ن لیگ ‘ مائنس نواز فارمولے کی مزاحمت کا فیصلہ

112

لاہور(نمائندہ جسارت+آن لائن ) وفاق اورپنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے مائنس نواز فارمولے کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پیر کو سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے صدر نوازشریف کی زیر صدارت جاتی امرا میں پارٹی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔4 گھنٹے طویل اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا،شریف خاندان کے عدالتوں میں زیر سماعت کیسز زیر بحث آئے، حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حدود سے تجاوز کرنے والے اداروں کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی اور تمام معاملات کو عوام کے سامنے لے جایا جائے گا،پارٹی قیادت کی کردار کشی کی مہم کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا الیکشن سیل قائم کرکے انتخابات کی بھرپور تیاری کی جائے گی، نوازشریف سمیت تمام رہنما اپنے اپنے حلقوں میں جلسے کریں گے۔حلقہ بندیوں اور دیگر معاملات پر تعاون کے لیے پیپلزپارٹی سے روابط تیز کرنے کے لیے اہم رہنماؤں کو ٹاسک دے دیاگیا جب کہ نوازشریف نے ناراض ارکان کو منانے کی ذمے داری وزیرعظم شاہدخاقان عباسی کے سپرد کردی ہے۔ اجلاس میں پارٹی 2دھڑوں میں تقسیم نظر آئی اور مزاحمت یا مفاہمت کی سیاست کو لے کر شرکاء میں اختلاف رائے دیکھنے میں آیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، شہبازشریف اور احسن اقبال نے مفاہمت کی سیاست پر زور دیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ نیوز ایجنسی آن لائن نے بھی اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رائیونڈ اجلاس میں وزیراعظم ، وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر داخلہ نے اداروں سے ٹکراؤ کی مخالفت کی ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف سے کہا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ نہ لیا جائے، مفاہمت کی سیاست سے گھمبیر حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، پارٹی اور حکومت ٹکراؤ کی سیاست سے دونوں قربان ہوجائیں گے ، پارٹی کے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نااہل وزیراعظم نے کہا کہ تمام الزامات کا ڈنکے کی چوٹ پر جواب دیا جائے اور کسی ادارے کو ملحوظ خاطر نہیں رکھنا چاہیے۔ اس موقع پر وزیراعظم ، وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ نے مشترکہ طور پر کہا کہ حکومت میں رہتے ہوئے تنقید کرنا بہت مشکل کام ہے، دوسری جانب پارٹی میں انتشار کی کیفیت ہے ،ایسی پالیسی سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے پارٹی اور حکومت کو نقصان ہو۔ نواز شریف نے احسن اقبال کی جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ کیا کہتے ہیں ۔ انہوں نے بھی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے موقف کی تائید کی ۔ نواز شریف نے تمام کی باتیں سنیں مگر اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے اور کہا کہ جو میں کہتا ہوں وہی کیا جائے۔

حصہ