مریض کو دباؤ میں رکھنا تشدد کے مترادف ہے،بلاول کی جیل میں نوازشریف سے ملاقات

123
لاہور: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
لاہور: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ مریض کو دباؤ میں رکھنا تشدد کے مترادف ہے،نوازشریف اپنے اصولوں پر قائم ہیں،نہیں لگتا کوئی ڈیل ہورہی ہے جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کچھ بھی کرلے جیل مجھے نہیں توڑ سکتی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔بلاول نے نواز شریف کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا۔بلاول اور نواز شریف کی ملاقات ایڈیشنل جیل سپریٹنڈنٹ کے کمرے میں ہوئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نواز شریف مکمل پر عزم اور با اعتماد تھے۔بلاول زرداری نے نواز شریف سے کہا کہ میاں صاحب آپ 3 بار وزیر اعظم رہے ہیں یہ لوگ زیادہ دیر آپ کو بند نہیں رکھ سکتے،امید ہے اگلی ملاقات جیل سے باہر ہوگی۔بلاول کی بات پر نواز شریف نے ہنس کر جواب دیا یہ بھی کہہ دیں یہ ملاقات جلد سے جلد ہو،حکمران کچھ بھی کرلیں جیل مجھے نہیں توڑ سکتی۔بلاول نے نواز شریف کو این آئی سی وی ڈی میں علاج کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب سندھ حکومت این آئی سی وی ڈی میں عالمی معیار کا علاج کرانے کو تیار ہے،اس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ علاج تو میں خود بھی کرا سکتا ہوں، حکمران اجازت تو دیں ،یہ لوگ میرا علاج کرائیں، میرا تماشا تو نہ بنائیں، مجھے اسپتال لے جایا جاتا ہے بلڈ پریشر اور بلڈ ٹیسٹ کرا کر واپس جیل لے آتے ہیں،علاج نہیں کراتے،بلاول صاحب ہم نے جو غلطیاں کیں سو کیں مگر اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں،تسلیم کرتا ہوں کہ آئین کے آرٹیکل 62،63ختم کرنے کی پیپلز پارٹی کی پیشکش ٹھکرا کر غلطی کی۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل جیل سپریٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پورا وقت ملاقات میں موجود رہے اور نواز شریف کو ایک لمحے بھی اکیلا نہیں چھوڑا گیا۔ نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں کی چائے سے تواضع کی گئی۔بلاول زرداری اور نواز شریف نے ملکی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ بلاول نے نواز شریف سے کہا کہ ملکی معاملات میں بہتری کے لیے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا ،حکومتی رویے حالات میں بہتری کے بجائے خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔نواز شر یف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول زرداری نے کہاکہ میں میاں صاحب کی خیریت دریافت کرنے جیل پہنچا تھا،یہ میرے لیے ایک تاریخی دن ہے اسی جیل میں شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی قید رہے،پیپلزپارٹی کے کارکن بھی آمریت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے سیاسی قیدی بنے تھے ۔ بلاول نے کہاکہ مجھے کافی دکھ ہورہاتھا کہ ایک آدمی جو اس ملک کا 3بار وزیراعظم رہااور آج وہ کوٹ لکھپت جیل میں سزا بھگت رہا ہے ،میں کچھ عرصے سے ملک سے باہر تھا اور خبریں آرہی تھیں کہ میاں صاحب بیمار ہیں اور ان کی بیٹی اور پارٹی کی طرف سے کافی تشویشناک بیانات بھی آئے،ملاقات میں نواز شریف کافی بیمار لگ رہے تھے، سیاسی اختلافات ہوتے ہیں ہمارا دین اور کلچر بھی یہی کہتا ہے کہ بیماروں کی عیادت کرنی چاہیے،ہمارے حکمرانوں کو پہلے انسان اور پھر حکمران ہونا چاہیے،میں سمجھتا ہوں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے،حکومت کا فرض ہے بیمار کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرے، صحت سب کی ترجیح ہونی چاہیے،ہم نوز شریف کی صحت کے لیے دعا کرتے ہیں ، پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے درمیان ایک طویل تاریخ ہے،ہمارے درمیان بہت سے سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن جہاں تک صحت اور انسانیت کی بات آتی ہے پیپلزپارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ نواز شریف کو ان کی مرضی کے مطابق بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں،مجھے امید ہے کہ وزیراعظم اور حکومت انسانی بنیادوں پر سوچے گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہماری ناکامی ہے کہ ہم نے پورے چارٹر آف ڈیمو کریسی پر عمل نہیں کیا،ہم نے عدالتی اصلاحات پر کام نہیں کیا،آمریت کے دور میں جو کالا قانون ہماری غذا میں ڈالا گیا اسے ختم نہیں کیا،پیپلز پارٹی یہ سوچ رکھتی ہے کہ ہمیں میثاق جمہوریت پر عمل کرنا چاہیے ،سیاسی مشکلات اور نظام میں جو کمزوریاں ہیں ان پر بھی بات کرنی چاہیے ان کا حل بھی نکالنا چاہیے اور اس کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی رائے لینی چاہیے ، نواز شریف سے ملاقات میں میثاق جمہوریت پر بھی با ت ہوئی،امید ہے ہم اسے آئندہ مزید مضبوط وفعال بنائیں گے،نواز شریف نے خود کہا ہے کہ اب وہ نظریاتی بن گئے ہیں اور نظریاتی عزم کیساتھ سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے ، میاں صاحب بیمار ضرور ہیں لیکن مجھے تو کوئی ایسا نہیں لگا کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے یا میاں صاحب کوئی کمپرو مائز کرنے کے لیے تیارہیں،میاں صاحب اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور (ن)لیگ بھی اپنے اصولوں پر قائم رہے گی،میاں صاحب دل کے مریض ہیں،دل کے مریض کو دباؤ میں رکھنا تشدد کے مترادف ہے ،ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور حکومتی کردارپربھی بات چیت ہوئی مگر زیادہ تر بات چیت نواز شریف کی صحت سے متعلق ہوئی ، میرا جیل جانا صرف میاں صاحب کی عیادت تھا،اتحاد یا سیاسی بات کرنے کے لیے نہیں تھا جہاں تک الائنس کی بات ہے تو یہ قبل ازوقت ہے۔انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے جاہل اسد عمر نے میری انگریزی پر تنقید کی جس کمپنی میں اسد عمر کام کرتا تھا وہاں اردو میں بات کرتا تھا یا انگریزی میں؟ ۔انہوں نے کہاکہ( ن) لیگ کی قیادت سے رابطہ رہتا ہے،اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے،اس سے عام آدمی اور وزیراعظم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں(ن)لیگ کی مرکزی رہنمامریم نواز نے بلاول کی جیل میں نواز شریف سے ملاقات پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ میں بلاول کی بہت شکر گزار ہوں،ان کی فکر مندانہ اور مدبرانہ سوچ قابل قدر ہے۔