قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

92

 

وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرینِ حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہترین چال چلنے والا ہے۔ جب اُن کو ہماری آیات سُنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ ’’ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پُرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آرہے ہیں۔‘‘ اور وہ بات بھی یاد ہے جو اُنہوں نے کہی تھی کہ: ’’خدایا اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ۔‘‘ اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جب کہ تُو ان کے درمیان موجود تھا۔ اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ اُن کو عذاب دیدے۔ (الانفال: 30 تا 33)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت ہی سے دیکھے گا ایک وہ شخص جس نے سامان فروخت کرتے وقت قسم اٹھائی کہ اس کی قیمت مجھے اس سے کہیں زیادہ مل رہی تھی حالاں کہ وہ اس بات میں جھوٹا تھا دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد قسم اٹھائی تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تیسرا وہ شخص جو فالتو پانی سے لوگوں کو منع کرے اللہ اس سے فرمائے گا آج کے دن میں تجھ سے اپنا فضل روک لیتا ہوں جیسا کہ تو نے اس چیز کا فضل روکا تھا جس کو تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا‘‘۔ (بخاری) ۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ آدمی ہم میں سے نہیں ہے جو چھوٹوں کا خیال نہیں رکھتا، بڑوں کی عزت نہیں کرتا، نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا۔ (ترمذی)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ