پاکستان ، اٹلی کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتری کی ضرورت ہے، ٹریڈ کمشنر

50

 

کراچی( اسٹاف رپورٹر)اطالوی ٹریڈ ایجنسی (آئی ٹی اے ) کے ٹریڈ کمشنر گیانپاؤلو برونو نے کہا ہے کہ پاکستان کی 200ملین کی بڑی آبادی واضح طور پر بہت زیادہ تجارتی صلاحیت کی نشاندہی کررہی جہاں مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا پاکستان اور اٹلی کی تاجربرادری کو تجارت کے اعدادوشمار میں اضافے کے لیے درست مواقع پیدا کرنے پر کام کرنا چاہیے۔ یہ بات انہوںنے کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر اجلا س میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا، ڈپٹی کمشنر آئی ٹی اے اے آرداؤدپوتہ اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی اجلاس میں شریک تھے۔آئی ٹی اے کے ٹریڈ کمشنر نے زور دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے تجارت و سرمایہ کاری میں تعاون کے مختلف شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک مختلف شعبوں کیپٹل گڈز،کنزیومر گڈز، مشینری، میڈیکل و فارماسیوٹیکل سیکٹر اور ایف ایم سی جی کے شعبوں میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں جن میں دونوں ملکوں کی تاجربرادری ایک دوسرے کے ساتھ شراکت کرسکتے ہیں اور ہمارے لوگوں کے لیے اقدار پیدا کرسکتے ہیں۔انہوںنے فوڈ ویلیو چین کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان اپنی فوڈ ویلیو چین کو اپ گریڈ کرے اور پاکستانی کھانوں کے معیار کو بہتر بنائے تاکہ یورپین مارکیٹ میں اس کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوسکے جہاں معیار کے لحاظ سے بہت زیادہ سخت قواعد و ضوابط پر عمل کیا جاتا ہے۔انہوں نے سی پیک پر رائے دیتے ہوئے کہاکہ اگر پاکستان توانائی کے شعبے میں ویژن2030کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے توپاکستان کو اقتصادی ترقی کے معیار کو بہتر بنانا ہوگا۔اٹلی روایتی اور متبادل توانائی کے منصوبوں میں تعاون کرسکتا ہے جس سے نہ صرف تیل و گیس سے توانائی کی پیدواری صلاحیت بہتر بنائی جاسکتی ہے بلکہ غیر روایتی وسائل مثلاً شمسی، ہوا اور ہائیڈروپاور کے ذریعے بھی توانائی کی پیداوار کی جاسکتی ہے جیسا کہ اٹلی ان شعبوں میں بہترین تجربہ اور معلومات رکھتا ہے پاکستان اٹلی کے تجربات سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سندھ طاس کے تحت پانی کے نظام پر انحصار کرتا ہے جو بعض اوقات ملک کے اہم ذرعی شعبے کے لیے ناکافی ہوتا ہے جس کے لیے سرمایہ کاری اور خودکارمشینری سازی کی ضروت ہے ۔انہوں نے پاکستان کے زرعی شعبوں کو جدید مشنیری سے آراستہ کرنے کے لیے اطالوی کمپنیوں کی خدمات فراہم کرنے میں تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہاکہ اس شعبے کو فروغ دینے کی بہت ضرورت ہے۔