قومی اسمبلی :فاٹا کی نشستیں بڑھانے کا ترمیمی بل منظور

117

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) قومی اسمبلی میں سابق فاٹا کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیم کے بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔26 ویں آئینی ترمیم کا بل رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایوان میں پیش کیا۔بل کی حمایت میں 288 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے بل کی مخالف نہیں کی۔ وزیراعظم عمران خان سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں اور سپیکر قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کی منظوری پر پوری قوم اور ایون میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو مبارکباد پیش کی۔ بل کی منظوری سے قومی اسمبلی میں سابق قبائلی اضلاع کے لیے مختص12نشستیں برقرار رہیں گی جب کہ صوبائی اسمبلی کی نشستیں 16سے بڑھا کر 24 کردی گئیں ہیں ،اس طرح خیبرپختونخوا کی مجموعی نشستیں 124سے بڑھ کر 155ہوگئی ہیں۔پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار نجی آئینی ترمیمی بل حکومت و اپوزیشن کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔قومی اسمبلی سے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اب اس کو سینیٹ میں بھیجا جائے گااور وہاں سے بھی منظوری کے بعد صدرمملکت بل پر دستخط کریں گے ۔ آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے موقع پر وزیر اعظم بھی اجلاس میں موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ فاٹا کے حوالے سے اس اہم آئینی ترمیم کی پورا ایوان حمایت کر رہا ہے۔ اس سے قبائلی علاقے کے لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ تمام صوبے قومی مالیاتی کمیشن میں فاٹا کو 3 فیصد اضافی حصہ دینے پر ہر صورت عملدرآمدکریں گے،مجھے معلوم ہے کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے صوبوں کو بعض خدشات موجود ہیں لیکن فاٹا میں جو تباہی ہوئی ہے اس تباہی کا ازالہ خیبرپختونخوا کا صوبہ اپنے فنڈ سے نہیں کر سکتا۔ اس میں باقی صوبوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہاں پر بنیادی ڈھانچے اور دیگر مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جاسکیں۔قبل ازیں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے ہاؤس کی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کی حکومتی تحریک کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بہاولپور سے رکن مخدوم سمیع الحسن گیلانی نے صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کا آئینی ترمیمی بل پیش کیا ۔ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں تقسیم نظر آئیں۔نون لیگ نے بل کی مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب کے ساتھ بہاولپور صوبہ بنانے کی بھی حمایت کی۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے بھی حکومتی تحریک کی مخالفت کی۔ اجلاس کے دوران شور شرابہ بھی ہوا۔