ناموس رسالت ایکٹ میں تبدیلی نہیں ہوگی،عمران خان 

177
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق اجلاس ہورہا ہے

اسلام آباد (نمائندہ جسارت/ خبر ایجنسیاں) ناموس رسالت ایکٹ میں تبدیلی نہیں ہوگی، عمران خان۔ناقص معاشی پالیسیوں پر وزیر اعظم اسد عمر پر برہم۔سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مراعاتی پیکچ کا اعلان ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی آئینی ترمیم اور ناموس رسالت ایکٹ میں ردوبدل کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔یہ بات وزیراعظم پاکستان نے جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا سمیع الحق سے ملاقات میں کہی۔ دو گھنٹے کی اس ملاقات میں اہم دینی اورملکی مسائل زیربحث آئے ۔ اس موقع پر سینیٹ میں توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم کے بارے میں مسئلہ اٹھانے کو عمران خان نے کسی کی شرارت قرار دیا اور کہا کہ کابینہ میں یہ مسئلہ اور نہ کسی بھی فورم میں زیربحث آیا ہے اور میں نے اسے واپس لینے کا فوری حکم جاری کردیا ہے ۔ مولانا سمیع الحق نے انہیں قادیانیوں کے ملک دشمنی پر مبنی سامراجی سازشوں اور مغربی قوتوں کی مذکورہ دونوں آئینی ترامیم کو ختم کرنے میں درپردہ مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا اوران دونوں ترامیم کے بارے میں قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات انہیں پیش کیں۔ مولانا سمیع الحق نے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور بنگالیوں کو شہریت دینے کے اعلان کو جلد عملی جامہ پہنانے کا مشورہ دیا اوراس کے سیاسی اقتصادی اور دفاعی فوائد سے آگاہ کیاجس پر انہوں نے ا سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو کمیٹی بنا کر اسے حل کرنے کا حکم دیا۔ دینی مدارس کے بارے میں پھیلائی گئی خبروں کے بارے میں وزیراعظم نے مولانا کو یقین دلایا کہ ہم دینی مدارس کے مسائل سے آگا ہ ہیں اور ایسے کسی اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتے جس سے مدارس پر کوئی قدغن لگ سکتی ہو۔ مولانا سمیع الحق نے مدارس کی تنظیمات کے ساتھ ملاقات میں پیش کردہ تجاویز پر جلد عملدرآمد کا مشورہ دیا ۔وزیراعظم نے کہاکہ میں روز اول سے مدارس کی اہمیت سمجھتے ہوئے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور انہیں دین کے اہم مراکز سمجھتا ہوں، اورانہیں یونیورسٹیوں اور کالجز کے برابر مقام دینا چاہتاہوں۔ ملاقات میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سیاسی امورکے مشیر نعیم الحق بھی موجود تھے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی معاشی پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ناقص کارکردگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارٹی رہنماؤں کا غیر رسمی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی معاشی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے اسد عمر کی کارکردگی پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر خزانہ کو اقتصادی صورتحال پر پیشگی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی، آئی ایم ایف سے رجوع کرنے میں پس و پیش کی پالیسی سے نقصان ہوا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ اسد عمر کو ہوم ورک مکمل کرکے رکھنا چاہیے تھا، ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہونے سے عو امی رد عمل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے موجودہ اقتصادی صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے وہ قوم سے خطاب کریں گے اور انہیں روشن مستقبل کی نوید بھی سنائیں گے۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی وزیرخزانہ کی کارکردگی پر برہمی سے متعلق خبر من گھڑت ہے۔افتخار درانی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی زیرصدارت نہ تو پارٹی رہنماؤں کا کوئی اجلاس ہوا اور نہ ہی وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کی کارکردگی سے متعلق کوئی ایسا اظہار خیال کیا۔ اسد عمر وزیراعظم کے قریبی ساتھی اور پارٹی کے سینئر رہنما ہیں جو ملکی معیشت کے معاملات سے پوری طرح واقف ہیں اور وزیراعظم کو اسدعمر کی صلاحتیوں پر مکمل اعتماد ہے۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں نائیکوپ( بیرون ملک پاکستانیوں کو جاری کیا جانے والا کارڈ) کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں معاون خصوصی زلفی بخاری، نادرا ، ایف آئی اے اور وزارت ایچ آر ڈی کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بیرون ملک پاکستانیوں کے نائیکوپ ختم کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ بیرون ملک پاکستانی نائیکوپ کو آپشنل(اختیاری) استعمال کرسکیں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نادرا اور وزارتِ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے لیے رابطہ رہے گا جب کہ نادرا ور وزارت ایچ آر ڈی کے ساتھ بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ فیملی ٹری شیئر کرے گا اور ڈیٹا کو پیش نظر رکھ کر بیرون ملک پاکستانیوں کو صحت و تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔امیگریشن بیورو کے لیے نادرا کی تصدیقی عمل کی فیس بھی 45 سے کم کرکے 10روپے کردی گئی ہے اور نادرا امیگریشن بیورو اور ایف آئی اے کے درمیان لنک قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بینکنگ چینلز سے ترسیلات زرکی حوصلہ افزائی کے لیے مراعاتی پیکیج کا اعلان کرے گی جس کے ذریعے ترسیلات زر کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک سے سرمایہ کی ترسیل کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر کے ہم ترسیلات زر نہ صرف 20 ارب ڈالر سے بڑھا کر کم از کم 30 ارب ڈالر کر سکتے ہیں بلکہ انہیں 40 ارب ڈالر تک لے جانے کا بھی امکان ہے۔ عمران خان نے اس ضمن میں فلپائن کو حاصل ہونے والی کامیابی کا حوالہ دیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں، بیرون ملک پاکستانیوں کی جایدادوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے خاطرخوا اقدامات کریں۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ملکر کوئٹہ میں کینسر ہسپتال بنائیں گے، اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت جگہ فراہم کرے گی، منگی ڈیم کی تعمیر سے کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی جس سے علاقے میں پانی کی قلت کو دور کرنے میں مدد ملے گی، ملک بھر میں کھیلوں کے میدانوں کے لیے جگہ کے انتخاب کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے، ایک جامع بلدیاتی نظام سے بہت سے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہوجائیں گے۔ وہ جمعہ کو بلوچستان کے مختلف اضلاع اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے طلباء سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے ۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے طلباء کے سوالات کے جواب بھی دیے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فاٹا کے انضمام کے عمل کی تکمیل اور قبائلی علاقہ جات میں ملک کے دیگر علاقوں کی طرح سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت قبائلی علاقوں میں لوکل گورنمنٹ کے نفاذ کو جلد از جلد ممکن بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے یہ بات فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے جمعہ کو وزیر اعظم آفس میں ملاقات کی۔ وفد میں سینٹر سید شبلی فراز، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر ہلال الرحمان، سینیٹر اورنگزیب، سینیٹر تاج محمد، سینیٹر سجاد حسین، سینیٹر حاجی مومن خان اور سینیٹر مرزا محمد آفریدی شامل تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.