یورولوجی اویئر نیس ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام، جناح ہسپتال کے نجم الدین آڈیٹوریممیں ’’پاکستان میں ٹرانسفارمیشن آف نیورولوجی ‘‘ کے موضوع پردو روزہ کانفرنس منعقد کی گئی

115

رپورٹ
سلمان علی

نیورولوجی اویئر نیس ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام، جناح ہسپتال کے نجم الدین آڈیٹوریممیں ’’پاکستان میں ٹرانسفارمیشن آف نیورولوجی ‘‘ کے موضوع پردو روزہ کانفرنس منعقد کی گئی ، جس میں ملک بھر سے ماہرین دماغ و اعصاب نے شرکت کی۔کانفرنسکے اختتامی سیشن کے موقع جسارت میڈیا گروپ کے تعاون سے دماغی بیماریوں سے متعلق عوام الناس کے لیے ایک خوبصورت صحت آگاہی سیشن منعقد کیا گیا۔
سیشن کے شرکاء میں سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن معروف ای این ٹی فزیشن ڈاکٹر قیصر سجاد،پروفیسر ڈاکٹر طارق،ڈاکٹر محمد لطیف ،ماہر امراض دماغ ومرگی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ،نیورولوجی اویئرنیس ریسرچ فاؤنڈیشن کے صدرپروفیسرڈاکٹرمحمد واسع،معروف صحافی سید عامر اشرف،جوائنٹ سیکریٹری کراچی پریس کلب نعمت خان شریک گفتگو تھے۔کانفرنس کی میزبانی عبید ہاشمی( عمیر ثناء فاؤنڈیشن ) اور ڈاکٹر عبد المالک ( سیکریٹری نارف )نے انجام دیئے ۔
اس سیشن کا بنیادی مقصد پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے دماغی امراض کے حوالے سے عوام کو آگہی دینا مقصود تھا کیونکہ اس مین بیشتر امراض کے لیے مناسب حفاظتی تدبیر کر کے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ ایک صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے ۔اس موضوع پر جامع اور ہمہ پہلو گفتگو کے لیے سیشن میںماہردماغی و ذہنی امراض کے ساتھ ساتھ، صحت کے شعبے میںکام کرنے والی این جی اوکے نمائندے اور ماہرین میڈیا کو ایک جگہ جمع کیا گیا ۔اس وقت دماغی امراض کی کیفیت ،اثرات، معاشرے میں کتنی آگہی موجود ہے اس حوالے سے ماہرین نے اپنے تجربات واحساسات رکھے۔


سید عامر اشرف۔(سینئر صحافی، )
میڈیا نے جہاں دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کیا ہے وہاں میں سمجھتا ہوں کہ ِاس نے ساتھ ساتھ دماغی امراض کو جنم دینے کا بھی کام کیا ہے۔میڈیا ہے تو ایسا موثر میڈیم کہ جہاں وہ بیماریوں کو فروغ دے رہا ہے وہاں وہ ان بیماریوں کے حوالے سے بہترین اور موثر آگہی کا کام بھی انجام دے سکتا ہے۔میڈیا لوگوں کے ادراک (perception ) پر اثر انداز ہو تا ہے اور اس کے استعمال سے لوگوں کے خیالات کو ایک خاص سمت میں مو ڑا جا سکتا ہے اور یہ لوگوں کے طرز عمل ، رویہ اور عقائد کو تبدیل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا سے نکلنے والاہر پیغام ایک گولی کی مانند اپنے آڈینس کو لگتا ہے اور اثر کرتا ہے۔ یہ لوگوں کی ترقیاتی عمل کے حوالے سے رائے کی تشکیل اور تبدیل کرنے کا ایک اہم محرک ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے صحت مند زندگی کے لیے آگہی فراہم کرنے کا معاملہ تشویش ناک ہے۔اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ ہمارا میڈیا اپنی پبلک سروس براڈکاسٹنگ کی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟ کیا انسانی ترقی کے موضوعات اس کے ایجنڈا کا حصہ ہیں؟کیا اس کے مندرجات (Content ) حقیقی عوامی ضروریات، اور مسائل سے ہم آہنگ ہیں؟ تو ہمارا جواب نفی میں ہوگا۔الیکٹرانک میڈیا کو ذمہ دار میڈیا بھی کہتے ہیں لیکن اعشاریہ پانچ فیصد بھی مواد الیکٹرانک میڈیا سے نشر نہیں ہوتاجو اپنے ناظرین کو کسی مثبت سمت رہنمائی کر سکے۔یہ ضرورہے کہ مخصوص بیماریاں جب وہ خبر بنتی ہیں تو سنسنی خیزی کے عنوان سے ایسی خبروں اور تجزیوں کوجگہ ملتی ہے مگر عمومی کیفیت اچھی نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ میڈیا دراصل Audience اور مارکیٹ کا زیادہ سے زیادہ شیئر حاصل کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔اس میں انٹرٹینمنٹ کے نام پر ہمارے ہاںڈراموں کا سلسلہ مستقل بڑھتا جا رہا ہے ۔ ہر چینل پر دسیوں ملکی و غیر ملکی ڈرامے نشر ہو رہے ہوتے ہیں،مگر ڈراموں کے موضوعات میںآپ کومثبت ،تعمیری یا صحت آگاہی کا کوئی موضوع نہیںملے گا۔نارف دس سال سے آگہی کے لیے اچھا کام کر رہی ہے مگر بڑے پیمانے پر اثرات کے لیے ،میڈیا اور ایسے دیگر اداروںکو باہمی اشتراک کی ضرورت ہے ۔فیملی جھگڑے، سازشیں دکھا، دکھا کر دماغ پر منفی اثرات ہی مرتب کیے جا رہے ہیں۔ ان ڈراموں کے منفی اثرات پر ہماری جامعات میںکئی تحقیق بھی کی جا چکی ہیں۔ڈاکٹر رضا الرحمٰن کہتے ہیں کہ ’ہم دینے والے بنیں گے تو بہتری آئے گی ،مدد کر سکیں، اچھا وقت دیں، کسی کو راستہ دیں ،نیکی کی جانب ابھاریں تو معاشرے میں بہتری آئے گی اور میڈیا کا مرکز ومحور یہ پیغام ہو تو بہت کچھ بدل جائے گا۔اب بچے کی گود ماں کی جگہ میڈیا ہے اور یہی بزرگ کا کردار بھی ادا کررہا ہے یا تو نئی نسل کو اس دور سے کرلیا جائے یا پھر سماج اس میڈیا کو مثبت استعمال کے لیے اپنا دباو بڑھائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ پرنٹ ،الیکٹرانک اور اب سوشل میڈیا کے ذریعہ صحت آگہی پروگرام باہم اشتراک سے اچھے انداز سے مرتب کر کے چلائے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر قیصر سجاد:
سب سے پہلے تو میںاس سیشن کے انعقاد پرنارف کے ذمہ داران کاشکریہ ادا کرتا ہوں ۔آگہی کے لیے وقت نکالنے کے لیے عوامی غیر سنجیدگی کی وجوہات کو بھی دماغی امراض کے دائرے میں چیک کرنا چاہیے ۔
میںبنیادی طورپرای این ٹی سرجن ہوں ،تمباکونوشی کی وجہ سے اس وقت پاکستان میںمنہ کا کینسر پہلے نمبر پر آچکا ہے ،مگر دماغ کی بیماریوں کی بڑھتی شرح دیکھ کر میں اسے تیزی سے اول نمبر پر آتا دیکھ رہا ہوں۔دماغی کیفیت کا اندازہ کرنا ہو تومتعلقہ جگہ کی ٹریفک کی صورتحال دیکھ لینی چاہیے ۔لوگ جن مسائل کا شکار ہیں اُس میں پانی، بجلی، بے روزگاری کے نتیجے میں ڈپریشن اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ دماغی امراض کا بڑھنا ناگزیر ہے۔ایک اور بات بھی جو مجھے محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ بہت سے لوگ دماغ کی بیماری کو بیماری ہی نہیں سمجھتے۔دماغ کے امراض میں دماغ کی چوٹ ہی شامل نہیں ہوتی ، کسی حادثہ کے صورت میں ہی یہ نہیں واقع ہوتی بلکہ اس کا معاملہ اندرونی ایشوز سے بھی ہوتا ہے ،حتیٰ کہ لنگڑا کر چلنا ،کمر کا درد بھی دماغ سے جڑے امراض سے ہے۔اسی طرح میں اپنے روز مرہ تجربات میں یہ بات بھی محسوس کرتا ہوںکہ
اکثر مریض ایک بات کو چار مرتبہ پوچھتے ہیں ، ایک دفعہ میں بات سمجھ میں نہ آنا،حد سے زیادہ حساس ہونا،عجیب سوالات کا تکرار سے اظہار کرنا خود دماغی خلل کی جانب اشارہ دیتا ہے ۔اکیس کروڑ کی آبادی میں اس وقت دو سو نیورولوجسٹ موجود ہیں۔ڈپریشن، حادثات کی شرح تو یہ بتاتی ہے کہ یہ انتہائی ناکافی صورتحال ہے۔ملک میں 56%خواندگی کی شرح ہوتے ہوئے اس سلسلے میں آگہی کا معاملہ ایسا ہے کہ مرگی کے مریض کو پیلیا سمجھ کر ٹریٹ کیا جاتا ہے ۔اسی میں دماغی و نفسیاتی امراض بھی شامل ہیں۔ہیلمٹ ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن نہ پہننا ایک پورا غیر ذمہ دارانہ رویہ کو ظاہر کرتاہے ۔میڈیا کے دوست اگر اس سلسلے میں کچھ تعاون کریں اور اس میں اپنا جائز حصہ ملائے تو یقیناً بہتری آئے گی۔مجموعی بے حسی پیدا کرنے میں میڈیا نے بڑا کردار ادا کیاہے۔بریکنگ نیوزکے نام پر اگر تعمیری بات ہو تو بہتری آئے گی۔ جب سنسنی کی خاطر ایک رکشہ ٹائر پھٹنے کی آواز کو دھماکوں کی آواز ، مرنے مارنے ، ہنگاموں کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کریں گے تو مسائل تو پیدا ہوںگے۔ایسی بیماریاں ہیں جنہیں پیدا ہونے سے روکا جا سکتا ہے اس لیے بیماری سے بچنے ضرورت ہے۔
ڈاکٹر محمد لطیف:
دماغی امراض و ذہنی امراض دو الگ چیزیں ہیں۔ذہنی امراض رویے کی صورت سامنے آتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہاںجناح ہسپتال میں وارڈ20کے سامنے جو بورڈ لگا ہے اُس پر ’’شعبہ نفسیاتی طب و رویہ جات ‘‘لکھا گیا ہے۔دماغی امراض میں علامات کا معاملہ کسی جسمانی صورت ظاہر ہوتا ہے جبکہ ذہنی امراض میں معاملہ رویوں کی تبدیلی کی صورت سامنے آتاہے ۔پاکستان میں یہ شرح اس لیے زیادہ ہے کہ مسائل زیادہ وسائل کم ہیں۔ 20-30فیصد لوگوں کو ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔اس میںدو قسم کے کیسز ہوتے ہیں،ایک میجر اور دوسرے مائنر ۔مائنر والے امراض جلد تشخیص کی صورت میں قابل علاج ہیں ۔ان کا علاج صرف دوائی ، گولی کی صورت میں نہیں ہوتا اس کے لیے کونسلنگ علاج کے مختلف طریقہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں ذہنی امراض کے رجسٹرڈ 700سائکاٹرسٹ بتائے جاتے ہیں۔ سائیکاٹرسٹ اس ملک میں کم ہیں،آگہی کا معاملہ اس تناظر میں یوں ضروری ہے کہ لوگ عموماً ذہنی مریض کہلوانا پسند نہیں کرتے اور فوراً اس کو پاگل ، یا دماغ خراب ہونے سے تشبیہہ دے دیتے ہیں جو کہ معاشرے میں استعارہ بن چکا ہے اور لوگوں کو علاج سے دور کرتا ہے ۔
نعمت خان:
میڈیا کے ایک کارکن کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ ہماری رپورٹنگ ،صحافتی اقدار و اخلاقیات سے دور ہے ۔مجھے افغانستان ،فلپین اور امریکہ میں جانے اور وہا ں کی رپورٹنگ کاتجزیہ کرنے اور دیکھنے کاموقع ملاہے۔پاکستان اس حوالے سے رپورٹنگ میں ’اسٹریس ‘کا دوسرا نام ہے ۔ہماری زندگی ، بھاگ دوڑ سب کچھ اسٹریس پر مبنی ہوتی ہے ۔مستقل ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کا دباؤ ، مستقل اسکرین سے چمٹے رہنے پھر خبروں کو ایجاد کرنے اور اس طرح سے کہ وہ ناظرین پر اثر کر سکے یعنی اس میں چاٹ مصالحہ لگانا،یہ سب ہم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور ناظرین کے ذہن و دماغ پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے ۔مجھے تو کوئی ملتا ہے جو کہتا ہے کہ ذہنی طور پر پریشان ہوں توہم کہتے ہیں کہ بھائی کچھ عرصہ ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں۔ٹی وی رپورٹنگ میں اتنی سنسنی خیزی ہے کہ ہم لوگوں کو یہی مشورہ دیتے ہیںکہ اگر بہت زیادہ ہی اپ ڈیٹ رہنے کا شوق ہے تو ریٹنگ میں سب سے کم جو چینل ہو آپ اُس سے معلومات لے لیا کریں،ورنہ نمبر ون کی دوڑ میں جائیں گے توایسی صورت میں ذہنی امراض ہی بڑھیں گے ۔جیو ٹی وی پر ایک پروگرام ماضی میں چلتا تھا ’جان ہے تو جہان ہے‘ ، جس میں صحت سے آگہی کے حوالے سے بہت کارآمد چیزیں ہوتیں،لیکن خسارے میں چلنے کی وجہ سے اُسے بھی بند کرنا پڑا۔
ڈاکٹر محمد واسع:
میڈیا کا آگہی کے سلسلے میںاہم کردار ہے ۔ہمار ہاںایئر بلو کے گرنے کی خبر کئی روز چلتی ہے کہ اُس میںڈیڑھ سو لوگ مر گئے۔فالج سے 400لوگوں کے مر جانے پر میڈیا کے لیے کوئی خبرنہیں ہوتی۔
میڈیا دھماکے دار خبر چاہتاہے ،مین نے خود دیکھا کہ بریکنگ نیوز میں بھینس کے گٹر میں گرنے کی خبر ہمارے ٹی وی چینل نشر کر رہے تھے۔یہ آگہی و شعور کا معاملہ صرف میڈیا تک محدود نہی بلکہ بالائی ،حکومتی سطح پرسطح پر بھی ایسا ہی ہے ۔خیبر پختون خوا میں حکومتی سطح کے ذمہ داران سے ایک میٹنگ میں ہمیں سخت حیرت ہوئی جب انہوں نے نسوار کو تمباکو ماننے سے ہی انکار کردیا ۔اسی طرح پیما کی امسال ایک کانفرنس میں جب میںنے دماغی امراض سے متعلق معلومات و اعداد و شمار پیش کیے تو وہاں موجود وفاقی وزیر صحت نے خود کہاکہ اُنہیں یہ سب معلوم ہی نہیں تھا، نہ ہی ایسے اعداد و شمار اُن کے پاس تھے۔صوبائی ،وفاقی وزراء ، ہہیلتھ کمیشن کا یہ حال ہے توعوام کو بیماری کی آگہی کتنی، کیسی اور کس حد تک ہوگی؟آگہی میں ایک بات علاج نہیں اصل بات جسم کو صحت مند رکھنے ،بیماری سے بچانے کی فکر، صحت ایک نعمت کا احساس پیدا ہونا ضروری ہے جب آپ خود اپنی صحت کا خیال رکھنا شروع کریں۔بیماریوںسے کیسے بچا جائے یہ آپ کو معلوم ہو اور آپ کی کوشش بھی یہی ہو کہ آپ خود ایک صحت مند ماحول پیدا کر سکیں۔لوگ کہتے ہیںکہ ڈاکٹرز کی تعداد کم ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ ایک لاکھ نیورولوجسٹ بھی ہو جائیں تو اُس سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو بیماری کا علاج کریں گے ، جبکہ آگہی اس بات کیلیے ہونی چاہیے کہ لوگ بیمار ہی نہ ہوں۔جب تک عوام خود اپنے آپ کو اپنے جسم اپنی صحت و زندگی کو اہمیت نہ دیں ،ان چیزوں سے پرہیز کریں جو بیماریوں کی جانب لے جاتے ہیں۔اس کی کوئی کوئک ریسپی نہیں، مستقل مشترکہ کوشش سے ہی کچھ ہو سکے گا۔
پروفیسر طارق محمود:
میڈیا کے حوالے سے جو بات سامنے آئی اُس کے مطابق تو میرے خیال میں اس طرح کے پروگرام کا موضوع ’ڈاکٹروں کا ٹاکرا ‘رکھنا چاہیے تھایا کچھ ایسا جس میں عوام اور ڈاکٹر آمنے سامنے ٹائپ کاتو شاید عوامی دلچسپی کئی گنا بڑھ جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ کراچی میں این جی اوز نے اپنا بھر ور کردار ادا کیا ہے ۔اسی جناح ہسپتال میںہم نے ہم نے ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ اسٹروک سینٹر بنانے کا سوچا لیکن پھر مشورہ ہوا کہ نیورولوجی بلڈنگ کے حالات کو بہتر کرلیا جائے اور نیورولوجی اور سائیکاٹری کی نئی بلڈنگ اور وارڈ بنائیں ۔الحمد للہ ہم نے کام کا ارادہ کیا اللہ نے راستے کھول دیے۔یہاں مرگی کے پندرہ ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں۔اس وقت دنیا میں ایپی لیپسی سائبر نائف کے ساتھ ٹریٹ ہو رہی ہے، پاکستان میں شاید ہی ایسے کوئی کیسزہوںگے جوسرجری سے ٹریٹ ہوئے ہوں۔ڈاکٹربھی بھاگتے ہیں،مریض بھی ڈرتاہے۔اب یہاں کچھ ماہ میں ایک اور سائبر نائف لگ جائے گا،مشترکہ لائحہ عمل سے ہم اچھی پیش رفت کر رہے ہیں۔یہاں تجربہ کار سرجن نہین ہے تو ہمیں جاپان میں ایک ڈاکٹر ملا ہے ،وہ تیار ہے اُسے ہم لا سکتے ہیں۔اسی طرحجناح ہسپتال میں چار سی ٹی اسکین ہیں۔ہمارے ہاں350میںسے صرف دماغ کے221اسکین ہوتے ہیں ۔سب کو بتایا جاتا ہے کہ ہیلمٹ پہنیں ، رانگ سائڈ جانا، قوم بے حس ہو گئے ہیں۔ماں کی گود سے تربیت ، اسکول سے تربیت نہیں ہو گی تو معاشرہ نہیں سدھرے گا۔بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ہمارے معاشرے کوآج سے تیس چالیس سال قبل کے والدین کی تربیت چاہیے ۔میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر پوری ایمانداری کے ساتھ علاج کرے مریض کو مناسب وقت اور رہنمائی دے تو یقینا آگہی کے عمل میں فرق پڑے گا۔جہاں تک پراجیکٹس کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوںکہ وہ تو ہم اپنی زکوۃ سے بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔ نیک نیتی کی وجہ سے اللہ کی اتنی مدد آتی ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ ہم جو پروجیکٹ سوچتے ہیں کام ہو جاتا ہے ۔اگر صرف دیانت داری، لگن ، اخلاص کے ساتھ کام ہو ۔
ڈاکٹر فوزیہ :
ذہنی ، دماغی امراض میں طویل عرصہ ادویات کا استعمال جاری رہتا ہے ۔سب ادویات مہنگی ہوتی ہیں،دوائی حاصل کر بھی لے تو اچانک مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہے ۔مرگی کی ایک اچھی دوائی پچھلے سال اچانک غائب ہو گئی ۔حکومت کا کوئی معاملہ ہوا تو یہ دوائی مارکیٹ سے اٹھا لی گئی اور اچھے خاصے مریض دوبارہ دوروں کا شکار ہو گئے ۔اس کے نتیجے میں ڈاکٹر، مریض، گھر والے سب پریشان ہو گئے ، حکومت سے بات کریں تو ان کے پاسکوئی جواب نہیںہوتا ۔کچھ ادویات انتہائی سستی ہیں کہ کوئی کمپنی لانے کو اس لیے تیار نہیں کہ نفع کم ہے۔ہم نے اس حوالے سے ہر فورم پر بات کی ہے عملی تجاویز بھی دی ہیں لیکن حکومت نے اب تک اس پر سنجیدہ رویہ نہیں دکھایا۔ا چھے خاصے ویل فنکشنل لوگوں کی زندگی برباد کر کے معاشرے پر بوجھ کی صورت سامنے آتے ہیں۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ امراض قابل علاج ہیں ،ادویات سے بہت نمایاں تبدیلی آتی ہے لیکن اگر چند روپے کے منافع کی خاطر اس کو مارکیٹ سے ہی غائب کر دیا جائے تو یہ شدید افسوس ناک بات ہے۔سب کومل کر احتیاط پر کام کرنا چاہیے ۔اویرنیس کے ساتھ ، احتیاط بھی بتائیں ۔دنیا میں اس وقت پچاس ملین مرگی کے مریض شمار کیے گئے ہیں ۔پاکستا ن میں ایک سے دو فیصد مریض ہیں یعنی بیس سے تیس لاکھ مریض کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔دوائی سے مرگی 70 فیصد کنٹرول ہو جاتی ہے۔30فیصد کے لیے سرجری ناگزیر ہوتی ہے ۔یہ کرونک نیورولوجی بیماری ہے ، طویل عرصے ادویات چلتی ہیں، کئی قسم کی مرگی ہے، یہ جینیاتی بھی ہوتی ہے لیکن ایسے کیسز بہت کم ہیں۔ماں سے بچے میں جانے کے امکانات بھی بے انتہا کم پائے گئے ہیں۔اسی طرحوہ لوگ جو پہلے سے فالج زدہ ہیں،یا بچپن میں آکسیجن کی کمی سے شارٹ سرکٹ ہو جانے سے وہ اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں تو انہیںدوائی سے صرف کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ایک اور قسم ہے جس میں کچھ عرصے میں دوائی سے ٹھیک اور کچھ میں دوائی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کیونکہ یہ اندازہ و جاتا ہے کہ وہ عمر کے ساتھ ساتھ درست ہو جائے گی۔
اس لیے مرگی کے معاملے میں یہ جانناکہ وہ کونسی قسم کی ہے یہ ضروری ہے کیونکہ اس کی تین اقسام کے مریضوں میں سے ایک تہائی قابل علاج ،، ایک تہائی دوائی سے کنٹرول ایبل، ایک تہائی نان کنٹرول ہوتی ہیں۔اس سلسلے میں نارف نے ایپی لیپسی کی جو گائڈ لائنز بنائی ہیں وہ ایسی ہیں کہ ہر جنرل فزیشن بھی اس کے مریض کو ٹریٹ کر سکتا ہے ۔
اس گفتگو کے دوران پینل میں شریک مہمانان نے مختلف سوالات کے جوابات کے بعد اختتامی پیغام میں ان نکات پر اتفاق کیا گیا کہ
٭اگر ہر بندہ یہ سوچے کہ ہم نے اپنے دائرے سے نکل کر کیا کیا، تو اسکے نتیجے میں معاشرے کے مسائل حل ہونگے۔
٭بیماری قابل بچاؤ ہے تو یہ بچاؤ، اس کی تدبیر سب سے اہم ہے ، پورے معاشرے کو اس کی آگاہی اور شعور کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے ۔
٭میڈیا آگاہی، تعلیم ،اثرات ،بزرگ ،ماں سب کچھ ہے، اس کا رخ درست اور تعمیری سمت لانے کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے۔
سیشن کے اختتام پر جسارت میڈیا گروپ کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر سید طاہر اکبر ،سمیت دیگر مہمانان کو شیلڈ اور تحائف پیش کیے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ