کیا اب بھی نہ سدھرو گے؟

37

گزشتہ دنوں الیکشن کے موقع پر ہم سب نے مل کر مصمّم ارادہ کیا تھا کہ اپنے وطن پاکستان میں مثبت تبدیلی لائیں گے، پھر 14 اگست یوم آزادی پر ہم نے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کیا، ہمیں آزاد ملک کی قدر کا احساس ہوا، ہم غفلت کی نیند سے جاگے، وطن سے ہماری محبت کو جلا ملی اور ہم سب نے مل کر عہد کیا کہ ہم اپنے وطن کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے۔ پھر 6 ستمبر نے ہمیں اپنے کتنے ہی بھائیوں، بیٹوں کے جان کے نذرانوں کا احساس دلایا، ہم پھر ایک قوم بن گئے، ہم سب کے لبوں پر ایک ہی نغمہ رہا کہ ’’ہمیں پیار ہے پاکستان سے۔۔۔ دل جان سے‘‘ اب ذرا ایمانداری اور دردمندی سے جائزہ لیجیے کہ ان تینوں موقعوں پر کیا یہ واقعی ہمارے ضمیر اور دلوں کی آواز تھی۔ کیا ہم نے واقعی اپنے ملک میں تبدیلی لانے کے لیے کوئی مثبت قدم اُٹھایا یا یہ تمام صرف زبانی دعوے ثابت ہوئے۔ میں تو اپنے اطراف میں ہر طرف گندگی کے ڈھیر، بہتے گٹر اور گلیوں اور سڑکوں پر بہتا پانی جابجا دیکھ رہی ہوں، جس کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور پانی کی الگ ناقدری ہے، اکثریت نے اپنے پانی کے ٹینکوں میں فٹ والو نہیں لگوائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پانی آئے روز بہتا رہتا ہے، اسکولوں کی دیواروں کے ساتھ یا پارکوں میں ہم نے گائے بکرے کا بچا ہوا چارہ، کوڑا اور یہاں تک کہ پرانے کپڑوں کا پوٹلا تک پہنچادیا ہے۔ گلیوں یا پارکوں میں ہم گھر کی چھوٹی موٹی تقریبات تو کرلیتے ہیں مگر ہار پھول، ڈسپوزل برتن، بچی کھچی کھانے کی اشیا وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا یہ گلیاں، سڑکیں اور پارک ہمارے پیارے وطن پاکستان کا حصہ نہیں ہیں؟۔ ذرا سوچیے۔
ثمینہ نعمان، تیموریہ، کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.