بالا کوٹ حملہ سیاسی ڈرامہ تھا،سابق بھارتی نیول چیف

188

نئی دہلی(خبر ایجنسیاں) بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) رام داس نے مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالاکوٹ پر فضائی کارروائی کا ڈراما ووٹرز کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے رچایا گیا تھا ۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا چہرہ عالمی میڈیا کے بعد اب خود بھارتیوں کے ہاتھوں بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔ سابق فوجی افسران بھی مودی کو آڑے ہاتھوں لینے لگے۔بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ریٹائرڈ رام داس نے الیکشن کمیشن کو لکھے خط میں وزیراعظم مودی کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج ہمیشہ سے غیر سیاسی اور سیکولر اقدارکی حامل رہی ہے لیکن حالیہ واقعات میں فوج کے سیاسی استعمال سے فوج میں ہندو انتہا پسندی پھیلنے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ایڈمرل ریٹائرڈ رام داس نے انکشاف کیا کہ بالاکوٹ کارروائی ووٹرز کو لبھانے کے لیے کی گئی، صرف سیاسی فائدے کے لیے پاکستان میں کارروائی کی گئی جس کے لیے بھارتی فضائیہ کاغلط استعمال کیا گیا تھا، بالاکوٹ کی فضائی کارروائی فوج کی اقدار کے خلاف ہے۔بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل رام داس نے الیکشن کمیشن سے ایسے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا جس سے کوئی سیاسی جماعت جنگجو والا پیغام یا جنگ پر بغلیں بجانے کا کام نہ کرے تاکہ فوج کے سیاسی فائدے اٹھانے کے عمل کو روکا جا سکے ورنہ یہ آگ سب کو جلا دے گی۔دوسری جانب بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)پر لفظی گولہ باری کرتے ہوئے اسے یاد دلا یا ہے کہ یہ آپ کی ہی گزشتہ حکومت کے کارنامے ہیں جس نے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعوداظہر کو ایک بھارتی جیل سے رہاکیا،بھارتی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز کرناٹکا کے علاقے ہاویری میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کیا بی جے پی ان کے ساتھ نیشنل سیکورٹی ایجنسی (این ایس ای)کے اہلکاراور اورجسونت سنگھ کو نہیں بھیجا تھا۔

اسلام آباد/سکھر (خبر ایجنسیاں) پاکستان نے بھارت کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایشیا پیسیفک گروپ کی شریک چیئرمین شپ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے گروپ کی سربراہی کسی دوسرے ملک کو دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے ایف اے ٹی ایف کے صدر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گروپ میں بھارت کے بجائے کسی اور ملک کو شامل کیا جائے کیوں کہ بھارت پاکستان سے متعلق جانبدارانہ رائے اور متعصبانہ عزائم رکھتا ہے۔خط میں تحریر ہے کہ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی بھی خلاف ورزی کی اور بھارت پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کے لیے سرگرم ہے۔وفاقی وزیرخزانہ کے خط کے متن کے مطابق ایف اے ٹی ایف ایشیا پیسفک گروپ میں بھارت کی شمولیت سے پاکستان ہراساں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کررہا ہے لیکن ان کوششوں کے باوجود بھارت پاکستان کے خلاف سیاسی تقاریر کررہا ہے۔اسد عمر نے خط میں بھارتی وزیر خزانہ کے خط کا بھی حوالہ دیا جس میں بھارتی وزیر خزانہ نے 18 فروری کے اجلاس میں پاکستان کوبلیک لسٹ کرنیکا مطالبہ کیا تھا۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے آرمی کیپ پہننے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ لب و لہجہ الیکشن تک مودی کی مجبوری ہے، اگر وہ نرمی اختیار کریں گے تو وہ ویسے ہی سیاسی طور پر دباؤ کا شکار ہیں، بھارت کی اپوزیشن ان کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کررہی ہے وہ پلوامہ کی حقیقت بتانے کا مطالبہ کررہے ہیں، مودی کے بیانیے کو بھارت میں تسلیم نہیں کیا جارہا، ان حالات میں کیا توقع کی جاسکتی ہے وہ امن کے گیت گائے گا؟۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مصلحتوں کو سمجھنا ہوتاہے ہمیں مودی کی مجبوری کا ادراک ہے، نہیں چاہتے ہم کوئی گنجائش دیں جس کا بہانہ بناکر ان کو جارحیت کا موقع ملے، ہم انہیں کوئی موقع نہیں دینا چاہتے، ان کو واضح پیغام دے چکے ہیں، ہم اپنی افواج کی کارروائی سے امن کا پیغام دے چکے ہیں لیکن جارحیت کی گئی تو دفاع کی صلاحیت اور حق رکھتے ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی ٹیم نے اپنی کھیل کی ٹوپیاں اتار کر فوج کی ٹوپیاں پہنیں، کیا یہ آئی سی سی کو دکھائی نہیں دے رہا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اب یہ آئی سی سی کی ذمے داری ہے کہ وہ پی سی بی کے بن کہے اس چیز کا نوٹس لے۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ کشمیر کا مسئلہ 1948ء سے زیرِ بحث ہے اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں، پاکستان آج بھی ان قراردادوں کا پابند ہے لیکن بھارت وعدہ کرکے فرار اختیار کررہا ہے، آج دنیا کی نظر پھر بدل رہی ہے آج اقوام متحدہ کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جو جون 2018 کی ہے، اس وقت کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ نے رپورٹ بنائی جس میں اس نے کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لیا ہے اور وہ رپورٹ سفارش کررہی ہے کہ ایک انکوائری کمیشن بنایا جائے جو سارے حالات کا جائزہ لے کر دنیا کو صورتحال بتائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ’آج برطانیہ کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران پلوامہ واقعے پر سوالات اٹھارہے ہیں، برسلز میں اجلاس ملتوی کرنے کے لیے بھارت نے دباؤ ڈالا لیکن اس کے باوجود اجلاس ہوا اور وہاں بھارتی پالیسی پر سوالیہ نشان اٹھائے گئے، آج بھارت سے آوازیں اٹھ رہی ہیں جو کہہ رہے ہیں کشمیر آپ کھو چکے ہیں، یہ میں نہیں کہہ رہا، فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کہہ رہے ہیں۔