انتخاب 2018 کی شفافیت پر سوالیہ نشان

174

چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار یقیناًاس بات کے خواہاں ہوں گے کہ جب بھی ان کا ذکر آئے تو لوگوں کے ذہن میں نوشیروان عادل کی شبیہہ اُبھرے اور آنے والے دنوں میں لوگ عدل جہانگیری کے بجائے پاکستان کے نظام عدل کی مثالیں دیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ تاریخ انسانی خواہشات کے مطابق فیصلے نہیں کرتی۔ وقت بڑا بے رحم صراف ہے۔ سونے کی طرح کھٹالی میں پگھلنا آسان نہیں ہوتا۔ جب کھٹالی میں اُبال آتا ہے تو کچ دھات الگ ہوجاتی ہے اور سونا الگ۔ گزرے زمانوں نے جسٹس منیر اور جسٹس ڈوگر کو کچ دھات قرار دے دیا اور جسٹس رستم کیانی، جسٹس اے آر کارنیلیس اور جسٹس بھگوان داس کو خالص سونا۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ قتل و غارت، لوٹ مار اور کرپشن کی ہوشربا داستانوں کو انجام تک پہنچانے کے بجائے ایک خاص نقطہ نظر کے حامل افراد پر توہین عدالت کے قانون کے تحت سیاست کے دروازے بندکرنے اور انتخابات 2018 کے حوالے سے غیر ضروری اشتعال میں مبتلا شخص کا شمار میز مافیا میں ہوگا یا رستم کیانی اشرافیہ میں۔
گزشتہ دنوں ایک طرف الیکشن کمیشن نے انتخابات 2018 کے نتائج کا حتمی اعلان کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے دو حلقوں کے نتائج کا اعلان روکتے ہوئے بقیہ تین حلقوں کے نتائج کو حلقہ این اے 53 میں عمران خان کی طرف سے انتخابی بے قاعدگی کے فیصلے سے مشروط کیا تو دوسری طرف چیف جسٹس نے ایک خاتون امیدوار عابدہ راجا کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے انتخابات کے دن چیف الیکشن کمشنر کو تین بار فون کیا جو اٹینڈ نہیں کیا گیا۔ ’’شاید وہ سو رہے تھے‘‘۔ چیف جسٹس کا خیال تھا کہ: ’’انتخابی عمل ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ اچانک الیکشن کمیشن کا نظام بیٹھ گیا‘‘۔ ان کا خیال تھا کہ: ’’جب یہ انتخابی شکایات عدالتوں تک پہنچیں گی تو ہم پتا نہیں کیا کریں گے‘‘۔ آئندہ وہ کیا کریں گے اور کیا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے حلقہ این اے 131 کی دوبارہ گنتی مکمل ہونے تک نتائج کے اجراء روکنے کے حکم کے خلاف عمران خان کی اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ناقابل فہم رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی، متعلقہ ریٹرننگ آفیسر نتیجہ مرتب کرکے الیکشن کمیشن کو بھیج چکا اب عدالتوں کا ان نتائج سے کیا لینا دینا۔ ہم آخر حلقہ این اے 131 کے ووٹرز سے ان کا حق نمائندگی کس طرح چھین سکتے ہیں۔ سعد رفیق کا وکیل چیختا رہا کہ 2017 کی انتخابی اصلاحات کے مطابق اگر جیت ہار کا فیصلہ پانچ فی صد سے کم ہو یا مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد جیت ہار کے فرق سے زیادہ ہو تو تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ متعلقہ ریٹرننگ آفیسر اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کرانے کے بعد حتمی نتیجہ الیکشن کمیشن کو ارسال کرتا جس کے لیے اسے کم از کم دس دن کا وقت میسر تھا، لیکن جب ایسا نہیں ہوا تو سعد رفیق نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس کے خلاف عمران خان کی اپیل منظور کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجے کے اعلان کا حکم نامہ جاری کردیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جسے انتخابی فیصلے پر اعتراض ہے وہ انتخابی عذر داری میں جائے، پاکستانی انتخابات میں انتخابی عذر داری ایک ایسا بلیک ہول ہے جس کی حیثیت محض خانہ پری کی ہے۔ اس بات کی مثالیں موجود ہیں کہ انتخابی عذرداری کا فیصلہ اس وقت سنایا گیا جب اسمبلی اپنی مدت پوری کرچکی تھی۔ الیکشن کمیشن کے پاس یقیناًایسی تمام عذر داریوں کی تفصیلات موجود ہوں گی لیکن مجھے حیدرآباد کے احد یوسف کا معاملہ اچھی طرح یاد ہے جب 1970 کے عشرے میں حیدرآباد سے صوبائی اسمبلی سندھ کی نشست پر ضمنی انتخاب کے نتیجے کے خلاف انہوں نے انتخابی عذر داری داخل کی تھی جس کا فیصلہ 1977 کے انتخابات کے بعد جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد ان کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں منتخب قرار دے دیا گیا تھا۔ میں احد یوسف صاحب سے کہتا تھا کہ آپ اس فیصلے کو روز صبح اٹھ کر چوما کریں، آنکھوں سے لگایا کریں کہ اب اس فیصلے کا مصرف اس کے سوا اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔
حلقہ این اے 131 کا معاملہ محض انتخابی عذرداری کا نہیں بلکہ عمران خان کے ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخاب کا ہے۔ اب الیکشن کمیشن عدالت عظمیٰ کے حکم پر حلقہ این اے 131 سے عمران خان کی کامیابی کا اعلان کردیتا ہے اور عمران خان اس نشست سے دستبرداری کا اعلان کردیتے ہیں تو سعد رفیق کا انتخابی عذرداری کا معاملہ سماعت کے آغاز سے قبل ہی منطقی انجام تک پہنچ جائے گا۔
اب الیکشن کمیشن کو اس نشست کا حتمی نتیجہ جاری کرنا ہے جو ظاہر ہے بقیہ تین حلقوں کی طرح عمران خان کی طرف سے انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی درخواست پر انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کے حوالے سے 16اگست 2018 کو مقررہ کردہ سماعت کی تاریخ تبدیل کرتے ہوئے 9اگست 2018 کو اس معاملے کی سماعت کی اور عمران خان کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے جمع کرائے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ عمران خان اپنی دستخطوں سے معافی نامے کی طرز کا بیان حلفی جمع کرائیں۔ چیف جسٹس کی گولہ باری کی زد پر آئے ہوئے الیکشن کمیشن کے پاس معافی نامہ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ عمران خان کے معافی نامے کو قبول کرتے ہوئے تین حلقوں کے روکے گئے نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے ہیں امید ہے آج ہی حلقہ این اے 131 کے حتمی سرکاری نتیجہ کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔ عمران خان اگر اس نشست کو نہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تب بھی وہ چوں کہ وزیر اعظم پاکستان کا حلف اٹھا چکے ہوں گے، مسلم لیگ (ن) نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ ممکنہ طور پر پنجاب اسمبلی میں بھی حزب اختلاف کی نشست پر براجمان ہوچکی ہوگی لہٰذا انتخابی عذر داری کی سماعت چلتی رہے گی، 2023 تک یا اس کے بعد بھی۔ اور اگر وہ اس نشست سے مستعفی ہوتے ہیں اور اس پر ضمنی انتخاب منعقد ہوتا ہے تو یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ پاکستان کی سماجیات میں حزب اقتدار کے حق میں رائے کا استعمال انہونی بات نہیں۔ اس ضمنی انتخاب میں عمران خان کا امیدوار جیت بھی گیا تب بھی اس بات پر سوالیہ نشان لگا رہے گا کہ 25جولائی کے انتخاب میں عمران خان کی اس حلقہ سے کامیابی کتنی حقیقی تھی اور کتنی ریٹرننگ افسر کے آمرانہ اختیار کے استعمال اور انتخابی اصلاحات 2017 کو نظر انداز کرنے کی مجرمانہ کوشش کا نتیجہ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ