افغانستان :رواں برس مزید 2 لاکھ سے زائد بے گھر 

83
قندوز: جنگ کے باعث بے گھر ہونے والا گھرانہ خیمے میں زندگی گزار رہا ہے (فائل فوٹو)
قندوز: جنگ کے باعث بے گھر ہونے والا گھرانہ خیمے میں زندگی گزار رہا ہے (فائل فوٹو)

کابل (انٹرنیشنل ڈیسک) افغانستان میں مسلح تنازعات کے سبب رواں برس 2 لاکھ سے زائد افغان شہری بے گھر ہوئے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی معاملات نے بتائی۔ دفتر کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں برس یکم جنوری سے 2 ستمبر تک کل 2 لاکھ 6 ہزار افغان شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ تعداد ایک ماہ قبل سامنے آنے والے اعداد وشمار کے مقابلے میں 44 ہزار زائد ہے۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق جاری کردہ رپورٹ میں بتائی گئی تعداد میں وہ 30 ہزار افغان شہری بھی شامل ہیں جو صوبہ غزنی میں اگست کے وسط میں ہونے والی لڑائی کی وجہ سے عارضی طور پر بے گھر ہوئے تھے۔ افغانستان میں جاری تنازعات کے سبب گزشتہ برس 4 لاکھ 45ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے تھے۔افغان سیکورٹی فورسز ملک بھر میں افغان طالبان کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔ افغان فوج کی طرف سے رواں برس جولائی میں بتایا گیا تھا کہ ملک کا کم از کم 13.8 فیصد یا 400 اضلاع پر مشتمل علاقہ مکمل طور پر طالبان کے قبضے میں ہے، جب کہ افغانستان کا 30 فیصد علاقہ ایسا ہے، جہاں طالبان اور ملکی سیکورٹی فورسز کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق طالبان کے زیر کنٹرول علاقہ ان اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2001ء میں امریکی جارحیت کے باعث پہلے سے خانہ جنگی کے شکار اس ملک کی صورت حال انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ امریکی فوج اپنے اتحادی افواج کے ساتھ مل کر افغانستان سمیت پورے خطے میں عدم استحکام کے لیے سرگرم ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ