راکھین میں انٹرنیٹ بند‘ روہنگیاؤں کے قتل عام کا خدشہ

104

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں حکومت کی ہدایت پر 10لاکھ سے زائد شہریوں کو انٹرنیٹ کی سہولت معطل کر دی گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق سابق نوبیل امن انعام یافتہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی کی حکمراں پارٹی کی ہدایت پر اقدام کیا گیاہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے انٹر نیٹ سروس کی معطلی پر خدشات کا اظہار کیا۔ میانمر کے لیے عالمی ادارے کی خاتون عہدے دار یانگ ہی لی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ نیپیداؤ حکومت انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف دوبارہ پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ شروع کرنا چاہتی ہے۔ حکومتی اقدام کے نتیجے میں وہاں کی خبریں بالکل بھی باہر نہیں آسکتیں، جس سے شہریوں کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں میانمر کی فوج ایک سال سے اراکان لبریشن آرمی کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔ فوج نے راکھین سے مزاحمت کاروں کے مکمل خاتمے کی مہم شروع کررکھی ہے، جس کی زد میں آکر زیادہ تر معصوم شہری ہی پستے ہیں۔ ادھر ناروے کی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی ٹیلی نار کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے 20جون کو احکامات جاری کیے گئے کہ راکھین اور چن صوبے کے 9اضلاع میں مکمل طور پر موبائل نیٹ ورک بند کردیے جائیں۔ کمپنی کے مطابق حکام کی جانب سے کہا گیا کہ مذکورہ علاقوں میں دہشت گردی اور غیر قانونی کارروائیوں کے تناظر میں اقدامات کیے گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ میانمر کے جن ٹیلی کمیونی کیشن قوانین کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے ان میں پابندی ختم کیے جانے کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ 2017ء میں میانمر کی فوج اور مقامی بدھ بھکشوؤں نے مذہبی اور نسلی منافرت کے تناظر میں راکھین میں بسنے والے مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا،جس کے نتیجے میں 8ہزار روہنگیا شہری شہید، ہزاروں زخمی اور 8لاکھ سے زائد روہنگیا افراد بنگلادیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس ظلم پر عالمی برادری نے سخت احتجاج کیا، تاہم میانمر حکومت کسی احتجاج کو خاطر میں نہیں لائی۔ انسانی حقوق تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق میانمار کی فوج حال ہی میں راکھین صوبے میں روہنگیا لوگوں کے خلاف ہوئے نئے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی رواں سال اپنی ایک رپورٹ میں واضح کیا کہ میانمر کی فوج نے ایک سال تک مسلسل حملوں میں روہنگیا مسلمانوں کو قتل اور زخمی کیا۔