ڈاکٹر میمونہ حمزہ

mm
66 بلاگ 0 تبصرے
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

ترکستان کی سیاہ رات۔16

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۱۶) منصور درغا دکھ سے بولا: ’’ہم ڈوبتے ہوئے شخص کی مانند ہیں .. جو اپنے بازؤوں کو چپو بنا کر...

ترکستان کی سیاہ رات۔15

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۱۵) پورے علاقے میں اس رضامندی اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے ریفرنڈم کروانے کی پرزور آوازیں بلند...

ترکستان کی سیاہ رات۔14

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۱۴) آخر کار چیانگ کائی شیک نے امداد میں چھ ڈویژن سر بکف فوج بھجوا دی جو جدید آلاتِ حرب...

ترکستان کی سیاہ رات۔13

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۱۳) اس نے مٹھیاں بھینچیں، ہونٹ کاٹے اور ہذیانی انداز میں چلایا: ’’یہ مایوسی مجھے مار ڈالے گی‘‘ ترکستان کا حاکمِ اعلی...

ترکستان کی سیاہ رات۔12

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۱۲) انہیں دنوں جنگِ عظیم شروع ہو گئی، ایک جانب ہٹلر تھا اور دوسری جانب روس، انگریز اور امریکہ کا...

ترکستان کی سیاہ رات۔11

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۱۱) مجھے عجب راحت کا احساس ہو رہا تھا، میں کمانڈوز کی طرح پہاڑوں کی بلندیاں تسخیر کررہا تھا، چوٹیوں...

ترکستان کی سیاہ رات۔10

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۱۰) میں اپنے ہی ایک دشمن کے گھر میں قیام پزیر تھا اور وہ محض میرا دشمن ہی نہ تھا،...

ترکستان کی سیاہ رات۔9

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۹) میرا سرسبز و شاداب، پھلوں سے لدا، لہلہاتے کھیتوں اور معدنیات سے بھر پور وطن پہلے جیسا نہ رہا،...

ترکستان کی سیاہ رات۔8

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۸) آہ ’’قومول‘‘ شہر! تو نے کیا کیا دردناک مناظر دیکھے، جب قومول کے چینی حاکم نے ہماری شہزادی پر...

ترکستان کی سیاہ رات ۔۔7

ڈاکٹر نجیب الکیلانی ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ (۷) اس کے علی الرغم کہ ہمارا چھوٹا سا ملک چین اور روس کی عظیم الشان ریاستوں کے سامنے دم...

اہم بلاگز

مساجد کا تقدس اور ہمارا عمومی رویہ

مسجد وزیرخان میں اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے گانے کی شوٹنگ کی تصاویر/ ٹیزر سامنے آنے کے بعد عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ انتہائی قبیح عمل ہے کہ خانہ خدا کو رقص گاہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ انتظامیہ کی غفلت بلکہ نالائقی ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے اس قسم کے مناظر فلمائے گئے اور ان کی غیرت ایمانی سوئی پڑی رہی۔ اسی غم و غصے میں عوام کی طرف سے صبا قمر کے گھر پر بھی حملہ ہو چکا ہے۔ دونوں عوام سے معافی مانگ چکے ہیں اور حکومت نے بھی اس واقعے کا گزشتہ کئی واقعات کی طرح نوٹس بھی لے لیا ہے۔ پھر بھی عوام و خواص کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچی ہے تو ان کا غصہ کم ہونے میں نہیں آ رہا۔ پنجاب حکومت نے بھی ذمہ داران کی طلبی کی ہے۔ بحیثیت مسلمان مجھے اس بات کا بہت دکھ اور غصہ ہے مساجد کا تقدس ہمارے مذہب کی اساس میں شامل ہے۔ناصرف مساجد بلکہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا بھی ہم احترام کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جنگوں کے بعد بھی کسی کلیسا کسی گرجے کی بے حرمتی نہیں کی گئی۔ جہاں تک تعلق اس واقعے کا ہے تو میں کچھ کڑوے سچ بیان کرنا چاہتی ہوں۔ بات سچ ہے مگر بات بہت شدید رسوائی کی ہے۔گزشتہ کئی سال سے ہم مختلف مساجد میں نو بیاہتا جوڑوں کے سیر سپاٹے(ہنی مون) دیکھتے آئے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے جو کسی مشہور مسجد نہ گیا ہو اور وہاں کم از کم ایک جوڑا اس کو ایسا نہ دکھا ہو؟ فیصل مسجد اور بادشاہی مسجد تو خاص طور پر اس میں آتی ہے۔ یہ نظارہ عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ جوڑے باہوں میں بانہیں ڈالے مسجد کے احاطے میں اٹھکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ مسجد میں نماز ہو رہی ہوتی ہے ، نمازیوں کی ایک دو صفیں ہوتی ہیں جبکہ باہر سینکڑوں مرد و زن بے نیازی سے تصویریں کھنچوا رہے ہوتے ہیں۔ اب تو مساجد میں نکاح اور شادی کے بعد باقاعدہ فوٹو شوٹ کرایا جاتا ہے جن کے لیے ہزاروں لاکھوں کی بکنگ کی جاتی ہے۔ خدا لگتی کہوں تو جن پوز پر پورا پاکستان مساجد کے تقدس کی پامالی پر رو رہا ہے تقریبا ایسے ہی پوز بنوائے جاتے ہیں۔ گھومتے پھرتے افراد سے نماز کی طرف آنے کا کہا جائے تو علم ہوتا ہے کہ اکثر وضو کے بغیر ہی مسجد میں پائے جا رہے بلکہ دھندنا رہے ہیں۔ خواتین کے پاس دوپٹہ مناسب نہیں ہوتا نماز کے لئے دوسرا جتنا تیار ہو کر وہ آئی ہوتی ہیں اب ظاہر ہے اتنا مہنگا میک اپ دھو کر نماز تو نہیں پڑھ سکتیں اور فورا ہی عورتوں کی بہترین نماز گھر میں ہے والی حدیث بھی کورٹ کر دی جاتی ہے۔ کوئی پوچھے کہ آپ مسجد کے آداب سے ناواقف ہیں؟ ؟ لباس کے معاملے میں ذرا بھی احتیاط نہیں کی جاتی۔ جہاں وہ برطانوی شہزادی بادشاہی مسجد میں مکمل بازو اور دوپٹے میں ادب احترام...

استاد محترم…. سلام الوداع

یہ سال 2013 تھا۔اسلامک ریسرچ اکیڈمی میں "مفت قلیل مدتی صحافتی کورس" کروایا جارہا تھا۔ اس میں، میں بھی بحیثیت طالبہ علم شامل تھی۔انھی دنوں میں ایک دن ایک صاحب اردو زبان کے حوالے سے ہماری کلاس لینے آتے ہیں۔آتے ہی گویا ہوتے ہیں بھئ میں کوئ لیکچر ویکچر دینے نہیں آیا، لیکچر مجھے دینا بھی نہیں آتااور نہ ہی میں کوئ زبان کا ماہر ہوں لغت دیکھتا ہوں آپ بھی دیکھ لیجیے، میں بھی اسی سے آپ کو بتاتا ہوں۔یہ جملے بڑے ہی شگفتہ انداز میں ان کی زبان سے ادا ہوئے تھے اور ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہمارے استاد محترم بڑے ہی منکسرالمزاج ہیں۔ گفتگو ذرا آگے بڑھی،کہنے لگے دیکھیے آپ اتنی ساری ہیں مگر پھر بھی خواتین ہیں۔سب مسکرا دیے۔جو بھی ان کے سوال کا درست جواب دیتا۔بڑی ہی محبت سے کہتے کہ یہ بچی ہوشیار لگتی ہے۔ زبان کی اصلاح کے حوالے سے بات ہونے لگی تو ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ بھئ ویسے جب ہم گھر میں بچوں کی اصلاح کرتے ہیں تو بیگم کہتی ہیں کیا آپ زبان کے داروغہ لگے ہیں۔اسی طرح جب جب بھی استاد محترم کو سننے کا موقع ملا وہی عاجزی وہی انکساری اور شگفتگی دیکھنے کو ملی جو پہلی بار دیکھی تھی۔ ہم نے شروع میں گفتگو کا لفظ اسی لیے استعمال کیا کہ وہ کہتے تھے یہ لیکچر نہیں ہے بس گفتگو ہے اور جو کچھ بھی ان سے سیکھا تو بس یہ ہی جانا کہ وہ کسر نفسی سے کام لیتے ہیں۔ انھوں نے بلاوجہ کہیں بھی پندونصائح کا استعمال نہیں کیا،نہ ہی گفتگو کا آغاز کرنے سے پہلے کوئ مقفی ومسجع تمہید باندھی حالانکہ وہ زبان اردو کے درست استعمال اور برتنے کے ماہر تھے۔ اتفاق ہے کہ میں آج کل ان دنوں کو بہت یاد کررہی ہوں اور میں دل ہی دل میں وہاں پڑھانے والے اساتذہ کرام کا شکریہ بھی ادا کرتی ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ استاد محترم اطہر علی ہاشمی صاحب اپنے وقت کی نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ اور ایک بہت بڑا خلا ان کے جانے سے ہماری زندگیوں میں واقع ہوگیا ہے۔ چلا گیاوہ جو ہمیں ہوشیار کرتا تھا"کہ خبر لیجیے زبان بگڑی" آہ... چلا گیا ہمارا محسن جو ہمیں اردو زبان کو صحیح طور پر برتنے کی خبریں دیتا تھا۔ استاد محترم آپ کی عظمت کو سلام..... ؎   ہر ایک لفظ کو لہجے کو غور سے سن لو ہمارے  بعد  زباں  کی  سند  نہیں  ہوگی

“کے الیکٹرک سے نجات دو”

کے الیکٹرک یوں تو ایک طویل عرصے سے کراچی کے عوام کے لیے بالعموم جان کے وبال کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ شہری اس ادارے سے نالاں لیکن اسکے خلاف کسی شکایت کی شنوائی کہیں نہ ہونا ایک اور المیہ ہے،کے الیکٹرک کے خلاف متعدد شکایات میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ ادارہ استعمال شدہ بجلی سے زیادہ یونٹس ظاہر کرتے ہوئے ہر مہینے اپنے صارفین سے زیادہ رقم بٹورتا ہے جس کا مجموعی تخمینہ اربوں میں بنتا ہے۔ اس کے علاوہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ، طویل بلیک آوٹس، وولٹیج کی کمی، شکایات کا ازالہ نہ کیا جانا، ہر سال بارشوں میں کرنٹ کی وجہ سے ہلاکتیں، ارتھنگ کے انتظام کا نہ ہونا اور دیگر متعدد ایسی شکایات ہیں جو اہالیان کراچی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کراچی میں اداروں کی ساکھ کے بارے میں کوئی غیر جانبدار سروے کروایا جائے تو کے الیکٹرک کا نام بدنام ترین ادارے کے طور پر سامنے آئے گا۔ کے الیکٹرک کے خلاف عوامی غم و غصہ راتوں رات فروغ نہیں پایا بلکہ 2005 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کے بعد سے ہی کسی نہ کسی شکل میں عوامی مزاحمت دیکھنے میں آئی ہے۔ شروع دن سے ہی اس نجکاری کی شفافیت پر ایک سوال اٹھتا رہا ہے بعد ازاں نئی منیجمنٹ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملازمین کی برطرفی اور ان کے واجبات کی عدم ادائیگی پر بھی احتجاجات ہوتے رہے، شہر کراچی میں موجود تانبے کے بیش قیمت تاروں کو جب ایلومینم سے تبدیل کیا جانے لگا تب بھی عوامی مزاحمت پیدا ہوئی اور 'کے الیکٹرک، تانبہ چور جیسے نعرے زبان زد عام رہے۔ لیکن عوام میں پریشانی اور تشویش کی شدید لہر کے باوجود طویل عرصے تک صوبائی اور مرکزی حکومت اور متعدد سیاسی جماعتوں کی خاموشی نے پراسراریت کی فضا کو جنم دیا ۔شواہد نہ ہوتے ہوئے بھی عوام کی اکثریت یہ سمجھنے لگی کہ کے الیکٹرک ان سے بٹورنے والے پیسوں سے مختلف پارٹیز کے سر کردہ افراد کو بھی نوازتی ہے، جس کی وجہ ان کے احتجاجات مؤثر ثابت نہیں ہوتے ، اس طرح کے الیکٹرک کارپوریشن سے زیادہ ایک مافیا کے طور پر متعارف ہونے لگی ، اس مافیا کے بارے میں ایک عمومی رائے یہ بھی رہی کہ یہ میڈیا گروپس کو اشتہارات اور ان کی مد میں ادائیگیوں کو اس سے مشروط کر چکا ہے کہ ان کے خلاف ہونے والی کسی سرگرمی کو مناسب کوریج نہیں دی جائے گی۔ بہر حال کے الیکٹرک کے ستائے کراچی والوں کو اس وقت ایک شدید جھٹکا لگا جب حال ہی میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابط کمیٹی کا اجلاس ہوا اور اس میں کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے بجلی 2 روپے 89 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی۔ عوام کی منشا کے خلاف تحریک انصاف کی حکومت کی مرکزی حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک کو نوازا جا رہا ہے تو اسی جماعت کی صوبہ سندھ کی قیادت عین اسی وقت کے الیکٹرک کے خلاف سپریم...

زندگی کی حقیقتیں

اپارٹمنٹ کے لائونج میں اس نے قدم رکھا، طائرانہ نگاہیں چاروں طرف دوڑائیں… فرنیچر، ڈیکوریشن پیس، دیواروں پر آویزاں قرآنی تغرے سب ویسے ہی تھے، صرف نہ تھی ان کے درمیان وہ ہستی جو اس کی ’’ماں‘‘ تھی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی جس کی آواز کانوں میں گونجتی تھی ’’آگئیں میری بیٹی؟‘‘ ماں کی آنکھوں میں اپنی اکلوتی اولاد کے لیے محبتوں کے دیپ جل اٹھتے تھے، حالانکہ وہ صرف چار پانچ گھنٹوں کے لیے یونیورسٹی جاتی… ماں کی یاد سے اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ اس سے پہلے کہ وہ بے قابو ہوجاتی، پیچھے سے بابا کی آواز کانوں میں پڑی ’’لو بیٹا اپنا سامان چیک کرلو‘‘… اس نے فوراً اپنے آنسو پونچھ لیے، مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے باپ کی طرف پلٹی…’’بابا… یہ دونوں بیگ… آپ کیوں لے کر آئے، چوکیدار کو کہتے، وہ لے آتا۔‘‘ ’’تم تو یوں کہہ رہی ہو جیسے میں انہیں اٹھاکر لے کر آیا ہوں۔ لفٹ میں تو لانے تھے، میں نے سوچا چوکیدار کو کیوں تکلیف دوں! اس نے بابا سے سامان لے کر ایک طرف رکھ دیا اور دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے لگے۔ حالانکہ وہ ہر روز دن میں دو مرتبہ لندن سے بابا سے بات ضرور کرتی، لیکن دونوں ایک دوسرے کو آمنے سامنے دیکھ کر نہال تھے اور دونوں کی کوشش تھی کہ وہ مرحومہ کا ذکر نہ کریں۔ یوں لگ رہا تھا وہ جان بوجھ کر مرحومہ کے ذکر سے گریز کررہے تھے کہ سامنے والا دکھی نہ ہوجائے۔’’بیٹا تم لمبے سفر سے آرہی ہو، میرے خیال میں باقی باتیں صبح ہوں گی، اب تم آرام کرو۔‘‘ بابا کے چہرے پر بھی تھکن کے آثار تھے… نہ جانے وہ کتنی دیر ائرپورٹ پر انتظار کرتے رہے تھے۔ لہٰذا وہ بابا کو خدا حافظ کہہ کر اپنے کمرے میں آگئی… وہی سامان، وہی کمرہ… سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ دو سال پہلے چھوڑکر گئی تھی، لیکن ایک ویرانی اور اداسی تھی جو گھر کے کونوں کھدروں میں بھی بکھری ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں پھر سے چھلک پڑیں، وہ سسک پڑی ’’مما… آپ مجھے کیوں اتنی جلدی چھوڑ گئیں‘‘… اسے بابا کا خیال آگیا۔ وہ کمرے سے باہر آئی۔ بابا سوگئے تھے، اُن کے خراٹوں کی آوازیں کمرے کے باہر سے سنائی دے رہی تھیں۔ وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں آئی، آہستہ سے دروازہ بند کیا، پلنگ کے سائیڈ ٹیبل پر مما اور اس کی تصویر، دونوں کی مسکراہٹ دل آویز… اس نے اماں کی تصویر کو آنکھوں سے لگایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اسے لگا جیسے اس کے پیچھے مما کھڑی ہیں۔ ’’اوہو رکھ دو… گرا دو گی۔ بہت پھوہڑ ہو، میرے بعد کیا کرو گی! سارا دن صرف پڑھائی میں لگی رہتی ہو، نہ اپنا خیال نہ…‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا… ’’مما، آتے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔ سب ٹھیک ہوجائے گا، سدھر جائوں گی وقت آنے پر‘‘… وہ پیچھے پلٹی، لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ اس کے لیے اپنی سسکیوں پر قابو پانا بہت مشکل تھا۔ مما… جنہوں نے اپنی بیماری کو چھپا کر درد...

ہالووین اورویلنٹائن ڈے مسلمانوں کا کلچر نہیں

اکیسویں صدی کے آغاز سے ہی سال کے اکثر ایام کو مختلف واقعات سے جوڑ کر عالمی سطح پر منایا جاتا ہے ۔جن میں زیادہ تر تہوار ایسے ہیں جو معاشرے کو بڑی تیزی سے تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔تباہی کی طرف دھکیلتے ہوئے ان تہواروں میں یہ دو تہوار ہالووین اور ویلنٹائن ڈے بھی شامل ہیں ۔ہر گزرتے سال کے بعد ان تہواروں کو منانے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے ۔مغرب کی دیکھا دیکھی مشرقی اور اسلامی ممالک میں بھی ان تہواروں کی حقیقت جانے بغیر ان کوزور و شور سے منایا جا رہا ہے۔ہالووین اور ویلنٹائن ڈے یہ دو تہوار ہر سال اکتوبر اور فروری میں منائے جاتے ہیں۔ ہالووین کی حقیقت:                ہالووین (Halloween)امریکہ میں منایا جانے والا ایک تہوار ہے ۔اس تہوار کے بارے میں تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ہالووین کا سراغ قبل از مسیح دور میں برطانیہ کے علاقے آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ملتا ہے، جہاں سیلٹک قبائل ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ ان کے رواج کے مطابق نئے سال کا آغاز یکم نومبر سے ہوتا تھا۔ موسمی حالات کے باعث ان علاقوں میں فصلوں کی کٹائی اکتوبر کے آخر میں ختم ہوجاتی تھی اور نومبر سے سرد اور تاریک دنوں کا آغاز ہو جاتا تھا۔ سیلٹک قبائل کا عقیدہ تھا کہ نئے سال کے شروع ہونے سے پہلے کی رات یعنی 31 اکتوبر کی رات کو دنیا میں انسانوں اور بری ارواح کے درمیان ایک پردہ موجود ہوتا ہے، جو انسانوں کو ان بری ارواح سے محفوظ رکھتا ہے، ان کے خیال میں موسم ِ گرما کے اختتام پر یہ پردہ بہت باریک ہو جاتا ہے، اس پردے کے نازک ہونے کے سبب اس بات کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے کہ یہ بری اروح دنیا میں آکر انسانوں، مال، مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان بد روحوں کو خوش کرنے کے لیے سیلٹک قبائل 31 اکتوبر کی رات آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کرتے تھے، اناج بانٹتے تھے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔ اس موقع پر وہ جانوروں کی کھالیں پہنتے اور اپنے سروں کو جانوروں کے سینگوں سے سجاتے تھے۔تاکہ ان کو ایسے دیکھ کر بدروحیں خوش ہو جائیں اور وہ ان پر حملہ آور نہ ہو سکیں۔31 اکتوبر کو جب تاریکی پھیلنے لگتی ہے اور سائے گہرے ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو ڈراؤنے کاسٹیوم میں ملبوس بچوں اور بڑوں کی ٹولیاں گھر گھر جاکر دستک دیتی ہیں اور trick or treat کی صدائیں بلند کرتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو ہمیں مٹھائی دو، ورنہ ہماری طرف سے کسی چالاکی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ گھر کے مکین انہیں ٹافیاں اورچاکلیٹیس دے کر رخصت کر دیتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کی حقیقت:                اس دن کے ساتھ بہت ساری کہانیاں اور روایات منسوب کی جاتی ہیں ۔لیکن جو زیادہ معروف اور مستند مانی جاتی ہے وہ یہ ہے: تیسری صدی عیسوی میں ’’ویلنٹائن ‘‘ نام کا ایک پادری تھا ۔جو ایک راہبہ(نن) کی محبت میں...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

صلائے’’آم‘‘ہے یارانِ۔۔۔۔۔۔

مسئلہ فیثا غورث کی طرح میرے لئے یہ مسئلہ بھی ابھی تک مشکل اور حل طلب ہے بلکہ ایک معمہ ہے کہ آم کھایا جاتا ہے یا چوسا کم چوپا جاتاہے۔ایک دانشور دوست سے دست بستہ ہوا تو بڑے ہی فلسفیانہ انداز میں اس طرح گویا ہوئے کہ آم کھائو گٹھلیاں نہ گنو۔جواب تسلی بخش نہ پا کر تشفی قلب کے لئے محلہ کے پرانے بزرگ شیخ صاحب سے معمہ کے حل کے لئے عرض کیا تو انہوں نے بڑے ہی سیدھے سادھے انداز میں شیخانہ حل بتایا کہ دیکھو بیٹا اگر تو اپنے ’’پلے‘‘ سے خریدا جائے تو کھایا جاتا ہے وگرنہ ’’چوپا جاتا ہے۔مجھے حیران و ششدر دیکھتے ہوئے خود ہی تفصیل بتانے لگے کہ دیکھو بچے جب آپ اپنے گھر سے کھاتے ہو تو بڑی احتیاط سے اور کم کم کھاتے ہو لیکن جب کسی دوست کی شادی پر کھاتے ہو تو کیا حساب رکھتے ہو؟بلکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ دوست تو اس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک معدہ اور آنکھیں بند نہ ہو جائیں۔اسی لئے آم خریدیں ہوں تو کھائے جائیں گے وگرنہ ’’چوپے‘‘جائیں گے۔آئی بات سمجھ میں۔اگر دوستو!آپ کی سمجھ میں بھی بات آجائے تو نکل پڑو ایسے سفر پر جس کا اختتام ملتان میں کسی دوست کے ہاں ہوتا ہو۔کیونکہ میں نے تو اس دن سے یہ فلسفہ پلے باندھ لیا ہے اور جب کبھی بھی مینگو پارٹی ہو تو آم کھاتا نہیں چوپتا ہوں،گھٹلیوں کا حساب دوست احباب لگا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں آم اور سیب کے کھانے میں فرق صرف تہذیب کا ہوتا ہے۔آم واحد پھل ہے جسے جس قدر بدتمیز ہو کر کھایا جائے اتنا ہی مزہ آتا ہے۔آم کھانے کے انداز نے تو بڑے بڑوں کے پول کھول دئے ہیں اب آپ چچا غالب کی شائستگی کا ہی اندازہ لگا لیں کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا مرغوب پھل کون سا ہے؟تو کہنے لگے کہ آم ،مگر دو شرطوں پہ۔وہ کون سے سرکار، تو کہنے لگے کہ میٹھا ہو اور ڈھیر سارا ہو۔جب کبھی بھی دوستوں کی طرف سے آم کا ’’چڑھاوا‘‘آتا تو آستین اوپر چڑھا لیتے اور خوب جی بھر کر کھاتے۔اسی لئے غالب آموں کے موسم میں اکثر بدتمیز ہی دکھتے ۔شکر ہے غالب میاں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ملتان میں ہوتے تو صاحبِ دیوان ہونے کی بجائے ’’صاحبِ گلشن آم‘‘ہوتے اور بہت ہی ’’عام‘‘ ہوتے۔حیات غالب کا ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ ایک بار میاں غالب اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر چبوترے پر تشریف فرما تھے کہ ایک گدھا آم کے چھلکوں کے ڈھیر تک گیا،اسے سونگھا اور چلتا بنا۔دوستوں نے ازراہِ تفنن غالب پہ جملہ کسا کہ دیکھو غالب میاں’’گدھے بھی آم نہیں کھاتے‘‘۔غالب برجستہ بولے کہ ’’جی ہاں واقعی گدھے ہی آم نہیں کھاتے‘‘۔ لو جی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ،غالب تک تو بات ٹھیک تھی میں نے تو ایک کتاب میں یہ بھی پڑھ رکھا ہے کہ علامہ اقبال کو بھی اس افضل الاثمار یعنی آم سے رغبتِ خاص تھی۔ایک سال حکیم صاحب نے علامہ صاحب کو ہدائت فرمائی کہ آموں سے...

پیزا، کتا اور مہمان

خاتون خانہ پریشان تھیں۔ رات کو گھر میں دعوت تھی۔ پیزا بنانا چاہ رہی تھیں۔ سارا سامان لے آئی تھیں لیکن مشرومز لانا بھول گئیں تھیں۔ رہتی بھی شہر سے دور تھیں۔ قریب کی مارکیٹ میں مشرومز دستیاب بھی نہ تھے۔ صاحب کو مسئلہ بیان کیا تو ٹی وی سے نظریں ہٹائے بغیر بولے۔ " میں شہر نہیں جارہا۔ اگر مشرومز نہیں ڈالے تو پیزا بن جائے گا۔ اور اگر ضروری ہیں تو پچھلی طرف جھاڑیوں میں اُگے ہوئے ہیں جنگلی مشرومز۔ توڑ لو"۔ خاتون خانہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے جنگلی مشرومز زہریلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو فوڈ پوائزننگ ہو گئی تو؟؟؟" صاحب بولے؛ دعوت میں سارے شادی شدہ آرہے ہیں۔ زہریلی باتیں سننے کے عادی ہیں۔ زہریلے مشرومز بھی ان پہ اثر نہیں کریں گے۔ خاتون گئیں اور جنگلی مشرومز توڑ لائیں۔ مگر چونکہ خاتون تھیں اس لئے دماغ استعمال کیا اور کچھ مشرومز پہلے اپنے کتے موتی کو ڈال دیئے۔ موتی نے مشرومز کھائے اور مزے سے مست کھیلتا رہا۔ چار پانچ گھنٹے بعد خاتون نے پیزا بنانا شروع کیا اور اچھی طرح سے دھو کر مشرومز پیزا اور سلاد میں ڈال دئیے۔ دعوت شاندار رہی۔ مہمانوں کو کھانا بے حد پسند آیا۔ خاتون خانہ کچن میں برتن سمیٹنے کے بعد مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی تھیں تو اچانک ان کی بیٹی کچن میں داخل ہوئی اور کہا امی ہمارا موتی مر گیا"۔ خاتون کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ مگر چونکہ خاتون سمجھدار تھیں اس لئے پریشان نہیں ہوئیں۔ جلدی سےاسپتال فون کیا اور ڈاکٹر سے بات کی۔ ڈاکٹر نے کہا چونکہ کھانا ابھی ہی کھایا گیا ہے اس لئے بچت ہوجائے گی۔ تمام لوگ جنہوں نے مشرومز کھائے ہیں ان کو انیمیا دینا پڑے گا اور معدہ صاف کرنا پڑے گا۔ تھوڑی ہی دیر میں میڈیکل اسٹاف پہنچ گیا۔ سب لوگوں کا معدہ صاف کیا گیا۔ رات تین بجے جب میڈیکل اسٹاف رخصت ہوا تو سارے مہمان لیونگ روم میں آڑے ترچھے بیدم پڑے ہوئے تھے۔ اتنے میں خاتون کی بیٹی جس نے مشرومز نہیں کھائے تھے اور اس ساری اذیت سے بچی ہوئی تھی سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ ماں کے کاندھے پہ سر رکھ کر بولی امی لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں؟ جس ڈرائیور نے اپنی گاڑی کے نیچے موتی کو کچل کر مار ڈالا وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں رُکا۔ اف کتنا پتھر دل آدمی تھا۔ ہائے میرا موتی"۔ تو میری بہنوں آپ خود کو کتنا بھی ذہین، سمجھدار، معاملہ فہم اور ہوشیار سمجھیں، پوری بات سن لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔

بادشاہ دربار ہی سجائے گا یا عوام کو سہولیات بھی دے گا؟

دورحاضرسے ملتے جلتے وقتوں کی بات ہے کہ کسی ریاست کابادشاہ بہت ظالم تھا۔عوام سے بہت زیادہ ٹیکس وصول کرتا۔بادشاہ کے دوست احباب عوام کے گھر، کھیت کاروبارچھین لیتے۔اشیاء خوردونوش ذخیرہ کرکے مہنگے داموں فروخت کرتے۔جب مظلوم لوگ بادشاہ کے دربارمیں مقدمہ پیش کرتے توانصاف فراہم کرنے کی بجائے مزید ظلم کرتا۔مظلوموں کوتشددکانشانہ بنواتا۔بادشاہ کی موت کاوقت قریب آیاتواسے محسوس ہواکہ اس کے مرنے کے بعدلوگ اسے برے الفاظ میں یادکریں گے، لہٰذااس نے سوچاکہ کچھ ایساکیاجائے کہ مرنے کے بعد لوگ اچھے لفظوں سے پکاریں۔اس نے اپنے بیٹے کوبلاکرکہامیرے مرنے کے بعد تم بادشاہ بنوگے۔میری نصیحت یادرکھنا۔ایسی حکومت کرناکہ کوئی مجھے برانہ کہے۔بیٹابھی باپ کے مرنے کامنتظرتھا، اس نے فوری کہابادشاہ سلامت فکرنہ کریں ایساہی ہوگا۔چندروزبعدبادشاہ فوت ہوگیا۔ تدفین کے بعد بیٹے جوبادشاہ بن چکاتھانے ریاست کے ملازمین کواکٹھاکرکے فرمان جاری کیاکہ آئندہ کسی مقدمہ کافیصلہ اس کی غیرموجودگی میں ہوگانہ کسی کوسزادی جائے گی۔جب کوئی مقدمہ پیش ہوتاتوبادشاہ اپنے باپ کے دورکے وزاء سے پوچھتاکہ اسے کیاسزادی جائے ؟ وہ بتاتے کہ بادشاہ کے والدکے دور حکومت میںایسے مجرموںکے کان پکڑوائے جاتے تھے۔بادشاہ فیصلہ کرتاکہ اس مجرم کودھوپ میں کان پکڑوائے جائیں اور دس اینٹیں بھی اس کے اوپررکھی جائیں۔وزراء کہتے کہ اس قسم کے کیس میں مجرم کواس قدرگھسیٹاجاتاتھاکہ اس کا جسم چھل جاتا۔بادشاہ حکم دیتاکہ اس مجرم کوگھسیٹاجائے اورپھرجسم پرنمک چھڑک دیاجائے اورمزید اسی قسم کی سزائیں دینے لگاچنددن کے اندرہی یہ بات دور دورتک پھیل گئی کہ نیابادشاہ اپنے باپ سے بھی ظالم ہے، اس سے تواس کا باپ ہی بہتر تھا۔ بادشاہ جب ایسی باتیں سنتاتوخوش ہوکرباپ کی قبرپرجاتااورفاتحانہ اندازمیں کہتادیکھااباجان لوگ آپ کواچھے لفظوں میں یاد کررہے ہیں۔ بادشاہ سلامت میرے پاکستانی کہہ رہے ہیں کہ لگان لینے اورجوتے مارنے کیلئے بندے بڑھانے والی بات پرانی ہوگئی آپ یوں کریں کہ عوام کی چیخیں پہلے سے اس قدر زیادہ نکلوائیں کہ گزشتہ حکمرانوں کی کرپشن بھلی لگنے لگے۔مہنگائی اس قدرکردوکہ عوام گزشتہ حکومتوں کی بدعنوانیاں دوبارہ قبول کرنے کی جستجوکریں۔بادشاہ سلامت کے منظورنظردرباری بادشاہ سلامت کوبتاتے ہیں کہ مہنگائی کاکوئی مسئلہ نہیں ملک میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آج بھی دیگرترقی یافتہ ممالک کے مقابلے بہت کم ہیں۔ گندم چینی،چاول،گھی،تیل وغیرہ فلاں فلاں ملک میں دوگناسے بھی زیادہ مہنگے ہیں، لہٰذابادشاہ سلامت کی خیرہوعوام تویونہی چیخوپکارکرتے رہیں گے۔ بادشاہ سلامت بے فکررہیں ابھی تومہنگائی مزید بڑے گی۔بادشاہ سلامت غریبوں کے خیرخواہ ہیں لہٰذاانہوں نے غریبوں کی غریبی مرجانے کے بعدنوٹس لیاکہ مہنگائی کے ستائے عوام کواشیاء خوردونوش سستے داموں ملنی چاہئے اورپھرفرمان جاری ہواکہ یوٹیلٹی اسٹورز پر سستی اشیاء فراہم کرنے کیلئے 15 ارب کا پیکج دیاجائے گا۔ چینی کی درآمد پر پابندی ختم۔2ہزار یوتھ اسٹور قائم ہونگے۔رمضان المبارک سے قبل غریبوں کو راشن کارڈدیاجائے گا۔ شاہی فرمان کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورزپرآٹے کا تھیلا 800، چینی 70،گھی 175روپے کلو،چاول،دالوں کی قیمتوں میں 15سے 20روپے تک کمی،50ہزار تندوروں ،ڈھابوں کو رعایتی نرخوں پر اشیا فراہم کی جائینگی۔بادشاہ سلامت کے نوٹس اورریلیف پیکج کے اعلان سے قبل یوٹیلٹی اسٹورز پرچینی کی قیمت فی کلو68روپے تھی، جسے بعد میں 70روپے فی کلوکردیاگیااسی طرح گھی کی قیمت میں بھی 5روپے فی کلوتک اضافہ کردیاگیا۔بادشاہ سلامت کوایک نیک...

خضاب ایک عذاب

خضاب لگانا ذاتی کاموں میں سے ایک مشکل ترین فن ہے۔کہتے ہیں خضاب اور بیوی ایک بار شروع ہو جائے تو پھر تازیست جان نہیں چھوڑتے۔مرد ہمیشہ مونچھیں اپنی ذات اور خضاب دوسروں کی بیوی کے لئے لگاتا ہے۔خضاب لگانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا چونا لگانا،کبھی کبھار تو چونا لگاناآسان دکھائی دیتا ہے خضاب لگانا مشکل۔خضاب لگا کر ننگِ جسم ،عذابِ جان مرد حضرات دھوپ میں ایسے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے شیر خوار circumcisionکروا کے بیٹھا ہو، بس فرق صرف اتنا سا ہوتا ہے کہ بچہ رو رہا ہوتاہے۔ خضاب لگانا اس لئے بھی فن ہے کہ اسے لگاتے ہوئے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اگر خضاب لگاتے لگاتے تھوڑا سا بھی چہرہ کو لگ جائے تو بندہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ، ایسی صورت حال میں احباب سے منہ ایسے چھپا رہا ہوتا ہے جیسے واقعی منہ دکھانے کے قابل نہ رہا ہو۔ سفید بالوں پر خضاب لگانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن عہدِ حاضر کی نسل نو خیز کا بالوں کو رنگ لگانا چہ معنی،دلیل ہے نہ کوئی حوالہ ہے بس لڑکیوں کی اقتدا میں مرے جاتے ہیں۔ خواتین و حضرات کو خضاب لگانے کا کوئی اور فائدہ ہو نا ہو ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ بال جوئووں کی نرسری بننے سے قاصر رہتے ہیں، یعنی خضاب سے قبل کنگھی کرنے اور خضاب لگاتے ہوئے خضاب کی بُو سے ہی جوئوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ مرد حضرات کے لئے میرا مشورہ ہے کہ کنگھی کبھی بھی بیوی کے سامنے نہ کیجئے ،اس لئے کہ ایک شادی شدہ شخص کے سر میں جوئیں پڑ گئیں تو اس نے خضاب لگانے سے قبل بیگم سے اس بات کا تذکرہ کردیا ،بیوی نے شوہر کے سر میں کنگھی ’’ماری‘‘ تو درجن بھر کے قریب جوئیں ’’برآمد‘‘ہوئیں، لیکن اصل کھیل اس کے بعد شروع ہوا جب بیگم نے اپنے سر میں کنگھی کی تو ایک بھی جوں ندارد،اب بیگم کنگھی کو بطور ’’خر خرہ‘‘استعمال کرتے ہوئے تفتیش کر رہی ہے کہ میرے سر میں تو جوئیں ہیں نہیں تو تم کس ’’ماں‘‘سے جوئیں ’’درآمد‘‘ کر کے لائے ہو؟ خضاب لگانے کو کچھ نیم بزرگ قسم کے لوگ’’جوانی‘‘لگانا بھی کہتے ہیں،میرا کہنا یہ ہے کہ انسان جوانی میں ایسے کام ہی کیوں کرتا ہے کہ جس سے نیم بزرگی میں سر کالا کرنا پڑے۔ جو لوگ بال سفید نہیں کرتے وہ یا تو غیر شادی شدہ ہیں یا دوسری کی ہوس نہیں۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کاہل اور آلکس بھی سفید بالوں کو رنگ نہیں لگاتے کہ کہیں کسی کے رنگ میں رنگے ہی نہ جائیں۔ کچھ کا خیال یہ بھی ہے کہ سفید کو کالا کرنے سے کون سا گھر کے ’’سیاہ وسفید‘‘ کا مالک بن جانا ہے سیاہ وسفیدکی مالک تو بیوی ہی نے رہنا ہے تو کیوں اپنی جان کو عذاب میں ڈالا جائے؟ بیوی کم عمر کی ہو تو مرد خود کو insecure سمجھتے ہوئے خضاب لگاتا ہے اور اگربیوی عمر رسیدہ ہو تو بیوی کو secure کرنے کے لئے یہ حرکت کرتا ہے۔بال رنگنا اور بچے پالنا دونوں...

گھبرانانہیں

اچھوماتھے میں گولی لگنے سے جان بحق ہوگیا،تعزیت کیلئے آنے والوں میں سے ایک نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ افسوس ناک لہجے میں اچھوکی میت کوغورسے دیکھتے ہوئے تعزیتی الفاظ میں کہاشکرہے آنکھ توبچ گئی ورنہ گولی آنکھ میں بھی لگ سکتی تھی، ظالموں نے آنکھ کے بالکل قریب کوئی آدھے انچ کے فاصلے پرگولی ماری ہے،تعزیت کرنے والے نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سچ بولاتھا، لہٰذااہل خانہ شدیدتکلیف کے باوجودنمک پاشی کرنے والے الفاظ کوبرداشت کرنے پرمجبوررہے۔ ٹھیک اسی طرح کل خبرملی کہ پشاورانتظامیہ نے نان بائی اتحادکے مطالبے پرروٹی کی قیمت بڑھائے بغیر ہڑتال ختم کروادی بس اب عوام کوروٹی 170گرام کی بجائے115گرام کی ملے گی، پرانی قیمت 10روپے میںیعنی عوام شکرکریں کہ روٹی کی قیمت میں اضافہ تونہیں ہوا،پہلے جب دوست احباب ایک دوسرے سے حال پوچھتے تواکثر جواب ملتاکہ اللہ کاشکرہے، نظام چل رہا ہے، اب کسی سے حال پوچھنے سے قبل سوچناپڑتاہے کہ سخت الفاظ تومعمول ہیں، کہیں جواب غلیظ گالیوں پرمبنی نہ ہو،دورحاضرمیں حال بتانے کے مناسب ترین الفاظ کاانتخاب کریں توکچھ اس طرح ہوسکتے ہیں آٹا،گھی،دالیں،سبزیاں،پھل،بہت مہنگے ہیں،کاروباربندہیں،کہیں سے وسائل میںاضافہ نہیں ہورہا، والدین کاکیا حال ہے؟ادویات بہت مہنگی ہوگئی ہیں، والدین کی صحت اکثرخراب رہتی ہے،بیوی بچوں کا کیا حال ہے؟بچوں کی تعلیم سارابجٹ کھانے کے بعدمزیداخراجات کی طلب گاررہتی ہے،اسکول،کالج،اکیڈمی کی انتظامیہ ہماری حالت دیکھے بغیرٹیکے لگائے جاتی ہے،تین سال سے بیوی کوشاپنگ نہیں کروائی،باقی شادی شدہ افراد سمجھ سکتے ہیں،اکثرلوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ حکومت کی کارکردگی سے خوش ہیں؟ مطمئن ہیں؟آپکی نظرمیں حکومت کی کارکردگی کیسی ہے؟اکثرلوگوں کاایک ہی جواب ہوتاہے کہ حکومت عوام کی ہے نہ عوام کیلئے ہے،حکومت کی کوئی پالیسی عوام کی خیرخواہی کیلئے ہے نہ کوئی اقدام عوام کیلئے ہے۔ حکومت کی کارکردگی کاپیمانہ تب ناپتے جب حکومت ہوتی، عوام کیلئے کبھی کسی حکومت کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت پیش نہیں آئی،حکومت سرمایہ داروں کی ہے ،عام عوام توہرحکومت کی بہترین کارکردگی سے شدیدمتاثرہوتے ہوتے مشکلات کی گہری دلدل میں دھنس چکے ہیں، ایک جاننے والے نے بتایاکہ ہمارے محلے کے حاجی صاحب بہت اچھے ہیں، ہمیشہ غریبوں کاخیال رکھتے ہیں،دو چارہزار تک مددکردیتے ہیں،آٹے کے تھیلے،گھی، چینی وغیرہ بھی تقسیم کرتے رہتے ہیں،ان حاجی صاحب کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ ماشاء اللہ ان کی اپنی فیکٹریاں ہیں جہاں وہ بجلی گیس اورٹیکس چوری کرتے ہیں،یہ کیسی اندھیرنگری چوپٹ راج ہے؟ کہ ملک کے صادق وامین حاکم انتہائی کم تنخواہ لیتے اورٹیکس بروقت اداکرکے قومی فریضہ اداکرتے ہیں اورحاجی صاحب بجلی،گیس کے ساتھ ٹیکس بھی چوری کرتے ہیں؟یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدرچورعوام کے حاکم صادق وامین ہوں؟یہ کیسے ممکن ہے کہ صادق وامین کی حکمرانی میں بجلی،گیس اورٹیکس چوری ہوجائیں؟ ایک خبرکے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزراء سے بھی کم تنخواہ لے رہے ہیں، وزیر اعظم کی سیلری سلپ کے مطابق ان کی بنیادی تنخواہ 107280 روپے ہے،مہمانداری الائونس 50 ہزار روپے،ایڈہاک ریلیف الائونس21456 روپے،ایڈ ہاک الائونس12110روپے ،جبکہ ایک اور ایڈہاک ریلیف الائونس 10728 روپے ملتا ہے،4595 روپے ٹیکس کٹوتی کے بعد وزیراعظم ایک لاکھ 96ہزار 979روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں،راقم اپنے گزشتہ کالم میں یہ لکھ چکاہے کہ...

ہمارے بلاگرز