ترکستان کی سیاہ رات۔13

ڈاکٹر نجیب الکیلانی
ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

(۱۳)

اس نے مٹھیاں بھینچیں، ہونٹ کاٹے اور ہذیانی انداز میں چلایا:
’’یہ مایوسی مجھے مار ڈالے گی‘‘
ترکستان کا حاکمِ اعلی شین سی تسائی مایوسی کے بحرِ قلزم ڈبکیاں کھا رہا تھا، وہ غصے سے دھاڑا:
’’مجھے روس پر اعتماد کرنا چاہیے تھا یا چینی امداد قبول کر کے ترکستانی عوامی انقلاب سے اپنی حکمرانی کو بچانا چاہیے تھا … میں یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے کوئی کامیابی نہ حاصل کر پاؤں گا … اس کے کیا معنی ہیں؟؟ یہی کہ میں تمام عمر روسیوں اور چینیوں پر تکیہ کرتا رہا؟؟ اسی لئے نہ مجھے کبھی آرام کا لمحہ نصیب ہوا نہ ہی ٹھنڈی ہوا میرا مقدر بنی .. ‘‘
ایک اعلی چینی جنرال نے لقمہ دیا:
’’ہم نے کبھی ترکستانیوں کو دوست بنانے کے بارے میں نہیں سوچا‘‘
شین گرج کر بولا:
’’یہ نا ممکن ہے، فتح یاب اور شکست خوردہ کے مابین کوئی دوستی نہیں ہوتی .. کتنی بارمیں نے کوشش کی کہ سختی اور قساوت کے بغیر سیدھی انگلیوں سے گھی نکل آئے، لیکن اس معاملے میں کوئی دوسرا طریقہ کارگر نہیں .. میں سادہ نہیں ہوں، میں اپنا تجربہ بیان کر رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس کے سوا کوئی اور صورت قابلِ عمل نہیں .. دیکھو .. روسیوں کے جانے کے بعد سے یہ پہاڑ ہم پر گولیوں کی بارش کر رہے ہیں اور لوگ مقابلے کے لئے نجانے کہاں سے نکلتے چلے آ رہے ہیں .. اگر چیانگ کائی شیک اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا تو اورومجی تسخیر ہو جائے گا اور ہم اس مذبح خانے میں جسے دنیا ارضِ ترکستان کے نام سے پکارتی ہے، بے موت مارے جائیں گے .. ‘‘
شین اپنے حجرہ ء خاص میں آرام کرنے چلا آیا، وہ تاؤ کھا رہا تھا، وہ تنہا بیٹھ کر سوچنے لگا، اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کتنی دیر یونہی بیٹھا رہا، اچانک اس کی نظر پڑی تو دیکھا اس کی خادمہ شراب اور دو گلاس لئے کھڑی تھی، وہ حیرت سے بڑبڑایا:
’’تم کب سے یونہی کھڑی ہو‘‘
’’تقریباً آدھ گھنٹے سے‘‘
’’یا الہی!! تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں .. تمہاری یہ خاموشی مجھے سخت تکلیف دیتی ہے‘‘
یہ ترکستانی دوشیزہ شین کے ساتھ کس مجبوری کی بنا پر رہ رہی تھی، اس قیمت پر کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو اس کے قہر سے بچا لے اور وہ اکیلی نہیں تھی۔ کتنی ہی دوشیزائیں اپنی عزت خطرے میں ڈال کر اپنے خاندان کے زندہ رہنے کا اہتمام کر رہی تھیں۔ وہ کچھ مہینوں سے یہاں رہ رہی تھی، شین ابھی اس سے اکتایا نہیں تھا، وہ ہمیشہ خاموش رہتی، چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اسے پھینکوا دیتا، لیکن اس کی خاموشی ہی اسے بھا گئی، عورتیں کتنا بولتی ہیں، مگر وہ لب نہ کھولتی، اگر کسی بات کا جواب دینا پڑتا تو کم سے کم الفاظ میں جواب دیتی، شین اسے کہنے لگا:
’’اگر ہم یہاں سے کوچ کر جائیں تو تم میرے ساتھ جاؤ گی یا یہیں رہنا چاہو گی؟؟‘‘
’’میں آپ کے حکم کی پابند ہوں آقا‘‘
شائید وہ اس کی مراد نہ سمجھی تھی ..
’’اچھا .. اگر ترکستانی ہمیں شکست دے دیں تب .. ‘‘
اس کی بات مکمل بھی نہ ہو پائی تھی جب اس نے آنکھ اٹھا کر دیکھا اور بڑی سادگی سے بولی:
’’آقا اس وقت تو آپ اپنی جان بچا کر بھاگ رہے ہوں گے اور آپ مجھ جیسی عورت کے بارے میں نہیں سوچیں گے‘‘
’’کیوں؟؟‘‘
’’راستے میں بہت سی عورتیں ہوں گی .. اور میری کیا حیثیت ہے؟‘‘
اس نے سر ہلایا:
’’تو تم یہیں رہو گی‘‘
اس نے آہستگی سے جواب دیا:
’’ہاں، تاکہ میرے گھر والے آ کر مجھے لے جائیں‘‘
اس نے جام کو ٹھوکر ماری، ایک ہی ضرب سے گلاس چکنا چور ہو گئے، وہ پوری قوت سے چیخا:
’’تم سب بے دلی سے میرے ساتھ رہتی ہو‘‘
’’میں سمجھی نہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟! کیا میں نے اپنے فرائض کی بجا آوری میں کوئی کوتاہی کی ہے‘‘
’’احمق میں فرائض کی بجا آوری کی بات نہیں کر رہا .. ‘‘
’’پھر آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں آقا ؟‘‘
’’محبت کے بارے میں .. ‘‘
’’وہ احمقوں کی طرح تکنے لگی اور کچھ نہ بولی .. ’’اس کے نزدیک زندگی محض خوف سے عبارت تھی، یہاں لوگ مصلحت یا خوف تلے زندگیاں گزار رہے تھے، حتی کہ چینی لشکر بھی اسی لئے مورچوں کو گرم رکھتے تھے، جب وہ دیکھتے کہ انکی زندگی خطرے میں ہے تو زمین پر جھک کر رحم کی بھیک مانگنے لگتے اور چلا چلا کر مدد کے لئے پکارتے، وہ ترکستانیوں کے سامنے گڑگڑانے لگتے اور کتنے ہی زندگی کی خاطر بھاگ کر اسلام کے دامن میں امان تلاش کرتے .. اور ترکستانی دشمنوں کا دین تک اختیار کر لیتے۔ روسی میری مدد کر رہے ہیں مگر وہ اپنے لشکروں کی قیمت وصول کر رہے ہیں .. یا تو انہیں حکومت میں شریک کرنا پڑتا ہے یا خام مال میں حصہ دینا پڑتا ہے یا کیمونزم کے حامیوں کو نفع میں شریک کرنا پڑتا ہے اور اس وقت تک انہوں نے میری معاونت نہیں کی جب تک اسٹالین سے ملاقات میں میں نے اعلان نہیں کر دیا کہ میں مخلص کیمونسٹ ہوں .. ‘‘
وہ پھر لڑکی کی جانب متوجہ ہو کر کہنے لگا:
’’جاؤ جہنم میں‘‘
’’کیا محل سے چلی جاؤں؟؟‘‘
’’کیا تمہیں جہنم کا نہیں پتا .. ‘‘
’’جہنم .. جہنم .. مجھے اس کا صحیح طرح پتا نہیں .. لیکن میں پوچھ تو سکتی ہوں ناں .. ‘‘
اس نے ساخرانہ قہقہہ لگایا اور چلایا:
’’نکل جاؤ احمق لڑکی .. ‘‘
اور نکلنے سے پہلے، وہ دوبارہ قریب آکر کہنے لگی:
’’مجھے یاد آیا آقا .. جہنم تو یہاں ہے .. جب آخرت میں شریر اور کافر اور اﷲ کے دشمن یہاں پناہ تلاش کر رہے ہونگے‘‘
وہ نشست پر ڈھیلا ہو کر گر پڑا اور آنکھیں موند کر بولا:
’’یہاں سے چلی جاؤ‘‘
’’لیکن میں ابھی مری نہیں .. ‘‘
وہ گہری نیند میں ڈوب گیا، اس کے خراٹے اس کی دو راتوں سے مسلسل بیداری کی گواہی دے رہے تھے، وہ وہیں کھڑی رہی۔ وہ اچانک شور سے بیدار ہوا آنکھ کھولی تو وہ وہیں جامد کھڑی تھی:
’’تم کس علاقے سے آئی تھی‘‘
’’شمال بعید سے .. سیبیریا کے قریب سے .. آقا آپ بھول گئے ہیں، میں نے ایک دورے میں آپ کو جام پیش کیا تھا .. اور پھل وغیرہ .. میں آپ کو پسند آگئی تھی .. اور باقی قصہ تو آپ کو معلوم ہی ہے .. جب آپ یہاں سے کوچ کریں گے، تو میں واپس شمال کی جانب لوٹ جاؤں گی اور اپنے ماں باپ کو تلاش کروں گی .. ‘‘
وہ فتنہ گر حسن کی مالک نری بدھو تھی، اس نے اسے گھسیٹ کر اپنی نشست پر بٹھا لیا اور بے پرواہی سے اس کے بالوں سے کھیلنے لگا اور بالکل کھو گیا، وہ بھاری لہجے میں بولا:
’’اب حاکم کچھ کرنے کے قابل نہیں رہا … طاقت اور اقتدار کے ساتھ ہی جوانی اور محبت بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں .. مجھے سب کچھ بھول گیا ہے، تمہارا نام بھی .. بس کچھ بکھرے بکھرے خیالات ہیں جو ماضی کے نام پر یاداشت میں چپکے ہوئے ہیں، جہاں مسکراہٹوں کے ساتھ آنسو خلط ملط ہو گئے ہیں .. جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے .. اور زندگی جنگ کے سوا کچھ نہیں …. ‘‘
دروازے پر غیر معمولی دستک کے ہتھوڑے برسنے لگے، وہ اپنی نشست سے اٹھی اور باہر نکل گئی اور کچھ ماہرِ حرب فوجی اندر داخل ہو گئے:
’’صاحب بچاؤ کی صورت نہیں بنی .. ترکستانی مسلمانوں نے اورومجی کا محاصرہ کر لیا ہے.. شہر سے باہر خونی معرکہ جاری ہے .. ہم کوئی پیش قدمی نہیں کر سکے .. ‘‘
’’لشکر کی نفری میں اضافہ کر دو .. ‘‘
’’آپ نے فرار کی تجویز پر غور نہیں کیا .. ‘‘
’’فرار حماقت ہے، جب ہم اس پر سوچیں گے اور بھاگ نکلیں گے تو معلوم ہے کہ اسکا نتیجہ کیا ہو گا؟؟‘‘
’’کیا؟؟‘‘
’’ہر جانب سے مسلمان ہم پر ٹوٹ پڑیں گے .. اور ہر طرف سے ہم ان کی زد میں آجائیں گے .. اورپھر ہم اس معرکے میں شکستِ فاش کا شکار ہو جائیں گے .. ہم سب مارے جائیں گے .. رہا اورومجی، تو وہ ایک قلعہ ہے اور آپ طویل عرصے تک یہاں اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں .. اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہاں بیٹھ کر موت کا انتظار کیا جائے .. یا کوئی بیرونی مدد آ جائے .. جاؤ اور قیادت تک فرامین پہنچا دو .. ‘‘
سپاہی نے تھوک نگلا اور بولا:
’’عثمان باتور کے ایلچی نے سرنڈر کی صورت میں بحفاظت باہر نکلنے کی یقین دہانی کرائی ہے.. ‘‘
شین سی تسائی تلخی سے ہنس دیا:
’’میں دشمن کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرتا‘‘
’’کیوں؟؟ صاحب وہ جھوٹ نہیں بولتے‘‘
شین نے زور دار قہقہہ لگایا:
’’ہم انہیں ہزاروں مرتبہ دھوکہ دے چکے ہیں‘‘
’’لیکن وہ ….. ‘‘
اس نے فیصلہ سنا دیا:
’’چلے جاؤ … آخری گولی تک جنگ .. نہ فرار اور نہ سرنڈر .. ‘‘
سپاہی چلے گئے اور حاکم اسی جگہ بیٹھ گیا، طرح طرح کے وسوسوں سے اس کا دم گھٹنے لگا۔
’’جب قائد مایوسی کی دلدل میں اترنے لگے تو اسے سرنڈر کرنے کے بجائے خودکشی کرنی چاہیے اور خود کشی کا اس سے بہتر انداز کیا ہو گا کہ وہ خود معرکے میں شریک ہو جائے .. مجھے اس بارے میں سوچنا چاہیے .. میں نے اپنے بھائی ’’شون کین‘‘ کو چین بھجوا دیا ہے .. اور میرا بھائی ناکام نہیں لوٹے گا .. اب جنگ کا دائرہ چین اور جاپان کے گرد تنگ ہو رہا ہے اور جاپانی معرکوں کے اثر ات چینی عوام پر پڑ رہے ہیں، اس کے باوجود چیانگ کائی شیک اتنی آسانی سے ترکستان کو اپنے ہاتھوں سے نکلنے نہ دے گا، کیونکہ اس صورت میں روس اسے نگلنے کی کوشش کرے گا، امداد لازماً آئے گی … ‘‘
اور وہ انہیں سوچوں میں گم تھا جب وہ خاموش خادمہ دوبارہ آگئی، کچھ کھانے پینے کی اشیاء اور شراب کے پیالے تھامے ہوئے، وہ سب کچھ اس کے سامنے رکھ کر بولی:
’’آقا .. میں اب جانا چاہتی ہوں‘‘
اس نے اسے حیرت سے دیکھا اور بولا:
’’کیوں؟؟‘‘
’’یہاں مجھے ڈر لگ رہا ہے .. جنگ سر پر آ پہنچی ہے‘‘
اس نے قہقہہ لگایا:
’’کیا تم موت سے ڈر رہی ہو؟؟‘‘
’’ہاں .. ‘‘
’’تمہارے زندہ رہنے اور مر جانے کی کیا قیمت ہے؟؟‘‘
’’میں مرنا نہیں چاہتی .. ‘‘
’’کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تم میرے ساتھ ہو گی؟ .. ‘‘
’’آپ حاکم ہیں اور میں محض ایک خادمہ یا کنیز .. ‘‘
اس نے غصے سے دیکھا، وہ اس سے محبت کرتا تھا، اس کے چہرے، اس کی خاموشی اور سادگی سے، اس نے ہر طرح کی عورتوں کا تجربہ کیا تھا، بہت قابل تعلیم یافتہ اور ماہرِ فن، دسیوں کیمونسٹ دوشیزائیں جن کی اکثریت اسٹالین کے لئے جاسوسی کرتی تھی اور اس سرزمین پر اس نے چینی مہاجر عورتوں کو بھی اپنے ساتھ رکھا تھا .. ساری ہی عورتیں تھیں، لیکن یہ احمق اس کے دل میں براجمان ہو گئی تھی، کیوں؟؟ اسے خود خبر نہیں .. دل کے اپنے ہی میزان ہوتے ہیں …
اس کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا تو اس نے پھر اسے نظر بھر کر دیکھا اور پوچھنے لگا:
زندگی میں تمہاری تمنائیں کیا ہیں؟ ..
’’کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں .. جہاں سبزہ زار اور .. ‘‘
اس نے بات کاٹ دی:
’’کیا تم میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی؟؟ میں تمہیں سونے میں لاد دوں گا، تمہیں اعلی خوراک اور عمدہ پوشاک دوں گا اور تمہارا بن جاؤں گا .. ‘‘
وہ رونے لگی، اس کی ہچکیاں بندھ گئیں، وہ پوری طاقت سے گرجا:
’’او سرکش میں کوڑے مار مار کر تمہاری کھال ادھیڑ دوں گا‘‘
اس نے گھبرا کر آنسو پونچھ ڈالے اور کہنے لگی:
’’میں آپ سے کچھ برا نہیں کرنا چاہتی‘‘
’’میں تمہارے خاندان کو تاریک جیل میں بھجوا دوں گا، جہاں وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں گے .. ‘‘
وہ روتے ہوئے اس کے پاؤں پڑ گئی:
’’رحم .. میں اپنے تمام قصوروں پر معافی چاہتی ہوں … ‘‘
’’دفع ہو جاؤ .. ‘‘
وہ باہر نکل آئی وہ تاریک رات میں کسی پرندے کی مانند بارش اور ٹھنڈ کی شدت میں کپکپارہی تھی .. ‘‘
***
(جاری ہے)

حصہ
mm
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں