فراوانی سے قلت کا سفر

گو کہ بات کرنا مشکل ہے لیکن کیا کیجئے کہ رب کائنات نے اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز بھی کر رکھا ہے اور پھر اپنے مذاہب میں سے پسندیدہ ترین مذہب کا ماننے والا بھی بنادیا اور ساتھ ہی محسوسات کی حس بھی بیدار رکھی ہے ۔ یوں تو محسوس کرنے کیلئے کسی مذہب یا نسل یا زبان کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ، یہ تو ایک ایسا قدرتی جذبہ ہے جو انسان کے پیدا ہوتے ہی متحرک ہوجاتا ہے ۔ ہم انہیں نایاب کہہ سکتے ہیں جو قدرت کی عطاء کردہ حسیات میں سے کسی ایک یا اس سے زیادہ سے محروم رکھے گئے ہوں ،عام تاثر ہے کہ ایسا کیا ہوتا تو ویسا نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ جبکہ قدرت کو کسی اصلاح یا تصحیح کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ۔ دھیان دینے والوں ، دھیان کرنے والوں اور توکل کرنے والوں پر قدرت اپنی عنایات کرتی ہے اور ان پر اپنے رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ کس عمل کے پیچھے کون سے محرکات ہیں ۔ یوں تو وقت انفرادی طور پرہمیں بہت تیزی سے سفر کرتے ہوئے وہاں لے کر جارہا ہے جہاں ہمیں پہنچنا ہے ۔ بازار میں چلتے ہوئے بچے کسی چیز کو دیکھ کر رکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم اکثر اس طرف دھیان دئیے بغیر بچے کا ہاتھ پکڑے چلتے چلے جاتے ہیں (بچے کی ضد کو نظر انداز کرتے ہوئے) وقت بھی ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی کرتا محسوس ہوتا ہے ،آپ تھک بھی جائیں مگر رکنے نہیں دیتا اور خود تو رکتا ہی نہیں ، گوکہ وقت سے ہاتھ چھڑایا نہیں جاسکتا لیکن پھر بھی اگر اس میں کہیں مختصر سی کامیابی ہو بھی جاتی ہے تو وقت سے ہاتھ چھڑانے کا خوب خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے،اگر ضد بحث کر کے رک بھی جائیں توجسمانی یا روحانی طور پر معذور کردیتا ہے کسی ایسے معاملے میں الجھا دیتا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہو اور کسی بھی طرح سے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اس کا ہاتھ تھا میں ۔

شائد انسان نے کبھی سوچا ہی نہیں ہوگا کہ دنیا کی آبادی کو گنتی کے ہندسوں میں لکھا جاسکے گا، لیکن جدت کی بلندیوں پر پہنچ جانے والی دنیا نے اسے بہت ہی آسان بنا دیا ہے اور تھوڑی سی تگ و دو سے یہ واضح ہوا کہ حضرت آدم ;174; سے شروع ہونے والی انسانیت ایک سے شروع ہونے والی دنیا اب آٹھ ارب کے عداد کو چھونے کے قریب ہے ، موجودہ دنیا کی آبادی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد شمار کی جارہی ہے جس میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے (شرح پیدائش شرح اموات سے کہیں زیادہ ہے) ۔ یہاں یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انتظام سو افراد کا تھا اور دو سو افراد آگئے، کیونکہ قدرت کا انتظام ہے جو خود واقف ہے کہ کتنے آئیں گے ۔ انسانی وجود کی دنیا میں ابتداء سے دیکھیں تو دنیا کتنی بڑی ہوگی نا راستوں کی پیمائش اور ناہی چاند ، سورج اور ستاروں سے راستے جاننے کا علم اور آج دنیا سمٹ کر ایک کلک پر آگئی ہے صبح کہیں ہیں تو دوپہر میں کہیں ۔ جب قدرت نے جسم رکھنے والی مخلوق (انسان و جانور وغیرہ) زمین کر رونق بخشنے کیلئے بھیجے تو زمین کو بھی حکم دیا کہ ان کے کھانے پینے کا بندوبست کر کے رکھے اور ایسا ہی ہوا کن اور فیکون ۔

آج جہاں دنیا قدرتی معدنیات اور وسائل کے کم ہونے کے خوف سے آنے والے کل میں پائداری اور استحکام کیلئے سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے اورچھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے دستیاب عوامل پر غور و خوض کر رہی ہے، وسائل کی بچت پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے، اس حوالے سے ساری دنیا میں آگہی کی باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہیں ۔ سب سے پہلے پانی کی مثال لے لیتے ہیں ، خشک سالی ایک بین الاقوامی مسلۃ بن کر سامنے آرہا ہے ۔ دنیا آبی ذخائر کے لئے راغب کر رہی ہے دوسری طرف یہی پانی دنیا میں تباہی اور بربادی کا سبب بن رہا ہے کیونکہ انسان نے اپنی سمجھ سے ذخائر بنا رکھے ہیں لیکن حتمی فیصلہ تو قدرت کا ہوتا ہے کب کہاں کیا ہوگا اس بات کا علم عمومی طور پر تو لگایا جاسکتا ہے لیکن حتمی عمل قدرت کے مرہون ِ منت ہوتا ہے ۔ جسطرح ہونے والی بارشوں کا ایک اندازے کے مطابق بتا دیا جاتا ہے کہ اتنے ملی میٹر بارش متوقع ہے لیکن کبھی اس سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہیں اور کبھی ہوتی ہی نہیں ، اسلئے ہم پاکستانی یا تیسری دنیا کے تقریباً ممالک اس طرح کی پیشنگوئیوں کو زیادہ سرپر سوار نہیں کرتے اس کے برعکس ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک اپنی کی گئی ترقی کو سنبھالنے کیلئے متوقع قدرتی آفات سے نمٹنے کا ہرممکن سامان کرتے ہیں اور باقاعدہ معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ توانائی کے شعبے میں بہت کام کیا جارہا ہے مختلف تحقیقات پر غور کیا جارہا ہے کس طرح سے قدرت کی دی گئی نعمتوں کو بہترین اور منظم طریقے سے بروئے کار لایا جائے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب معاملات پر غور کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے، کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ دنیا کا سارا انتظام وہی چلا رہا ہے یا پھر دنیا کی محبت میں مگن ہوکر خالق کائنات کے قادر مطلق ہونے سے منحرف ہوگیا ہے، ایسے خدشات تو دیکھائی دے رہے ہیں ۔ حقائق واضح کر رہے ہیں کہ واقعی دنیا میں موجود وسائل تیزی سے کم ہورہے ہیں ۔ ایسا کیسے مان لیا جائے کہ قدرت کا خزانہ ایک طے شدہ مدت کیلئے رکھا گیاتھا اوراب جبکہ وہ طے شدہ وقت قریب آرہا ہے جس کی وجہ سے جہاں دیدہ اور فہم و فراست رکھنے والے (دھیان رکھنے والے)اس وقت کے آنے سے قبل جب قدرتی وسائل ناپید ہونا شروع ہوجائیں گے کچھ نعم البدل کا انتظام کر نے کیلئے کوشاں ہوں ۔ اس بات کو بھی خاطر میں رکھنا ضروری ہے کہ جو کائنات کا خالق و مالک ہے جس انسان کیلئے بیش بہا نعمتیں پیدا کیں جب وہ انسان ہی نہیں رہے گا تو پھر یہ نعم البدل کس کام کیلئے رہ جائے گا ۔ جب نعمتوں کا استعمال صحیح طریقے سے نہیں کیا جاتا یا ان کا دھیان نہیں رکھا جاتا تو قدرت ان نعمتوں کو آہستہ آہستہ انسانوں سے دور کردیتی ہے ۔ قدرت نے تو زندگی کے ہر معاملے کو اعتدال سے گزارنے کا حکم دیا ہے اور جب رب کائنات کے حکم عدولی ہو تو توازن تو بگڑنا ہی ہے نا ۔

جب آدم ;174; کو پر زمین پر اتارا گیاتو ہر شے کی خوب فراوانی ہوگی لیکن طلب کا اپنا ایک حساب تھا ، یہ بھی لکھنا درست نہیں کہ قدرت نے توازن کو کھلی چھٹی دے دی جسکی وجہ سے زمین پر اشیاء کیلئے توازن بگڑ رہا ہے ۔ توازن کا اپنا معیار ہے زمین پر بسنے والے ہمیشہ سے ہی متوازن تقسیم سے محروم رہے ہیں ۔ کون کس کا حصہ کھا گیا اس کا معلوم کرنا بہت مشکل ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی بساط جب سمیٹی جائے گی تو اس کا ایک عندیہ یا علامت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قدرت کی مہیا کردہ سہولیات واپس لے لی جائیں گی ۔ حالات ، واقعات اور ماحول میں اتنی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ کہیں استحکام آتا دیکھائی نہیں دے رہا (دراصل انسان یکسوئی کھوبیٹھا ہے یا پھر اس سے چھین لی گئی ہے ) ابھی آپ ایک چیز کو پکڑنے کی یا سمجھنے کی کوشش کر ہی رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ایک اور چیز آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا شروع کردیتی ہے ۔ قدرت اپنی منظم حکمت عملی پر کارفرما ہے جیسے کے وقت قدرت کا ایک اہم ترین آلہ کار ہے اوروہ ہوا کی رتھ پر سوار ہے ۔

فراوانی سے قلت کا سفر شروع ہوچکا ہے جو اس بات کو سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ دنیا کی بساط سمیٹی جارہی ہے اور وہ دن جس کا اللہ رب العزت نے وعدہ کر رکھا ہے بہت ہی قریب آنے کو ہے ۔ تو جس کے پاس بہت زیادہ ہے یا جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ اسے اس دن کیلئے تقسیم کردے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہے وہ اس دن کیلئے صبر کرلے ، اس دن دائمی انصاف ہوگا اور کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا ، اخروی فیصلہ قریب پہنچ رہا ہے ۔

حصہ
mm
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔