پاکستان اسٹاک میں مندی ،63.66 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی

41

کراچی(اسٹاف رپورٹر)نئے وفاقی بجٹ میں سخت اقدامات کے خدشات، آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج میں روپے کی قدر مزید گھٹنے، ڈسکائونٹ ریٹ میں مزید اضافے کے خدشات اور نئے مالی سال کے بجٹ میں700سے 750ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد ہونے کی خبروں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو اپنی لپیٹ میں لیا اوررواں کاروباری ہفتے کے دوسرے روزپاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کا تسلسل جاری رہا، اور کاروبار حصص منگل کوبھی اتارچڑھائو کا شکار رہا۔ کے ایس ای100انڈیکس33900کی نفسیاتی حدسے گرگیا،63.66فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی رہی اور کاروباری حجم بھی گذشتہ روز کی نسبت 12.79 فیصدکم رہا۔مندی کے نتیجے میںسرمایہ کاروں کے مزید19ارب7کروڑروپے سے زائد ڈوب گئے۔حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہائوسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے توانائی، سیمنٹ ،بینکنگ ، فوڈزاور کیمیکل سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پر خریداری کے باعث کاروبارکا آغاز مثبت رجحان میں ہواٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس34065پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھاگیاتاہم مقامی سرمایہ کار گروپ تذبذب کا شکار نظرآئے اور اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100 انڈیکس دوران ٹریڈنگ 33692 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر دیکھاگیاتاہم غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پرخریداری کی گئی ، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ریکوری آئی اورکے ایس ای100 انڈیکس کی33800کی حد بحال ہوگئی تاہم اتار چڑھائو کا سلسلہ سارادن جاری رہا،مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 15.29 پوائنٹس کمی سے33885.09 پوائنٹس پر بندہوا۔
کے ایس ای30انڈیکس19.27پوائنٹس اضافے سے163041.70پوائنٹس،کے ایم آئی30انڈیکس69.81پوائنٹس اضافے سے52837.79پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس31.43پوائنٹس کمی سے25009.64پوائنٹس پربندہوا ۔ ماہرین اسٹاک کے مطابق پاکستانی معیشت کی صورتحال آئی سی یو میں زیر علاج مریض کی سی ہے، آئی ایم ایف معاہدے کے بعد صورتحال کا بہتر ہونا حکومت کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ نئے وفاقی بجٹ میں کیپٹل مارکیٹ کو کسی قسم کاکوئی ریلیف نہیں ملے گا، یہی منفی عوامل منگل کواسٹاک مارکیٹ کی نفسیات پر چھائے رہے اور مارکیٹ تنزلی سے دوچارہوئی۔منگل کومجموعی طور پر322کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا،جن میں سے93کمپنیوں کے حصص کے بھاؤمیں اضافہ،205کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ24کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔منگل کومجموعی طور پر10کروڑ57لاکھ6ہزار680شیئرزکاکاروبارہوا،جوپیرکی نسبت 1کروڑ55لاکھ4ہزار180شیئرزکم ہیں۔مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 19ارب7کروڑ80لاکھ4ہزار27روپے کی کمی سے69کھرب25 ارب95 کروڑ84لاکھ82ہزار942روپے ہوگئی۔قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حساب سے آئی سی آئی پاکستان کے حصص سرفہرست رہے ،جس کے حصص کی قیمت18.28روپے اضافے سے613.14 روپے اورجوبلی لائف انشورنس کے حصص کی قیمت12.91روپے اضافے سے317.91روپے پر بند ہوئی۔نمایاں کمی رفحان میظ کے حصص میں ریکارڈکی گئی،جس کے حصص کی قیمت210.00روپے کمی سے6200.00روپے اورکولگیٹ پامولیوکے حصص کی قیمت100.00روپے کمی سے1950.00روپے ہوگئی ۔منگل کوکے الیکٹرک لمیٹڈکی سرگرمیاں70لاکھ94ہزارشیئرز کے ساتھ سرفہرست رہیں،جس کے شیئرز کی قیمت17پیسے کمی سے3.92روپے اوریونٹی فوڈزلمیٹڈکی سرگرمیاں70لاکھ19ہزار500شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی،جس کے شیئرزکی قیمت80پیسے کمی سے9.80روپے ہوگئی ۔