لیاری گینگ وار کا انتہائی مطلوب کمانڈر غفار ذکری ساتھی سمیت مقابلے میں ہلاک

145
کراچی: لیاری گینگ وار کے کارندے غفار ذکری کی ہلاکت کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد گھر کے باہر جمع ہے ۔چھوٹی تصاویر لاش کی منتقلی اور برآمد ہونے والے اسلحے کی ہیں
کراچی: لیاری گینگ وار کے کارندے غفار ذکری کی ہلاکت کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد گھر کے باہر جمع ہے ۔چھوٹی تصاویر لاش کی منتقلی اور برآمد ہونے والے اسلحے کی ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں ڈھائی دہائیوں سے قتل، بھتے، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کی وارداتوں میں مطلوب گینگ وار سرغنہ غفار ذکری کمسن بیٹے اور ساتھی سمیت مقابلے میں مارا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری کے علی محمد محلہ میں لیاری گینگ وار کا اہم ملزم پولیس مقابلے کے دوران اپنے ساتھی اور بیٹے سمیت ہلاک ہوگیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں سب انسپکٹر اور ایک اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو کے مطابق لیاری کے علی محمد محلہ میں خفیہ اداروں کی نشاندہی پر سیکورٹی اداروں نے سرچ آپریشن کے دوران گینگ وار ملزمان نے پولیس پارٹی پر
فائرنگ شروع کردی اور دستی بم سے بھی حملہ کیا۔پولیس مقابلہ 2 گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ مقابلہ میں مارا جانے والا غفار ذکری قتل، اغوا، بھتہ خوری کی تقریباً 100 وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔ سندھ حکومت نے شہر کے امن کے لیے دہشت کی علامت بن جانے والے غفار ذکری کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کررکھی تھی۔ غفار ذکری کے ہلاک ہونے والے ساتھی کا نام چھوٹا زاہد عرف بجلی معلوم ہوا ہے، جو ناصرف غفار ذکری کا قریبی ساتھی تھا بلکہ ایک اہم کمانڈر بھی تھا ، غفار ذکری نے پولیس محاصرے کے دوران اپنے بچے کو ڈھال بنا کر فرار ہونے کی کوشش کی اور دوران فائرنگ بھی کرتا رہا۔میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق غفار ذکری کو بازو، سینے، پیٹ اور ٹانگ پر 6 گولیاں لگیں، تمام گولیاں بڑے ہتھیار کی ہیں۔ایم ایل رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بچے کو 2 جبکہ ذکری کے ساتھی زاہد کے سر پر ایک گولی لگی ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اوڈھو کے مطابق غفار ذکری کی کئی دنوں سے علی محمد محلہ میں موجودگی کی اطلاعات تھیں جس پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پولیس نے رینجرز کے ہمراہ علاقے کا گھیراؤ کیا تو ملزمان نے فائرنگ کردی، پولیس پر دستی بموں سے حملے کیے۔ اس دوران 2 ملزمان اور 3سالہ بچہ ہلاک جبکہ پولیس سب انسپکٹر اللہ دتہ اور کانسٹیبل میر عابد علی زخمی ہوگئے، سب انسپکٹر اللہ دتہ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے ۔ بچے کی ہلاکت پر پولیس کو انتہائی افسوس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غفار ذکری کے2 ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق کچھ ملزمان فرار بھی ہو گئے ہیں۔ پولیس آپریشن کے بعد کراچی پولیس سربراہ امیر شیخ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ غفار ذکری کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے تھی۔ غفار ذکری نے کچھ عرصہ قبل رینجرز کے 2 جوانوں کو شہید کیا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ لیاری گینگ وار ختم ہونے کے باوجود غفار ذکری کا زندہ رہنا اچھی علامت نہیں تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ گرفتار اور مارے گئے ملزمان کے قبضے سے ایس ایم جی گنیں، 16 آوان بم، ایمونیشن اور دیگر اسلحہ کے علاوہ دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں جبکہ مقابلے کی جگہ سے گولیوں کے 200 خالی راؤنڈملے ہیں گیا۔ واضح رہے کہ غفار ذکری بدنام زمانہ گینگ وار سرغنہ ارشد پپو کا قریبی ساتھی تھا، کراچی آپریشن کے بعد غفار ذکری روپوش ہوگیا تھا، رحمن ڈکیت، عذیر بلوچ، ارشد پپو اور بابا لاڈلہ کے بعد یہ اہم کردار تھا۔2010 ء تک غفار ذکری لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیز بلوچ کے گروہ کا حصہ رہا تاہم بعد میں اس نے ارشد پیو کے ہمراہ اپنا گروپ تشکیل دے دیا۔ ارشد پپو کے عزیر بلوچ گروپ کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد غفار ذکری نے ارشد پپو گروپ کی کمان سنبھال لی تھی۔علاوہ ازیں کامیاب آپریشن پر آئی جی سندھ ڈاکٹرسیدکلیم امام نے ایس ایس پی سٹی اورانکی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاباش دی ہے اور ساتھ ہی پولیس پارٹی کو نقد انعام وتعریفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس مقابلے میں زخمی ہونیوالے اہلکاروں کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ