اعصاب شکن

پہلے لفظ اعصاب شکن کی تھوڑی سی وضاحت کرلیتے ہیں۔ ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ سائنس کے علم کی بنیاد پر دل اور دماغ طے شدہ کام سرانجام دیتے ہیں۔ یہ آپکے ذہن پر دباؤ کی ایسی قسم ہے جو آپکے جسم میں موجود پٹھوں کو جکڑ لیتی ہے، اعصاب یعنی پٹھوں کا بلواسطہ تعلق دماغ سے ہے جہاں سوچوں کا کارخانہ لگا ہوا ہے اس کارخانے کا تعلق جذبات کے کارخانے یعنی دل سے بھی جڑا ہوا ہوتاہے، ان دونوں کارخانوں کی مشترکہ شے جو تشکیل پاتی ہے اسے ہم اعصاب شکن کہہ سکتے ہیں۔ یہاں سوچوں پر قابو پانے والے یا پھر جذبات پر حکمرانی کرنے والے لوگ کامیاب ہوتے ہیں لیکن جو لوگ اپنی سوچوں اور جذبات کو ہوا و پانی کی طرح بہنے دیتے ہیں اکثر اعصاب شکن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ معالج اسے بیماری کہتے ہیں شائد انہیں اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہو کہ ان کے پاس آنے والا فرد کن سوچوں کا حامل ہے یا اسکے جذبات کو کن باتوں سے ٹھیس پہنچتی ہے وہ صرف اور صرف سکون کی دوائیں دینا شروع کردیتا ہے اور تب تک دیتا رہتا ہے جب تک مریض خود کشی نا کرلے یا پھر ان دواؤں کا عادی نا بن جائے۔ یہ ایک معاشرتی المیہ بھی ہے۔

جیسا کے ہمارا قیمتی وقت جسے ہم بچانے کیلئے سڑکوں پر تیز گاڑی چلا کر بچانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے کم کم ملنا پسند کرتے ہیں کیونکہ ہمارا یہ قیمتی وقت ہمارے پاس موجود ان آلات کیلئے ہے جہاں ہم معاشرے کے بڑے خیر خواہ کے طور پر رہتے ہیں۔ ہم نے اپنا قیمتی ترین وقت ان آلات کو سونپ دیا ہے۔ ہم پر مسلط شدہ کاموں سے جلد از جلد فراغت اور پھر کہیں بیٹھے ان آلات کی مدد سے قیمتی وقت کو مزید قیمتی بناتے دیکھائی دے رہے ہیں۔

عمومی طور پر انسان زیادہ دنیاداری میں عملداری کی بدولت اعصاب شکنی کا شکار ہوجاتے ہیں جس کے لئے مختلف ادویات کا سہارا لیا جاتا ہے اور نیند کی جاتی ہے، کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے کہ بغیر کسی عملی دباءو کے اعصاب شکن ہونا شروع ہوجاتے ہیں عمومی ادوایات جب کارگر ثابت نہیں ہوتیں اور مرض میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اگلے مرحلے میں بے وجہ چڑ چڑا پن ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ انسان اپنے انتہائی مخصوص حلقے میں یہ راز فاش کرتا ہے کہ وہ کس امر سے گزر رہا ہے، بظاہر وہ اپنی زندگی میں عام سا دیکھائی دے رہا ہوتا ہے لیکن کوئی نہیں جان سکتا کہ اسکے جسم کا وزن کہیں گنا زیادہ بڑھ چکا ہے وہ ایک ایک قدم کس اذیت سے اٹھا کر چل رہا ہے ، وہ مسکرانے کیلئے کتنے کانٹوں کی چبھن برداشت کررہا ہوتا ہے، اسکی مٹھاس سے بھری باتیں اسکے منہ کو کتنا کڑوا کررہی ہوتی ہیں۔ یقینا باتیں کرنا بہت آسان ہے لیکن ایسے کرب سے گزرنا جس کی کوئی طبعی شکل ہی نا ہو ناقابل برداشت و بیان ہے۔

علم سے باز رہنے والے اور ضعیف الاعتقاد لوگ ایسے افراد کو آسیب زدہ کہنا شروع کردیتے ہیں اور روحانی علاج معالجے کیلئے نکل پڑتے ہیں۔ اب جو اس کیفیت میں مبتلاء ہوتا ہے وہ الغرض اپنے احباب کے مرہون منت ہوجاتا ہے۔ یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ وہ شخص جو اس کیفیت میں مبتلاء ہے کیا وہ اس سے نکلنا بھی چاہتا ہے یا پھر وہ اپنے آپ کو ایسے ہی حالات کے حوالے کر چکا ہے جیسے پاگل ہوجانا یا پھر گھر بار چھوڑ کر کہیں نامعلوم ہوجانا۔ قدرت کی عطاء کردہ انسانی صلاحیتوں سے آگاہی بہت ضروری ہے، اگر ہ میں اس بات یقین ہوجائے کہ مایوسی کفر ہے تو ہم مایوس ہونا چھوڑ دیں اور جو ہے اس پر ہی اکتفا کرنا شروع کردیں اس طرح سے ہمارا مسلہ کسی بڑے حادثے کی طرف ہ میں لے کر ہی نہیں جائے گا۔

یوں تو خود کشیوں کا سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے روز ہی اخبارات اور سماجی ابلاغ پر ایسے اندوہناک واقعات کی تشہیر دیکھی جاتی ہے۔ اگر ساری دنیا کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو شائد ہمیں ہر شخص ہی خود کشی کے بارے میں سوچتا دیکھائی دے سکتا ہے اور بہت سارے خود کشی کا لفظ نہیں استعمال کرنا چاہتے ہونگے۔ زندگی کو جان بوجھ کر ختم کرنا ایک انتہائی گھبمیر کام ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے کہ خود کشی کو ا اس کے بارے میں سوچنے کا موقع ملتا ہے۔ زندگی خدا کی عظیم ترین نعمت ہے اس نعمت کے ساتھ ہی ہر نعمت کی قدر دانی مشروط ہے۔

خود کشی یقینا ایک تسلسل کے نتیجے میں اپنا وجود اخذ کرتی ہے، انسان قدرت کے نظام سے اختلاف کرتا ہے اور جو قدرت کے نظام سے اختلاف کرتا ہے وہ پھر اس سے اتفاق کرتا ہے جس نے قدرت کی حکم عدولی کی تھی اور وہ انسان کو مزید غمزدہ کرتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کے اسے زندگی حقیر ترین دیکھائی دینے لگتی ہے اور وہ اسے ختم کرنے میں کس بھی قسم کے نقصان کا تخمینہ نہیں لگاتا۔ رشتے ناطے عیش عشر ت ذائقے اور وہ تمام لوازمات جو زندگی میں رنگ بھرتے ہیں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیتا ہے یا پھر آنکھوں پر بے رحمی کی پٹی باندھ دی جاتی ہے اور پھر خود کشی رونما ہوجاتی ہے۔ کوئی دنیا کی لذتوں سے اس قدر اوب جاتا ہے اور وہ پرتعیش یکسانیت سے تنگ آکر اپنی رنگین زندگی کو خیرباد کہہ دیتا ہے یعنی قدرت کی نافرمانی ہمیں خودکشی میں ہی عافیت دیکھاتی ہے۔

تازہ ترین خودکشی کے واقعات جن میں باپ نے اپنے اہل خانہ جن میں بیوی اور بچے شامل تھے قتل کیا اور پھر خود کو بھی ساتھ ہی ختم کر لیا۔ انسان اپنی سوچوں کا محتاج ہوجاتا ہے اور یہ محتاجی کبھی کبھی اسے ذہنی طور پر معذور کردیتی ہے اور اسے کوئی انتہائی قدم اٹھانا پڑتا ہے، وہ اپنے آپ سے لڑی جانے والی جنگ ہار جاتا ہے اور اسے یہ بھی لگتا ہے کہ اس سے وابسطہ لوگ اسکے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے اسی سمجھ کیساتھ وہ پہلے انہیں ختم کرتا ہے اور پھر اپنے آپ کو ۔ اسکی ذہنی معذوری اس نہج پر پہنچ چکی ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامنے موت کی تکلیف دیکھ کر بھی موت کو ہی ترجیح دیتا ہے اور معاشرے کیلئے ایک سوالیہ نشان چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ کیا اس طرح کی خودکشیوں کا کوئی ذمہ دار ہے؟ کیامعاشرہ افراد سے مل کر نہیں تشکیل پاتا؟ کیا عام آدمی ریاست کی ذمہ داری نہیں ہوتا؟ ساری دنیا میں شائد ایسا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ بھوک و افلاس سے تنگ آکر اگر کوئی خود کشی کرے تو اس کے خون کا مقدمہ ریاست پر درج ہونا چاہئے۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہاں اقتدار کے حصول کیلئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن اقتدار ملنے کے بعد یہ بھول جاتے ہیں کہ اقتدار ایک امانت ہے اور امانت کی پاسداری کا سوال روز محشر کیا جائے گا اور اس روز جواب دینے کیلئے ہمارے پاس کیا ہوگا جبکہ خود کشی زدہ لوگوں کی فہرستیں پہلے سے ہی خالق کائنات کے حضور پیش ہوچکی ہونگی۔ وہاں کوئی جواب نا بن پڑے گا کیونکہ کوئی عملی کام ایسی نوبت سے بچنے کیلئے کیا ہی نہیں ہوگا۔ اعصاب شکن حالات سب کیلئے ہوتے ہیں لیکن صاحب اقتدار کو اس سے نمٹنے کی خاص صلاحیت قدرت عطاء کرتی ہے لیکن اس کےلئے لازمی یہ ہے کہ صاحب اقتدار کا قبلہ درست ہو اور صحیح سمت سے واقف ہو اور زیب تن کئے گئے ملبوس کے بارے میں عام آدمی کو جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہو۔ خدارا اس اعصاب شکن حالات سے ملک کو نکال لیں سب مل بیٹھ کر ملک اور عوام کا سوچ لیں، اپنی ضرورت سے زیادہ دولت عوام کی خیر خواہی اور بھلائی کیلئے وقف کردیں، ملک کی بقاء اب اسی صورت ممکن ہے کہ انصاف کا بول بالا ہوجائے، قبر کی رات بتا کر نہیں آئے گی۔ عوام کے ہاتھ اگر اٹھ گئے اور صاحب اقتدار کی ہوس میں مبتلاء حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچ گئے تو شائد پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔ ان اعصاب شکن حالات کو اجتماعیت پر مسلط ہونے سے پہلے فیصلہ کر لیا جائے تو سب کیلئے بہتر ہوسکتا ہے۔

حصہ
mm
شیخ خالد زاہد، ملک کے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر سیاسی اور معاشرتی معاملات پر قلم سے قلب تک کے عنوان سے مضامین لکھتے ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ انکا قلم معاشرے میں تحمل اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دوسرے لکھنے والوں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ قلم کو نفرت مٹانے کیلئے استعمال کریں۔