دل آراء

122

 

مزنہ سید

آج کل ٹی وی پر نئے ڈراموں کی بہاریں ہیں۔ ان ہی میں سے ایک ڈرامہ جو لوگوں میں زیادہ مقبول ہورہا ہے۔ وہ بول انٹرٹینمنٹ کی ایک کاوش ڈرامہ سریل دل آرا جو بہت ہی مختلف کہانی ہے۔ دل آراہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی جس کی شادی اپنے باپ کی عمر کے آدمی سے کر دی جاتی ہے، وہ بے وفائی کا زخم کھائی ہوئی لڑکی اس شخص کو دل سے قبول نہیں کر پاتی اور اپنے شوہر کے بجائے اسکے بیٹے میں انٹرسٹ لینے لگتی ہے۔
یہ کیا دکھایا جارہا ہے ہمارے ڈراموں میں، اس طرح رشتوں کا تقدس پامال کیا جارہا ہے سوتیلی ماں کا اپنے سوتیلے بیٹے کے ساتھ عشق۔ وہ اپنے دراز عمر کے شوہر کو چھوڑ کر اپنے سوتیلے بیٹے میں دل لگا رہی ہے۔ بلکہ اسے بھی بھٹکا رہی ہے۔ شوہر بھی وہ جس سے وہ خود اپنی مرضی سے اپنے سابقہ منگیتر کو نیچا دکھانے کیلیے شادی کرتی ہے۔یہ ہم کس بے راہ روی والے ڈرامے بنا رہیں۔ کسی رشتے کا تقدس،عزت و احترام ہی نہیں۔ محبت کے نام پر عزت، رشتوں کا تقدس سب دائو پر لگا دو۔ رشتوں کا احترام بھول جائو۔
اب تک اس ڈرامہ کی 12 قسط آن ائیر ہوچکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے رائٹراسےکیسے آگے لے کر چلتے ہیں اور دل آراء کا شوہر کاکیا ریکشن ہوگا جب اسے اپنی بیوی اور بیٹے کے درمیان تعلق کا پتا چلے گا۔
المیہ تو یہ ہے کہ ایک ایسی لڑکی کو ہیروئن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو صرف ہر مقام پر اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے۔ اپنے بے پناہ محبت کرنے والے شوہر میں انٹرسٹ لینے کے بجائے اس کے بیٹے میں دلچسپی لینے لگتی ہے۔ یہ ڈرامہ سابقہ مشہور زمانہ ترکی ڈرامہ عشق ممنوع کے اثر میں بھی نظر آتا ہے یا اس کا عکس نظر آتا ہے۔
لوگوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے رشتوں کے احترام کے بجائے انھیں اپنی حوس کیلیے استعمال کریں۔ ماں چاہیے سگی ہو یا سوتیلی یہ لفظ ہی انسان کو عزت و احترام اور حیا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ ہمارے مذہب ،ہمارے معاشرے،ہماری ثقافت کے خلاف ہے۔ یہ ہم کیا سکھارہے ہیں اپنے مستقبل کے معماروں کو کہ اپنی خواہش۔ اپنی منزل حاصل کرنے کیلیے ہر حد سے گزر جاؤ، چاہے وہ مذہب کی ہو یا دنیا کی۔ان ڈرامہ لکھنے والوں سے میری ایک التجا ہے کہ خدارا اپنے قلم کا استعمال اس معاشرے کو سنوارنے کیلیے کریں، مزید بگاڑنے کیلیے نہیں۔