شام میں روسی بمباری،15 شہری شہید، 40 زخمی

67
ادلب: روسی بم باری سے مکانات اور گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں‘ نشانہ بننے والی خیمہ بستی سے پناہ گزین پھر نقل مکانی کررہے ہیں
ادلب: روسی بم باری سے مکانات اور گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں‘ نشانہ بننے والی خیمہ بستی سے پناہ گزین پھر نقل مکانی کررہے ہیں

 

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں بشارالاسد کے حلیف روس کی حزب اختلاف کے زیرانتظام علاقوں پر بم باری جاری ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کے روز بتایا کہ جنگی طیاروں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں صوبائی دارالحکومت ادلب اور اس کے مضافاتی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ بدھ کو رات تک جاری رہنے والی بم باری کے نتیجے میں 5بچوں سمیت مزید 15 شہری شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔ روسی طیاروں نے شہر کے علاقے قصور میں کئی میزائل داغے۔ بم باری کے نتیجے میں درجنوں مکانات، دیگر عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ بم باری سے ایک جیل کو بھی نقصان پہنچا، جہاں قید سیکڑوں قیدیوں کو فرار کا موقع مل گیا۔ اس جیل میں داعش کے جنگجو، اسدی فوجی اور بشارالاسد کے حامی ملیشیا ارکان قید تھے۔ شہر پر قابض تنظیم ہیئت تحریر الشام کی طرف سے مفرور قیدیوں کو پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ قیدیوں کو دوبارہ گرفتار بھی کرلیا گیا ہے، مگربہت سے اب بھی مفرور ہیں۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق ادلب کے علاقے میں روسی فوج کی فضائی جارحیت میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکومت کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے شمال مشرقی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے حوالے سے انقرہ سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا نہیں سمجھتا کہ شمال مشرقی شام میں ترک فوج کو ترکی کے دفاع کے لیے کسی قسم کی کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل ترکی کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا تھا کہ شام میں کردوں کے زیرانتظام علاقے میں ترکی کی ممکنہ فوجی کارروائی پر انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں ایک امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا نے ترکی کے ساتھ شمال مشرقی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ امریکی عہدے دار کا کہنا تھاکہ ہم شمال مشرقی شام میں ترکی کے خدشات دور کرنے کے لیے انقرہ کے ساتھ سیف زون کے قیام پر بار بار بات چیت کرچکے ہیں، مگر شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر کوئی بات نہیں کی ہے۔ ادھر عالمی ریڈ کراس کمیٹی نے اعلان میں کہا تھا کہ داعش کے ارکان کے اہل خانہ میں شامل تقریباً 20 ہزار افراد شام سے عراق واپس جائیں گے۔ ان میں بڑی تعداد خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کی ہے۔ اس کے علاوہ داعش سے تعلق رکھنے والے وہ جنگجو اور ان کے حامی بھی شامل ہیں جو موصل کی جنگ کے دوران عراق سے فرار ہو گئے تھے۔ ریڈ کراس کے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے عراق کے صوبے نینویٰ کی کونسل کے رکن اور صوبائی کونسل میں انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ غزوان الداؤدی نے کہا ہے کہ یہ معاملہ علاقے کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو گا، جہاں کے لوگ پہلے ہی موصل کے جنوب میں داعشیوں کے اہل خانہ کے بعض کیمپوں کے وجود کے باعث تنگی میں ہیں۔ غزوان کے مطابق مذکورہ اہل خانہ اور گھرانوں نے نینویٰ کے لوگوں کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔