فٹبال کی ترقی کیلیے گرائونڈز اورانفراسٹرکچر ضروری ہے

193

پاکستان کے بارے میں فیفا کی معلومات کم اوریکطرفہ ہیں،پاکستان اورسندھ اسپورٹس بورڈ نالائق ادارے ہیں پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ناصر کریم بلوچ کی روزنامہ جسارت سے خصوصی بات چیت

سوال۔ فٹبال کے فروغ میں حائل رکاوٹیں کیوں دور نہ ہوسکیں؟
جواب۔ پاکستان میں فٹبال کا فروغ نہ ہونے میںکئی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم اور بنیادی وجہ حکومتیں ہیں جس نے فٹبال کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی ۔ یہ صرف فٹبال کے ساتھ نہیں بلکہ تمام کھیلوں کے ساتھ ظلم ہے۔ تمام حکومتوں نے کھیلوں کو وہ اہمیت ہی نہیں دی جو دینی چاہیے تھی ،حکمرانوںنے کھیل کو محض ایک فالتو چیز سمجھ رکھا ہے جس کے لیے نہ تو کوئی خاص بجٹ مختص کیاجاتا ہے اور نہ سنجیدگی سے کوئی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل بھی لیاری میں فٹبال کا ایک بہت بڑا مقام تھاجو پور ے ایشیا میں مانا جاتا تھا۔1971ء میں سقوط ڈھاکا کے بعد بنگلادیش میں پروفیشنل فٹبال کا فروغ ہوا اور وہاں پرکھلاڑیوںکو کھیل کے بدلے پیسے دیے جانے لگے ،یہاں سے بھی کئی ٹیمیں وہاں جاکر کھیلنا پسند کرتی تھیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں پروفیشنل ازم ختم ہوگیااور تمام دارومدار محکمہ جاتی ٹیموں پر ڈال دیاگیاتھا،یہ بھی طریقہ کافی حد تک بہتر تھا جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ایک ایگزیکٹوآڈر کے تحت تمام محکموں کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ اسپورٹس ڈویژن بنائیں۔خاص کر فٹبال کے لیے ان کے واضح احکامات تھے جس پر حبیب بینک ،نیشنل بینک ،ایم سی بی بینک سمیت کئی اداروں کی جانب سے فٹبال کی ٹیمیں بنائیں گئیں، جس سے بے روزگار کھلاڑیوں کو روزگار کا ذریعہ میسر آیا۔ اس وقت 16ڈپارٹمنٹ نے اسپورٹس ڈویژن کا قیام عمل میں لائے تھے۔ تاہم جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے ڈپارٹمنٹ نے اپنی ٹیمیں بند کرنا شروع کردی اور اب محض6ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں باقی رہ گئی ہیں ،اس سے کھلاڑی ایک مرتبہ پھر سے بے روزگار ہونا شروع ہوگئے۔ یہاںکسی کو بھی فٹبال سے دلچسپی نہیںاور جنہیں کھیلوں سے کچھ دلچسپی ہے بھی تو ان کا کرکٹ کی طرف کا رحجان زیادہ تھا۔ اس سے قبل اسکواش اور ہاکی میں دنیا بھرمیں پاکستان کا ڈنکا بجتا تھا۔ جس طرح فٹبال کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ ہی اسکواش اور ہاکی کے ساتھ بھی ہوااور آج یہ تینوں اہم کھیل پاکستان میں ناپید سمجھے جاتے ہیں ۔ ہم کرکٹ کی مخالفت نہیں کرتے مگر پاکستان کا اورکرکٹ کا سسٹم ان کھیلوں کو ختم کرگیا۔
سوال۔ کیا پاکستان میں فٹبال کے لیے کوئی انفراسٹر کچر موجود ہے۔
جواب ۔ میں سمجھتا ہوں کہ فٹبال کے لیے جو انفرسٹرکچر ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کو اس پر کام کرنا چاہیے تھا مگر افسوس کی بات ہے کہ انہوںنے بھی اس پر کام نہیں کیا۔ بس جیسے تیسے گزارہ کرکے فٹبال کی گاڑی کو گھسیٹا گیا ہے ۔نہ کوئی مستقبل کے بارے میں پلان بنایا گیا اور نہ کبھی اس پر کسی نے بات کرنے کی ضرورت محسوس کی ۔ ہم نے کبھی کوئی بھاری مطالبات نہیں کیے ہم نے جو بھی مانگا یا چاہا وہ بہت آسانی سے مہیا کیا جاسکتا تھا،فٹبال دنیا بھرمیں کھیلا جارہا ہے ہم نے صرف اس کی نقل کرنا تھی اور اس میں مہارت حاصل کرنا تھا لیکن اس کے لیے فٹبالروں کو جو بنیادی چیزیں درکار تھیں جب وہ ہی مہیا نہ کی گئیں تو پھر کس طرح نقل کی جاتی ۔ ہم کبھی بھی اس سمت کی طرف نہیں گئے جہاں جانا چاہیے تھا۔
سوال۔ فٹبال اورلیاری کا آپس میں کتنا گہرا تعلق ہے۔؟
جواب۔ لیاری اور فٹبال ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ دنیا بھرمیں جہاں لیاری کا ذکر ہووہاں فٹبال کا ذکر لازم ہوتا ہے۔ باکسنگ ،سائیکلنگ بھی یہاں کے مقامی کھیل ہیں تاہم فٹبال کے شیدائی لیاری کے ہر گھرمیںموجود ہیں،اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ لیاری کے نوجوانوں کی جسامت فٹبال کے لیے انتہائی موزو ترین قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لیاری نے فٹبال کے حوالے سے دنیا بھرمیں جہاں ملک کا نام روشن کیا وہیں اپنی ایک الگ پہچان بھی بنارکھی ہے۔ تاہم یہاں پر فٹبال کھیل کے فروغ کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی فٹبال کی ترقی کے لیے کسی نے کوئی کام کیا۔ بلکہ الٹا کام یہ کیا کہ لیاری کو بدنام کیاگیااور اسے احساس محرومی کاشکار بنایاگیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فٹبال کی سرپرستی کی جاتی ۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ لیاری کا ذکر اس لیے بھی بار بار کیاجاتا ہے کہ پاکستان بھرمیں سب سے زیادہ فٹبال لیاری میں کھیلی جاتی ہے ،اوریہاںکے کئی کھلاڑی قومی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔اگر صحیح معنوں میں فٹبال کی سرپرستی کی جاتی تودنیا بھرمیں نہ سہی لیکن ایشیا بھرمیں پاکستان کی اپنی ایک الگ پہچان ہوتی۔
سوال۔ کیاپاکستان فٹبال فیڈریشن میں گروپ بندی نے بھی کھیل کو نقصان پہنچایا ہے؟
جواب۔ میں فیڈریشن میں گروپ بندی سے اتفاق نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی الیکشن کی رسہ کشی ہوگی وہاں مخالفین یا ایک گروپ دوسرے گروپ کے مدمقابل لازم کھڑا ہوگا،جمہوری نظام میں پارٹیاں ہوتی ہیں اس لیے انہیں گروپ بندی کہنا غلط ہے ،کیوں کہ یہ ہی جمہوریت کا حسن بھی ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پارٹیاں اچھائی کے فروغ کے لیے کوشاں رہتی ہیں اور کچھ ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ اگر کسی نے عہدہ حاصل کرکے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی تو وہاں سے کھیل کو نقصان پہنچنا شروع ہوتا ہے۔ اس لیے گروپ بندی سے اتفاق نہیں کرتا۔ 1970ء میں بھی فٹبال فیڈریشن میں گروپ یا پارٹیاں ہواکرتی تھیں مگر ان کا مشن ایک تھا کہ کسی بھی طرح وہ فٹبال کی ترقی میں اپنا کردار اداکرسکیں۔ اس وقت گروپ اس بات پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے تھے کہ میں ایک ٹورنامنٹ کرارہا ہوں تو سامنے والا دو ٹورنامنٹ کی بات کرتا تھا۔ لیکن آج پاکستان فٹبال فیڈریشن میں جو کچھ ہورہاہے یہ نقصان دہ عمل ہے ،اقتدار کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
سوال۔ فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی موجودہ قیادت کو تاحال تسلیم نہیں کیا،آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آگے چل پائے گی؟
جواب۔ اصل میں فیفاکو یہ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ قیادت کس طرح برسر اقتدار آئی ہے۔جہاں تک فیصل صالح حیات کی بات ہے تو میرے خیال سے انہوںنے اپنی زندگی میںکبھی فٹبال کو لات بھی نہیں ماری ہوگی ،ان کا فٹبال سے کوئی تعلق بھی نہیں رہا۔ فیصل صالح حیات کو 2003ء میں لایاگیا تھا۔ایک لابی تھی جس نے اپنے گروپ کو آگے بڑھانے کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا۔ اس وقت کے وفاقی وزیر نے فیصل صالح حیات کو اپنے گروپ کا ہیڈ بنایا اور یہ تاثر دیا کہ ہم فٹبال کو کھڑا کریں گے ۔ اس طرح فیصل صالح حیات نے جتنے بھی لوگ اپنے ساتھ ملائے ان میں حافظ سلمان بٹ بھی تھے جو فٹبال سے پیار کرنے والا شخض تھاسب سے پہلے اسے ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ ظاہر شاہ ،اشفاق شاہ ،نوید سردار،عامر ڈوگریہ وہ لوگ ہیںجنہوںنے فیصل صالح حیات کے ساتھ کام کیا تھا،لیکن یہ لوگ مایوس ہوچکے تھے۔ کیوں کہ فیصل صالح حیات تنہا سفر کرنے والا شخض ہے،انہوںنے فٹبال کو جمہوری انداز میں چلانے کے بجائے اپنے ذاتی ملازم کی حیثیت سے چلایا ۔جمہوری ادارے کی اپنی پہچان ہوتی ہے اور وہ ایک دائرہ کار میں رہ کر کام کرتے ہیں،ان کے اپنے طورطریقے اور ضابطہ کار ہوتے ہیں ،لیکن فیصل صالح حیات ان تمام تر ضابطہ کار کو بالائے طاق رکھ کر کام کرتا تھا۔ آج وہ جس مقام پر ہیں یہ اس کا اپنا کیا دھرا ہے۔
سوال۔ فیصل صالح حیات نے الیکشن کروائے تھے ،وہ کیوں قابل قبول نہ ہوسکے؟
جواب۔ فیصل صالح حیات نے جو الیکشن کرائے تھے وہ نام نہاد الیکشن کے طورپر شمار کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طورپر اگر میں ڈی ایف اے سائوتھ کی نمائندگی کررہا ہوں اورجس کلب سے میرا ووٹ کا حق تھا فیصل صالح حیات نے اسے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کردیا کہ یہ نیو رجسٹریشن ہے۔ جب کہ اس کلب کی رجسٹریشن 1994 ء میں کی گئی تھی۔ جب کہ صابر اسپورٹس کی رجسٹریشن قیام پاکستان سے قبل کی ہے اور اس کی رجسٹریشن کو بھی ماننے سے انکار کردیا تھا،یہ ہی نہیں بلکہ ہمارے 28کلبوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے ان کی رجسٹریشن کو ماننے سے انکار کیا ۔2015ء میں ہونے والے الیکشن میں صدارتی امیدوار تھا لیکن فیصل صالح حیات نے میرے کاغذات تک مسترد کردیے گئے،اور اپنے لوگوں کے کاغذات کو تسلیم کرکے انہیں الیکشن میں کھڑا کرنے کی اجازت دے دی۔ تاہم ان سیٹوں پر الیکشن نہ ہوسکے اورباقی سیٹوں پر الیکشن ہوئے جس میںمیری پارٹی برسراقتدار آگئی۔ یہ پورے پاکستان میں فیصل صالح حیات کو سندھ کی طرف سے پہلی شکست کا سامنا کرناپڑا تھا۔ اس الیکشن میں ان لوگوں نے بے قاعدگی کا ملبہ کھڑا کیا ہوا تھااور بے قاعدگی کی غنڈہ گردی قائم کی تھی ،جس پر لوگوں نے احتجاج کیا اور کہا کہ فیصل صالح حیات نے انہیں ووٹ کے حق سے محروم کیا جس پر یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا،جس پر سپریم کورٹ نے مختلف اوقات میں فیصلے دیے اور آخری فیصلہ یہ ہی ہوا جس میں اعلیٰ عدلیہ نے اپنی نگرانی میں الیکشن کرانے کا حکم صادر فرمایااور اس میں فیصل صالح حیات کو شکست کاسامنا کرناپڑا۔ اس الیکشن کو فیصل صالح حیات نے تسلیم کیا،یہاں یہ بھی واضح کردوں کہ اس وقت دو الیکشن ہوئے تھے ایک پنجاب فٹبال اوردوسرا پاکستان فٹبال فیڈریشن کے الیکشن ہوئے۔پنجاب فٹبال فیڈریشن میں فیصل صالح حیات کو فتح حاصل ہوئی جب کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے انتخاب میں اسے شکست ہوئی۔ پنجاب میں ہونے والی کامیابی کو انہوں نے تسلیم کیا جب کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے انتخابات میں شکست کو تسلیم نہ کرتے ہوئے وہ دوبارہ سپریم کورٹ جا پہنچے اور فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کی جس میں انہوںنے موقف اختیار کیا کہ فیفا اس الیکشن کو نہیں مانتی جس پر سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر اپیل مسترد کردی کہ یہ جمہوری ملک ہے اور یہاں فیفا الیکشن نہیں کرواتی۔ سپریم کورٹ سے بڑا ادارہ ملک میں کوئی نہیں اور نہ ہی غیر جانبداری میں کوئی سپریم کورٹ سے بڑا ہے۔ ہم نے اعلیٰ عدلیہ کے تمام فیصلوں کو پہلے بھی قبول کیا تھا اور اسے بھی قبول کیا۔جب فیصل صالح حیات اپنی جگہ بچانے میںناکام نظرآئے تو انہوںنے آخری وقت میں بائیکاٹ کا اعلان کردیاتھا،محمد جان مری جو نائب صدر کے عہدے کے امیدوار تھے انہیں چار ووٹ بھی مل چکے تھے۔ اس طرح وہ الیکشن پہلے ہی ہار چکے تھے بس بائیکاٹ کرکے اسے طول دینے کی کوشش کی گئی تھی جو سپریم کورٹ نے ناکام بنادی۔
سوال۔ فیفا پاکستان کے بارے میں کیا منصوبہ رکھتا ہے۔؟
جواب۔ فیفاپاکستان کے بارے میں کیا سوچتا ہے اور کیا منصوبہ رکھتا ہے یا وہ ایشیا کے بارے میں آگے کیا پلان لے کر آئے گا یہ فیفا ہی بہتر جانتا ہے۔ تاہم فیفا کی پاکستان کے حوالے سے معلومات کم ہے اور جو معلومات فراہم کی گئیں وہ فیصل صالح حیات کی طرف سے ہی دی گئیں ہیں۔ اب فیفا وفد پاکستان آئے گا تو ان کے سامنے تمام صورت حال واضح ہوجائے گی ۔
سوال۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے موجودہ صدر نے فیصل صالح حیات پر فنڈز واپسی کا الزام لگایا ہے ،اس میں کتنی سچائی ہے؟
جواب۔ جی ہاں ۔ آپ نے درست کہا کہ فیصل صالح حیات نے فنڈز فیفا کو واپس کیے ہیں اور یہ غداری کے ذمرے میںآتا ہے۔ دیکھیں جو پیسا ان تھا ہی نہیں توپھر وہ کس طرح اس پیسے کو واپس کرسکتے ہیں۔ یہ فنڈز فٹبال کی ترقی اور کھلاڑیوں کی فلاح وبہبود کے لیے تھے ۔ اورجس ملک میں پہلے ہی وسائل کی کمی ہوایسے میں اس قسم کا اقدام انہیں زیب نہیں دیتا تھا اس لیے یہ غداری کے ذمرے میںآتا ہے۔ جس مقصد کے لیے پیسا آیا تھا فیصل صالح حیات نے محض اپنی انا کا مسئلہ بناکراسے واپس کردیا ۔
سوال۔فیفا کا فیصلہ حتمی ہوگا،فیصل صالح حیات ہی ان کے لیے صدر ہیں،پابندی کی صورت میں موجودہ باڈی اپناکیاکردار ادا کرے گی؟
جواب۔ موجودہ باڈی کا جو بھی آئینی کردار ہوگا وہ بھرپور طریقے سے ادا کریں گے۔ باقی فیصل صالح حیات کی باڈی اب ان کی باڈی رہی ہی نہیں ۔ ان کے تمام لوگ ان کے مخالف جاچکے ہیں۔ فیفا کا وفد جب آئے گا تو یہ تمام لوگ بھی ان کے سامنے ہوں گے جو اب فیصل صالح حیات کے ساتھ نہیں۔ فیفا وفد2015ء والی کابینہ دیکھے گا کہ اب کتنے لوگ فیصل صالح حیات کے ساتھ ہیں۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن 26ارکان پرمشتمل ہے۔ اب دیکھا یہ جائے گا کہ ان میں سے کتنے لوگ فیصل صالح حیات کے ساتھ ہیں۔فیفا وفد سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہے کیا وہ ان باتوں کو نظرانداز کردیں گے۔ چاروں صوبوں سے تین ،تین نمائندگی ہوتی ہے ،جن میں سے پنجاب اور بلوچستان کے تین ،تین لوگ جو ڈمی ہیں وہ فیصل صالح حیات کے ساتھ ہیں۔ باقی تمام اراکین مخالفت میں کھڑے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اب لوگ کام کرنا چاہتے ہیں اوروہ فیصل صالح حیات کے ساتھ نہیں ہیں۔ 26میں 6ارکان ایک طرف باقی دوسری طرف تو فیفا کو بھی فیصلہ کرنے میںآسانی ہوجائے گی ۔
سوال۔ گرائونڈ ز اور گول پرجیکٹ کے بارے میں کچھ واضح کریں۔؟
جواب۔ نیشنل اسٹیڈیم جہاں آج بڑے زوروشور سے کرکٹ کھیلی جاتی ہے یہ اس سے قبل فٹبال گرائونڈ کہلاتا تھا اور یہاں پر فٹبال کھیلاجاتا تھا۔ اسی طرح ہاکی اسٹیڈیم بھی پہلے فٹبال کے لیے مخصوص تھا لیکن آج فٹبال کے لیے کوئی ایسا گرائونڈ نہیں جہاں قومی یا بین الاقوامی کھیلوں کا انعقا دکیاجاسکے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرکٹ کے لیے الگ گرائونڈ بنایاجاتا کیوں کہ کراچی ایک وسیع شہر ہے اور یہاں زمین کی کوئی قلت نہیں،لیکن فٹبال گرائونڈ کو کرکٹ میں تبدیل کرکے فٹبال کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ موجودہ ہاکی اسٹیڈیم میں انٹرنیشنل فٹبال کھیلاجاتا تھا اور پھر اسے بھی ہاکی کے حوالے کرکے یہاں بھی فٹبال کے ساتھ ناانصافی کی گئی ۔ ایسی صورت حال میںجب کھلاڑیوں کے پاس نہ کوئی کلب ہو ،نہ کوئی گرائونڈ ہو ں تو وہ کہاں پر پریکٹس کریں اور کہاں پرفٹبال کھیلیں۔ وسائل اپنی جگہ لیکن اصل مسئلہ گرائونڈ کا ہے جو فٹبالروں کو دستیاب نہیں۔ فٹبال کے فروغ میں اہم رکاوٹیں یہ ہی ہیں جہاں ہم بھی شکست کھاگئے۔ گول پروجیکٹ میں فیصل صالح حیات نے کافی گھپلے کیے ہیں،مشرف کالونی میںموجود فیفا گول پروجیکٹ کی صورت حال انتہائی مخدوش ہوچکی ہے۔گراس کے حوالے سے جب ان سے بات کی تو کہا کہ سیلاب لے گیا۔ یہ سب گھپلے صرف ایک گول پروجیکٹ میں نہیں ہوئے بلکہ ملک بھرمیں جتنے بھی گول پروجیکٹ بنائے گئے ان تمام میں گھپلے کیے گئے۔مشرف کالونی والے گول پروجیکٹ میں اب تک کوئی ایک میچ بھی نہیں کھیلا گیا۔ یہ تمام معاملات فیفا کی آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہے۔
سوال۔ ڈسٹرکٹ سائوتھ میں کتنے گرائونڈ ہیں اورکیا وہ کھیل کے قابل ہیں؟
جواب۔ ڈسٹرکٹ سائوتھ میں ایسا کوئی گرائونڈ نہیں جو کھیل کے قابل ہو۔ بس گزارہ کررہے ہیں کیوں کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چوائس نہیں۔ کے ایم سی کے پاس پیپلزاسٹیڈیم اورکے ایم سی اسٹیڈیم ہیں جو گراسی ہیں ۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ وہ بھی ہمارے لیے بند ہیں۔ قومی اور صوبائی فیڈریشن کے ساتھ ساتھ میئر کراچی کو بھی اس بات کا اعلان کرنا چاہیے کہ کے ایم سی کے جو گرائونڈ ہیں یہ کھیلوں کے لیے مختص ہیں جہاں کھیلوں کے سوا کوئی دوسرا پروگرام نہیں ہونا چاہیے۔ایسوسی ایشن کے لوگ جب کوئی کھیلوں کا پروگرام منعقد کرائے توانہیں گرائونڈ فری دیاجائے ،مگر یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ان گرائونڈ میں کوئی بھی ٹورنامنٹ منعقد کرانے پر ہم سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔کے پی ٹی اسٹیڈیم کے دروازے بھی ہم پر بند ہیں ۔ ہم یہاں رضاکارانہ کام کررہے ہیں مگر افسوس ہوتا ہے کہ ملکی ادارے بھی کھیلوں کے فروغ میں حصہ ڈالنے کو تیار نہیں۔ان اداروں کو پیسے مانگتے ہوئے شرم آنی چاہیے ۔ میں وزیراعظم عمران خان سے درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے ایگزیکٹوآڈرکے تحت ڈپارٹمنٹ ٹیم بنانے کی ہدایت کی تھی اسی طرح عمران خان بھی ایگزیکٹو آرڈرجاری کریں کہ فٹبال گرائونڈ کو قومی ،صوبائی اور ڈسٹرکٹ فٹبال فیڈریشن کے حوالے کیاجائے یا فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے فری انٹری دی جائے۔
سوال۔کیا پیپلزاسٹیڈیم میں کھیلوں کی اجازت ہے؟
جواب۔ پیپلزاسٹیڈیم میں کھیلوں کے حوالے سے ہماری رینجرز حکام کے ساتھ میٹنگز ہوتی رہتی ہیں۔وہ لوگ کہتے ہیں آپ لوگ آئیں اورکھیلیں ،لیکن اس گرائونڈ کی صحیح دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اب وہ کھیلوں کے قابل نہیں رہا۔ پھر افسوس کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑرہا ہے کہ پیپلزاسٹیڈیم میں کھلاڑیوں کی سیکورٹی خدشات کا بہانہ بناکر تذلیل کی جاتی ہے۔ ان کی جامہ تلاشی کے ساتھ ساتھ بیگز بھی کھول کر رکھ دیے جاتے ہیں ،ایک ایک گھنٹہ کھلاڑیوں کو لائن اپ کیاجاتا ہے۔ یہ کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اسٹیڈیم میں تماشائیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد ہے ۔ کھلاڑی اپنا فن اپنی کارکردگی تماشائیوںکو ہی دکھا کر ہیرو بنتا ہے اگر وہ ہی نہیں ہوں گے تو کھلاڑی کس جذبے کے ساتھ کھیلے گا۔پیپلزاسٹیڈیم کا ماحول اس طرح بنادیاگیا ہے کہ وہاں پر فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد ناممکن ہوچکا ہے۔ ہماری درخواست ہے سندھ رینجرز اور حکومت سے کہ وہ پی ایف ایف ،ایس ایف اے اور ڈی ایف اے کے ساتھ مل کر کوئی لائحہ بنائے جس سے وہاں پر کھیلوں کا انعقاد ممکن ہوسکے۔اگر رینجرز عمارت میںموجود ہے تو کم از کم گرائونڈ کو تو کھیلوں کے لیے کھلا چھوڑے۔ جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ رینجرز خود اس گرائونڈ کو عالمی معیار کا بنائے جہاں نیشنل اور انٹرنیشنل ایونٹس کا انعقا د کیاجاسکے۔ انٹرنیشنل فٹبالریہاں آکر طنز کرتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی فٹبال اسٹیڈیم نہیں جو ہاکی اسٹیڈیم میں فٹبال کھیلا جارہاہے۔ یہ ہم سب کے لیے افسوس کا مقام ہے ۔ 27اپریل کو کراچی میں ایک اور بڑا ایونٹ ہونے جارہا ہے اور وہ بھی ہاکی اسٹیڈیم میںکھیلاجائے گا ۔ پیپلزاسٹیڈیم ایک بہترین مقام ہے، پاکستان کا دنیا بھرمیں امیج بہتر بنانے کے لیے اس گرائونڈ کو عالمی معیار کا بناناہوگا ۔
سوال۔ فٹبال آج محض کلبوںکی کاوشوں سے زندہ ہے۔ قومی ،صوبائی یا ڈسٹرکٹ سطح پر کوئی لیگ کا انعقاد کیوں نہیں کیاجاتا۔؟
جواب۔جی ہاں میں مانتا ہوں کہ اس سلسلے میں پی ایف ایف کو بہت کچھ کرنا چاہیے تھا مگر جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ان کے پاس کوئی ویژن نہیں تھا اور نہ ہی انہوںنے ایسی کوئی پالیسیاں بنائی تھیں جس سے فٹبال کو فروغ حاصل ہوتا۔یہاں تک کے پی ایف ایف کے پاس گراس روٹ لیول پر بھی کوئی کام نہیں ہوا اور نہ اس پر کبھی سوچ بچارکی گئی۔ تاہم موجودہ پی ایف ایف باڈی اس حوالے سے کام میں مصروف ہے اور 16اپریل سے انٹرسٹی فٹبال چیمپئن کا انعقاد کیاجارہاہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ باڈی گراس روٹ لیول پر کام کررہی ہے۔ اب ڈسٹرکٹ لیول پر بات کی جائے تو میں یہ کہوں گا کہ اگر کوئی کلب ڈسٹرکٹ چیمپئن بنتا ہے تو وہ کیسے چیمپئن بنا ،لازمی بات ہے ڈسٹرکٹ سطح پرکام ہورہاہے اس لیے وہ چیمپئن بنے ہیں،اگر ڈسٹرکٹ لیگ نہ کراتی تو وہ کیسے چیمپئن بن جاتے ۔ جنرل لیگ کے حوالے سے کلبوں کو ماننا چاہیے کہ یہ پورے پاکستان میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ جنرل لیگ میں 428میچ اور ٹوٹل میچوں کی تعداد528میچ ہم نے مختلف گرائونڈمیں کرائے جس میں 16 ٹیمیں چیمپئن بن کر سامنے آئی ہیں۔ حیدری بلوچ کو چیمپئن بننے پر 4لاکھ روپے دیے گئے تھے۔یہ پاکستان میں ایک منفرد انعام ہے جسے کلبوں کو سراہا جانا چاہیے مگر افسوس کے کلب اسے سراہانے کے بجائے اس کا ذکربھی نہیں کرتے جو زیادتی ہے۔
سوال۔ ڈسٹرکٹ سائوتھ کی طرف سے کتنے ٹورنامنٹ کرائے گئے۔؟
جواب۔ ویسے تو بے شمار ٹورنامنٹ ہیں جو ڈسٹرکٹ سائوتھ نے کرائے ہیں،تاہم چند ایک کے نام میں آپ بتا دیتا ہوں جن میں حبیب بینک،نیشنل بینک ودیگر ڈپارٹمنٹ کے توسط سے ٹورنامنٹ کرائے جاچکے ہیں اور حالیہ حاجی عبداللہ ہارون فٹبال ٹورنامنٹ جو گبول پارک میں جاری ہے یہ بھی ڈسٹرکٹ سائوتھ کی طرف سے کرایاجارہا ہے۔ اس وقت جتنے بھی ٹورنامنٹ سائوتھ میں چل رہے ہیں ان میں ڈسٹرکٹ سائوتھ اپنا حصہ ضرور ڈالتا ہے۔ کلب بے شک اسے اپنے طورپر منعقد کرارہے ہیںمگر ڈسٹرکٹ سائوتھ کی کاوشوں کوبھی اس میںنظرانداز نہیںکرناچاہیے۔ ڈسٹرکٹ سائوتھ مالیاتی ادارہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ کلبوں کی فلاح وبہبود کے لیے پیش پیش رہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ سائوتھ اس وقت واحد ڈسٹرکٹ ہے جس نے کلبوں میں ایک ہی دن میں 31لاکھ روپے تقسیم کیے ،یہ رقم ہم نے سندھ گورنمنٹ سے وصول کی اور انہیں کے ہاتھوں ہم نے کلبوں پر خرچ بھی کرائی۔یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد کارنامہ ہے جسے کلبوں کو سراہانا چاہیے۔
سوال۔ کلب اورڈپارٹمنٹ کھلاڑیوں کے ٹرانسفرز کی فیس کتنی ہے۔؟
جواب۔ ڈسٹرکٹ سائوتھ پاکستان میں پہلا ڈسٹرکٹ ہے جو ڈپارٹمنٹ اور کلب کے کھلاڑیوں کے ٹرانسفر کی مد میں کوئی فیس نہیں لے رہا۔ جب کہ باقی ڈسٹرکٹ میں ڈپارٹمنٹٹرانسفرز کی فیس 5000ہزار اورکلب کھلاڑیوں کے ٹرانسفرز کی فیس2000روپے مقرر ہے۔
سوال۔ ملک میں اکیڈمیز کا فقدان ہے ۔ اس پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔؟
جواب۔ میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں کہ اس پر کام ہونا چاہیے تھا جو نہیں کیاگیا۔ اکیڈمی بنیادی چیز ہے جہاں سے ٹیلنٹ سامنے آتا ہے مگر اس پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اسی طرح فٹبال ہائوس میں ہم فٹبال لائبریر ی کے قیام کے لیے کوشاں ہیں یہ بھی اکیڈمی کی بنیادی ضرورت ہے ۔ہمارا مقصد فٹبال اسکول بنانے کا ہے اور اس کے لیے بھی ہم کوششیں کررہے ہیں،لیکن ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم اسکول کے قیام کو عملی جامہ پہناسکیں۔ ہماری کوشش ہے کہ فٹبال کو تعلیم کا رنگ دیاجائے ۔لیکن جب ہمارے پاس گرائونڈ نہیں ہوں گے تو پھر اکیڈمی کہاں سے آئے گی۔ اس وقت ہمارے فٹبالر کم خوارک کا شکار ہیں،ان کی گروتھ رک گئی ہے ،ٹریننگ کے بعد کھانا تو دور کی بات ہے پینے کے لیے جوس تک میسر نہیں۔ جب جسم میں جان نہیں ہوگی کس طرح آپ ان سے کارکردگی کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اس پر بھی توجہ دینا ہوگی اورمیں سمجھتا ہوںکہ جہاں حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں بھی بجٹ مختص کریںوہیں پی ایف ایف کی بھی ذمے داری ہے جس نے فیفا سے کروڑوں ڈالر فنڈز لیے ہیں وہ اس پر بھی کام کریں۔ فیصل صالح حیات نے 15سال کا عرصہ گزارا،اگر 8سال میں 200بچے بھی اکیڈمی میں ڈالتے تو آج کم از کم 100 بہترین پلیئرز ہمارے سامنے موجود ہوتے۔
سوال۔ سندھ اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کھیلوں میں کیا کردار ہے۔؟
جواب۔ اس وقت پاکستان میں دو نالائق ادارے سندھ اسپورٹس اورپاکستان اسپورٹس بورڈ موجود ہیں کیوں کہ اسپورٹس فنڈز صحیح معنوں میں کھیلوں کی مد میں خرچ نہیں کیے جارہے جوکھیلوں اورکھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہ فنڈز لوگوں کی جیب میں جارہے ہیں ۔گزشتہ دنوں میری ملاقات وزیراعلیٰ سندھ سے ہوئی جس میں نے ان سے گزارش کی کہ اگریہ فنڈز ہمیں دیے جائیں تو ہم ان فنڈز کو کھیلوں کے فروغ کے لیے استعمال کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم وعدہ کرتے ہیں تین سے چار سالوں میں فٹبال کو ایشیا میں وہ مقام دلائیں گے جو آج دوسری ٹیموں کا ہے۔
سوال۔ کیا فٹبال ذرمبادلہ میں بہتری کا سبب بن سکتا ہے؟
جواب۔ جی ہاں ۔ فٹبال سمیت تمام کھیل ذرمبادلہ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ باہر ممالک میں دیکھاجائے تو ان کے پلیئرز آج سالانہ اربوں ڈالر زرمبادلہ اپنے ملک بھیجتے ہیں ،ان سے ان کی معیشت بھی دن بدن بہتر ہورہی ہے ۔ تاہم پاکستان میں اسے ایک فالتو چیز سمجھا جاتا ہے ،اس لیے اس پر کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی۔ افریقا کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے کھلاڑی بھی آج کروڑوں ڈالر اپنے ملک بھیج رہے ہیں۔ ہمارے پلیئرز اگر باہر جاکر کھیلتے ہیں تو ایک طرف وہ اپنے گھر والوں کی کفالت کرتے تو دوسری طرف زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بن کر ملک وقوم کی خدمت بھی کرتے ۔ فٹبال دنیا میں ایک صنعت کا درجہ اختیار کرگئی ہے مگرہمارے ہاں اس پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں۔ آج دنیا میں جہاں فٹبال کی تعلیم دی جارہی ہیں وہیں ملک بھی فتح کیے جارہے ہیں۔ برازیل کے لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کا صد ر کون ہے مگرانہیں یہ معلوم ہے کہ ان کی فٹبال ٹیم کا کپتان کون ہے ،اسی طرح نیمار کی تعلیم کسی کو معلوم نہیں ،لیکن یہ معلوم ہے کہ وہ سالانہ کتنا کماتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم اسپورٹس مین رہ چکے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ انہوںنے اب تک کھیلوں سے متعلق کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔
سوال۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن کا آئندہ کا کیا لائحہ عمل ہے۔؟
جواب۔ پی ایف ایف اس وقت انٹرسٹی فٹبال چیمپئن کا انعقاد کرانے جارہی ہے۔ جس میں گراس روٹ لیول سے کام ہورہاہے۔ اس کے بعد صوبائی سطح پر ٹورنامنٹس کا انعقاد کیاجائے گا ،اس کے علاوہ دیگر کئی ٹورنامنٹس ایسے ہیں جن کے بارے میں حتمی فیصلہ جلد کیاجائے گا۔ ہماری بھرپور توجہ اس چیز پر ہے کہ کس طرح پاکستان فٹبال کو دیگر ممالک کے ہم آہنگ کیاجائے اور کس طرح ہم اپنے کھیل کو نکھار سکتے ہیں۔ یہ تمام پروگرام اس وقت پائپ لائن ہیں ۔ فٹبا ل کی ترقی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال۔ پی ایف ایف کی موجودہ باڈی جہاں مالی معاملات کی شکارہے وہیں اس کے فیصلے بھی رد کیے جارہے ہیں ،اس کی وجہ ہے؟
جواب۔ مالی معاملات خرا ب ہیں اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن فیصلوں کے حوالے سے جو بات آپ نے کی ہے اس پر میں یہ کہوںگا کہ پشاور میں فٹبا ل سپر لیگ کے حوالے سے پی ایف ایف نے باقاعدہ اجازت نہیں دی تھی لیکن اسپورٹس بورڈ اس ایونٹ میں شریک رہا۔ ان معاملات میں انتظامی اجازت درکار ہوتی ہے۔ آج وہی لوگ ہیں جو پہلے خود سے یہ ٹورنامنٹ کرانا چاہ رہے تھے مگر اب باقاعدہ اجازت لے کر ٹورنامنٹ کرایاجارہاہے۔ انتظامی معاملات میں گرائونڈ اور دیگر لوازمات پورے کرنا لازمی ہوتا ہے اس کے بغیر کوئی بھی کھیل ترقی نہیں کرسکتا۔ اس پر پی ایف ایف نے جائز ایکشن لیا تھا جسے بعدازاں خود ان لوگوںنے قبول بھی کیا۔ کیوں کہ فٹبال چلانا اسپانسر کا کام نہیں ہے۔ اس لیے سب کو مل کر چلناچاہیے تاکہ معاملات خراب نہ ہو۔
سوال۔ کراچی یونائٹیڈ فٹبال فائونڈیشن کا کیا مقصد ہے۔ یہ بظاہر این جی اوز کے طورپرکام کررہی ہے مگر ان کی بھاری فیس کھلاڑی کہاں سے اداکریں؟
جواب۔ کراچی یونائٹیڈ کو ہم نے رجسٹرڈ کرایا ہے۔ ہم یہ چاہتے تھے کہ پوش علاقے کے پڑھے لکھے لوگ بھی اس میدان میںآئیں۔ اس پر ان لوگوںنے کافی کام کیا ہے۔ قطر جانے والی ٹیم بھی کراچی یونائٹیڈ نے تیار کی تھی یہ ایک بہترین کام رہا ہے ۔ تاہم جن باتوں کی آپ نشاندہی کررہے ہیں اس پر لوگ بھی سوال اٹھا رہے ہیں ،ہمیں بھی اس پر خدشات ہیں ۔ کچھ وقت پہلے کی بات ہے جب میری ملاقات قطر کے اہم عہدیدار سے ہوئی تو انہوںنے کہاکہ ہم نے لیاری کے لیے ایک پچ فراہم کی ہے اور اس کا انہوںنے ہمیں لیٹر بھی دکھایا لیکن وہ پچ ڈیفنس میں لگائی گئی اس میں لیاری کا نام استعمال کیاگیا،اس سے یہ تاثر بھی عام ہورہاہے کہ کراچی یونائٹیڈ لیاری کے نام پر کام کررہی ہے مگر لیاری کو اس کا حق نہیں دیاجارہا۔ ہمارا مقصد انہیں کام سے روکنا ہرگز نہیں ہے مگر لیاری کانام لے کر فنڈز حاصل کرکے اسے دوسری جگہ لگانا غلط کام ہے۔ اسی طرح ہمارے علم یہ بات بھی آئی ہے کہ قطر جانے والی ٹیم کے بچوں کی بھی حق تلفی کی گئی ہے۔ مگر ہم ان کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیںڈالناچاہتے ،ہمارامقصد فٹبال کا فروغ ہے،وزیراعلیٰ سندھ سے جب قطر والی ٹیم کی ملاقات ہوئی تو میں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ ان بچوں کے تعلیمی اخراجات اور کفالت کی جائے کیوں کہ یہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے فوری ہامی بھرتے ہوئے فی بچہ ایک ،ایک لاکھ روپے اور کوچزکو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ جب میں نے کے یو سے بچوں کی دستاویزات مانگی تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگے۔ جس پر میں نے ان پر واضح کیا کہ پیسے ان بچوں کو ہی ملیں گے جو قطر گئے تھے۔ آج کئی روز گزرنے کے باوجودان لوگوں نے بچوں کے دستاویزات نہیں دیے ۔ بے شک پیسہکراچی یونائٹیڈ کے اکائونٹ میں جائے مگر ملنا بچو ں کو چاہیے کیوں کہ یہ ان کا حق ہے۔ ہم پھر بھی ان پرکوئی پابندی لگانے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم چاہتے ہیں کراچی یونائٹیڈ اپنا قبلہ درست کرلے۔ اس کے علاوہ کراچی یونائٹیڈ کے ایم سی کے گرائونڈ استعمال کررہی ہے مگر اس مد میں کے ایم سی کو کچھ نہیں دیتی۔یہ کوچز کی مہربانی ہے جو گرائونڈ کے ساتھ ساتھ اکیڈمی کو بھی ٹائم دے رہے ہیں مگر اس کا سارا کریڈٹ کراچی یونائٹیڈ خود لے رہاہے ۔ قطر جانے والی ٹیم کے کوچ محمد صادق کی تنخواہ کراچی یونائٹیڈ محض 6ہزار روپے ادا کررہا ہے جس سے اس کا پیٹرول بھی پورا نہیں ہوتا،مگر یہ فٹبال سے پیارکرنے والے لوگ ہیں اس لیے اب تک ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کراچی یونائٹیڈ کو چاہیے کہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرے اور جس کا جو حق ہے اسے ادا کرے۔ کیوں کہ کراچی یونائٹیڈ اب ایک مالیاتی ادارہ بن چکا ہے اور اسے اپنے کوچز اورکھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ گرائونڈ کی تزئین وآرائش کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔
سوال۔حالیہ ہونے والے ٹورنامنٹ کے دوران کہیں بھی پیرامیڈیکل اسٹاف یا ایمبولینس موجود نہیں،اس کی کیاوجہ ہے؟
جواب۔ ہر ٹورنامنٹ میں ایک میڈیکل ایڈبکس لازمی ہوتا ہے مگر یہ درست ہے کہ کوئی پیرامیڈیکل اسٹاف یا کوئی ماہر اسٹاف موجود نہیں جو فوری طورپر کسی کھلاڑی کو سیریس حالت میں طبی امداد فراہم کرسکے۔ اس پر ہم کام کررہے ہیں ۔ ایمبولینس کے حوالے سے فیصل ایدھی بھی بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ ہمیں جب کبھی ایمبولینس درکار ہوئی انہوںنے فوری طورپر مہیا کی۔ اسی طرح چھیپا کا بھی بھرپور تعاون رہتا ہے۔
سوال۔ فٹبال سے پیارکرنے والے لوگوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
جواب۔ میرا کھیلوں سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ ہی پیغام ہے کہ وہ ہمت سے کام لیں ،بہت جلد ہم کھیلوں کو اس کے جائز مقام تک پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ میںروزنامہ جسارت کا بھی بے حد مشکور ہوں جو فٹبال کے فروغ میں اپنا بھرپور کردارادا کررہا ہے۔ اسی طرح دیگر میڈیا اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی فٹبال کی ترقی میں اپنا اہم کرداراداکریں۔

پا کستان فٹبال فیڈریشن کی واحد ملکیت فٹبال ہائوس

لیاری میں قائم فٹبال ہائوس کی بنیاد 1975ء میں عبدالستار ؓگبول وفاقی وزیر نے رکھی جو پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر بھی تھے ۔ یہ تین منزلہ عمار ت جو 16کمروں پرمشتمل ہے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی واحد ملکیت تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں فٹبال فیڈریشن کی کوئی ملکیت نہیں،اگر کہیں عمارت ہے تو زمین کسی اور کی ہے اور زمین ہے تو عمارت کسی اور کی ہے۔پاکستان فٹبال فیڈریشن کا موجودہ آفس بھی پنجاب اسپورٹس بورڈ کی ملکیت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف گول پروجیکٹ بھی جہاں جہاں بنائے وہ بھی پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ملکیت میں نہیں ہیں۔یہ واحد عمارت ہے جو پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ملکیت ہے جو فٹبال ٹرسٹ کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ جسے سیکریٹریٹ درجہ دینا چاہیے تھا مگر ایسا نہ ہو سکا۔
جہاں فٹبال ہائوس کا قیام بھٹو دور میں ممکن ہوا وہیں اس عمارت کو 1995ء میںبے نظیر بھٹو کے دورمیں مکمل کیاگیا۔ تاہم افسوس کی بات ہے عمارت تو تعمیر کردی گئی مگر کسی نے بھی فٹبال ہائوس کو بنیادی ضروریات مہیا نہیں کیں۔ ٹیبل ،کرسیا،اسٹیشنری سمیت تمام سامان ڈی ایف اے سائوتھ کی کائوشوں کا نتیجہ ہے جس نے اپنی کفایت شعاری کے ذریعے فٹبال ہائوس کو سامان مہیا کیا۔ لیکن آج بھی یہاں کئی سامان درکار ہے ، اس کے ساتھ ساتھ یہاں فٹبال لائبریری کے قیام کے لیے بھی جدوجہد کی جارہی ہے ۔ باہر سے آنے والی ٹیمیں یہاں رہائش اختیار کرتی ہیں جن کے رہنے کا یہاں کوئی معقول بندوبست نہیں،جس کی وجہ سے کھلاڑی اضطراب کی حالت میں اپنے دن قیدیوں کی طرح گزارتے ہیں جہاں نہ تو کھانے پینے کا کوئی معقول بندوبست ہے اور نہ ہی رات گزارنے کے لیے بیڈ یا میٹریس ہیں ۔ کراچی سے باہر کی آنے والی ٹیمیں اخراجات کم سے کم کرنے کے لیے یہاں رہائش اختیار کرتی ہے۔ ہوٹل کے اخراجات نہ تو کلب برداشت کرسکتا ہے اور نہ ہی فیڈریشن اتنے اخراجات کرنے کی متحمل ہوسکتی ہے۔ ناکافی سہولیات کے باوجود کھلاڑی یہاں رہائش اختیار کرنا بہتر سمجھتے ہیں ۔تاہم ناصر کریم بلوچ کی بھرپور کوشش ہے کہ فٹبال ہائوس کے تمام لوازمات کو جلد سے جلد پوراکیاجائے تاکہ کھلاڑیوںکوجہاں آسانی میسر ہو وہیں ان کے اخراجات بھی کم سے کم ہوں ساتھ ہی عہدیداران بھی پرسکون ماحول میں اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

رحیم بخش کو برطرف کرنا صدر فیڈریشن کا خوش آئند اقدام ہے ،جمیل ہوت

عبدالرحمن کی بحیثیت سیکریٹری سندھ تعیناتی سے سندھ میں فٹبال کو فروغ حاصل ہوگا،ناصر کریم بلوچ
فیصل صالح حیات نے رحیم بخش کی معاونت سے سندھ کے فٹبالرز میں گروہ بندی کی،حاجی اقبال خان

سیکریٹری ڈی ایف اے ساؤتھ کے گروپ لیڈروپاکستان فٹبال فیڈریشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ناصر کریم بلوچ، ڈی ایف اے سائوتھ کے صدر ورکن پی ایف ایف ایگزیکٹو کمیٹی جمیل ہوت اورجنرل سیکریٹری حاجی اقبال خان نے رحیم بخش بلوچ کو سیکرٹری سندھ کے عہدے سے برطرف کرنے کے اقدام کو انجینئر اشفاق حسین شاہ صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن کاخوش آئند اقدام قراردیا ہے۔انہوںنے کہاکہ رحیم بخش کی وجہ سے سندھ کی فٹبال دو گروپوںمیں تقسیم ہوگئی اور فٹبالرز جو آپس میں بھائی بھائی کی طرح باہم شیروشکر تھے دو گروپوں میں تقسیم ہوگئے۔سابق صدر فیصل صالح حیات جس نے پاکستان میں فٹبال کو فروغ دینے کے بجائے فیفا اور اے ایف سی میں اپنے تعلقات کو بہتر بنانے اور ڈالرجمع کرنے کواپنی زندگی کا مشن بنالیااور رحیم بخش جیسے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر پاکستان کی فٹبال کو تباہ اور فٹبالرز کو باہم دست و گریباں کردیا۔ فیفا اور اے ایف سی کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی مراعات اور دورے صرف اور صرف خادم علی شاہ ، کرنل (ر) احمد یار لودھی اور اپنے تک محدود کرکے سیرسپاٹے اور ڈالرز بناتے رہے اور یہ سلسلہ اے ایف سی کی مدد سے ہنوز جاری ہے۔فیفا اور اے ایف سی فیکٹس فائنڈنگ کمیٹی کا رواں ماہ دورہ ملتوی کراکے پاکستان کو ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے سے محروم کردیا۔ جس سے پاکستان کے فٹبالرز کے لیے ان کی محبت اور نیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے تینوں صوبوں میں فٹبالرز باہم اتحاد و یکجہتی کے ساتھ فٹبال کی ترقی کے لیے کمربستہ ہیں لیکن سندھ میں رحیم بخش کا ٹولہ فٹبالرز کے مابین رنجشیں اور دشمنیاں پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
صدر فیڈریشن نے عبدالرحمن کو نیا سیکرٹری سندھ نامز کرنے پر ان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے اسے فٹبال کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ جس کے جلد مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور توہین عدالت کے مرتکب ہونے والے ذمہ داران فٹبال جلد قانونی گرفت میں آئیں گے۔