ختمِ نبوت یا مہرِ نبوت: قادیانیوں کی نرالی تفسیر اور ریشہ دوانیاں 

ختمِ نبوت امتِ مسلمہ کے درمیان کوئی اختلافی مسئلہ نہیں ہے، گزشتہ چودہ صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ امت اس معاملے میں کبھی بھی نہ ابہام کا شکار ہوئی نہ اختلاف کا اور اس مسئلے کے پیش آنے کا ذکر خود خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ فرما چکے تھے، ان کے زمانے میں نبوت کا دعوی کرنے والے دو کذاب( اسود عنسی اور مسیلمہ) آپؐ کی حیات میں یہ جھوٹا دعوی کر چکے تھے، ایک کو آپ ؐ کی زندگی میں کیفرِ کردار تک پہنچا دیا گیا تھا، دوسرا خود آپ ؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس ناپاک مطالبے کی جسارت کر چکا تھا کہ ’’اسے کارِ نبوت میں آپ ﷺ کا شریک کار مقرر کیا گیا ہے‘‘ اور آپ ﷺ نے بصراحت فرمایا تھا کہ’’ اگر قاصد کو قتل کرنا منع نہ ہوتا تو میں اس کا سر قلم کروا دیتا‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں مسلح طاقت کے ذریعے مسیلمہ کذاب کا سر قلم کیا گیا اور مسلمانوں کی کثیر تعداد کی شہادت اور مسیلمہ کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد اس فتنے پر قابو پایا گیا۔ دورِ اوّل سے لیکر آج تک اس معاملے میں امت میں دو آراء نہیں پائی جاتیں کہ ’’سیدنا محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونے والا نہیں ہے‘‘۔ اسی لئے مسلمانوں نے ہر دور میں آنے والے ہر کذاب نبوت کی تکذیب کی اور اس کے خلاف جنگ کی۔ امت مسلمہ نے پوری تاریخ اسلامی میں کسی ایسے شخص کو برداشت نہیں کیا جس نے نبوت کا دعوی کیا ہو۔


قادیانی حضرات اس دعوے کو ختمِ نبوت کے مفہوم کو غلط ثابت کرتے ہوئے لیکر اٹھے ہیں اور ’’خاتم النبیین‘‘ کی تشریح ’’سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے بمعنی تکمیل کرنے والے‘‘ کی جگہ ’’نبیوں کی مہر‘‘ سے کی ہے، کہ اب جو بھی نبی آئے گا (معاذ اللہ) اس کی نبوت آپؐ کی مہرِ تصدیق لگ کر مصدقہ ہو گی، یہ نرالی تفسیر اس سے پہلے کسی صحابی، مفسر ، مجتہد اور عالم نے نہیں کی۔
خود مرزا غلام احمد قادیانی دعوائے نبوت سے پہلے اس آیت کی کچھ یوں تفسیر کرتا تھا:
’’آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا، اور قرآن شریف کا لفظ لفظ قطعی ہے، اپنی آیت ’’ولکن رّسول اللہ وخاتم النبیین‘‘ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے‘‘۔ (کتاب البریۃ، ص۱۸۴، حاشیہ مصنفہ غلام احمد قادیانی)
یہی نہیں، مرزا غلام احمد بذاتِ خود اس شخص کو بدبخت مفتری کہتا ہے جو رسالت و نبوت کا دعوی کرتا ہے، اس کے مطابق:
’’کیا ایسا شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ’’ولکن رّسول اللہ وخاتم النبیین‘‘ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے ، وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں‘‘۔ (انجام آتھم، ص۲۷، حاشیہ مصنفہ مرزا صاحب)
مرزا غلام احمد نے اپنی مستقبل کی حیثت کا خود ہی تعین نہیں کر دیا؟، وہ کہتا ہے:
’’مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوّت کا دعوی کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں، اور کافروں کی جماعت سے جا ملوں‘‘۔ (حمامۃ البشری، ص۹۶، مصنفہ مرزا صاحب)
مزید وضاحت سے کہا:
’’ہم بھی مدّعیء نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لا الہ الا اللہ محمد رّسول اللہ کے قائل ہیں، اور آنحضرت محمد ﷺ کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔ (تبلیغِ رسالت، جلد ششم، ص۲، مصنفہ مرزا صاحب)ان عبارات کا جائزہ لیا جائے تو مرزا غلام احمد قادیانی نے دعوائے نبوت سے پہلے اپنے فتوے کے مطابق ایسے شخص کو بدبخت، کاذب، کافر، لعنتی اور خارج از اسلام قرار دیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا اعلان کرے۔
یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ ختمِ نبوت کے معاملے پر سوادِ اعظم اور ہر دور کے علماء و مجتہدین کے فہم کی تائید میں اتنے واضح بیانات کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعوی کر دیا اور اپنی ہی تحریروں کی نفی کر دی، اس نے نئی نبوت کا دروازہ کھول دیا اور نیا موقف پیش کیا، جس کے مطابق مرزا غلام احمد اور اس کے حواری قادیانی حضرات ’’خاتم النبیین‘‘ کے لفظی قائلین ہیں مگر معنوی نہیں، انہوں نے نبوت کا دروازہ صرف ’’غلام احمد قادیانی ‘‘ کے لئے نہیں کھولا، بلکہ ہر اس نبوت کے لئے کھول دیا ہے جو (معاذ اللہ) محمد ﷺ کی مہر کے ساتھ آئے، اب وہ جس نبی کی تصدیق کریں گے وہ نبی ہو گا، قادیانی لٹریچر میں بکثرت یہ موضوع موجود ہے، مثلاً: (نقلِ کفر ، کفر نہ باشد)
مرزا غلام احمد قادیانی جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے کہتا ہے: ’’آپؐ کی مہر کے بغیر کسی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے۔‘‘ (ملفوظاتِ احمدیہ: مرتبہ محمد منظور الہی صاحب قادیانی، حصّہ پنجم، ص۲۹۰)
مرزا غلام احمد نے ختمِ نبوت کے معنی سے مکمل رو گردانی اختیار کر لی اور اس معنی کو رسولِ کریم ﷺ کی شانِ اعلی و ارفع کے سراسر خلاف قراردے دیا،کہاں تو مدعیء نبوت پر لعنت بھیج اور اسے کافر قرار دے رہا تھا اور کہاں موقف میں ایک سو اسی زاویے کی تبدیلی کر لی، اور قادیانی لٹریچر اس کی گواہی دیتا ہے:
’’آپ نبیوں کی مہر ہیں، اب وہی نبی ہو گا جس کی آپؐ تصدیق کریں گے ۔۔۔ انہی معنوں میں ہم رسولِ کریم ﷺ کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں‘‘۔ (الفضل، قادیان، مورخہ ۲۲ ستمبر ۱۹۳۹ء)
یوں تفسیر کا اختلاف ایک لفظ کی تاویل تک محدود نہیں رہا بلکہ قادیانیوں نے صاف صاف اعلان کر دیا کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد ایک نہیں ہزاروں نبی آ سکتے ہیں:
’’یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے‘‘۔ (حقیقۃ النبوت، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد، ص۲۲۸)
نبوت کے دروازے کو کھلا تسلیم نہ کرنے والوں کے بارے میں قادیانی کہتے ہیں:
’’انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ۔ ان کا یہ سمجھنا خدا کی قدر ہی کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے، ورنہ ایک نبی تو کیا میں تو کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے‘‘۔ (انوارِ خلافت، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد، ص۶۲)
کیا یہ اچنبھے کی بات نہیں کہ غلام احمد قادیانی نے نبوت کے بند دروازے کو خود ہی کھولا اور اپنے نبی ہونے کا (جھوٹا) اعلان کر ڈالا اور اس کے پیرو کاروں نے اسے نبی تسلیم کر لیا، وہ مسیح موعود بننے کا مدعی بن گیا کہنے لگا:
’’ہمارا دعوی ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں‘‘۔ (بدر، ۵ مارچ ۱۹۰۸ء)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی وفات سے تین روز قبل یعنی ۲۳ مئی ۱۹۰۸ء کو مسیح موعود کے دعوے کے ساتھ ایڈیٹر اخبارِ عام کو لکھتا ہے:
’’میں خدا کے حکم کے مطابق نبی ہوں، اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا۔ میں اس پر قائم ہوں، اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں‘‘۔(کلمۃ الفضل، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمدقادیانی، مندرجہ ریویو آف رلیجنز نمبر۳، جلد۱۴، ص۱۱۰)
اسکا خلیفہ مرزا بشیر الدین اس کی تائید کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’پس شریعتِ اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے، اس کے معنی سے حضرت صاحب (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں‘‘۔ (حقیقۃ النبوۃ، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، ص۱۷۴)
نبوت کے دعوے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص اس پر ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیا جائے، چناچہ یہی قادیانیوں نے کیا۔ وہ ان تمام مسلمانوں کو اپنی تحریر و تقریر میں اعلانیہ کافر قرار دیتے ہیں جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے۔ (دیکھئے قادیانی مسئلہ، مولانا سید ابو الاعلی مودودی، ص۲۲)
وہ صرف یہ نہیں کہتے کہ مسلمانوں سے ان کا اختلاف محض مرزا صاحب کی نبوت کے معاملے میں ہے، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا، ہمارا اسلام، ہمارا قرآن، ہماری نماز، ہمارا روزہ ، غرض ہماری ہر چیز مسلمانوں سے الگ ہے۔مرزا غلام احمد کی رائے کو ان کا خلیفہ ان الفاظ میں نقل کرتا ہے:
’’یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفاتِ مسیح یا چند اور مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایااللہ تعالی کی ذات، رسول کریم ﷺ ، قرآن، نماز، روزہ، حج اور زکوۃ غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے‘‘۔
ان اختلافات کی بنا پر قادیانیوں نے مسلمانوں سے تمام تعلقات منقطع کر لئے اور ایک الگ امت کی حیثیت سے اپنی تنظیم کر لی۔ اس کی شہادت خود ان کی تحریروں میں ملتی ہے:
’’حضرت مسیح موعود نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ پوچھو گے میں اتنی دفعہ یہی جواب دوں گا کہ غیر احمد ی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں‘‘۔ (انوار خلافت، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمدصاحب خلیفہ قادیان، ص۸۹)
’’ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالی کے ایک نبی کے منکر ہیں‘‘۔ (انوار خلافت، ص۹۰)
(یہی سبب ہے کہ پاکستان کے قادیانی وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ نے قائدِ اعظم کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی۔)
اسی لحاظ سے غیر احمدی بچے کا جنازہ پڑھنا بھی ممنوع ہے، اگرچہ وہ مسیح موعود کا منکر تو نہیں لیکن جس طرح عیسائیوں اور ہندؤوں کے بچوں کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا اسی طرح غیر احمدی بچے کا بھی نہ پڑھا جائے۔ احمدیوں کو منع کیا گیا کہ وہ اپنی لڑکیاں غیر احمدیوں میں نہ بیاہیں، اگر رشتہ نہ ملے تو بٹھائے رکھیں۔البتہ غیر احمدیوں کی لڑکیوں سے شادی اسی اصول پر جائز قرار دی ہے جس پر اہلِ کتاب عورت سے نکاح جائز کیا گیا ہے۔
اسی بنا پر یہ انتہائی ضروری اقدام تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اور کافر قرار دیا جائے۔یہ بات بھی عجیب ہے کہ قادیانی حضرات جو کل تک خود کو مسلمانوں کے سوادِ اعظم سے الگ قرار دے کر مرزا غلام احمد کو نبی (مسیح موعود) نہ ماننے والوں کو کافر قرار دے رہے تھے، خود اس امت سے الگ قرار دیے جانے پر تلملانے لگے،اور آئینِ پاکستان سے بغاوت کر ڈالی، حالانکہ انہوں نے دین کی بنیاد میں رخنہ اندازی کی، قرآن کے واضح حکم کو محض جہالت، ضد اور ہٹ دھرمی سے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ مرزا غلام احمد کے اپنے سابق نظریات کے مطابق نئی نبوت کا اعلان کفر میں داخل کر دیتا ہے، لیکن جب وہ خود اسی دلیل کی زد میں آیا تو جھوٹ اور دروغ گوئی سے اور نت نئی تاویلوں سے اپنا دفاع کرنے لگا۔
قادیانی اسلام سے چمٹے رہنے پر مصر رہے اور کہنے لگے کہ مسلمانوں کے کئی دوسرے فرقے بھی ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں، پھر انہیں کو امتِ مسلمہ سے الگ قرار دینے پر اتنا اصرار کیوں؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ ان میں سے کسی نے دین کی کلیات میں سے کسی کو ترک نہیں کیا ہے، بلکہ وہاں پر دو گروہوں میں جزو پر اختلاف ہے۔ جب قرآن کے واضح حکم اور بیّن احادیث کا ابطال کیا جائے تو معاملہ الگ ہو جاتا ہے۔اگر کوئی شخص خدائی کا دعوی کر بیٹھے یا نبوت کا مدعی ہو یا اسلام کے بنیادی عقائد سے صریحاً منحرف ہو جائے تو اسے دین سے انحراف قرار دیا جائے گا اور اس کی تکفیر بھی کی جائے گی۔
مسلمانوں کے درمیان فرقوں کی باہمی نفرت اور دوری کسی بھی طرح قابلِ ستائش نہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جن فرقوں کی باہمی چپقلش کو بنیاد بنا کر قادیانی اسلام کا جواز حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان کا حال یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کو خارج از اسلام نہیں سمجھتا، یاد رہے کہ پاکستان کے دستور میں قرار دادِ مقاصد کا ابتدائیہ انہیں فرقوں کے علماء کی اجتماعی کوشش ہے جو تمام اختلاف کو بالا رکھ کر پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کی گئی۔
قادیانی ایک نئی نبوت کے پیروکار ہیں، اور اس کے ماننے والے ایک مذہب پر جمع ہیں، اور قرآن و سنت کی واضح ہدایات کے مطابق تمام مسلمان ان کی تکفیر پر متفق ہیں۔
دین میں ان کی حیثیت منکر اور کافر سے بڑھ کر ایک غدار کی ہے، جو بڑی خاموشی سے ریاستِ پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں، یہ اپنا تعارف مسلمان کی حیثیت سے کرواتے ہیں اور اداروں میں گھسنے کی کوشش کرتے، ہیں، تعلیم اور صحت کے میدان ان کی خاص ترجیح ہیں جہاں وہ نئی نسل کے ذہن کی تخریب کرتے ہیں، اپنے دوستوں کا حلقہ وسیع کرتے اور ان کے ذریعے اپنے حق میں لابنگ کرواتے ہیں، ایمان کو برباد کر دینے والے عقائد کو محض معمولی اختلافی مسئلے کا رنگ دیتے ہیں، دینِ اسلام اور قرآن سے ایسی محبت اور تعلق کا اظہار کرتے ہیں کہ عام شخص ان سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔
ماضی قریب میں قادیانیوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہی تھا کہ نا اہل وزیرِ اعظم نے انہیں اپنا بھائی قرار دیا، انوشے رحمن اور شفقت محمود جیسے افراد قانون سازی کے عمل میں سازشی شریک بنے اورقریب تھا کہ ختمِ نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی وقوع پزیر ہو جاتی مگر پانی سر سے گزرنے سے قبل یہ سازش افشا ہو گئی اور پاکستانی قوم جاگ اٹھی۔
حال ہی میں میاں عاطف کی اقتصادی مشیر کے طور پر نامزدگی پر جہاں پاکستانی قوم نے متحد ہو کر ایک موقف اختیار کیا ہے اور اس حکم نامے کو معطل کروایا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے، لیکن اس تناظر میں قادیانیوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے کئی صحافی، سیاسی رہنما اور حکومتی نمائیندوں کے چہرے سے نقاب اترا ہے اور کئی اور معاملات بھی سامنے آئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ تبدیلی اور نئے پاکستان کی آڑ میں قادیانی حقوق کے نام پر کچھ نیا لینے کے لئے سرگرم ہو چکے ہیں اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر لابنگ اور ذہن سازی بڑی تیزی سے کی جا رہی ہے، ایسے میں پاکستانی قوم کو بیدار رہنا چاہئے اورصاحبانِ اقتدار اور اپوزیشن دونوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ دینی معاملات، خاص طور پر جو کفر اور ایمان میں فارق ہوں، ان پر سیاسی مصلحت کا غلبہ آپ کی آخرت تو تاریک کرے گا ہی، دنیا کا بھی نقصان کرے گا۔
***
(اس مضمون کی تیاری میں قادیانی مسئلہ اور اس کے مذہبی سیاسی اور معاشرتی پہلو، سید ابو الاعلی سے مدد لی گئی ہے۔)

حصہ
mm
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں