مرادرسول،عمربن خطاب رضی اللہ عنہ

241

مولانا محمد جہاں یعقوب
مسلمانوں کے دوسرے خلیفۂ راشد، اعدل الاصحاب، امام العادلین، مرادرسول، شہید محراب حضرت عمربن خطابؓ وہ صحابی ہیں جن کی فضیلت کے لیے اتنا کافی ہے کہ قرآن کریم ان کی رائے کی موافقت کرتا ہے اور سیدالمرسلین، خاتم الانبیاؐ نے ان کے لیے فرمایا: میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ (سنن ترمذی)
22 لاکھ مربع میل پر حکومت کرنے والے خلیفہ کی زندگی کا ایک ایک گوشہ اپنے اندر ایسے ان مٹ نقوش لیے ہوئے ہے جن کی اتباع کرنے والے بادشاہ ہوں یا رعایا سبھی راہِ ہدایت پر گام زن ہوجاتے ہیں۔ آپ کی اطاعتِ الہٰی، اتباعِ رسول، زہد وتقوی، اخلاق حسنہ، رعایا کی نگہبانی، یتیموں پر شفقت، غم زدوں کی غم گساری، غریبوں پر رحم، ناداروں کی دل جوئی، بے سہاروں کے ساتھ ہم دردی، عاجزی وانکساری، احساسِ ذمے داری، بیت المال سے حق دار کی خیر خواہی، یادِ آخرت وغیرہ تمام ہی صفاتِ عالیہ قابل تقلید ہیں۔
آپ کا نام مبارک ’’عمر‘‘ ہے، دورجاہلیت اور اسلام دونوں میں آپ کا نام عمر ہی رہا، عمر کا معنی ہے آباد کرنے یا آباد رکھنے والا۔ چوں کہ آپ کے سبب اسلام کو آباد ہونا تھا لہٰذا پہلے ہی سے یہ نام عطا کردیا گیا، نیزآپ کا عہد خلافت چوں کہ اِسلام کی آبادی کا زمانہ ہے اس لحاظ سے بھی آپ اسم بامسمی ہوئے۔
آپ کا لقب فاروق ہے۔ اس لقب کے حوالے سے حضرت علی المرتضیؓ سے عرض کی گئی کہ ہمیں حضرت عمربن خطابؓ کے متعلق کچھ بتائیے تو ارشاد فرمایا:
حضرت عمر وہ ہستی ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے لقب فاروق عطا فرمایا، کیوں کہ آپ نے حق کو باطل سے جدا کردکھایا۔ (تاریخ ابن عساکر)
حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہؓ سے عرض کی گئی: حضرت عمر فاروقؓ کو فاروق کا لقب کس نے دیا؟
انھوں نے ارشادفرمایا: نبی اکرمؐ نے دیا۔ (اسد الغابہ)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے فرمایا: زمین میں ان کا نام عمر اور آسمانوں میں فاروق ہے۔ (الریاض النضرہ)
آپ کی کنیت ابو حفص ہے، جس کی نسبت آپ کی صاحبزادی حضرت سیدہ حفصہؓ کی طرف ہے، جو ام المومنین بھی ہیں۔ آپ کا لقب وکنیت دونوں محمدؐ کے عطا کردہ ہیں۔ سب سے پہلے امیرالمومنین کا لقب بھی حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ کو دیا گیا، اس کا پس منظر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بار حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تو خلیفہ رسول اللہ کہا جاتا تھا جب کہ مجھے یہ نہیں کہاجاسکتا کیوں کہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا خلیفہ ہوں اور اگر یہ کہا جائے خلیفہ خلیفہ رسولؐ تو بات لمبی ہوجائے گی۔ اس وقت حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں اور ہم مومنین ہیں تو آپ ہوئے امیر المومنین۔ آپ نے فرمایا: یہ ٹھیک ہے۔ (الاستیعاب)
آپؓ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرمؐ سے جا ملتا ہے۔ آپؐ کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہؐ مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جب کہ حضرت عمرؓ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔
آپؓ مکہ میں پید ا ہوئے اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرمؐ نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمرؓ نے آپؐ کی سخت مخالفت کی۔ آپؐ کی دعا سے حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے۔ نبی کریمؐ نے اللہ تعالی سے دعا فرمائی تھی:
اے اللہ! ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے، جو آپ کو زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ حضرت ابن عمرؓ یہ روایت بیان کر کے آگے کہتے ہیں: اور آپؐ کو دونوں میں سے عمرؓ زیادہ محبوب تھے۔ (سنن ترمذی)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے جب سے اسلام قبول کیا تب سے ہماری طاقت و قوت میں اضافہ ہوتا گیا۔ (صحیح بخاری )
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کے بعد سیدنا عمرؓ کی خلافت کی طرف رسول کریمؐ کا صاف اشارہ ایک حدیث سے یوں ملتا ہے:
دوران خواب میں نے اپنے آپ کو ایسے کنویں پر پایا جس کی منڈیر نہیں تھی، اس میں ایک ڈول تھا۔ میں نے اس کنویں سے جتنے اللہ تعالی نے چاہے ڈول کھینچے، پھر اس ڈول کو ابن قحافہ (ابوبکرؓ) نے تھام لیا۔ انھوں نے اس کنویں سے ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے کی کمزوری کو اللہ معاف فرمائے، اس کے بعد ڈول بڑے ڈول میں تبدیل ہوگیا اور اس کو ابن الخطابؓ نے پکڑ لیا۔ میں نے انسانوں میں کوئی مضبوط طاقتور شخص نہیں دیکھا جو عمرؓ کی طرح ڈول کھینچتا ہو۔ اس نے اتنے ڈول کھینچے کہ سب لوگ جانوروں اور زمین سمیت سیراب ہوگئے۔ (بخاری)
یہ حدیث سیدنا عمر بن الخطابؓ کی خلافت کی واضح دلیل ہے کہ ابوبکر صدیقؓ کے بعد وہی خلیفہ راشد قرار پائیں گے۔ حضرت عمرفاروقؓ کی خلافت وامامت پر نہ صرف صحابہؓ بلکہ تمام امت مسلمہ کا اجماع ہے۔
سیدنا حضرت علی المرتضیؓ خود بھی حضرت عمرؓ کے مداح تھے۔ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا، جو عمرؓ کے لیے اس وقت دعا کر رہے تھے جب آپ کو چارپائی پر لٹایا گیا تھا۔ اچانک میرے پیچھے سے ایک شخص نے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھی اور یوں دعا کی: ’’اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے، مجھے اللہ تعالی سے امید تھی کہ وہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی جمع کر دے گا، کیوں کہ میں اکثر و بیشتر رسول اللہؐ سے یہ الفاظ سنا کرتا تھا ’’میں، ابوبکر اور عمر تھے، میں ابوبکر اور عمر نے یوں کیا، میں ابوبکر اور عمر گئے‘‘ تو اسی لیے مجھے امید تھی کہ آپ کو اللہ تعالی آپ کے ساتھیوں کے ساتھ ہی اکٹھا کر دے گا‘‘۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں: میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ علیؓ تھے جو یہ دعا کر رہے تھے۔ (بخاری )
قرآن کریم کے مطابق تمام صحابہ کرام محبت والفت اور باہمی رحم دلی میں بے مثال تھے۔ اسی لیے حضرت عمرفاروق اور حضرت علیؓ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ شیر وشکر رہے، غزوہ خندق کے موقع پر جب حضرت علی کرمؓ نے مشہور جنگ جوکافر عمر بن عبدوْدّ کو جہنم رسید کیا تو حضرت عمرفاروقؓ نے فرط مسرت سے ان کا سر چوم لیا۔ (کشف الغمہ)
تاریخ گواہ ہے کہ جس قدر فتوحات اور احکامات شرعیہ کا نفاذ آپؓ کے زمانۂ خلافت میں ہوا اتنا کسی اور خلیفہ کے زمانے میں نہ ہوا، حضورنبی کریمؐ کے وصالِ پرملال کے وقت اِسلامی حکومت کا کل رقبہ تقریبا نو لاکھ ستائیس ہزار مربع میل تھا۔ خلافتِ صدیقی میں اس رقبے میں مزید دو لاکھ پچہتر ہزار ایک سو چونسٹھ مربع میل کا اضافہ ہوا اور سلطنت اسلامیہ کا کل رقبہ بارہ لاکھ دو ہزار ایک سو چونسٹھ مربع میل ہوگیا اور پھر خلافتِ فاروقی کی عظیم الشان فتوحات کی بدولت اس رقبہ میں تیرہ لاکھ نو ہزار پانچ سو ایک مربع میل کا اضافہ ہوا اور یوں پچیس لاکھ گیارہ ہزار چھ سوپینسٹھ مربع میل زمین آپ کے زیر نگیں آگئی۔ یہ تمام علاقہ بغیر آرگنائزڈ آرمی کے فتح کیا۔ آپ کی ان فتوحات میں اس وقت کی دو سپر پاور طاقتیں رو م اور ایران بھی ہیں۔ آج سیٹلائٹ میزائل اور آبدوزوں کے دور میں دنیا کے کسی حکمراں کے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں ہے۔ حضرت عمرفاروقؓ کے کسی ساتھی نے ان کی حکم عدولی نہیں کی، وہ ایسے عظیم مدبر ومنتظم تھے کہ عین میدان جنگ میں اسلام کے مایہ ناز کمانڈر سیدنا خالد بن ولیدؓ کو معزول کردیا اورکسی کو یہ حکم ٹالنے اور بغاوت کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ حضرت عمرفاروقؓ نے جن علاقوں کوفتح کیا وہاں آج بھی سیدنا عمرفاروق کا نظریہ موجود ہے، دن رات کے پانچ اوقات میں مسجد کے میناروں سے اس نظریے کا اعلان ہوتا ہے۔ عمرفاروقؓ نے دنیا کو ایسے سسٹم دیے جو آج تک دنیا میں موجود ہیں۔ آپ کے عہد میں باجماعت نماز تراویح کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا، آپ کے دور میں شراب نوشی کی سزا 80 کوڑے مقررہوئی، سن ہجری کا اجراکیا، جیل کا تصور دیا، مؤذنوں کی تنخواہیں مقررکیں، مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کروایا، باوردی پولیس، فوج اور چھا ؤنیوں کا قیام عمل میں لایا گیا، آپ نے دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بیواوں اور بے آسرا لوگوں کے وظائف مقررکیے۔ آپ نے دنیا میں پہلی بار حکمرانوں، گورنروں، سرکاری عہدے داروں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا تصور دیا۔ آپ جب کسی کو سرکاری عہدے پر فائز کرتے تھے تواس کے اثاثوں کا تخمینہ لگوا کر اپنے پاس رکھ لیتے اور اگرعرصہ امارت کے دوران عہدے دار کے اثاثوں میں کوئی غیرمعمولی اضافہ ہوتا تواس کی تحقیق کرتے۔ یہ وہ سسٹم ہے جس کو دنیا میں کوئی دوسرا شخص متعارف نہ کروا سکا، دنیا کے 245 ممالک میں یہ نظام کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں زبان وقلم بے اختیار گواہی دیتا ہے کہ دنیا کا سکندر اعظم عمرفاروقؓ ہیں۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کو حج سے واپسی کے بعد ابولولو نامی مجوسی ایرانی غلام نے خنجر کے پے درپے تین وار کرکے شدید زخمی کردیا۔ آپ تین دن اسی حالت میں رہے، مگرنماز کوئی نہ چھوڑی، پھر یکم محرم الحرام کو دس سال پانچ مہینے اور اکیس دن مسند خلافت پر متمکن رہنے کے بعد63 برس کی عمر میں آپ شہید ہوگئے۔ آپ اکثر یہ دعا فرمایاکرتے تھے: الہی! تو مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت عطا فرما اور اپنے رسولؐ کے شہر مدینے میں مرنا نصیب فرما)
آپ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: جب مجھے قبر میں رکھ دو تو میرا گال زمین سے یوں ملا دینا کہ اس کے اور زمین کے درمیان کوئی چیز حائل نہ رہے۔آپ کو بیری کے پتوں سے پانی گرم کرکے غسل دیا گیا اور دو چادروں اور جو قمیص پہن رکھی تھی اس میں کفنایا گیا۔ یکم محرم الحرام کوروضۂ رسول میں دفن ہونے کی سعادت پائی۔ (اسدالغابہ،طبقات کبریٰ)
ہر ذی روح کو پیام اجل کو لبیک کہنا ہے اورہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، ویسے تو دنیا سے لاکھوں لوگ رخصت ہوئے، حضرت عمرفاروقؓ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو کیا سماں تھا؟ صحابہ کرامؓ کے تاثرات کیا تھے؟ملاحظہ کیجیے:
آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو مہاجرین وانصار نے کہا: اللہ تعالیٰ ہماری عمریں بھی آپ کو لگادے۔ حضرت علی المرتضیؓ نے آپ کے چہرے سے کفن کا کپڑا ہٹا کر کہا: اللہ تعالی آپ رحم فرمائے، حضورنبی کریمؐ کے بعد آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میرے گمان میں خاردار درخت بھی آپ کے وصال پر غم زدہ ہیں۔ (طبقات کبریٰ)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ