ننھی نشواکے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں‘ حافظ نعیم 

103

کراچی (اسٹاف رپورٹر )جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمن نے گلستان جوہر میں نجی اسپتال (دارالصحت ) میں 9ماہ کی معصوم بچی نشوا کے غلط انجیکشن کے باعث موت کا شکار ہو نے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال کے عملے کی نا اہلی اور مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کرائی جائے اور ذمے دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے نشوا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ سرکاری اسپتالوں کی نا قص کارکردگی اور حالتِ زار سے تو سبھی واقف ہیں لیکن اب نجی اسپتالوں میں بھی علاج معالجے کے بھاری اخراجات کے باوجود معیاری سہولیات میسر نہیں اور چیک اینڈ بیلنس کا کوئی موثر نظام کے نہ ہونے کے باعث صورتحال بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔گزشتہ روز بھی کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ایک نجی کلینک میں 4سالہ بچی رضیہ کی غلط انجیکشن کے باعث موت واقعہ ہوئی ہے جبکہ اس سے قبل ابراہیم حیدری کی رہائشی 17سالہ عصمت سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں غلط انجیکشن لگنے سے جاں بحق ہوگئی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسپتالوں میں غیر تربیت یافتہ اور اتائی عملہ مقرر ہے جو انسانوں کی جانوں سے کھیل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنگین صورتحال حکومت اور محکمہ صحت کے لیے لمحہ فکرہونا چاہیے ، اگر فی الفور نوٹس نہ لیا گیا اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد اور ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو کوئی اور بڑا حادثہ اور سانحہ رونما ہو سکتا ہے ۔ دریں اثناجماعت اسلامی کراچی کے ڈپٹی سیکرٹری و سابق رکن سندھ اسمبلی محمد یونس بارائی کی قیادت میں ایک وفد نے گلستان جوہر میں ننھی نشوا کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ ، افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالی بچی کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ و لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔