ختم نبوت قانون کے تحفظ کیلیے آخری حد تک جائیں گے، لیاقت بلوچ

91
لاہور: مولانا غفور حیدری منصورہ میں لیاقت بلوچ سے ملاقات کررہے ہیں‘ مولانا عبدالمالک‘ مولانا امجد خان‘ حافظ ساجد انور ودیگر بھی موجود ہیں
لاہور: مولانا غفور حیدری منصورہ میں لیاقت بلوچ سے ملاقات کررہے ہیں‘ مولانا عبدالمالک‘ مولانا امجد خان‘ حافظ ساجد انور ودیگر بھی موجود ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جے یوآئی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے وفد کے ساتھ منصورہ میں متحدہ مجلس عمل اورجماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سے ملاقات کی ۔ملاقات میں مولانا عبد المالک ،مولانا امجد خان ،حافظ ساجد انور ،نذیر احمد جنجوعہ و دیگر بھی شریک تھے۔ ملاقات میں 3 اکتوبر کو ایم ایم اے کی طرف سے اسلام آباد میں بلائی گئی قومی کانفرنس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ملک میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کو قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے وفود بھیجے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ آئین میں موجود اسلامی قوانین اور ختم نبوت ؐ کے قانون کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جائیں گے ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ متفقہ آئین کومتنازع بنانے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔علاوہ ازیں لیاقت بلوچ نے منصورہ میں مرکزی شعبہ جات کے ناظمین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب ملک کا بڑا صوبہ ہے ۔ دنیا کے 150 ممالک سے زیادہ پنجاب کی آبادی ہے ۔ جماعت اسلامی کی دعوتی ، تنظیمی ، تربیتی اور سیاسی انتخابی مشکلات پر قابو پانے کے لیے جماعت اسلامی پاکستان کے منشور کے مطابق پنجاب میں3 تنظیمی صوبے قائم کردیے گئے ہیں ۔ صوبہ جنوبی پنجاب کی شوریٰ کا اجلاس 15ستمبر ، صوبہ وسطی پنجاب کی شوریٰ کا اجلاس 17 ستمبر اور صوبہ شمالی پنجاب کی شوریٰ کا اجلاس 19 ستمبر کو طلب کر لیا گیاہے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق خصوصی طور پر شرکت کریں گے ۔ صوبائی شوراؤں کی مشاورت سے عارضی مدت کے لیے امرا کا تقرر ہوگا اور آئندہ 3 سال کے لیے امرائے صوبہ کے انتخاب کے لیے ناظمین استصواب کے تقرر کا اعلان ہوگا ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ صوبہ پنجاب کے منتخب ارکان شوریٰ اپنے حلقہ انتخاب کے مطابق جنوبی ، وسطی اور شمالی پنجاب کی مجالس شوریٰ کے ارکان ہوں گے ۔ ان شاء اللہ ہر سطح پر مشاورت کے بعد تنظیمی بنیادوں پر یہ فیصلہ جماعت اسلامی کے لیے مفید ہوگا ۔حکومت اور پارلیمنٹ بلاتاخیر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے عملی اقدامات کرے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.