برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ میں تاخیر منظور کرلی

148
لندن: برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ کا معاملہ مؤخر کرنے پر حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان گرما گرمی ہورہی ہے
لندن: برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ کا معاملہ مؤخر کرنے پر حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان گرما گرمی ہورہی ہے

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں نے بریگزٹ کے عمل میں تاخیر کے حق میں ووٹ دے دیا ۔ خبررساں اداروں کے مطابق تاخیر سے متعلق برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے اس منصوبے کے حق میں 502 اور مخالفت میں صرف 20 ووٹ پڑے ۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج 29 مارچ کو ہونا ہے۔ وزیر اعظم تھریسا مے برسلز کے ساتھ طے پائے معاہدے میں رد وبدل کی خواہاں ہیں، جس کے بعد انہیں امید ہے کہ برطانوی پارلیمان اس معاہدے کو تسلیم کر لے گی، تاہم اگر ایسا نہ ہو سکا تو پارلیمان میں اس بات پر مارچ کے دوسرے ہفتے میں رائے شماری کرائی جائے گی کہ آیا برطانیہ کو بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے الگ ہو جانا چاہیے یا نہیں۔ ادھر برطانوی وزیر زراعت جارج ایوسٹس نے بریگزٹ کی تاخیر کے معاملے پر رائے شماری کرانے پر ناراض ہوکر استعفا دے دیا۔ اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا کہ وہ آیندہ ہفتوں میں بریگزٹ پر ہونے والی گرما گرم میں شرکت نہیں کرنا چاہتے اور اس سے بچنے کے لیے استعفا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رائے شماری کے بعد ارکان پارلیمان بریگزٹ سے واپسی کا مطالبہ کریں گے اور یہ دنیا بھر میں ملک کی ذلت کا سبب بنے گا۔ دوسری جانب برطانیہ کی مرکزی حزبِ مخالف جماعت لیبر پارٹی نے برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارلیمان نے لیبر پارٹی کا پیش کردہ متبادل بریگزٹ منصوبہ بدھ کے روز رائے شماری سے مسترد کر دیا تھا۔ لیبر پارٹی عندیہ دے چکی ہے کہ اس کی تجاویز رد کیے جانے پر وہ دوبارہ ریفرنڈم کرائے جانے کی حمایت کرے گی۔ یورپی یونین سے انخلا کے لیبر کے شیڈو منسٹر میتھیو پینی کک نے پارلیمان میں کہا کہ ایسی صورت میں لیبر مستقبل میں عوامی رائے دہی کے ذریعے پارلیمان میں ایسی ترامیم کی تجویز دے گی یا حمایت کرے گی جس میں عوام کو اس پارلیمان کے توثیق شدہ انخلا کے قابل اعتماد راستے اور یورپی یونین میں رہنے میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ہو۔