کچھ لوگ دنیا میں لگی آگ کو پاکستان میں لانا چاہتے ہیں،مشاہد اللہ خان

123

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ کچھ لوگ دنیا میں لگی آگ کو پاکستان میں لانا چاہتے ہیں ، ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ، مذہب کی بنیاد پر کہیں کوئی لڑائی نہیں ہو رہی ، سب لڑائیاں معاشی و سیاسی مفادات کے لئے ہو رہی ہیں۔

پیر کو ایوان بالا میں سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ جو گفتگو اس ایوان میں ہو رہی ہے وہ افسوسناک ہے۔ چیئرمین نے کسی کو نہیں روکا ‘ ملک ان باتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یورپ میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ نقاب اتارے جارہے ہیں۔ جرمنی میں کوئی ہولوکاسٹ نہیں ہوا جو شام عراق میں ہو رہا ہے۔ عورتوں بچوں کو مارتے ہیں‘ مذہبی منافرت بھی موجود ہے۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی و دوسری جنگ عظیم میں جتنے لوگ مرے وہ تاریخ میں نہیں مرے‘ یہ غلط ہے کہ مذہب کے لئے لڑائی ہو رہی ہے۔ سیاسی و معاشی مفادات کے لئے لڑائیاں ہو رہی ہیں۔

سینیٹر مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں، ہمیں کسی لبرل ازم روشن خیال کی ضرورت نہیں‘ ہمارے مذہب میں سب کچھ موجود ہے۔ طالبان کی قید میں صحافی مسلمان ہوگئی کیونکہ اس کے ساتھ اچھا سلوک ہوا تھا۔ ایک آگ ہے جو مسلمان دنیا میں لگی ہے کچھ لوگ اس آگ کو اس ملک میں لانا چاہتے ہیں ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک کلمہ کی بنیاد پر بنا ہے ورنہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ عثمان سیف اللہ نے کہا کہ ہم نے پہلے پاکستان کی بات کرنی ہے بعد میں اسلامی امہ کی بات کرنی ہے‘ ملک میں نفرت بہت بڑھ گئی ہے‘ شدت بڑھ گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ