موجودہ دور میں نہ نظر آنے والا مارشل لا لگا ہوا ہے‘پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن

40

ّاسلام آباد( آن لائن )پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں نہ نظر آنے والا مارشل لاء لگا ہوا ہے۔ میڈیاپر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ حملے ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے چند اخبارات کی مخصوص علاقوں میں روکی گئی تفصیل پر تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن عدالتی فیصلے پر آج تک عمل نہیں کیا گیا ۔ آج کے دور سے ضیاء الحق کا دور بہتر تھا کیونکہ اس وقت دشمن کا پتہ تھا لیکن آج دشمن اوجھل ہے پتا نہیں چلتا کون کس کے ساتھ ہے۔ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں اور عوام کو گروی رکھ دیا ہے ۔جن صحافیوں نے حق کی آواز بلند کی انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا ملک میں معاشی حالات کو ٹول بنا کر سنسر شپ کو نافذ کیا جارہا ہے ۔ آج بھی اس ملک میں جمہوریت نہیں آمریت ہے ۔ان خیالات کا اظہار مرکزی رہنما پیپلز پارٹی وسابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی ، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر و مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کی طرف سے صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے منعقدہ احتجاجی پروگرام یوم عزم میں کیا۔ نیئر بخاری نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ ابھی ضیاء کی آمریت کا دورختم نہیں ہوا لیکن میں اس سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں ۔ دیکھا جائے تو وہ دور بہتر تھا کیونکہ دشمن کا پتہ تھا تو اس حوالے سے ہی جدو جہد کی جاتی تھی لیکن آج دشمن اوجھل ہے پتا نہیں چلتا کہ کون کس کے ساتھ ہے ۔ ملک میں اظہار رائے کی آزادی کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اگر کوئی خبر نشر کردے تو نامعلوم نمبر سے فون آئے گا اگر وہ نظر انداز کردے تو وہ خود مسنگ پرسن ہو جائے گا۔ سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کا ایک ایجنڈا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں ۔ محنت کش ریاست کے خلاف بات نہیں کرسکتے لیکن مالکان منافع پر منافع کما رہے ہیں۔ جن صحافیوں نے حق کی آواز اٹھائی انہیں نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 13مئی کا دن صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے اہم دن ہے آج کے دن 4 نوجوانوں کو آمریت کا مقابلہ کرنے کی پاداش میں کوڑے مارے گئے ۔ کیا وجہ ہے کہ میڈیا کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جارہی بظاہر اداروں میں کوئی معاشی تنگی نظر نہیں آرہی پھربھی صحافیوں کو اداروں سے نکالا جارہا ہے۔