سانحہ 12 مئی میئر کراچی سمیت 21 ملزمان پر فرد جرم عائد

138

کراچی (اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ 12 مئی کے ایک اور مقدمے میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عاید کردی۔ صحت جرم سے انکار پر گواہوں کو نوٹس جاری کردیے۔ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے روبرو سانحہ 12 مئی کے 4 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ میئر کراچی وسیم اختر سمیت 21 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے 4 مقدمات میں سے ایک مقدمہ نمبر 86/2007 میں فرد جرم عاید کردی۔ جس پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔ جس کے بعد عدالت نے گواہوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو طلب کرلیا۔ عدالت مقدمے کے 9 مفرور ملزمان کو پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ ملزمان کے خلاف مقدمات ائرپورٹ تھانے میں درج کیے گئے تھے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 پہلے ہی ایک مقدمہ نمبر 74/ 2007 میں فرد جرم عاید کرچکی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 میں 12 مئی کے 4 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ سماعت کے موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ 12 مئی سے متعلق انکوائری ہونی چاہیے اور ذمے داران کا تعین ہونا چاہیے۔ جو بھی حقائق ہیں وہ سامنے آنے چاہییں۔ 12 مئی میں صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتیں ریکارڈ پر ہیں۔ وڈیو حقائق سب کے سامنے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی گرفتاری کے سوال پر کہا کہ جن حالات سے ملک گزر رہا ہے اس میں ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہییں۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ اور اسپیکر کو اعتماد میں لیا جاتا تو اچھا تھا۔ پاکستان کی عوام اس وقت پریشان ہے۔ وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اب تک کیا ڈیلیور کیا عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔ معیشت کی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ ان حالات میں ایسے اقدامات ٹھیک نہیں۔ اگر کسی نے کرپشن کی ہے اور جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔ لیکن ملکی حالات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ