ترکی اور امریکہ باہمی اختلافات ختم کرنے پر متفق

139
انقرہ: تُرک صدر رجب طیب اردوان امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سے ملاقات کر رہے ہیں
انقرہ: تُرک صدر رجب طیب اردوان امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سے ملاقات کر رہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا اور ترکی نے کہا ہے کہ شام میں کردوں کے خلاف ترک فوج کی کارروائی پر دنوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے شدید اختلافات کو ختم کرنے کے لیے طریقہ کار طے کر لیا گیا ہے۔انقرہ میں مذاکرات کے بعد امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ امریکا نے کرد جنگجوؤں کی محدود پیمانے پر امداد کرنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ریکس ٹلرسن نے کہا کہ کرد جنگجوؤں کو امریکی ہتھیار کی فراہمی محدود اور پہلے سے متعین کرد کارروائیوں کے لیے ہو گی۔ترکی کی سرحد سے ملحقہ شامی علاقے میں موجود کرد جنگجوؤں کو ترکی اپنے لیے خطرہ تصور کرتا ہے اور ان جنگجوؤں کو امریکی امداد فراہم کیے جانے پر وہ شدید تشویش کا شکار ہو گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ سے مذاکرات کے بعد طے کیے جانے والے طریقہ کار کے تحت اب مشترکہ ورکنگ گروپس بنائے جائیں گے، جو اس معاملے پر اختلاف کو کم کرنے کے علاوہ کشیدگی کا باعث بننے والے دیگر امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے انقرہ کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی کو امریکی خارجہ پالیسی میں کتنی اہمیت حاصل ہے۔ اس موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا کہ شام میں امریکا اور ترکی کے اہداف مشترک ہیں۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اپنے دورہ ترکی کے دوران انقرہ میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ ا مریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ اردوان اور ٹلرسن کی ملاقات انتہائی تعمیری رہی، اور دونوں ممالک نے دو طرفہ باہمی تعاون کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہے دونوں رہنماؤں نے کھلے انداز میں گفتگو کی اور باہمی تعلقات کو زیادہ بہتر بنانے پر زور دیا۔ دوسری طرف ترک صدارتی دفتر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق صدر اردوان نے اس ملاقات میں شام سے متعلق حکومتی پالیسی کے بارے میں اپنی ترجیحات اور توقعات سے امریکا کو باخبر کر دیا ہے۔ ترکی نے کہا ہے کہ امریکی حکومت شامی جمہوری فوج سے شامی کرد ملیشیا وائی پی جی کو نکال دے۔ واضح رہے کہ شامی جنگ میں امریکی حکومت شامی کرد ملیشیا وائی پی جی کو تعاون فراہم کر رہی ہے۔ یہ شامی جنگجو گروہ شامی جمہوری فوج کا حصہ ہے، جو شام میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔ تاہم ترک حکومت اسے دہشت گرد قرار دیتی ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ ہے، جو ترکی میں پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ امریکا سمیت اقوام متحدہ نے بھی اس گروہ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ ترک فوج نے گزشتہ ماہ ہی شمالی شام میں وائی پی جی کے خلاف عسکری کارروائی شروع کی تھی۔ انقرہ کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ واشنگٹن حکومت اس ملیشیا کی مدد کرنا بند کر دے۔ اس نئی پیشرفت سے شام کا بحران مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ترکی امریکا متفق

Print Friendly, PDF & Email
حصہ