فضول خرچی

105

 

اسراف سے مراد لغو امور پر خرچ کرنا، احتیاجات (ضروریات) سے زیادہ خرچ کرنا، انسان کو جو چیز پسند آئے اس کو خرید لینا، جو جی چاہے کھا لینا ہے، اور مال کو حق کے علاوہ خرچ کرنا، گناہ کے کاموں پر خرچ کرنا چاہے وہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔ اگر جائز اور بھلائی کے کاموں پر خرچ کیا جائے تو وہ تبذیر کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ گویا اسراف سے مراد جائز اشیا پر خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرنا ہے، جب کہ تبذیر سے مراد ناجائز امور پر خرچ کرنا ہے۔ شادی بیاہ کی رسموں اور غمی کے موقع پر کئی غیرضروری رسم و رواج پر خرچ بھی اسراف میں آتا ہے، جب کہ دوسری طرف غریب طبقے میں احساسِ کمتری اور مصائب میں اضافہ ہوتا ہے۔ بخیل شخص اپنی بنیادی ضروریات، اہل و عیال، رشتے داروں، ضرورت مندوں اور سائلین پر خرچ کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔ عادتِ بخل کے سبب دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوکر رہ جاتی ہے۔ معیشت میں اشیا کے لیے صارفین کی طلب میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور حسد ونفرت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اسی لیے اسلام میں اسراف و تبذیر سے منع کیا گیا ہے: ’’کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (اعراف 13)
’’فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے‘‘۔ (بنی اسرائیل 27)
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں: ’’عیاشی اور عیش پسندی میں امکان وتوفیق جس شکل میں بھی ہو شرع کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے انسان اسفل السافلین میں جاگرتا ہے اور انسان کے قواے فکر یہ پر تاریکی کے بادل چھا جاتے ہیں‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغۃ)
اسلام صَرف میں ’اصولِ اعتدال‘ کو متعارف کرواتا ہے: ’’جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ اْن کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے‘‘۔ (الفرقان 67)
ایک دوسرے موقع پر فرمایا: ’’نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ‘‘۔ (بنی اسرائیل 29)
ایک شخص کی دانائی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اپنی معیشت میں اعتدال کی راہ اختیار کرے۔ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے: ’’کھاؤ پیو اور پہنو اور صدقہ کرو، اسراف و تکبر کے بغیر۔‘‘ (بخاری) حذیفہؓ فرماتے ہیں، نبی کریمؐ نے ہمیں چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا ہے، نیز ریشم اور دیباج کے کپڑے پہننے اور بچھانے سے بھی۔ (بخاری)
اسلام یہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ صارف خرچ کرنے میں ’عدل‘ سے کام لے، یعنی جہاں روکنا ضروری ہو وہاں روکا جائے اور جب خرچ کرنا ضروری ہو وہاں خرچ کیا جائے۔ پس خرچ کی ضرورت کی جگہ پر روک رکھنا بخل ہے اور روک رکھنے کی ضرورت کی جگہ خرچ کرنا اسراف ہے اور ان دونوں کے بین بین خرچ کرنا اچھا ہے۔
اسلام ہمیں خرچ کرنے میں قناعت کا حکم دیتا ہے۔ قناعت سے مراد یہ ہے کہ حلال ذرائع سے انسان کو جو کچھ ملے، اس پر وہ راضی اور مطمئن ہوجائے۔ زیادہ حرص و لالچ نہ کرے کیونکہ حرص وطمع انسان کو حرام ذرائع کو اپنانے پر مجبور کردیتی ہے۔ وہ انسان جس کو ایمان کی دولت نصیب ہو، گزر بسر کا سامان میسر ہو، اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اسے قناعت جیسی نعمت عطا فرما دے، تو اس سے بڑھ کر خوش نصیب انسان دنیا میں اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے: ’’امیر ہونا سامان بہت ہونے سے نہیں بلکہ دل سے ہے۔‘‘ (مسلم، ترمذی) آپؐ نے مزید ارشاد فرمایا: ’’اس شخص نے فلاح پائی جو اسلام لایا اور اسے ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی روزی پر قناعت دی۔‘‘ (مسلم، ترمذی) فلاح سے مراد قلبی سکون اور آخرت کے عذاب سے چھٹکارا ہے۔