زمبابوے کے صدر نے عوامی دباؤ میں آکر استعفیٰ دے دیا

269
ہرارے: صدر کے مستعفی ہونے پر شہری جشن منا رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر رابرٹ موگابے کی ہے
ہرارے: صدر کے مستعفی ہونے پر شہری جشن منا رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر رابرٹ موگابے کی ہے

ہرارے (انٹرنیشنل ڈیسک) زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے مستعفی ہو گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی تقریباً 4 دہائیوں پر محیط ان کا اقتدار ختم ہو گیا ہے۔ ان کی طرف سے استعفیٰ ایک ایسے وقت پر دیا گیا، جب ان کی اپنی ہی حکمران سیاسی جماعت زانو پی ایف نے ملکی پارلیمان میں ان کے خلاف مواخذے کی قرارداد پیش کر دی تھی۔ ایک ہفتہ قبل اس ملک کی فوج نے اہم ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے صدر موگابے کو ایک نامعلوم مقام پر قید کر دیا تھا۔ امید کی جا رہی ہے کہ 93 سالہ موگابے کی جگہ اب سابق سیکورٹی چیف ایمرسن منانگاگوا نئے ملکی صدر بن جائیں گے۔ اس سے قبل حکمران سیاسی جماعت نے کہا تھا کہ منگل کے روز سے موگابے کے مواخذے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ زمبابوے کے معزول نائب صدر اور سیکورٹی چیف منانگاگوا کنے بھی کہا تھا کہ صدر رابرٹ موگابے کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ گزشتہ ہفتے موگابے کی طرف سے اپنے نائب صدر کو برطرف کرنے کے نتیجے میں ہی فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ تب سے اس افریقی ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ ایمرسن دو ہفتے قبل اس وقت ملک سے فرار ہو گئے تھے، جب مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ تب تک ملک واپس نہیں آئیں گے، جب تک انہیں سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ نامعلوم مقام سے منگل کے دن جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے صدر کو بتا دیا ہے کہ ملک واپسی سے قبل انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ وہ زمبابوے پہنچ کر محفوظ رہیں گے۔ زانو پی ایف نے پیر کے روز خصوصی اجلاس میں مواخذہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔