تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کیلیے منتخب نمائندے اپنا کردار اداکریں

52

کوئٹہ(آئی این پی) بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)کے رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان سے تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کیلیے منتخب نمائندے متحرک کردار اداکریں اوراس معاملے پر مثبت حکومتی اقدامات کے حمایت جبکہ مفاد عامہ کے برعکس امورکی مخالفت کریں گے، ترقی یافتہ بلوچستان کاخواب تعلیم کے حصول کے بغیر ممکن نہیں، اپوزیشن میں ہونے کے باوجود اپنے حلقے کے عوام کے لیے تعلیم اورصحت کے منصوبوں پرکوئی سمجھوتا نہیں کریں گے نجی تعلیمی اداروں کاشرح خواندگی بڑھانے میں اہم کردار ہے۔ محکمہ تعلیم پرائیوٹ سکولوں کے ساتھ ہرممکن تعاون کرے کیونکہ بلوچستان سے پسماندگی کے خاتمے اورعلم کی روشنی پھیلانے میں نجی اسکولوں کا اہم کرداررہاہے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کواقراء زینت القرا ایجوکیشنل اسکول سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ سالانہ انسپکشن پروگرام کی منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز بلوچستان سید حسین علی شاہ، رحیم داد موسیٰ خیل ،خورشید احمد لانگو ،بچل ابڑو،مولانا شاہ محمد ،حافظ عبداللہ موسیٰ خیل ودیگرنے بھی تعلیم کی افادیت پرروشنی ڈالی ۔تقریب کے آخر میں طلبہ طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے جبکہ اسکول کے ڈائریکٹر حافظ عبداللہ موسیٰ خیل نے مہمانوں میں یادگار شیلڈ زتقسیم کیں ۔رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ نے کہاکہ بی این پی مینگل نے انتخابی منشور میں تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قراردیاہے۔ اسمبلی فلور سمیت ہرجگہ بلوچستان سے تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کیلیے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے دوٹوک موقف اپنایاہے۔ انہوں نے کہاکہ تعلیمی ترقی کے بغیر خوشحال اورترقی یافتہ بلوچستان کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ حدیث نبوی ؐ ہے کہ تعلیم ہر مرد اور عورت پر فرض ہے، ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ تعلیم روشنی ہے جسے گھر گھر پھیلانا ہم سب کی ذمے داری ہے معماران قوم کے بہتر مستقبل کیلیے ہم سب کومل کر اہم کردار ادا کرنا ہوگا، قلم ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے انسان نے ترقی کی منزل طے کیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ