(پاکستان اور جماعت اسلامی پاکستان (۱۹۴۷ء تا ۱۹۵۰ء) (باب ہفتم

93

مولانا مودودیؒ کی اپیل
’’مشرقی پنجاب اور دہلی سے لاکھوں مسلمان اس وقت جس حالت میں پاکستان پہنچ رہے ہیں اور یہاں پہنچ کر جن مصائب سے دوچار ہورہے ہیں‘ ان کا نظارہ اس قدر دردناک ہے کہ اسے دیکھ کر کوئی سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی‘ بشرطیکہ سنگ دلی کے باجود انسان ہو‘ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جس سرزمین پر یہ لوگ صدیوں سے آباد تھے‘ وہاں سے ان کے ہمسایوں نے انہیں حکومت کی طاقت اور فوج اور پولیس کی کھلی امداد سے نکالا ہے اور اس طرح نکالا ہے کہ یہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر نکل جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان میں سے جو لوگ کچھ روپیہ پیسہ‘ زیور اور کپڑے لے کر چلے ان کی تلاشیاں لی گئیں اور ہر چیز سے انہیں محروم کردیا گیا۔ حتیٰ کہ بعض قافلے اس حالت میں بھی پاکستان پہنچے کہ ان کے کسی مرد اور عورت کے جسم پر کپڑے نام کا ایک تار بھی نہ تھا۔ جن کیمپوں میں ان غریبوں نے پناہ لی وہاں یہ خوراک‘ پانی اور سایہ سے محروم رکھے گئے اور ان کے زخمیوں اور بیماروں کو اکثر حالات میں کوئی طبی امداد میسر نہ ہوئی۔ پاکستان کی طرف ہجرت کے دوران میں صرف یہی نہیں کہ جگہ جگہ ان پر حملے کیے گئے بلکہ پوری کوشش کی گئی کہ راستہ بھر انہیں نہ پانی مل سکے اور نہ کھانا۔ ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے قافلے اس حالت میں پاکستان پہنچ رہے ہیں کہ تکان سے چور‘ کئی کئی دن کے فاقوںسے نڈھال‘ پیاس سے بدحال اور زخموں اور بیماریوں سے جاں بہ لب ہیں۔ بہت سے بوڑھے‘ بچے اور مریض یہاں پہنچتے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ بھوک پیاس اور تکان کی شدت سے جگہ جگہ گرے پڑے ہوتے ہیں اور انہیں اگر فوراً امداد نہیں پہنچتی تو ان کی زندگی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ بکثرت بیمار اور زخمی کراہ رہے ہیں اور انہیں فوراً طبی امداد بہم پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بے شمار لاشیں راستوں پر اور میدانوں میں پڑی ہوتی ہیں جنہیں دفن کرنے کا اگر جلدی انتظام نہ کیا جائے تو انہیں کتے کھانے لگتے ہیں اور ان کے سڑنے سے بیماریوں کے پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ایسی ہی بلکہ اس سے کچھ زیادہ درد ناک حالت پناہ گزینوں کے ان کیمپوں میں دیکھی جارہی ہے‘ جو والٹن ٹریننگ اسکول اور ہوائی اڈے پر بنائے گئے ہیں۔ وہاں روزانہ بکثرت آدمی مررہے ہیں اور ان کی لاشیں کئی کئی دن پڑی رہتی ہیں‘ صرف اس وجہ سے کہ اتنے مرنے والوں کو روز دفن کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ سیکڑوں‘ ہزاروں مریض طبی امداد کے محتاج ہیں اور ان کے لیے نہ دوائیں کافی بہم پہنچ رہی ہیں اور نہ معالج۔ بکثرت بوڑھے اور بیمار لاوارث بچے ایسے ہیں جو اپنی مدد آپ نہیں کرسکتے اور اس کے سخت حاجت مند ہیں کہ کوئی ان کی خبر گیری کرے‘ اور ایسے لوگوں کی تعداد تو بہت ہی زیادہ ہے جن کے پاس کپڑے بستر‘ برتن کچھ بھی نہیں ہے۔
انسانی مصائب کا ایسا دردناک منظر اتنے وسیع پیمانے پر شاید تاتاری وحشت کے طوفان کے بعد کبھی نہ دیکھا گیا ہوگا۔ میں پاکستان کے لوگوں سے صرف یہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے ان بھائیوں پر رحم کھائیں اور اجتماعی طور پر ان کی مددکے لیے کھڑ ے ہوجائیں۔ یہ لوگ انسان ہیں اور انسانیت کا تقاضا ہے کہ آپ ان کی مددکریں۔ یہ اس لیے بھی آپ کی امداد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پاکستان کا مطالبہ خود آپ سے پہلے اور آپ سے بڑھ کر زور شور سے کیا تھا۔ انھی کی مدد سے آپ اپنی الگ حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے اور یہ اسی جرم کی سزا ہے‘ وہ جو آج ان ہولناک مصائب کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ مغربی پنجاب کی حکومت اور پاکستان کی مرکزی حکومت اس عظیم الشان آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے جو کچھ کررہی ہے وہ بالکل ناکافی ہے۔ شاید کوئی بڑی سے بڑی منظم حکومت بھی محض سرکاری ذرائع سے ان آفات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی جو اتنے بڑے پیمانے پر رونما ہوئے ہیں۔ یہ دراصل ایک قومی مصیبت ہے اور اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا جب تک پوری قوم بحیثیت مجموعی اپنے تمام ذرائع سے ان کا سامنا کرنے کے لیے کھڑی نہ ہوجائے۔ اس لیے میں پاکستان کے لوگوں سے عام اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہندوستان سے آنے والے مہاجرین کی مدد کے لیے اجتماعی کوشش پر آمادہ ہوں۔ اس وقت ہزاروں ایسے رضاکار خادموں کی ضرورت ہے جو اپنا پورا یا تھوڑا وقت اس کام کے لیے وقف کریں۔ ایسے ڈاکٹروں اور حکیموں کی ضرورت ہے جو کیمپوں میں رہ کر یا جاکر زخمیوں اور بیماروں کا علاج کریں۔ دواؤں‘ کپڑوں اور بستروں کی ضرورت ہے جن سے ان لوگوں کو موت‘ بیماری اور تکالیف کے چنگل سے بچایا جائے۔