متبادل فراہم کئے بغیر شہر میں انہدامی کارروائی نہ کی جائے،حافظ نعیم الرحمٰن

73
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے عدالت عظمیٰ سے اپیل کی ہے کہ کراچی میں 500عمارتیں گرانے سے قبل تمام فریقین کو سنا جائے اور متعلقہ اداروں کے ذمے داران کو بھی طلب کیا جائے جن کی اجازت اور نگرانی میں یہ تعمیرات کی گئیں ، جن لوگوں کو پہلے سے بے دخل کیا جا چکا ہے ان کو متبادل فراہم کیا جائے اور آئندہ کوئی بھی انہدامی کارروائی متبادل فراہم کیے بغیر نہ کی جائے ، قانونی اور جائز تعمیرات گرانے کے بجائے شہر میں پارکوں ، کھیل کے میدانوں ، رفاہی پلاٹوں اور سر کاری اراضی پر قبضہ کر نے اور چائنا کٹنگ کر نے والوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ عدالت عظمیٰ کے حکم کی آڑ میں کے ایم سی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائیوں سے شہر ملبے کا ڈھیر اور ماتم کدہ بن گیا ہے، ماسٹر پلان حالات وقت اور آبادی میں اضافے کے مطابق تبدیل ہوتا ہے ، کمشنر کراچی کے مطابق شہر کا اصل ماسٹر پلان موجود ہی نہیں ہے تو پھر کراچی کو کس پلان کے تحت ٹھیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟ 500عمارتوں کا انہدام قبول نہیں اس طرح کی بات کر کے چائنا کٹنگ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔1988ء سے شہر میں جو کچھ ہوا ہے اس میں متحدہ اور پیپلز پارٹی برابر کی شریک ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کی پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ ، ڈپٹی سیکرٹری راشد قریشی ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق کی گئی تعمیرات اور تبدیلیوں کو کسی بھی حالت میں نہ چھیڑا جائے ۔ خلاف ضابطہ تعمیرات جن لوگوں نے قانونی ملکیتی پلاٹس پر کی ہیں ان کو ریگولرائز کیا جائے ۔ موجود پارکوں ، کھیل کے میدانوں ، اسکولوں ، اسپتالوں کو اصل حیثیت میں لے کر آنے پر توجہ دی جائے ۔ مسمار کی گئی دکانوں اور مارکیٹوں کے متاثرہ افراد کو فوری متبادل دیا جائے ۔ سرکلر ریلوے یا کسی بھی منصوبے کی زد میں آنے والی آبادیوں کو متبادل دیے بغیر نہ ہٹایا جائے ۔سندھ حکومت فوری طور پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کرے تاکہ لاکھوں شہریوں کو چین کی نیند نصیب ہو سکے ۔ حکومت سندھ اور کے ایم سی ایسا لائحہ عمل مرتب کرے کہ آئندہ کوئی بھی مستقبل میں غیر قانونی تعمیرات یا چائنا کٹنگ وغیرہ نہ کرسکے ۔جماعت اسلامی اس معاملے پر لائحہ عمل تیار کر رہی ہے ،وائٹ پیپر شائع کریں گے،ہم کسی بھی صورت مظلوم لوگو ں کو اداروں کی ظالمانہ کارروائیوں کا نشانہ بننے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے ۔ جہاں پہلے ہی کرپشن کی وجہ سے غیر قانونی کارروائیاں انجام پاتی ہیں اور پھر ان کے خلاف کارروائی کا لائسنس بھی ان ہی کرپٹ لوگوں کو مل جاتا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 90فیصد غریب اور متوسط آبادی والے شہر کو ڈیفنس اور کلفٹن کی طرح دیکھنے کی خواہش ایک خواب ہی ہو سکتاہے ۔ 40سال قبل کا کراچی بحال کرنے کے لیے 60فیصد آبادی بھی کم کرنا پڑے گی ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عدالت عظمیٰ کے حکم مورخہ 22جنوری 2019ء کی روشنی میں ایک نوٹس بڑے پیمانے پر اخبارات میں شائع کرایا ہے جس کے تحت تمام مالکان ،اتھارٹی ،سب اتھارٹی ، کرایہ داران ، قابضین ، بلڈرز وغیرہ کو مطلع کیا گیا ہے کہ ایسے تمام پلاٹس بلڈنگ ، آفسز ، ریسٹورنٹس ، شادی ہالز ، اسکولز وغیرہ جہاں کوئی بھی کمرشل سر گرمی یا کوئی بزنس ، رفاہی یا رہائشی پلاٹس کو استعمال کر کے ہو رہا ہے اور جس کی اجازت کسی بھی ادارے نے دی ہے وہ سب منسوخ کر دیے گئے ہیں اور تعمیراتی پلان بھی ان کے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور سب کو 7دن کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ ان کو اصل حیثیت کے مطابق بحال کر دیں ورنہ ان ہی کے خرچ اور نقصان پر انہدامی کارروائی کی جائے گی ۔ اس کارروائی سے کراچی کی وہ 25سڑکیں تو لازماً متاثر ہو ئی ہیں جن پر قانون کے مطابق رہائشی پلاٹس کو کمرشل حیثیت میں تبدیل کر کے تعمیرات کی اجازت تھی اور ان پلاٹس پر اس وقت ہزاروں کی تعداد میں عمارات جن میں دفاتر ، فلیٹس وغیرہ ہیں قائم ہیں ۔ پھر اصل ماسٹر پلان کے مطابق بحالی کی وجہ سے کراچی کی سیکڑوں کچی آبادیاں جن کو لیز بھی دی گئی تھی متاثر ہوئی ہیں ۔ اس طرح متاثرین کی تعداد لاکھوں خاندانوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ اگر یہی انداز اختیار کیا گیا اور اللہ نہ کرے جو ممکنہ تباہی اس شہر میں نظر آرہی ہے وہ شاید جنگوں کی صورت میں بھی نہیں پیدا ہو تی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا مؤثر دوٹوک فیصلہ جس سے لاکھوں لوگوں کی بربادی کا اندیشہ ہو اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ نہ عدالتوں سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے ۔ مروجہ قانون کے مطابق تعمیر شدہ بلڈنگز کے انہدام کا حکم تو کسی بھی قانون اور انصاف کے معیار پر قطعاً پورا نہیں اُترتا ۔ اس طرح کا حکم جس میں متعلقہ پارٹی کے موقف کو سنا ہی نہ گیا ہو اوراس کے خلاف اتنا بڑا اقدام کیا جائے جس سے صرف لوگوں کی جائداد کی تباہی نہیں بلکہ پورے خاندان کی رہائش اور کاروبار ختم ہو جائے اس کو بھی کسی طرح قابل انصاف نہیں کہا جا سکتا ۔ اصل ماسٹر پلان کے مطابق بحالی ایک خوش کن بات توہوسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو ادارے ماسٹر پلان بناتے ہیں اُنہی کو اس میں ترمیم اور اضافے کا اختیار ہو تا ہے ۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ماسٹر پلان میں تبدیلی لازمی امر ہے ۔ ماسٹر پلان بنانا عدالتوں کا نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کا کام ہے ۔ لہٰذااس میں بدنیتی کے عنصر یا خلاف قانون معاملات کا نوٹس لیا جاسکتا ہے لیکن مروجہ قانون کے مطابق پلاٹس کی حیثیت کی تبدیلی کو رول بیک کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ جس اندازمیں انہدامی کارروائیاں ہو رہی ہیں اس سے لاکھوں کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں ۔ میرج ہالز میں شادیاں طے ہو تی ہیں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ایسے خاندان کن حالات سے گزرتے ہیں ۔ کوئی ریاست یا اس کے ادارے اپنے شہریوں کو بے گھر اور بے روزگار نہیں کرتے لیکن ان کارروائیوں سے اِسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے ۔ 40سال پرانا پلان بحال کر نے کے لیے آبادی بھی وہی چاہیے جو کسی بھی صورت ممکن نہیں توپھر 40سال ہی کیوں ؟کوئی اور یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ 70سال پرانا پلان بحال کیا جائے ۔ ہمیں یقین ہے کہ جج صاحبان یقیناً وہ نہیں چاہتے جن خدشات کا ہم نے اظہار کیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ عدالتیں جج کی ذاتی خواہشات پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ دیتی ہیں ۔ ہر متاثرہ فریق کو سماعت کا بھر پور موقع دیتی ہیں ۔ عدالتیں انتظامیہ کے اختیارات خود نہیں سنبھالتیں ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ گزشتہ 40سال میں جو بد امنی شہر میں رہی ہے اور ہر ادارے میں کرپشن اور نا اہلی کا جو دور دورہ ہے اس نے اس تمام صورتحال کو جنم دیا ہے اب افسران کی کرپشن اور بلڈرز کی کمائی کے بعد صرف خریدار کی تباہی سمجھ سے بالاتر ہے ۔