ڈپٹی کمشنر چترال کی کھلی کچہری،شہریوں نے شکایتوں کے انبار لگادیے 

47

چترال(آئی این پی) چترال کی خوبصورت مگر پسماندہ ترین وادی کیلاش کے بریر گاؤں میں ڈپٹی کمشنر چترا ل خورشید عالم محسود نے سروس کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز کے علاوہ تمام سرکاری محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں عوام نے شکایات کے انبھار لگادیے، منتخب ناظمین او ر کونسلرز نے کہا کہ وادی بریر کی سڑک نہایت تنگ اور خراب ہے، اس وادی میں صرف ایک سول ڈسپنسری ہے جس میں اکثر مریضوں کو دوائی نہیں ملتی جبکہ وادی کے آبپاشی کی نہریں 2015 ء کے سیلاب میں تباہ ہوئی تھیں جس کی وجہ سے ہماری ز رعی زمین بنجر پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول ڈسپنسری کو بنیادی مرکز صحت کا درجہ دیا جائے جبکہ ہائی سکول کو ہائر سیکنڈری کا درجہ دیا جائے۔ عوا م نے شکایات کی کہ عمارتی لکڑی کی پرمٹ غیر مقامی لوگوں کو اثر ورسوح کی بنیاد پر تو ملتے ہیں مگر مقامی لوگ اس سے محروم ہیں۔ ناظمین نے کہا کہ پولیس چوکی کا عملہ ابھی تک کرایے کے مکان میں رہتا ہے جس سے مقامی لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وادی میں سرکار کی طرف سے کوئی غلہ گودام نہیں ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر اقدامات اٹھاتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کے تمام مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔ اس موقع پر مختلف اداروں نے نمائشی اسٹال بھی لگائے تھے اور محکمہ صحت کے ڈاکٹروں نے فری میڈیکل کیمپ بھی لگایا جس میں 105 مریضوں کا مفت معائنہ کیا گیا اور ان میں ادویات تقسیم کی گئیں۔ کھلی کچہری کے دوران شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر نے کیلاش قبیلے کی معمر خواتین سے پودے لگواکر ان میں اپنائیت کا احساس پید ا کیا جس پر کیلاش خواتین نے نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ ہمارا اصل سرمایہ تو یہی درخت ہیں۔ بعد میں مقامی لوگوں میں محکمہ جنگلات کی طرف سے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ ریسکیو 1122 کے اسٹال میں عوام کو خطرات سے بچنے اور قدرتی آفات میں لوگوں کی جانیں بچانے کی تربیت دی گئی۔عوام نے شکایت کی کہ سردیوں میں جب برف بار ی ہوتی ہے تو ہمارے بچے اسکول جانے کیلیے دوسر ی وادی جاتے ہیں جن کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران اسکول کی بچیوں نے نہایت سریلی آواز میں علامہ اقبال کا قومی نغمہ پیش کیا۔ اسکول کے بچوں اور بچیوں میں اسکول بیگ، اسٹیشنری اور خشک دودھ بھی مفت تقسیم کیے گئے۔ محکمہ جنگلات کی کمیونٹی ڈیولپمنٹ افسر سلیمہ افضل نے بتایا کہ ہم نے خواتین کو شجر کاری مہم میں اس لیے شریک کیا تاکہ وہ بھی ان درختوں کے فروغ اور حفاظت کیلیے کردار ادار کریں۔ ڈاکٹر فرح جاوید نے بتایا کہ انہوں نے فری میڈیکل کیمپ میں کافی مریضوں کا معائنہ کیا جس میں گیس کے مریض پائے جاتے ہیں اور ان لوگوں میں خوراک کی کمی کی وجہ سے بیماریاں پائی جاتی ہیں جن پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ بعد میں ڈپٹی کمشنر نے وادی کے واحد اسکول اور سول ڈسپنسری کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے عوامی شکایت پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اس ڈسپنسری میں لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور دیگر عملہ ایک ہفتے کے اندر بھیج دے۔ آئی این پی سے گفتگو کر تے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایت پر وہ مہینے میں دو کھلی کچہری کا انعقاد کریں گے مگر یہ سروس کھلی کچہری ہوگی جس میں لوگوں کے ان کی دہلیز پر خدمات بھی فراہم کریں گے۔ کھلی کچہری میں تمام محکموں نے اسٹال لگائے تھے اور اس میں کثیر تعداد میں مسلمان اور کیلاش لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہمانوں کو کیلاش روایات کے مطابق زرد رنگ کے چمکیلے چوغے بھی پہنائے گئے جو کیلاش روایات کے مطابق عزت کا نشان سمجھے جاتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ