بجٹ میں ہے کیا…؟؟

115

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز پیش کردی ہیں ۔ بجٹ تقریر میں تو تمام تجاویز کا تفصیل کے ساتھ ذکر نہیں ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہی بجٹ پٹاری کھلے گی اور پتا چل سکے گا کہ اس میں کیا کچھ ہے ۔ تاہم یہ بات تو طے ہے کہ اگر یہ سب خفیہ امور خوش آئند ہوتے تو وزیر مملکت حماد اظہر اسے پارلیمنٹ میں ہی فخریہ انداز میں باآواز بلند بیان کردیتے ۔ بجٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حکومت سال کے شروع میں ہی بتادیتی ہے کہ وہ کن امورپر کتنے اخراجات کرے گی اور ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کہاں کہاں سے آمدنی حاصل کرے گی ۔ سرکار کے ان اعلانات کی روشنی میں صنعتکار و سرمایہ کار اپنے سال بھر کی منصوبہ بندی کرلیتے ہیں ۔ مگر اب بجٹ کا اعلان ایک رسم ہی بن گیاہے کہ سال بھر مختلف ڈیوٹیوں ، ٹیکسوں اور بجلی ، گیس ، پٹرول کے نرخوں میں ردو بدل ہوتا رہتا ہے ۔ ابھی نیا مالی سال شروع نہیں ہوگا کہ منی بجٹ آنے شروع ہوجائیں گے ۔اسی طرح جن منصوبوں کو جاری رکھنے یا پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان ہوتا ہے ، ان میں سے اکثر پر عمل ہی نہیں کیا جاتا اور ان مدات میں رکھی رقوم کہیں پر خرچ کرلی جاتی ہیں ۔ اس پر نہ تو حکومت شرمسار ہوتی ہے اور نہ ہی حزب اختلاف حکومت سے اس بارے میں کوئی سوال کرتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں بجٹ پر رسمی اجلاس ہوتا ہے جس میں سرکاری بنچوں کا کام ہر صورت میں بجٹ کا خیرمقدم کرنا ہوتا ہے اور حزب اختلاف کا کام محض شور شرابا ہوتا ہے ۔ کسی جانب سے بھی کوئی ٹھوس تجویز پیش کی جاتی ہے اور نہ ہی حقیقی پوسٹ مارٹم ۔ حکومت کی گزشتہ ایک برس کی کارکردگی سرکاری اعداد و شمار کی نظرمیں ہی یہ رہی ہے کہ برآمدات میں 9.1 فیصد اور زرعی شعبے میں 4.4 فیصد کمی ہوئی ہے ۔ ملک میں صنعت و زراعت کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے مگر ان دونوں اہم شعبوں کو سنبھالا دینے کے لیے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس تجویز موجود نہیں ہے ۔ بجٹ تقریرمیں وزیر مملکت برائے مالیات حماداظہر نے کہا ہے کہ برآمدات کے فروغ کے لیے صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کریں گے ۔ مگر یہ کس طرح ممکن ہوگا ، انہوں نے نہیں بتایا ۔ زمینی حقائق یہ ہیںکہ ہر کچھ دنوں کے بعد بجلی ، گیس کے نرخوں میں من مانا اضافہ کردیا جاتا ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ماہانہ بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ اس پر طرفہ تماشا ڈالر کے مقابلے میں روپے کی روز بے قدری ہے جس کی بناء پر کوئی بھی صنعت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں رہ سکتی ۔ ان ہی عوامل کی بناء پر کھاد اور زرعی ادویات و مشینری کی قیمتوں میں روز اضافہ ہوجاتا ہے جس کی بناء پر زرعی شعبہ بھی بری طرح گراوٹ کا شکار ہے ۔ سرکار کی کارکردگی کا اندازہ ہی اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 70.36 کھرب کے بجٹ میں 35.6 ارب روپے کا خسارہ ہے ۔ یعنی نصف سے زاید بجٹ کو یا تو قرض لے کر پورا کیا جائے گا یا پھر اتنی ہی مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر عمل کا کوئی ارادہ ہی نہیں ہے ۔ بقیہ نصف بجٹ میں سے قرضے بھی ادا کرنے ہوں گے اور خسارا پورا کرنے کے لیے بھی آمدنی کے جو ذرائع بتائے گئے ہیں وہ بھی غیر حقیقی ہیں ۔ مثال کے طور پر ایف بی آر کو 5550 ارب روپے عوام سے بطور محاصل جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے جو انتہائی غیر حقیقی ہے ۔ اگر اس میں 2000 ارب روپے کی بھی کمی ہوتی ہے تو اتناہی بجٹ خسارہ مزید بڑھ جائے گا ۔سرکاری معاشی پالیسی کے نتیجے میں گزشتہ ایک برس میں مہنگائی میں سو فیصد سے زاید اضافہ ہوچکا ہے مگر سرکار نے تنخواہ میں اضافے کا رسمی اعلان ہی کیا ۔ گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 10 فیصد، گریڈ 17 تا 19 کی بنیادی تنخواہ میں 5 فیصد اور اس سے اوپر کے گریڈ میں یہ بھی نہیں ۔البتہ وزراء کے پرائیویٹ سیکریٹریز الگ مخلوق ہیں اس لیے ان کی خصوصی تنخواہوں میں اضافہ 25 فیصد کیا گیا ہے ۔ مہنگائی میں اضافہ سب کے لیے یکساں ہے اس لیے اضافہ بھی سب کے لیے یکساں ہی ہونا چاہیے جب کہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا ہے جو مجموعی تنخواہ کا 40 فیصد بھی نہیں ہوتی ۔ اس طرح یہ اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس کے جواب میں سرکار نے ہر بنیادی چیز پر یا تو نیا ٹیکس عاید کردیا ہے یا پھر موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کردیا ہے ۔ اصولی طور پر زندہ رہنے کے لیے درکار بنیادی اشیاء کسی بھی قسم کے ٹیکس سے مبرا ہونی چاہییں کیوں کہ ان کی ہر شخص کو فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے برعکس حکومت نے اشیائے خور و نوش پر ٹیکس بڑھا دیا ہے ، ادویہ پر ٹیکس برقرار ہے اور اس کے خام مال پر علامتی طور پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے ۔ اب سرکار بتائے کہ جب ہر شے کی قیمت بڑھ رہی ہو تو ایک آدمی کس طرح سے اپنے اخرجات پورے کرسکے گا ۔ سرکار نے کم از کم تنخواہ کی حد 17 ہزار 500 روپے مقرر کی ہے ۔ عمران خان ، حفیظ شیخ ، حماد اظہر یا کوئی اور ماہر اس رقم میں دو بچوں اور میاں بیوی پر مشتمل خاندان کا ماہانہ بجٹ تو بنا کر دکھائیں ۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس اضافے سے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی ۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بجٹ کا نصف سے زاید حصہ بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے مختص ہے اور یہ ادائیگیاں ڈالر کی صورت میں کی جاتی ہیں ۔ چونکہ عمران خان اور ان کی ٹیم نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی 50 فیصد سے زاید بے قدری کی ہے اس لیے جتنے ڈالروں کی گزشتہ برس ادائیگی کی گئی تھی ، اتنے ہی ڈالروں کے لیے مزید 50 فیصد زاید پاکستانی کرنسی درکار ہوگی ۔ بار بار اس امر کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ ملک میں معاشی تباہی کی اصل وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری ہے مگر اس پر نہ تو سرکاری بنچوں کی طرف سے کوئی جواب دیا جاتا ہے اور نہ ہی حزب اختلاف اس بارے میں کوئی سنجیدہ سوال کرتی ہے ۔ حزب اقتدار اپنی ڈفلی بجاتی رہتی ہے کہ خراب حالات ورثے میں ملے ہیں تو حزب اختلاف کی اپنی قوالی ہے کہ اس کے رہنماؤں کو آزاد چھوڑ دیا جائے اور ان سے گزشتہ کرپشن پر کوئی سوال جواب نہ کیا جائے ۔ یہ ملک کی تاریخ کا پہلا بجٹ ہے کہ ہر طبقے نے اسے مسترد کردیا ہے ۔ تاجر برادری جو عمومی طور پر سرکار پر تنقید سے گریز کرتی ہے ، نے پہلی مرتبہ کھل کر بجٹ پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ نیا بجٹ کہیں سے بھی کاروبار دوست بجٹ نہیں ہے کیوں کہ ٹیکس ادا کرنے والوں پر ہی مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔ تاجر نمائندوں نے درست توجہ دلائی ہے کہ دنیا بھر میں ایکسائیز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے مگر نئے بجٹ میں اس میں مزید بھاری اضافہ کردیا گیا ہے ۔ گزشتہ حکومت نے کرپشن سے بچنے کے لیے برآمدی صنعت کے لیے زیرو ریٹ کی پالیسی بنائی تھی یعنی نہ ٹیکس لیں گے اور نہ ہی برآمدات پر ریفنڈ دیں گے ۔ اب حکومت نے اس پالیسی کو ختم کردیا ہے ۔ تاجر برادری نے درست ہی سوال کیا ہے کہ حکومت کے پاس صنعت کاروں اور تاجروں کے 400 ارب روپے ریفنڈ کی مد میں پہلے ہی پھنسے ہوئے ہیں اب مزید 400 ارب روپے نئی پالیسی کے سبب پھنس گئے تو حکومت واپس کیسے کرے گی اور یہ رقم واپس نہ ملی تو تاجر و صنعت کار مزید کاروبار کیسے کرسکیں گے ۔ تاجر برادری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صرف اس ایک پالیسی کے نتیجے میں برآمدات میںہر برس 30 فیصد تک کمی ہوگی اور سرمایہ باہر منتقل ہوگا ۔ اب عمران خان بتائیں کہ جب برآمدات ہی کم ہورہی ہوں گی تو وہ کس طرح سے بجٹ خسارہ پورا کریں گے اور کس طرح سے ملک چلائیں گے ۔درست بات تو یہی ہے کہ ملک عمران خان نہیں بلکہ آئی ایم ایف چلارہی ہے اور اس کی یہی منشاء ہے کہ پاکستان ایک ناکام ملک ثابت ہوجائے ۔ اس پر حزب اقتدار کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کو بھی ایک مدبرانہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔