ماہ صیام اور فلاحی ریاست مدینہ کے دعویدار

135

راشد منان
آپ ؐ نے استقبال رمضان کے سلسلے میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جس نے اللہ کی رضا کی خاطر کسی روزے دار کو افطار کرایا گویا اس نے اپنے آپ کو نار جہنم سے آزاد کرایا اور دونوں کو اللہ اس کا بہتر اجر عطا کرتا ہے اور کسی کے اجر میں کمی نہیں کی جاتی۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا جس نے اس ماہ میں اپنے مملوک غلام اور ملازم سے نرمی برتی اللہ اس کی بخشش بھی فرماے گا اور نار جہنم سے گلو خلاصی بھی عطا کرے گا۔ مگر اتنی اچھی تعلیمات پر مشتمل اس ماہ میں ہمارے سارے کام ان تعلیمات کے برعکس ہوتے ہیں ماہ صیام سے بہت قبل ذخیرہ اندوزی کا سلسلہ شروع کرکے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کر دیا جاتا ہے اپنے مملوک، غلام اور ملازموں کو رعایت دینے کے بجائے ان پر مزید بوجھ لاد دیا جاتا ہے اور روزے کی آڑ میں مکر، فریب ناقص اور غیر میعاری اشیاء کو مہنگے داموں فروخت کر کے جہنم سے دوری کے بجائے ہم اس ماہ اپنے آپ کو اس کے مزید قریب کر لیتے ہیں اور مواخاۃ کے اس مہینے میں ہمدردی اور غم گساری تو دور کی بات ہم لوگوں سے جینے کا حق بھی چھین لیتے ہیں جبکہ مہذب اقوام میں ان موقعوں پر لوگوں سے ہمدردی کا بھر پور مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر چند مخصوص لوگوں کو نوازنے اور اپنی اشیاء کی تشہیر کے لیے لاکھوں اور کروڑوں خرچ کر دیے جاتے ہیں جبکہ غریب سوکھی روٹی کو پانی میں ڈبوکر شکم سیر ہوتا ہے، لہٰذا ضروری امر ہے کہ مدینہ کی اس نئی ریاست میں اس سال کچھ ایسے ضروری اقدامات کیے جائیں جن سے ان تمام عوامل کی بیخ کنی ہو جن میں سب سے پہلے اشیاء صرف اور روزمرہ استعمال کی چیزوں پر لگے بیجا ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے اور قیمتیں عامۃ الناس کی پہنچ تک لانے کے لیے حکومت کی طرف سے ان پر سبسیڈی بھی دی جائے۔ دوم یہ کہ ضروریات زندگی کی تمام اشیاء آٹا چاول گھی تیل چینی چائے کی پتی دودھ مرچ اور مصالحوں کے اشتہارات پر مکمل پابندی عاید کر کے اشتہارات پر آنے والی لاگت کے بقدر قیمتوں میں کمی کی جائے۔
کسی بھی نئی پروڈکٹ کے اشتہار کے لیے یہ ضابطہ طے کر لیا جائے کہ عامۃ الناس میں اس نئی پروڈکٹ کی تشہیری مہم صرف ایک سہہ ماہی کے لیے ہوگی اور ہر نئی پروڈکٹ بازار میں جس قیمت پر لائی جائے گی قیمت میں ایک سال تک کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
سوم گیس بجلی ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں کو کسی ایسے قاعدے کلیے سے مربوط کیا جائے جس سے اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ کی روک تھام ہو سکے اس کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر اس کی ترسیل کے این ایل سی طرز کا کوئی ادارہ قائم کیا جائے جس کا انتظام و انصرام حکومت کے ذمے ہو اور ڈیزل اور پٹرول کی گھٹتی بڑھتی قیمتیں اس پر اثر انداز نہ ہوں حکومت ادارے کا نرخ فی کلومیٹر سال بھر کے لیے مقرر کرے ز اور اضافے کی صورت اس ادارے کو سبسیڈی دی جائے۔
کھیت کھلیان سے لے کر دکاندار تک تمام اشیا ضرورت کی قیمتیں ہر سال کے بجٹ میں مقرر کی جائیں اور اس کی مانیٹرنگ بھی مثلاً دو ہزار انیس بیس کے لیے خوردنی تیل و گھی کی قیمت اتنی مقرر کی جارہی ہے خام مال گیس بجلی ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں اگر کسی قسم کا اضافہ ہوا تو حکومت اس شعبے کو سبسڈی ادا کرے گی وغیرہ اشیاء ضرورت کی بھی تشریح کر دی جائے مثلا آٹا، چاول، دالیں، گھی، تیل، دودھ، چائے کی پتی، مرچ مصالحے، نمک، شکر، صابن اور ادویات وغیرہ مصارف ضرورت ہیں جبکہ ڈرائی فروٹ، گرم مصالحے، ڈیٹرجنٹ، ٹوتھ پیسٹ، شہد، شیمپو، مکھن، کیچیپ وغیرہ اشیاء ضرورت میں شامل نہیں جس کا دل چاہے جس قیمت پر استعمال کرے۔ نجی اسکولوں کے لیے سابق چیف جسٹس نے جو بھی اقدامات اٹھائے اس پر من وعن عملدرآمد یقینی بنانا جہاں حکومت کی ذمے داری ہے وہیں نجی اسپتال اور اسپیشلسٹ کلینک کے نام پر من مانی فیسیں وصول کرنے والے وہائٹ کالر ڈاکو یعنی ڈاکٹر و عطار کی بھی فیسیں ان کی ڈگری اور تجربے کی بنیاد پر حکومت کی طرف سے مقرر کی جائے جو کسی صورت پانچ سو یا ہزار سے زاید نہ ہو اور وہ ڈاکٹر جو کسی سرکاری اسپتال میں ملازم ہو ان کی پرائیویٹ پریکٹس اور نجی اسپتال میں آپریشین پر فی الفور پابندی لگائی جائے اور سب سے اہم بات ماہ صیام بلکہ آئندہ ہمیشہ کے لیے ملک میں لعن طعن اور الزامات کی سیاست پر پابندی لگائی جائے قاعدہ مقرر ہے جو بھی کسی پر الزام لگائے اور اسے ثابت نہ کرے اسے سزا بھی دی جائے اور آئندہ اس کی گواہی قبول نہ کی جائے وہ خائین ہے۔ آخری بات اللہ کا وعدہ ہے کہ تمام اہل ایمان بخشیں جائیں گے مگر مشرک اور کینہ پرور نہیں نئی ریاست مدینہ کے حکمران ذرا اس ماہ صیام میں ایک لمحے کے لیے اس بات پر بھی غور کریں علماء و مشائخ اس بات پر متفق ہیں کہ کینہ اور بغض میں ایک ہی فرق ہے بغض آپ سے آپ پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں انسان بلا وجہ کسی سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے جبکہ کینہ میں انسان نفرت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصان کے درپے بھی ہوتا ہے۔ مفہوم حدیث نبی مہربانؐ نے سیدنا انس کو نصیحت کی کہ اپنے دل کو بدگمانی سے پاک اور صاف رکھا کرو دل کی پاکی میری سنتوں میں ایک بڑی سنت ہے اور جو میری سنت پر عمل کرتا ہے گویا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے میں اور وہ دونوں جنت میں ایک ساتھ ہوں گے اللہ اکبر۔