ہم اس اندوہناک داستان کے آگے کے ابواب کی ورق گردانی کریں ۔۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔مگر ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے کہ پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز شائد اس داستان کے انھی رنگین کرداروں سے متاثر ہیں جبھی تو چاہتی ہیں قوم کے نونہالوں کو راگ رنگ کا رسیا بنا دیا جائے۔ جی ہاں! پنجاب بھر میں میوزک فیسٹیولز اور تعلیمی اداروں میں موسیقی کے مقابلہ جات کرانے کا فیصلہ یہی تو بتا رہا ہے۔ ہم سا مُتَلَوِّن المِزاج بھی آپ نے کسی کو پایا ہو تو بتاییے گا۔ جب وقت ملے بتاییے گا فی الحال تو ہماری ظرافت کی رگ پھڑک اٹھی ہے۔ اب جب کہ یہ رگ پھڑک اٹھی ہے تو ہمیں نوجوان نسل کے مستقبل میں بہت، ٹھاٹھ، دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ کیسے؟ دیکھیں جی موسیقی کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔ انہیں ’ٹھاٹھ‘ کہتے ہیں۔ جب ہمارے نوجوان یہ سیکھ جائیں گے تو ان کے ٹھاٹھ بڑھ جائیں گے۔ جب ٹھاٹھ بڑھیں گے تو آپ خود اپنے بچوں کو دیکھ کر کہیں گے بڑے ٹھاٹھ باٹھ ہیں بھئی۔۔۔! قارئین! ان ٹھاٹھوں سے نکلتے ہیں مختلف راگ مثلاً،،،،،،راگ بھوپالی، راگ ملتانی، راگ مالکونس اور راگ میاں کی ٹوڈی۔۔ ہمیں لگتا ہے پنجاب حکومت کا ’نوجوان‘ وزیرِ اعلیٰ کے ویژن پر پورا اترنے کی خاطر میاں کی ٹوڈی...

درسگاہیں بنیں تھیٹر

سیلاب سے پہلے ماحول ایک آلارم دیتا ہے دریا ساکن ہو جاتا ہے اور فضا سیلاب کی آمد کی اطلاع دیتی ہے۔۔۔۔۔۔ایسے میں علاقے کےعقلمند اور سمجھدار لوگ پھاؤڑے،بیلچےاور کسیاں اٹھائے دریا کا رخ اختیار کرتے ہیں تاکہ بند مضبوط کیا جاسکے اور رہائشی آبادی کو سیلاب کی تباہی کاریوں سے بچایا جاسکے۔ ایسے ہی طوفان کی آمد سے قبل بھی ہوا رک جاتی ہے،درخت ساکن ہو جاتے ہیں جو پیش خیمہ ہوتی ہے طوفان کا اور اطلاع ہوتی ہے زمانے والوں کےلئے کہ اپنی اور اپنے مال و متاع کی حفاظت کر لیں۔ ہمیشہ زمانے کے دانا بینا لوگ فضا کو دیکھ کر سیلاب،طوفان یا بارش کی پیش گوئی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔اب عوام میں سے جو لوگ ان کی بات کااعتبار کر کے اپنی اور اپنے مال و متاع کی حفاظت کا بندو بست کر لیتے ہیں، وہی تباہی کاری سے بچ جاتے ہیں اور جو ان کی بات کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتے ہیں یا ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں ان کو بچانے کے لیے کوئی فرشتے آسمان سے نہیں اترتے ۔ چند روز قبل لاہور سے واپسی پر ایک فیملی نظر سے گذری جس میں ایک شریف النفس ماں جو چادر میں لپٹی تھی ایک معزز دکھنے والاباپ اور تین بیٹیاں تھیں ۔سب سے بڑی بیٹی جس نے لان کے سوٹ کے ساتھ ایک کندھے پر نیٹ کا دوپٹہ اٹکایا ہوا تھا اور بچی کے تمام نشیب و فراز واضح تھے۔۔۔۔۔۔وہ فیملی اترنے سے قبل ہماری سیٹس کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔ اب اس بچی نے جو بولنا شروع کیا تو میں اور ناظمہ بہن منہ میں انگلیاں دابے اس کے انداز ملاحظہ کرنے لگیں۔وہ مسلسل والد کو ڈکٹیٹ کر رہی تھی کبھی کہتی پاپا ادھرہو جاؤ اور کبھی کہتی ادھر ہو جاؤ ،کبھی کہتی فلاں کو گذرنے دو اور کبھی کہتی ویسے کرو۔ اور اچھا خاصا صحتمنداور معزز پاپا اس کے اشاروں پر ایسے عمل کر رہا تھا جیسے کٹھ پتلی ہو۔ پنسرہ جیسے پسماندہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی اس بچی نے یقیناً نیا نیا کالج ،یونیورسٹی کا منہ دیکھا ہو گا اور نیا نیا ترقی کی راہ پر قدم رکھا ہو گا۔ اسے دیکھ کر سچ میں قرب قیامت کی وہ نشانی یاد آگئی کہ عورت اپنی مالکن کو جنے گی ۔۔۔۔۔۔۔اور مرد کے لیے استعمال شدہ لفظ  "دیوث" کو عملاً سمجھ لیا۔ ابھی تو یہ رسمی تعلیم کی کارستانی ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی ہم سے تو لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کے اثرات بد ہی سنبھالے نہیں جا رہے تھے کہ وزیراعلی صاحبہ کے نئے حکم نے ہوش اڑا دیے ۔۔۔۔۔ ۔۔یعنی اب درسگاہیں ،درسگاہیں نہ رہیں گی ۔۔۔۔۔۔مجرا گاہیں اور تھیٹرز بنیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے وطن کے خرد مندو! دھویں کو شعلہ بننے سے قبل پانی ڈال دو،،سیلاب سے پہلے بند باندھ لو،طوفان سے قبل بستر سمیٹ لو،گھروں کے لٹنے سے قبل کنڈیاں لگا لو،عزتوں کے جنازے نکلنے سے قبل بیٹیاں سنبھال لو،درسگاہیں کوٹھے بننے سے قبل منہ سے چوسنیاں نکال دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

حضرت علی ؓکی شہادت

حضرت علی بن ابی طالب پر خارجی ابن ملجم نے 26 جنوری 661ء بمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود خنجر کے ذریعہ نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا، علی ؓبن ابی طالب زخمی ہوئے، اگلے دو دن تک آپ زندہ رہے لیکن زخم گہرا تھا، چنانچہ جانبر نہ ہو سکے اور 21 رمضان 40ھ کو وفات پائی، آپؓ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہٖ وآلہٖ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اور امت مسلمہ کے خلیفہ راشد چہارم تھے۔حضرت علی ؓ 13 رجب کو ہجرت سے 24 سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے متعلق تواریخ میں لکھا گیا ہے کہ آپ بیت اللہ کے اندر پیدا ہوئے، حضرت علی ؓ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ؐ ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول و فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں احادیث نبوی ﷺمیں موجود ہیں کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ حضرت علیؓ کا حسبِ نسب: آپ ؓکے والد حضرت ابو طالب اور والدہ جنابِ فاطمہ بنت ِ اسد دونوں قریش کے قبیلہ بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور ان دونوں بزرگوں نے بعدِ وفات حضرت عبدالمطلب پیغمبر اسلام صلی علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کی تھی۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں، بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اوروہیں پرورش پائی۔ پیغمبرکی زیرنگرانی آپ کی تربیت ہوئی، وہ ایک لمحہ کے لیئے بھی حضورؐ ان کو تنہا نہیں چھوڑتے تھے۔آپ کے بارے میں عام روایت ہے کہ آپ نے 13 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ حضرت علیؓ سے منسوب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث: عالم ِ اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث مبارکہ درجہ ذیل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ”علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں“ ”تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علیؓ ہے“ ”علیؓ کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی“ ”یہ (علیؓ) مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین فضیلتیں: وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا، حضرت علیؓ کا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔ جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیا۔آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔ 19حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ...

معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار

(یوم اساتذہ پر اساتذہ کے نام ایک پیغام) استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا...

موثر تدریسی خصوصیات 

تدریسی اصولوں کا موثراستعمال:۔تدریس ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ ایک فن ہے۔ پیشہ وارانہ تدریسی فرائض کی انجام دہی کے لئے استاد کا فن تدریس کے اصول و ضوابط سے کم حقہ واقف ہوناضروری ہے۔ ایک باکمال استاد موضوع کو معیاری انداز میں طلبہ کے ذہنی اور نفسیاتی تقاضوں کے عین مطابق پیش کرنے کے فن سے آگاہ ہوتا ہے۔ معیاری اور نفسیاتی انداز میں نفس مضمون کو پیش کر نا ہی تدریس ہے۔ موثر تدریس کے لئے ،کسی بھی موضوع کی تدریس سیقبل، استاد کا موضوع سے متعلق اپنی سابقہ معلومات کا تشفی بخش اعادہ ا ور جائزہ بے حد ضروری ہے۔ سابقہ معلومات کے اعادہ و جائزہ کے علاوہ موضوع سے متعلق جدید تحقیقات و رجحانات سے لیس ہوکر اساتذہ اپنی شخصیت کو باکمال اور تدریس کو بااثر بنا سکتے ہیں۔ موثر تدریس کی انجام دہی کے لئے اساتذہ کا تدریسی مقاصد سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پر عمل پیرائی کے ذریعے اساتذہ مقاصد تعلیم کی جانب کامیاب پیش رفت کر سکتے ہیں۔ موثر تدریس اورتعلیمی مقاصد کے حصول میں تدریسی اصول نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں۔تدریسی اصولوں سے اساتذہ کیوں، کب اور کیسے پڑھانے کا فن سیکھتے ہیں۔تدریسیاصولوں کا علم اساتذہ کو تدریسی لائحہ عمل کی ترتیب اور منظم منصوبہ بندی کا عادی بناتا ہے۔کیوں، کب ، اورکیسے پڑھا نے کااصو ل اساتذہ کی مسلسل رہنمائی کے علاوہ تدریسی باریکیوں کی جانکاری بھی فراہم کرتا ہے ۔ تدریسی اصولو ں پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ موثر اور عملی تدریس کو ممکن بناسکتے ہیں۔تدریسی اصول بامقصد تدریس،نئے تعلیمی رجحانات ، تجزیہ و تنقید، مطالعہ و مشاہدہ ،شعور اور دلچسپی کو فروغ دیتے ہیں۔ تدریسی اصولوں پر قائم تعلیمی نظام نتیجہ خیز اور ثمر آورثابت ہوتا ہے۔تدریسی اصولوں پرکاربند استا د معلم سے زیادہ، ایک رہنما اور رہبرکے فرائض انجام دیتاہے۔ جدید تعلیمینظریات کی روشنی میں استاد ایک مدرس اور معلم ہی نہیں بلکہ ایک رہبر اور رہنما بھی ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات سے عدم آگہی کی وجہ سے ہم اس نظریہ تعلیم کو جدیدیت سے تعبیر کر رہے ہیں جب کہ یہ ایک قدیم اسلامی تعلیمی نظریہ ہے جہا ں استاد کو معلومات کی منتقلی کے ایک وسیلے کی شکل میں نہیں بلکہ ایک مونس مشفق مربی رہنما اور رہبر کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ تدریسی اصولوں سے باخبر استاد بنیادی تدریسی و نفسیاتی اصولوں کی یکجائی سے تعلیم و اکتساب کو طلبہ مرکوز بنادیتا ہے۔ذیل میں اہمیت کے حامل چند نمایاں تدریسی اصولوں کو بیان کیا جارہاہے ۔ (1) ترغیب و محرکہ تدریسی اصولوں میں اساسی حیثیت کا حامل ہے۔طلبہ میں تحریک و ترغیب پیدا کیئے بغیر موثر تدریس کو انجام نہیں دیا جاسکتا۔ طلبہ میں اکتسابی میلان ترغیب و تحریک کے مرہون منت جاگزیں ہوتاہے۔ حصول علم، پائیدار اکتساب اور علم سے کسب فیض حاصل کرنے کے لئے طلبہمیں دلچسپی اور تحریک پیدا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔فعال و ثمر آور اکتساب ترغیب و تحریک کے زیر اثر ہی ممکن ہے۔تدریس میں ہر مقام پر طلبہ میں محرکہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ بغیر محرکہ پیدا کیئے کامیاب اکتساب ممکن ہی...

اردو ادب کی تاریخ

اردو زبان کی ابتداء زبان اردو کی ابتداءو آغاز کے بارے میں کئی مختلف و متضاد نظریات ملتے ہیں یہ آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ ایک انسان چکرا کر رہ جاتا ہے۔ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتداءکی بنیاد برصغیر پاک و ہند میں مسلمان فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے۔ اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا۔ اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی ۔ کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا ءکا سراغ قدیم آریائو ں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے۔ بہر طور اردو زبان کی ابتداءکے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ذرا مشکل ہے۔اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتداءمسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دکن میں اردو:۔ نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ دکن میں لگاتے ہیں۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ طلوع اسلام سے بہت پہلے عرب ہندوستان میں مالا بار کے ساحلوں پر بغرض تجارت آتے تھے۔ تجارت کے ضمن میں ان کے تعلقات مقامی لوگوں سے یقینا ہوتے تھے روزمرہ کی گفتگو اور لین دین کے معاملات میں یقیناانہیں زبان کا مسئلہ درپیش آتا ہوگا۔ اسی میل میلاپ اور اختلاط و ارتباط کی بنیاد پر نصیر الدین ہاشمی نے یہ نظریہ ترتیب دیا کہ اس قدیم زمانے میں جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے مابین مشترک و سیلہ اظہار قرار پائی وہ اردو کی ابتدائی صورت ہے۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں یہ نظریہ قابل قبول نہیں ۔ڈاکٹر غلام حسین اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” عربی ایک سامی النسل زبان ہے جب کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے۔ اسلیے دکن میں اردو کی ابتداءکا سوال خارج از بحث ہو جاتا ہے۔ دکن میں ارد وشمالی ہند سے خلجی اور تغلق عساکر کے ساتھ آئی اور یہاں کے مسلمان سلاطینکی سرپرستی میں اس میں شعر و ادب تخلیق ہوا۔ بہر کیف اس کا تعلق اردو کےارتقاءسے ہے۔ ابتداءسے نہیں۔“ اسی طرح دیکھا جائے تو جنوبی ہند (دکن ) کے مقامی لوگوں کے ساتھ عربوں کے تعلقات بالکل ابتدائی اور تجارتی نوعیت کے تھے۔ عرب تاجروں نے کبھی یہاں مستقل طور پر قیام نہیں کیا یہ لوگ بغرض تجارت آتے ، یہاں سے کچھ سامان خریدتے اور واپس چلے جاتے ۔ طلو ع اسلام کے ساتھ یہ عرب تاجر ، مال تجارت کی فروخت اور اشیائے ضرورت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام بھی کرنے لگے۔ اس سے تعلقات کی گہرائی تو یقینا پیدا ہوئی مگر تعلقات استواری اور مضبوطی کے اس مقام تک نہ پہنچ سکے جہاں ایک دوسرے کا وجود نا...

نبی امُیﷺ بحیثیت معلم 

چودہ سو سال پہلے عرب کے قبائلی معاشرے میں عمر کے چالیس برس گذارنے والے امی ( غیر پڑھے )فرد  کے قلب پر وحی کا نزول  ہوتا ہے اور وہ رہتی دنیا کے لیے معلم اعظم بن جاتے ہیں ۔آپ ﷺ نوید مسیحا اور دعاۓ خلیل ہیں ۔ابراہیم ؑ،بیت اللہ کی دیواریں اٹھاتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ "اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیے جو انھیں تیری آیات سنائے ،ان کو کتاب اور حکمت کی  تعلیم  دےاور ان کی زندگیاں سنوارے " البقرہ  129 لفظ اقرا سے نبوت کا آغاز ہوا۔آپﷺ کی ذات تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار پائی۔آپ ﷺنے "انما بعثت معلما""مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے" کے ذریعے  اپنا مقام واضح کر دیا۔ اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا       اوراک  نسخہ کیمیا   ساتھ لایا تہذیب و تمدن سے عاری  انسانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ صبر آزما کام تھا۔ مگر آپ ﷺ نے تعلیم  کے جو اصول ،تکنیک استعمال کیے وہ آج بھی عین حق ہیں ۔ جن کے بنا سیکھنے سکھانے کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ آپ ﷺ  بحیثیت معلم  درج ذیل نکات  پر عمل پیرا رہے۔ مقصد کی لگن : ایک معلم  کا   بلندمقصد ہمیشہ اس کے مطمح نظر رہتا ہے ۔"اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کر نا  " اس عظیم مقصد کے لئے غار حرا سے اتر تے ہی آپ ﷺ  ہمہ تن مصروف عمل ہوگئے۔ پہلے  گھر اور خاندان  کودعوت دی پھر قبیلہ کو متوجہ کیا ۔ دور نبوت کا ہر لمحہ گواہ ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کبھی مصلحت یا مداہنت کا شکار نہیں ہوئے  قران  میں اس کیفیت کی تصویر کشی   ہے ۔ " کہ دو  کہ اے کافروں  میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن  کی عبادت تم کرتے ہو،  نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں  اور نہ  میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت  میں کرتا ہوں، تمھارے لیئے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین" سورہ الکافرون لوگوں کا مذاق سہا،گالیاں سنیں ،پتھر کھائے،شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کیے گئے ،حتی کہ اپنے محبوب شہر  مکہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ دنیا وی ترغیبات ،تخت وتاج  پیش کیے گئے جن کو آپﷺ نے ٹھکرا دیا مگر مقصد سے ایک لمحہ کو بھی غافل نہ ہوئے ۔ درد مندی : انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کررب واحد کی بندگی پر آمادہ  کرنے کے لیے آپ ﷺ پیغمبرانہ  صفت دلسوزی اور تڑپ سے مزین تھے۔اپنی قوم کو گمراہی سے نکالنے کے لیے شب و روز دل گداز  کیفیت میں گذارتے رہے۔ حدیث میں ہے " میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لیے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں جل جانے کے لیے ۔وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں مگر پروانے اسکی ایک نہیں چلنے دیتے ۔ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

کہاں کی بات کہاں نکل گئی

قارئین کا صاحبِ مضمون سے متفق ہونا لازم ہے کیونکہ یہ تحریر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کو نصحیت کرنے کا جان لیوا مرض لاحق ہوتا ہے۔ جہاں کچھ غلط سلط ہوتا دیکھتے ہیں زبان میں کھجلی اور پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتا ہے ایسا ہم نہیں کہتے ان لوگوں کے پند و نصائح وارشادات سننے والے متاثرین کہتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اکثر نوجوانوں کو نصحیت کرنے کے جرم کی پاداش میں ہماری ان گنہگار آنکھوں نے ان بزرگوں کو کئی مرتبہ منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ مگر نہ وہ اپنی روش سے باز آتے ہیں اور نہ ہی کتے کی ٹیڑھی دم سیدھی ہوتی ہے۔ اب قریشی صاحب کی بیوہ کو ہی لے لیجیے عمر دراز کی ستر بہاریں دیکھ چکی ہیں، بیوگی کے پچاس سال گزارنے والی اپنی زندگی سے سخت بیزار ہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی موصوفہ نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔ دن رات صبح شام وہی گھسا پٹا راگ الاپتی رہتی تھیں تمہارے ماں باپ کی خدمت میں کیوں کروں؟ تمہارے سارے کام میں کیوں کروں؟ میں غلام نہیں ہوں۔ جو تمہاری ہر بات مانوں وغیرہ وغیرہ۔ قریشی صاحب بھلے مانس آدمی تھے شرافت اور منکسر المزاجی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ کان دبائے، نظریں جھکائے بیوی صاحبہ کے فرمودات سنتے اور سر دھنتے رہتے۔ ان کا یہ معصومانہ انداز بیوی صاحبہ کے تن بدن میں آگ لگا دیتا پھر جو گھمسان کی جنگ چھڑتی جس میں بیوی صاحبہ فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد قریشی صاحب سے اپنے تلوے چٹوا کر انہیں مورد الزام ٹھہراتے ہوئے فرد جرم عائد کر کے سزا سنا دیتیں۔ قید بامشقت کے تیسرے سال ہی قریشی صاحب کے کُل پرزے جواب دے گئے۔ گھر کی مسند صدارت و وزارت پر بیوی صاحبہ براجمان تھیں بیچارے قریشی صاحب کی حیثیت کا قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ گنے چنے چند سالوں کی رفاقت کے بعد ایک شام قریشی صاحب داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ لواحقین میں ایک بیوہ اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں۔ ماں کے طور اطوار، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال اور انداز کا مہلک زہر اولاد کی نسوں میں اتر چکا تھا۔ اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزیاں رنگ پکڑتی چلی گئیں۔ موصوفہ کی کل کائنات بس یہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ پانچوں کنورای جو شادی کے نام پر ایسے اچھلتی ہیں جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ قبر میں پیر لٹکائی قریشی صاحب کی بیوہ صبح شام خود کو کوستے رہتی ہیں کہ اس جیسے چاہو جیو کے سلوگن نے ان کی دنیا و آخرت ملیامیٹ کر کے رکھ دی۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو کتنی چیزیں ہیں جو کہ ہم غلط سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی کرتے ہیں نہ جاننا اتنا سنگین نہیں ہوتا جتنا کہ جان کر حقیقت سے نگاہیں چرانا ہوتا ہے۔ چچ چچ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے عادی بنا دیے گئے ہیں۔ 2021ء میں گھریلو تشدد کا بل اسمبلی سے منظور کروا کر ہماری نوجوان نسل کو یہ پیغامِ تقویت...

والدین اور بیٹیاں

آج اسکول کی بچیوں کو اظہار خیال کے لیے موضوع دیا تھا کہ " آپ کے ساتھ والدین کیا سلوک ہے"  جی بچیوں کے ساتھ والدین کا سلوک چونکہ اسمبلی کے لیے موضوع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وہ حدیث تھی جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹیوں سے نفرت کرنے اور انہیں حقیر جاننے سے منع کیا ہے ،انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے اور ان کی پرورش کرنے والے کو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے بچیوں کے ساتھ اس حدیث پر تفصیل سے بات ہوئی اور انہیں کل کی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا گیا اور تاکید کی گئی کہ سب طالبات کل اسمبلی میں بتائیں گی کہ انکے والدین انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ اب آج وہ اسمبلی منعقد ہوئی اور بچیوں نے اظہار خیال کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا والدین ہمیں پالنے کے لیے ساری قربانیاں دیتے ہیں، کسی نے کہا کہ والدین ہماری سب خواہشات پوری کرتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہمیں تہزیب سکھاتے ہیں، کسی نے کہا وہ ہماری اچھی تربیت کرتے ہیں، کسی نے کہا کہ وہ ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں ، ایک رائے یہ آئی کہ وہ ہمیں کپڑے خرید کر دیتے ہیں، ایک نے کہا کہ وہ مجھے کوئی کام نہیں کرنے دیتے ایک اور نے کہا کہ صبح آنکھ کھلتی ہے تو ناشتہ تیار ہوتا ہے۔ ایک بات یہ آئی کہ انکا مرکز و محور ہماری پڑھائی ہے ایک اور کہا کہ وہ ہمیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور آخر میں ایک بات ایسی سامنے آئی کہ ہم سب کھلکھلا کے ہنس پڑے حالانکہ اپنے والدین کی ان کوششوں اور محبتوں کو سن کہ ماحول سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کہا " میم ۔ میرے والدین بھی میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے ہیں، میری ہر ضرورت پوری کرتے ہیں مگر جب گھر میں چکن بنتا ہے تو leg pieces بھائی کو ملتا ہے۔ " اس معصوم بچی کے اس معصوم تبصرے پر ہم مسکرائے بغیر نہ رہ سکے ۔ تو تمام والدین سے گزارش ہے کہ ہمیں پتہ ہے آپ نے اپنی بیٹیوں کو شہزادیوں کے جیسا پالا ہے اور گڑیوں کے جیسا لاڈلا رکھا ہے مگر جب چکن خریدیں تو  leg pieces زیادہ ڈلوا لیا کریں۔

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاٶ ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاٶ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا سارا دن اسی میں گزر جاتا ہے یہاں تک کے امّی سے بات تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا مہینوں گزر جاتے ہیں امّی سے ملاقات ہوئے۔ فائزہ نے دکھوں کا قصہ سنا کر سکون کا سانس لیا تو میں نے بھی تسلی دی اللہ آسانی کرے تمھارے لیئے۔آج پھر کئی مہینوں بعد فائزہ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا وہ گھر خالی کر کے دوسرے محلے میں چلی گئی ہے کرائے داروں کے لیۓ یہی پریشانی ہے اللہ سب کو اپنا گھر نصیب کرے۔ فائزہ بڑی خوش اورپہلے سے بہت اچھی لگ رہی تھی خوش ہوکر بتانے لگی۔ میرے شوہر تو جی ایسے فرمابردار ہوئے ہیں کے بس پوچھو مت۔ ویسے میں نے پوچھا نہیں تھا پر فائزہ بتاۓ بغیر کہاں رہتی۔ خوشی خوشی بتانے لگی صبح وقت سے پہلے نوکری پر چلے جاتے ہیں ساتھ بچوں کو بھی اسکول چھوڑ دیتے ہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود لے لی ہے میں تو بس اب گھر میں رہتی ہوں اور اتنے محنتی ہوگۓ ہیں کے رات رات بھر گھر نہیں آتے یہاں تک کے کئی کئی دن کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے ہیں اور میں اپنی امّی کے گھر آرام کرنے چلی جاتی ہوں رزق میں ایسی برکت ہے کہ کبھی کبھی ہر چیز ڈبل آجاتی ہے پچھلے ہفتے دو سینڈل بلکل ایک جیسی لے آۓ بس ایک نمبر چھوٹی تھی پھر وہ تبدیل کرنی پڑی۔ کبھی راشن میں بھی چیزیں ڈبل ہوجاتی ہیں بس اللہ کا کرم ہے۔ میں تو کونے والی نورن دادی کو دعائيں دیتی ہوں۔ یہ سب ان ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے مسجد کے مولوی صاحب کا پتہ دیا تھا۔ مولوی صاحب نے ایک وظیفہ بتایا تھا پڑھنے کو وہ بھی تہجد میں بس پھر کیا تھا میری تو قسمت ہی پلٹ گئی۔ زندگی آسان ہوگئی ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک وظیفے سے قسمت بدل گئی بھئی یہ کونسا وظیفہ ہے چلو چھوڑو۔مگر فائزہ کہا مانتی بتائے بغیر۔ عربی کے چند الفاظ بڑے ادب سے سنائے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر تین بار آمین آمین آمین کہا۔ بس یہ وظیفہ پڑھ لو شوہر آپ کے قدموں میں اور ہاں کسی اور کو بھی بتا دیں اگر کوئی پریشان ہو تو کسی کا بھلا ہو جائے اچھی بات ہے۔ میرا نمبر بھی لے لیا اور پھر فائزہ مسکراتی ہوئی گھر روانہ ہو گئی۔ ہفتے بعد ہی ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ریسو کرنے پر فائزہ نے سلام دعا کی اور زور زور سے روتے ہوئے کہنے لگی میں تو لوٹ گئی بر باد ہوگئی بس بہن میرا شوہر تو ہاتھ سے نکل گیا پتہ نہیں کیا کمی تھی مجھ میں جو دوسری شادی کر لی اللہ ہی سمجھے گا ایسی عورتوں کو جو شادی شدہ بچوں والے مردوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ میں...

بن بُلائے مہمان ! بَلائے جان

بن بلائے مہمان وہ بھی چپک جانے والے ایک دو دن سے زیادہ برداشت نہیں ہوتے اور اگر زیادہ ہی رک جائیں تو سارے گھر کو ہی تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں اور سارے ہی لوگ ان سے کنّی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ ہی نہ چپک جائیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہوا ہے پہلے تو اس خطرناک اماں نے اپنی اولاد کو بھیج دیا وہ ملک ملک گھوما اور یہیں ڈیرا ڈال لیا۔نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کیا اور یہ حضرت انسان بے بس اور بے کس منہ چھپائے گھومتا رہا حتی کہ اپنے بیماروں مجبور پیاروں سے ملنے اور ان کی تیمارداری سے بھی محروم رہا کچھ وقت گزرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ ماحول ٹھنڈا ہوگیا ہے لوگ سکون میں ہیں تقریبات عروج پر ہیں اسکول، مساجد اور پارک بھرے ہوئے ہیں تو اس نے ناک بھوں چڑھایا اور سوچا ! یہ میری اولاد تو ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے برسوں محنت کی ہے میں نے اس پر اسے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہیے۔ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا تو لیجئے جناب پورے جوش اور بھرپور شیطانیت کے ساتھ کرونا کی امی جان اُُمِ کرونا (امیکرون) تباہ حال لوگوں کو اور تباہ کرنے دنیا میں انسانوں پر آدھمکی۔ کتنے دور اندیش تھے وہ لوگ جنہوں نے چاند پر پلاٹ بک کروائے تھے گوگل سرچ کرکے دیکھتے ہیں، تب پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کرونا سے بچنے کے لیے چاند پر پہنچ گئے یا اس سے بھی کہیں آگے عالم برزخ پہنچ گئے۔ ہمارے گھر میں تین افراد پر اٌمِ کرونا فدا ہوگئی ہیں ہماری امی جان، بھیا اور آپی پر۔ان تینوں نے قرنطینہ کے نام پر ایک ایک کمرے پر قبضہ جما لیا ہے ابّا جان تو امی کے کمرے کے دروازے کے قدموں میں ہی پلنگ ڈالے پڑے ہیں اور ہم نے لاؤنج میں صوفے پر ڈیرہ جما لیا ہے البتہ ماسی خوش نظر ارہی ہے کہ تینوں کمروں کی صفائی سے جان بخشی ہوئی ہے۔ ویڈیو کال اور فون کال پر ہی سب رشتے داروں نے مزاج پرسی اور تیمارداری کرکے اپنا فرض نبھایا کیونکہ ہم سب مجبور ہیں ایک ان دیکھے وائرس سے۔سلائی والی آنٹی نے جب نئے سلے ہوئے سوٹ ہمیں بھجوائے تو اس کے ساتھ سوٹ کے کپڑے کے ماسک بھی بنے ہوئے رکھے تھے۔ سلائی والی آنٹی کو فون کرنے پر پتہ چلا کہ یہی فیشن چل رہا ہے، انہوں نے ایک آفر بھی دی کے ہم فینسی ماسک بھی بناتے ہیں ستارے موتیوں اور کڑھائی والے ان کا بھی پیکج ہے جو پیکج آپ لینا پسند کریں۔ نہ جانے کتنے ابہام ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ابھی تو ہم ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں ہوئے کی واٹس ایپ یا فیس بک پر اپنا اسٹیٹس لگائیں۔ I am vaccinated کیوں کہ ابھی تو ہم اکّڑ بکّڑ ہی کر رہے تھے کہ چائنا کی ویکسین لگوائیں، کینیڈا کی یا پاکستانی کے اچانک، اْمِ کرونا سے پہلے بوسٹر بھی آٹپکا۔سوچ رہے ہیں ڈائریکٹ بوسٹر ہی لگوا لیں۔ یہ بلائے ناگہانی ہے بس...

ٹک ٹاک ایک نشہ

ٹک ٹاک مختصر ویڈیو کی ایسی ایپ ہے جس میں وہی ویڈیو چلتی ہے جو ’’مختصر‘‘ ہو۔بس ایک ویڈیو وائرل ہونے کی دیر ہے پھر آپ ایک ہی رات میں ہیرو بن گئے۔گویاٹک ٹاک سوشل میڈیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں وہی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں سب کچھ’’ پلیٹ‘‘میں رکھ کر پیش کیا جائے۔بلکہ نوجوان نسل تو وائرل ہونے کے لئے ایسی اشیاء بھی ’’پیش‘‘ کر دیتی ہیں جن کا پیش نہیں ’’زیر‘‘میں ہونا ہی معیاری،مناسب اور اخلاقی ہوتا ہے۔مگرچائنہ والوں کو کون سمجھائے کہ جس لباس کو ہم پاکستانی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے گرا ہوا سمجھتے ہیں ان کے ہاں وہ لباس اعلی اقدار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ لباس کا صرف سرا ہی نظر آتا ہو تو اسے اخلاقی لباس سمجھا جاتا ہے۔چائنہ اور یورپ میں تو اسی کی زیبائش مناسب ہوتی ہے جس کی ’’نمائش ‘‘زیادہ ہو۔ ان کے سامنے تو بھاری بھر کم فراک،غرارہ و شرارہ زیب تن کر کے جائیں تو وہ حیران ششدر رہ جاتے ہیں کہ ان کا ناتواں جسم ایسا لباس ’’کیری‘‘ کرتاکیسے ہے۔شائد اسی وجہ سی چینی اور یورپی خواتین وہی لباس زیب تن کرتی ہیں جو ہمیں زیب نہ دیتا ہو۔ میں نے اپنے انتہائی معصوم و سادہ دوست شاہ جی سے ایک معصومانہ سوال کیا کہ مرشد ٹک ٹاک پر کیسے وائرل ہوا جاتا ہے۔شاہ جی نے شانِ بے نیازی (بے نیازی کو کسی نیازی سے نہ ملایا جائے )اور لاپروائی سے جواب دیا کہ فی زمانہ ٹک ٹاک ہی نہیں ہر جگہ وائرل ہونے کا ایک فارمولہ ہے۔میں نے متجسسانہ انداز میں پوچھا کہ مرشد وہ کیا۔فرمانے لگے۔’’جو دکھتی ہے وہ بکتی ہے‘‘یعنی جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے۔شاہ جی کے جواب پر سوال در سوال ذہن میں کود آیا کہ کیا اس فارمولہ کا اطلاق صنف نازک(جسے میں ہمیشہ صنف آہن کہتا ہوں)پر ہی ہوتا ہے یا صنف معکوس بھی اس زد میں آتے ہیں۔کہنے لگے فارمولہ تو وہی ہے بس الفاظ کے چنائو کو بدلنا ہوگا،یعنی۔۔۔۔۔یعنی مرد حضرات کے لئے الفاظ بدل کر ایسے ہو جائیں گے کہ ’’جو بَکتا ہے وہ بِکتا ہے‘‘ چین نے جب ٹک ٹاک ایپ متعارف کروائی تو اس کا مقصد سیلیکون شہر میں بیٹھ کر ایسی مختصر مدتی ،مختصر ویڈیو،مختصر لباس میں بنا کر پیش کرنا تھاکہ جو اپلوڈ ہوتے ہی وائرل ہو جائے،اور ایسا ہی ہوتا تھا۔اس لئے ہماری نوجوان نسل بھی چین کے نقش پا پر اپنے قدم جمائے ویسی ہی مختصر ویڈیو بناتے ہیں جو وائرل ہو جائے۔مجھے حیرت یہ نہیں کہ آج کی نسل سستی شہرت کے لئے ایسا کیوں کرتی ہے۔پریشانی یہ ہے کہ انہیں شہرت مل بھی جاتی ہے۔اب تو ٹک ٹاک بھی ایک حمام سا ہی دکھائی دیتا ہے ،وہ جس کے بارے میں اکثر سیاستدان بیان بازی کیا کرتے ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔اب تو ٹک ٹاک دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ اس حمام میں بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویڈیو وائرل ہونے کے بارے میں ایک دوست کی بات یاد آگئی ،اس نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ یار ابھی تک...

ہمارے بلاگرز