آسٹریلوی کھلاڑی نے نسلی تعصب کا نشانہ بنایاتھا‘برطانوی کرکٹر معین علی

80

لندن (جسارت نیوز ) انگلینڈ کے پاکستانی نژاد ٹیسٹ آل راؤنڈر معین علی نے آسٹریلوی کھلاڑیوں پر تعصبانہ رویے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2015 میں کارڈف ٹیسٹ کے دوران ایک آسٹریلوی کھلاڑی انہیں ‘اسامہ’کہہ کر پکارتا رہا ،میں نے جو سنا اس سے مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔یہ سن کر میرا چہرہ لال ہوگیا کیوں کہ کرکٹ کے میدان میں پہلی بار اس قدر غصے میں دکھائی دیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی کھلاڑی جو اپنے خراب رویے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں معین علی کے الزام نے ایک بار پھر انہیں آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔معین علی نے کہا کہ2015کی ایشیز سیریز میں جب وہ آسٹریلوی کے خلاف کھیلنے کے لئے میدان میں اترے تو انہیں ایک کھلاڑی نے اسامہ کہہ کر پکارالیکن انہوں نے اس کھلاڑی کا نام بتانے سے گریز کیا ہے۔معین علی نے یہ سنسنی خیز انکشاف اپنی سوانح حیات میں کیا ہے جو آئندہ ماہ ایک برطانوی اخبار میں منظر عام پر آئے گی۔۔معین علی نے ٹیسٹ میں77رنز بنائے اور5 وکٹ حاصل کیے۔انگلینڈ نے آسٹریلیا کو169رنز سے شکست دی۔معین علی نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف یہ میری پہلی میچ وننگ کارکردگی تھی لیکن اس میچ میں ایک کھلاڑی کی جانب سے کسے جانے والے اس جملے نے مجھے سخت دھچکا پہنچایا۔وہ کھلاڑی کہہ رہا تھا کہ اس اسامہ کو قابو کرنا ہے۔معین علی نے تحریر کیا ہے کہ میں نے جو سنا اس سے مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔یہ سن کر میرا چہرہ لال ہوگیا کیوں کہ کرکٹ کے میدان میں پہلی بار اس قدر غصے میں دکھائی دیا تھا یہ جملہ میری برداشت سے باہر تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.