حضرت عمرؓ کا دور حکمرانوں کیلیے مشعل راہ ہے، عالمی مجلس ختم نبوت

27

لاہور (آن لائن) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیزالرحمن ثانی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا محبوب الحسن طاہر اور مولانا عبدالعزیز نے سیرت حضرت عمرؓ کے موضوع پر مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ عدل و انصاف کے پیکر تھے، ملک عزیز سے بدامنی کے خاتمے کے لیے عدل فاروقی کو اپنانا ہوگا۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی، اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصولوں کو مشعل راہ بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد
کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ موجودہ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ بہترین طرز حکمرانی کے لیے خلفائے راشدین کے نقش قدم پر چلیں۔ مقررین نے کہا کہ حضرت عمرؓ کا طرز حکمرانی تمام مسلمان حکمرانوں کے مشعل راہ ہے، آپؓ کی انسانیت کیلیے خدمات قابل تقلید اور اسلام کی اشاعت میں آپ کا کردار مثالی ہے۔ جب آپؓ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو عدل و انصاف کی عمدہ مثال قائم کی۔ ڈاک پولیس اور دیگر محکمے بنائے۔ حضرت عمرؓ مراد رسولؐ ہیں، اسلام کی تقویت کے لیے حضورؐ نے آپؓ کو بارگاہ الٰہی سے مانگا تھا۔ وطن عزیز سے ہر بحران کا خاتمہ حضرت عمر فاروقؓ کے طرز حکمرانی کو اپنانے سے ہی ممکن ہے۔ علما کرام نے کہا کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد اگر کو ئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے، جب حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی وہ نبی نہ بن سکے توآج جھوٹے مدعیان نبوت کو مسلمان کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.