سی پیک میں ملاکنڈ ڈویژن اور دیر کو بھی شامل کیا جائے،سراج الحق

180
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق ادارہ نورحق میں دیربالا اوردیر پائیں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اعزاز میں استقبالیے سے خطاب کررہے ہیں
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق ادارہ نورحق میں دیربالا اوردیر پائیں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اعزاز میں استقبالیے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سی پیک میں مالاکنڈ ڈویژن اور دیرکو بھی شامل کیا جائے ، کراچی ایک غریب پرورشہر ہے اورشہرکی برکت سے ہرملک کے ہر حصے سے آنے والا شخص یہاں آکر اپنے خاندان کی کفالت کرتاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے ادارہ نورحق میں دیر بالا اور دیر پائیں کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اعزاز میں استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔استقبالیے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، ڈسٹرکٹ دیربالا کے ناظم صاحبزادہ فصیح اللہ ، ڈسٹرکٹ لوئر دیرکے نائب ناظم عبد الرشید ، رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے تمام مہمانوں کو فرداًفرداًاجرک کا تحفہ پیش کیا۔اس موقع پر سابق امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب ، ڈپٹی سیکرٹری کراچی راشد قریشی ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ،سٹی کونسل میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیدڑجنید مکاتی اور دیگر بھی موجود تھے۔دیر بالا اور دیر پائیں کے منتخب نمائندوں میں اپوزیشن لیڈر حاجی عنایت اللہ سمیت جماعت اسلامی ، عوامی نیشنل پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی سے وابستہ بلدیاتی نمائندے اور معززین شامل تھے۔سراج الحق نے کہاکہ کراچی پاکستان کی ماں اور منی پاکستان ہے ، یہاں ملک بھر کے غریب آکر آسودہ حال ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ شہر آگ اور خون کے طوفان سے گزرا ہے، 24ہزار افراد قتل ہوئے ہیں جن میں وکلا، ڈاکٹرز ، صحافی ، علماکرام اور عام شہری شامل ہیں ، شہریوں نے بڑی مشکلات اور آزمائشیں برداشت کیں ہیں لیکن ملک کے ہر فرد کو خوش آمدید کہا ہے۔انہوں نے کہاکہ گوادر کی طرف سے جوسی پیک لائن ہے اس میں مالاکنڈ ڈویژن اور خاص کر دیر کو بھی شامل کیا جائے ،مستقبل میں اس سے علاقے کو بہت فائدہ ہوگا۔ تیمر گرہ میں میڈیکل کالج کا قیام بھی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ملک کے قانون ساز اداروں کے ارکان کی آپس میں الفاظ کی جنگ چلتی رہی ہے لیکن الحمدللہ دیر بالا اور دیر پائیں کے ڈسٹرکٹ کونسلزمیں ماحول بہت خوشگوار ہے تمام ارکان ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون اور شائستگی کا برتاؤ کرتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے تمام مہمانان گرامی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی آمد کاشکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ سندھ کے بلدیاتی نظام میں بڑی خرابیاں ہیں ، نعمت اللہ خان کے دور میں جو ترقیاتی کام ہوئے تھے، اس کے بعد سے شہر کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ہم نے شہری مسائل کے حل کے لیے پبلک ایڈ کمیٹی قائم ہے جس کے ذریعے ہم نے کے الیکٹرک ، نادرا اور صفائی ستھرائی سمیت دیگر مسائل پر عوام کی ترجمانی کی ہے ، نادرا کا مسئلہ کافی حد تک حل کرایا ہے۔ ہم نے شہر کی خدمت کی مثال قائم کی ہے ، نعمت اللہ خان کے دورمیں ہم نے مثالی ترقیاتی کام کیے۔صاحبزادہ فصیح اللہ نے سینیٹر سراج الحق اور جماعت اسلامی کراچی کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ دیر بالا سے 26ارکان کا مطالعاتی دورہ ہے ، کراچی آنے سے قبل ہم نے لاہور کا بھی دورہ کیا اور وہاں کے بلدیاتی نظام کو قریب سے دیکھا ،دونوں جگہ ہم نے دیر پائیں اور دیر بالا کے بلدیاتی نظام کے بارے میں لوگوں کو بتایا اور تبادلہ خیال کیا۔ہمارے دورے کا ایک مقصد سیاحت کو فرو غ دینا بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں ان ممالک نے بڑی ترقی کی ہے جن کا بلدیاتی نظام مضبوط ومستحکم اور فعال ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخواکے اندر اور پورے ملک میں بھی بلدیاتی نظام فعا ل اور مضبوط ہو تاکہ عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل ہوں اور عوام کو ریلیف ملے ، ہم اپنے ترقیاتی بجٹ کا 20فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں ،ہم نے بورڈ کے اندر نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو 10 لاکھ روپے کے وظائف دیے ہیں 70لاکھ روپے کے لیپ ٹاپ بھی طلبہ کو فراہم کیے گئے۔عبد الرشید نے کہاکہ ہم نے مختلف صوبوں میں اہم شہروں اور اضلاع کے دورے کیے اور آج کراچی کے دورے پر ہیں ، سب کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ، ہم نے اپنے سارے بجٹ متفقہ طور پر منظور کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں ہم نے دیکھا کہ صفائی کا نظام انتہائی ناقص اور خراب ہے اور عوام بہت پریشان ہیں ، کراچی کے ڈپٹی میئر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں اس مسئلے کے حوالے سے جماعت اسلامی کی قیادت اور رکن سندھ اسمبلی عبد الرشید کو بھی اپنا کردار اد ا کرنا چاہیے۔سید عبد الرشید نے کہاکہ ہم برسوں سے شہری مسائل پر آواز اٹھارہے ہیں اور حکومت کو متوجہ کررہے ہیں۔سندھ میں پیپلز پارٹی کے مستقل اقتدار کے باوجود لیاری آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ، کراچی میں صفائی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے اورارسا سے ملنے والا پانی کراچی کی ضرورت سے کم ہے۔کے 4منصوبہ نعمت اللہ خان کے دور میں شروع کیا گیا تھا جس کی لاگت 36ارب روپے تھی لیکن یہ منصوبہ تاحال نامکمل ہے اور اب اس کی لاگت ایک کھرب تک پہنچ گئی ہے۔