بچوں کے ذہنی امراض فرسٹریشن (Frustration)

83

فوزیہ عباس
طویل عرصے کی جارحیت
بعض اوقات بچہ/بچی اپنی ناکامیوں، محرومیوں، ہتک/توہین کا بدلہ لینے کے لیے مختصر کے علاوہ طویل عرصے تک بھی مدمقابل/مخالف کے لیے جارحانہ پن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جھوٹی افواہیں پھیلانا، مسلسل اس کی خوبیوں، اچھائیوں اور صلاحیتوں کو غلط ثابت کرنے کے طریقے اور منصوبے سوچتا ہے، اسے دوسروں کی نظروں سے گرانے، مالی نقصان پہنچانے، اسے کسی اونچے عہدے/ پوزیشن تک نہ پہنچنے دینے کی کوشش/رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ بچے/بچی کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ جو مقام اسے حاصل نہیں ہوسکتا وہ کسی دوسرے کو بھی نہ ملے، خاص طور پر اسے تو ہر گز نہ ملے جسے وہ اپنا حریف سمجھتا ہے۔ مگر اس سارے عرصے میں مدمقابل/فریق ثانی کو تو کچھ خاص فرق نہیں پڑتا/ بہت کم نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ بچہ/بچی خود اذیت کا شکار رہتا ہے اور دن رات ایک ہی طرح کی سوچ اس پر حاوی رہتی ہے۔ چنانچہ وہ منفی سوچ کا حامل بن کر مزید محرومیوں اور خودترسی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ انتقام کی آگ میں سلگتے رہنا، جلنا، کڑھنا، تہمتیں لگانا، طنزوتحقیر، تمسخر اُڑانا، دھمکیاں دینا وغیرہ عام رویے اور مثالیں ہیں۔
پسپائی/نفسیاتی فرار

اگر بچہ/بچی ناکامی/محرومی کے باعث بہت زیادہ دلبرداشتہ و مایوس ہو جائے تو کبھی کبھی وہ حقیقت کا سامنا کرنے/اسے قبول کرنے سے کترانے لگتا ہے۔ وہ ناکامی، محرومی، بے بسی کی تلخی کے احساس سے بچنے کے لیے فرسٹریشن زدہ ماحول سے فرار اختیار کرلیتا ہے۔ یہ فرار جسمانی بھی ہوتا ہے اور ذہنی بھی۔ اس پسپائی (withdrawal) کا مقصد خود کو فوراً ناگوار صورتحال سے نکالنا ہوتا ہے، اسے نفسیاتی فرار بھی کہا جاتا ہے۔
غیر حقیقت پسندانہ رویہ
بسااوقات متاثرہ بچہ/بچی بار بار کی ناکامیوں اور تلخیوں کے باعث پیدا ہونے والی فرسٹریشن سے بچنے کے لیے خوابوں کا سہارا لیتا ہے۔ وہ حصولِ مقصد کے لیے مثبت طریقے اپنانے کے بجائے غیر حقیقت پسندانہ رویہ اپنا لیتا ہے۔ سوتے میں تو سب ہی خواب دیکھتے ہیں اور یہ خواب دیکھنا کوئی بُری بات/عادت بھی نہیں ہوتی۔ لیکن متاثرہ بچہ جاگتی آنکھوں سے خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں کھو کر اپنی تشنہ آرزوئوں، محرومیوں اور ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدلنے کے تانے بانے بنتا اور اپنی خواہشات کی تسکین کرتا ہے۔ اس طرح خیالی پلائو پکانے، ہوائی قلعے تعمیر کرنے اور ذہنی فرار کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچہ بے عملی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی طالب علم میٹرک کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے محنت کرنے کی بجائے خیالوں میں A1 گریڈ لے تو کیا اسے کسی اچھے کالج میں داخلہ مل سکے گا؟
منشیات کا استعمال
اگر بچہ مقصد کے حصول میں مسلسل ناکامی، ضروریات و خواہشات کی عدم تسکین، بڑھتی ہوئی تلخیوں، شدید ذہنی دبائو اور فرسٹریشن کے زیراثر پیدا ہونے والی جارحیت کے سامنے بے بس ہو جائے تو فرار کے لیے نشہ آور ادویات/منشیات کا سہارا بھی لینے لگتا ہے۔ بچہ اپنی ناکامیوں، دکھوں، محرومیوں کو بھلانا چاہتا ہے۔ وہ خود کو فرسٹریشن کے اثرات سے نکال کر سکون حاصل کرنے کے لیے منشیات کے حوالے کر دیتا ہے۔ معاشرے میں نشہ کرنے والے نوعمر بچوں/بچیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس کی عام مثال اور لمحہ فکریہ ہے۔
بچپن کی طرف پلٹنا/ رجعت پسندی
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچہ ناکامی کے احساس کے زیر اثر ذہنی و جسمانی فرار حاصل نہ کرپائے اور بڑھتی ہوئی تشویش، فشار اور اضطراب کا مقابلہ بھی نہ کرپارہا ہو تو وہ شعوری و لاشعوری طور پر خود کو کسی ایسے دور کی طرف پلٹا دیتا ہے جہاں ناکامیاں، تلخیاں، دکھ، محرومیاں اور مجبوریاں نہ ہوں۔ بلکہ خوشیاں، تسکین اور کامیابیاں ہوں۔ جہاں اس کی تمام ضرورتیں بخوبی پوری ہوتی ہوں، اسے چاہنے اور سراہنے والے اس کے پاس ہوں اور عموماً یہ دور ہوتا ہے بچپن کا۔ بچہ اپنے اندر پیدا ہونے والے عدم تحفظ، محرومی و مایوسی کے احساسات کا ازالہ خود کو بچپن کے دور میں لے جاکر کرتا ہے۔ چھوٹے بچے دوسرے بہن بھائی کی آمد پر نظرانداز ہونے کی صورت میں خود بھی بالکل ننھے بچے بن جاتے ہیں، ان ہی کی طرح توتلا بولتے، ماں کی گود میں بیٹھ/لیٹ کر اس رجعت (Regression) کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ رات کو بستر گیلا کردینا، ماں کے ہاتھ سے کھانے، ماں کے ساتھ سونے، بوتل سے دودھ پینے کی عمر نہ ہونے کے باوجود چھ سات سال کا بچہ فیڈر پینے کی ضد کرتا ہے۔ چھوٹے بچے کے بستر پر سونا چاہتا ہے اور بڑے بچے بھی اپنی ذمہ داریاں اور ضرورتیں والدین پر ڈال کر خود کو ہر ذمہ داری اور پریشانی سے بے نیاز کرلیتے ہیں۔
فرسٹریشن کا علاج:
بدقسمتی سے فرسٹریشن کا کوئی جادوئی علاج ممکن نہیں ہے۔ چونکہ یہ جذباتی اُتار چڑھائو یا منفی ردعمل کی عارضی کیفیت ہوتی ہے سو ماہرین بچوں کو اس سے نبٹنے اور برداشت کرنے کے مثبت طریقے اور پُرسکون رکھنے والی مہارتیں سکھاتے ہیں۔فرسٹریشن اگر بار بار ہو، اس کا دورانیہ طویل ہو جائے اور شدت میں اضافے کے ساتھ دیگر ذہنی، نفسیاتی، جذباتی و جسمانی پیچیدگیاں پیدا ہونے لگیں تو ماہر و مستند معالج متاثرہ بچے/بچی کی حالت و کیفیت کے حساب سے دوائیں اور تھراپیز وغیرہ تجویز کرتا/کرسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ