مسلم لیگ نواز کا بیانیہ

75

مسلم لیگ ن بالخصوص میاں محمد نواز شریف کا قومی سطح پر بیانیہ سب کے سب پریشرز، عدالتی احکامات، چارج شیٹیں، الزامات اور مسائل کو ایک ہی دھارے اور نعرے میں بہا لے گیا۔ وہ مقبول نعرہ اور بیانیہ جو اندرونی سطح پر کسی ٹیکنکل مائنڈ نے تیار کیا اور گھٹی میں بطور ہبہ نواز شریف کو پیش کیا۔ پھر نواز شریف نے ایسا پلٹا کھایا کہ مخالفین اور منصفین تکتے رہے کہ اب مزید ان کے خلاف کیا کیا جائے کہ میاں نواز شریف تو عوام میں روز بروز ن لیگ کا مینڈیٹ بڑھا رہے ہیں اور نہ صرف فیس سیونگ کر کے اپنی ذات کو محفوظ کر لیا ہے بلکہ پاناما اور اقامہ کے پیچھے بیٹھی خفیہ طاقتوں کو بھی عوام کی عدالت میں لا کھڑا کیا ہے۔ آف شور کمپنیوں کے ٹی وی شوز اور دھرنا سیاست نے عمران خان کو نواز شریف کو سائیڈ لائن کرنے اور مسلم لیگ ن کا میڈیٹ توڑے کا سنہری موقع دیا۔ عجیب بات ہے کہ پاناما شطرنج میں جتنے بھی فیصلے اور احکامات صادر کیے اس سے کہیں نہ کہیں تعصب اور یک طرفہ جذبات کی آمیزش محسوس ہوئی۔ اور فیصلوں میں اس قدر تاخیر کی گئی کہ میاں نواز شریف اور ن لیگ کو عوام میں جاکر نام نہاد جمہوری راستہ اپنانے کا اچھا خاصا وقت مل گیا۔ ہمارے سست ترین اور عامی کے لیے بوجھ عدالتی نظام نواز شریف کو ملزم ومجرم سے معصوم ترین بنا دیا۔ حالات کو نواز شریف نے خوب بھانپا اور نعرہ مستانہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ لے کر عوامی عدالت پہنچ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان بھر میں عوام کا ٹھاٹیں مارتا سمندر ’’میاں تیرے جانثار بے شمار بے شمار‘‘ سربکفن ہو کر پہنچ گیا۔ اور نواز شریف کا ہر جلسہ 2013ء کے جلسوں سے بڑا دکھائی دیا۔
میاں نواز شریف پر زمانے کا سب سے بڑا احسان عدالتی نظام نے مردے گھوڑے میں جان ڈال کر کیا۔ تمام تر تحقیقات، مہلتیں، پیشیاں، ٹی وی پر لمحہ بہ لمحہ پاناما کیس، آئی سی آئی جے کے ممبر کی خبریں اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی فائنل رپورٹ کے بعد نواز شریف کو پاناما چھوڑ کر اقامہ پر نااہل قرار دیا گیا جس پر نہ صرف نواز شریف کے لیے ہر راستہ صاف ہوتا چلا گیا۔ عدالت کی طرف سے نواز شریف کی پہلی نااہلی اقامہ کے بجائے پاناما معاملے پر ہوتی تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے اور نواز شریف خود پر لگے کرپشن کے الزامات کا جواب دیتے دیتے تھک چکے ہوتے اور عدالت کافی حد تک عوام کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوتی۔ اب اقامے پر نااہلی کو عوام نے بھی تقریباً مسترد کر دیا ہے۔ اس لیے اب عدالت کو نواز شریف کی مزید نااہلیوں کی ضرورت پڑھ رہی ہے جو ایک پر ایک غلطی کے مترادف ہے۔ خیر اب تو نواز شریف وزیر اعظم نہیں ہوں گے مگر پارٹی کا تاحیات قائد منتخب ہونے کی وجہ سے فیصلوں، ٹکٹوں کی تقسیم، پارٹی پالیسیوں اور فارمولوں کے تمام تر اختیارات کے پیچھے نواز شریف ہی کا دماغ ہوگا۔ قائم مقام صدر پارٹی (شہباز شریف) وزیراعظم ہوں گے لہٰذا وہ معاہدوں پر دستخط، افتتاحی تقریبات، بیان بازی، فیتہ کاٹی اور دوروں کے لیے دستیاب ہوں گے۔ فاضل جج کو عدالتی معاملات کو شفا ف اور تیز رفتار بنانے پر کام کرنا چاہیے اور سراج الحق کی جمع کرائی 437 کرپٹ لوگوں کی فہرست کو بھی حاضری کا موقع دینا چاہیے۔
امریکا پاکستان سے سرحد پر انسداد دہشت گردی آپریشنز میں براہ راست شمولیت چاہتا ہے اور ممبئی حملوں میں ملوث 166افراد کی مکمل تحقیقات، حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید اینڈ کمپنی کے خلاف کارروائی چاہتا ہے۔ امریکا درحقیقت ہمیں ٹیکنالوجی، پیسے اور قرضے کا لالچ دیکر ہماری ذہنی وفکری آزادی سلب کر لینا چاہتا ہے اور پاکستان کو زیر کر کے سعودیہ جیسا سلوک کرنا چاہتا ہے۔ اگر سعودیہ مکمل طور پر امریکا کو ترجیح دیتا ہے تو پھر عرب ممالک کے پاس امریکن پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوگا۔ امریکن سینٹرل کمانڈ جنرل جوزف نے آرمڈ سروسز کمیٹی کے نمائندگان سے خطاب میں کہا کہ پاکستان سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ پاکستان نے اب دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے لیکن امریکا اب بھی فیصلہ کن کارروائی چاہتا ہے۔ جواب میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی قومی سلامتی کا اجلاس بٹھایا، افغانیوں کی با عزت وطن واپسی، بھارت کی جانب سے 400 سے زائد بار حالیہ سرحدی خلاف ورزی اور اپنے اتحادیوں سے تعاون پرتذکرہ کر کے ’’نشتند گفتند برخاستند‘‘ کی رسمی کارروائی پوری کی۔ حقیقت احوا ل یہ ہے کہ امریکا پاکستان کے 80 فی صد غریب عوام کے قلوب و اذہان میں غلام ابن غلام کی سوچ پروان چڑھانا چاہتا ہے اور ہماری اسلام اقدار اور روایات کو ناپید کر کے دولت اسلام کو کسی سیکولر نظام کے تابع کرنا چاہتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ