بصرہ: ائرپورٹ اور امریکی قونصل خانے پر راکٹ باری ، کرفیو نافذ

64
بصرہ: مشتعل افراد کے ہاتھوں نذرآتش کیے گئے ایرانی قونصل خانے کی عمارت سے شعلے اٹھ رہے ہیں
بصرہ: مشتعل افراد کے ہاتھوں نذرآتش کیے گئے ایرانی قونصل خانے کی عمارت سے شعلے اٹھ رہے ہیں

بصرہ (رپورٹ: منیب حسین) عراق کے جنوبی بندرگاہی شہر بصرہ میں صورت حال کئی روز سے کشیدہ ہے۔ مشتعل مظاہرین سرکاری اور دیگر عمارتوں پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز بصرہ کے ہوائی اڈے کے قریب 3 سے 4 راکٹ گرے۔ ہوئی اڈے کے احاطے میں امریکی قونصل خانہ بھی قائم ہے، جس کے قریب راکٹ گرے۔ راکٹ حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس سے قبل جمعہ کے روز بصرہ میں مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے اور ایک تیل نکالنے والے مقام پر دھاوا بول دیا تھا۔ آئل فیلڈ پر مظاہرین نے چند ورکرز کو کچھ دیر کے لیے یرغمال بھی بنا کر رکھا۔ ایرانی قونصل خانے کی عمارت کو مظاہرین نے آگ لگا دی تھی، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر جل گئی۔ مشتعل مظاہرین نے قونصل خانے پر لگا ایرانی پرچم اتار کر پاؤں تلے روندا۔ عراقی وزارت خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جب کہ ایرانی حکومت نے قونصل خانے پر حملے کی ذمے داری عراقی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سفارتی عمارت کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ ایرانی دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز عراقی سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی کیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا کہ مشتعل ہجوم نے بصرہ میں اس کے سفارتی عملے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قونصل خانے پر حملہ ایک سازش ہے، جس کے پیچھے ایران دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے قونصل خانے پر حملہ کرنے والے افراد کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا اور اعتراف کیا کہ قونصل خانے پر حملے کے نتیجے میں عمارت اور دفاتر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے قونصل خانے پر مظاہرین کی یلغار کو وحشیانہ کارروائی قراردیا۔ کئی روز سے جاری احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے اب تک 12 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ بصرہ میں ملٹری آپریشنل کنٹرول روم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہر میں جاری شورش پر قابو پانے کے لیے ایک بار پھر کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ عراقی سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز کرفیو میں نرمی کی گئی تھی، مگر احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد شام 5 بجے دوبارہ کرفیو لگا دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی فوری طور پر گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی قونصل خانے کی سیکورٹی پر تعینات اہل کاروں نے اپنے فرائض اچھی طرح سرانجام نہیں دیے ہیں، لہٰذا مذکورہ افراد کے خلاف باضابطہ طور پر تحقیقات ہوں گی۔ انہوں نے عراقی مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ اہل کاروں کے خلاف تحقیقات عمل کا آغاز کرے۔ ہفتے کے روز ہی بصرہ کے بحران پر عراقی پارلیمان کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم حیدرالعبادی اور گورنر بصرہ اسعد العیدانی میں سخت تلخ کلامی بھی ہوئی، جس میں دونوں نے الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے حالات کی ذمے داری ایک دوسرے پر عائد کی۔
بصرہ/ راکٹ باری

Print Friendly, PDF & Email
حصہ